ہفتہ، 31 دسمبر، 2016

وہ 10 مقامات جہاں سب سے زیادہ بجلی کڑکتی ہے


وینزویلا کی ایک جھیل پر سال میں 230 مرتبہ بجلی کڑکتی ہے جب کہ پاکستانی علاقہ ڈگر چھٹے نمبر پر ہے۔
تصویر بشکریہ ناسا
وینزویلا کی ایک جھیل پر سال میں 230 مرتبہ بجلی کڑکتی ہے جب کہ پاکستانی علاقہ ڈگر چھٹے نمبر پر ہے۔ تصویر بشکریہ ناسا
واشنگٹن: تحقیق کے مطابق وینزویلا کی ایک جھیل میراسائبو کے صرف ایک مربع کلومیٹر پر سال میں 230 مرتبہ بجلی کڑکتی ہے اسی لیے ماہرین اس جھیل کے وسط میں کشتی چلانے سے منع کرتے ہیں کیونکہ جھیل کے اوپر سالانہ 297 طوفان آتے ہیں اور 230 مرتبہ بجلی کڑکتی ہے جب کہ اس فہرست میں پاکستان میں ضلع بنوں کا علاقہ ڈگر بھی شامل ہے۔  
ٹراپیکل رین فال میژرنگ مشن سیٹلائٹ کی جانب سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ آسمانی بجلی چمکنے کے اہم مقامات کی ایک فہرست بنائی ہے جہاں ایک سال میں کئی مرتبہ بجلی کڑکتی ہے جن میں یہ علاقے شامل ہیں۔
1:  جھیل میراسائبو، وینزویلا جہاں سال میں 232 مرتبہ بجلی کڑکتی ہے۔
2: افریقی ملک کونگو کے علاقے کیبیرا میں بجلی کڑکنے کے سالانہ 205 واقعات ہوتے ہیں۔
3: کونگو کے ایک علاقے کامپین میں 176 مرتبہ بجلی کڑکنے کے واقعات ہوئے۔
4: سیسیرس، کولمبیا میں سالانہ 172 مرتبہ بجلی کڑکتی ہے۔
5: کونگو کا ایک اور علاقہ سیک جہاں 144 مرتبہ بجلی چمکتی ہے۔
6: پاکستان کے ضلع بنوں میں واقعہ ایک قصبے ڈگر میں 143 مرتبہ بجلی چمکی ہے۔
7: کولمبیا کے علاقے ایل تارا میں بجلی کڑکنے کے 138 واقعات پیش آئے ہیں۔
8: نگوٹی، کیمرون میں 129 سے زائد مرتبہ بجلی کڑکی ہے۔
9: کونگو کے شہر بیوٹیمبو میں 129.5 دفعہ آسمانی بجلی کی سرگرمیاں ریکارڈ کی گئیں۔
10: کونگو کے بیوندے میں 127 مرتبہ بجلی کڑکتی ہے۔
اس فہرست میں کانگو کے مختلف علاقے سے آگے کے علاقے بھی ہیں جو 4 مقامات اس فہرست میں شامل ہیں۔ سیٹلائٹ کے ڈیٹا پر کام کرنے والے ماہرِ موسمیات کے مطابق ٹراپیکل رین فال میژرنگ مشن سیٹلائٹ جوں جوں زمین کے گرد چکر لگاتا ہے وہ دن میں 3 سے 3مرتبہ کسی مخصوص مقام پر آسمانی بجلی کی کڑک نوٹ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سیٹلائٹ کے مطابق دنیا میں آسمانی بجلی کی سب سے زیادہ سرگرمیاں جھیل میراسائبو پر ہی ہوتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق آسمانی بجلیاں کڑکنے کے واقعات ان علاقوں میں زیادہ ہوتے ہیں جہاں چھوٹے سے رقبے پر درجہ حرارت کا بہت فرق ہوتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق اس جھیل کے اطراف اینڈیز پہاڑیوں کی دو متواتر سلسلے ہیں، دن میں جھیل اور اس کے اطراف کا علاقہ بہت جلدی گرم ہوجاتا ہے اور جھیل و وادی سے آنے والی تیز ہوائیں جب پہاڑوں پر پہنچتی ہیں تو اس سے طوفان جنم لیتے ہیں اور بجلی کڑکنا شروع ہوجاتی ہے۔ ستمبر کے مہینے میں یہ جھیل وقفے وقفے سے آسمانی بجلیوں سے روشن ہوتی رہتی ہے۔

2016 ایک سیکنڈ طویل ہوگا


زمین کی محوری گردش بتدریج آہستہ ہورہی ہے جسے حساس ایٹمی گھڑیوں کے ساتھ درست طور پر ہم آہنگ رکھنے کےلئے ہر ایک سے دو سال میں ایک سیکنڈ کا اضافہ کیا جاتا ہے۔ (فوٹو: فائل)
زمین کی محوری گردش بتدریج آہستہ ہورہی ہے جسے حساس ایٹمی گھڑیوں کے ساتھ درست طور پر ہم آہنگ رکھنے کےلئے ہر ایک سے دو سال میں ایک سیکنڈ کا اضافہ کیا جاتا ہے۔ (فوٹو: فائل)
پیرس: ماہرین نے فیصلہ کیا ہے کہ اس سال یعنی 2016 کے اختتام پر ایک سیکنڈ کا اضافہ کردیا جائے تاکہ زمینی وقت کو معیاری فلکیاتی وقت سے ہم آہنگ کیا جاسکے۔
اس طرح سے سال کے دورانیے میں اضافی ایک سیکنڈ کو ’’لیپ سیکنڈ‘‘ کہا جاتا ہے اور 1972 سے لے کر 2015 تک مجموعی طور پر 26 لیپ سیکنڈ شامل کئے جاچکے ہیں جبکہ 2016 کے اختتام پر زمینی سال کی مدت میں ایک سیکنڈ کا اضافہ 27 واں لیپ سیکنڈ ہوگا۔
لیپ سیکنڈ کی وجہ بتاتے ہوئے ماہرینِ فلکیات کہتے ہیں کہ زمین کی اپنے محور پر گردش بتدریج آہستہ ہورہی ہے جسے حساس ایٹمی گھڑیوں کے ساتھ درست طور پر ہم آہنگ رکھنے کےلئے ضروری ہے کہ وقفے وقفے سے ایک سیکنڈ کا اضافہ کیا جاتا رہے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو صرف ایک سیکنڈ کے فرق سے بھی مواصلاتی سیارچوں کے ذریعے دنیا بھر میں چلنے والا ٹیلی مواصلاتی نظام متاثر ہوسکتا ہے۔
اس کے علاوہ فلکیاتی وقت کا انحصار بھی زمین کی محوری گردش پر ہے اور درست فلکیاتی حساب کتاب کےلئے لازم ہے کہ زمینی معیاری وقت اور فلکیاتی وقت، دونوں ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوں ورنہ ان مشاہدات میں بھی غلطی واقع ہوسکتی ہے۔
زمین کی محوری گردش پر انتہائی باریک بینی سے نظر رکھنے کےلئے فرانس میں ’’انٹرنیشنل ارتھ روٹیشن اینڈ ریفرنس سسٹمز سروس‘‘ (آئی ای آر ایس) قائم ہے اور اسی کے مشاہدات کی بنیاد پر لیپ سیکنڈ شامل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ پچھلے سال یعنی 2015 میں 30 جون اور یکم جولائی کی درمیانی شب (رات بارہ بجے) ایک لیپ سیکنڈ کا اضافہ کیا گیا تھا جبکہ اس سال یہ موقعہ 31 دسمبر 2016 اور یکم جنوری 2017 کی درمیانی شب (رات بارہ بجے) آئے گا جب سال کے دورانیے میں ایک سیکنڈ بڑھایا جائے گا۔

جمعہ، 30 دسمبر، 2016

خانہ کعبہ کے اہم مقامات تاریخ کے آئینے میں!

کعبہ شریف کی تزئین وآرائش مسلمان خلفاء فرمانرواؤں کی اہم ترجیحات میں شامل رہا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان حکمرانوں میں بیت اللہ کی تزئین اور اس کی خوبصورتی اور وسعت میں اضافے کے لیے ان میں ایک مقابلے کی کیفیت رہی ہے۔
 ایک رپورٹ میں خانہ کعبہ کے اہم حصوں اور ماضی میں ان میں ہونے والی ترمیم مرمت کی تفصیلات پر روشنی ڈالی ہے۔ خانہ کعبہ کا ایک ایک جزو مقدس اور بابرکت ہے مگر اس کے کچھ مقامات اپنی خاص پہچان رکھتے ہیں۔ ان میں کعبہ شریف کے داخلی اور خارجی دروازے، طوق حجر اسود، میزاب، غلاف کعبہ، شاذروان کعبہ اور اندرونی حصہ اپنی خاص پہچان رکھتے ہیں۔
مسجد حرمین شریفین کے امور کے محقق محی الدین الھاشمی لکھتے ہیں کہ ماضی میں مسلمان حکمرانوں کے ہاں خانہ کعبہ اوراس کے متعلق امور انتہائی اہمیت کے حامل رہے۔ مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ بہت کچھ بدلا مگر خانہ کعبہ کے بارے میں مسلمان خلفاء کی محبت میں کوئی کمی نہ آئی۔ خانہ کعبہ کہ اندورنی اور بیرونی دیواروں پر معلق ’چراغوں‘ سے مسلمان خلفاء کی اس مقدس مقام کے ساتھ محبت کا اندازہ با آسانی کیا جاسکتا ہے۔ اب بھی خانہ کعبہ کے ساتھ تانبے، لوہے، چاندی اور شیشے کی بنی 100 ایسی قندیلیں معلق ہیں۔ ان میں سے بعض پر عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور کا نام کندہ ہے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ یہ قندیلیں عباست دور خلافت کے اوئل میں متعلق کی گئی تھیں۔

باب کعبہ

باب کعبہ ’بیت اللہ‘ کے اہم تاریخی رازوں میں سے ایک ہے۔ آج تک ان گنت بار باب کعبہ کو مختلف انداز میں ڈیزان کیا گیا۔ جب ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ بنایا اس وقت اس کا کوئی دروازہ نہیں تھا بلکہ خانہ کعبہ کی مشرقی اور مغربی سمت سے اندر داخل ہونے کے دو راستے رکھے تھے تھے جو کھلے رہتے تھے۔ کئی سال تک خانہ کعبہ ’دروازے‘ کے بغیر رہا۔ یہاں تک کہ بادشاہ تبع کے دور میں پہلی بار خانہ کعبہ کے دروازے بنائے،چابی اور غلاف بنائے گئے۔
قریش مکہ نے آتش زدگی اور سیلاب سے متاثر ہونے کےبعد خانہ کعبہ کو دوبارہ مرمت کیا اور کا مغربی دروازہ بند کردیا۔ صرف مشرقی دورازے کو کھلا رکھا۔ اس کےبعد آج تک دو پٹوں پرمشتمل 14 ہاتھ لمبا دروازہ خانہ کعبہ کی زینت ہے۔
سعودی محقق الھاشمی کا کہنا ہے کہ خانہ کعبہ کی دوسری بار تعمیر عبداللہ بن زبیر کے دور میں کی گئی۔ تاہم باب کعبہ کی شکلیں تبدیل ہوتی رہیں۔ عباسی خلیفہ المقتفی نے551ھ باب کعبہ بنایا گیا۔ اس کے بعد یمنی خلیفہ مظفر نے 659ھ میں خانہ کعبہ کے لیے چاندی سے تیار کردہ دروازہ عطیہ کیا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد شاہ ناصر حسن نے 761 ھ میں ساگوان کی لکڑی سے خانہ کعبہ کا دروازہ تیار کیا۔
ترک خلیفہ سلیمان القانونی نے لکڑی کا دروازہ تیار کرکے خانہ کعبہ میں لگوایا۔ اس پر سونے اور چاندی کی قلع کاری کی گئی اور آیت کریمہ "وقل رب أدخلني مدخل صدق واخرجني مخرج صدق واجعل من لدنك سلطانا نصيرا". تحریر کرائی۔
سنہ 1045ھ میں سلطان مراد کے دور میں خانہ کعبہ کی تعمیر نو کی گئی۔ اس دوران نیا باب کعبہ بھی نصب کیا گیا۔ یہ دروازہ بھی سونے اور چاندی سے تیار کیا گیا تھا۔ 1119ھ میں باب کعبہ کی دوبارہ تجدید کی گئی۔
موجودہ آل سعود دور حکومت میں باب کعبہ10 ذی الحج 1366ھ میں تبدیل کیا گیا۔ نئے باب کعبہ کی موٹائی 2.50 سینٹی میٹر ہے جب کہ لمبائی3.10 میٹر رکھی گئی ہے۔ المونیم سے تیار کیے گئے باب کعبہ پر سونے کا پانی چڑھایا گیا۔ آل سعود خاندان کے دور میں یہ پہلا باب کعبہ تھا جو آج بھی خادم الحرمین الشریفین میوزیم میں آج بھی موجود ہے۔ دوسرا باب کعبہ شاہ خالد رحمہ اللہ کے دور میں بنایا گیا۔ شاہ خالد کے دور میں ایک تبدیلی یہ آئی کہ خانہ کعبہ کے دو دروازے بنانے کا حکم دیا گیا۔ اب ’خارجی باب کعبہ‘ اور دوسرا باب کعبہ جسے باب التوبہ کا نام دیا گیا سے خانہ کعبہ کی چھت تک جانے کا راستہ بنایا گیا۔ دوسرا باب کعبہ تیار کرنے کا سہرا الشیخ الصاغہ احمد ابراہیم بدر کے سر جاتا ہے جنہوں نے 1397ھ میں باب کعبہ کا کام شروع کیا۔ اس باب میں لکڑی کی 10 سینٹی میٹر چوڑی تختیاں لگائی گئیں۔ تکمیل کے بعد اس پر سونے کا پانی چڑھایا گیا۔ باب کعبہ کی تیاری میں 13ملین ریال خرچ ہوئے۔ اسے 1399ھ میں نصب کیا گیا اور آج تک یہی باب کعبہ موجود ہے۔

ہالہ حجر اسود

خانہ کعب میں نصب حجر اسود کے گرد نصب کردہ ہالہ کو صدیوں قبل خالص چاندی سے تیار کیا۔ سب سے پہلے حجر اسود کا ہالہ عبدللہ بن زبیر نے 64 ھ میں بنوایا۔ ہالہ اس لیے بنایا گیا تاکہ حجر اسود کو کسی قسم کی گزند پہنچنے سے بچایا جا سکے اور اس کی خوبصورت میں اضافہ کیا جائے۔
عباسی خلیفہ ہارون الرشید نے 189ھ میں سابق طوق حجر اسود میں خرابی کے بعد نیا ہالہ تیار کیا۔
قرامطہ کے دور میں حجر اسود کو بھی نقصان پہنچا۔ بنی شیبہ نے 339 میں نیا ہالہ حجر اسود تیار کیا۔ سدنہ خاندان کے تیار کردہ ہالہ کو 1079ھ میں تبدیل کیا گیا۔
عثمانی خلیفہ سلطان عبدالمجید خان نے 1268ھ میں نیا ہالہ حجر اسود بنوایا۔ یہ ہالہ خاصل سونے سے تیار کیا گیا اور اس پر آیت الکرسی نقش کی گئی۔ یہ ہالہ 13 سال تک رہا۔ اس کے بعد 1281ھ میں سلطان عبدالعزیز نےچاندی سے نیا ہالہ تیار کرایا۔ حجر اسود کا آخری ہالہ عثمانی خلیفہ سلطان محمد رشاد نے 1331ء میں بنوایا اور یہ ہالہ آل سعود کے دور تک قائم رہا۔
شاہ عبدالعزیز نے اپنے دور میں 1366ھ میں خانہ کعبہ میں کئی ترامیم کیں جن میں ہالہ حجر اسود کی تبدیلی بھی شامل ہے۔
شاہ عبدالعزیز کے دور میں تیار کردہ ہالہ حجر اسود 22 شعبان 1375ھ کو بعد از نماز مغرب نصب کیا گیا۔ البتہ شاہ فہد نے 1422ھ میں اس میں معمولی ترامیم کرائی تھیں۔ مگر ہالہ کو تبدیل نہیں کیا گیا۔

میزاب کعبہ

میزاب کعبہ وہ خوبصورت پرنالہ ہے جو خانہ کعبہ کی چھت پر جمع ہونے والے پانی کو زمین تک پہنچانے کے لیے بنایا گیا۔ سب سے پہلے میزاب کعبہ قریش نے بنایا جب انہوں نے خانہ کعبہ کی از سر نو تعمیر کی تھی۔ میزاب کعبہ کی تیاری بعثت نبوی سے پانچ سال قبل ہوئی اور آپ صلی اللہ و علیہ وسلم نے بھی اس کی تیاری میں حصہ لیا تھا۔
قریش کے دور کے بعد اب تک میزاب کعبہ 12 مرتبہ نئے سرے سے بنایا گیا۔ عبداللہ بن زبیر، حجاج بن یوسف، ولید بن عبدالملک نے میزاب کعبہ سونے سے بنوایا۔ عثمانی خلیفہ سلطان عبدالمجید خان نے 1276ھ میں میزاب کعبہ تیار کرایا۔ یہ آج تک سعودی عرب میں سرکاری میوزیم میں موجود ہے۔ آل سعود کے دور میں شاہ فہد بن عبدالعزیز نے 24 سینٹی میٹر دھانے کا میزاب 1417ء میں تیار کراکے نصب کرایا اور یہ آج تک موجود ہے۔

الشاذوران

خانہ کعبہ کے زیریں حصے میں زمین سے متصل سنگ مرمر کی اس پٹی کو’’شاذوران‘‘ کہا جاتا ہے جو کعبے کے حجر اسماعیل کے سوا باقی تین سمتوں میں ایک ہی انداز میں بنائی گئی ہے۔
سعودی محقق الھاشمی کا کہنا ہے کہ الشاذوران غیرعرب اصطلاح ہے۔ سب سے پہلے ’شاذوران‘ عبداللہ بن زبیر نے بنائی۔ اس کا مقصد کعبے کی دیواروں کو پانی لگنے سے کمزور ہونے سے بچانا اور غلاف کعبہ کو زائرئن سے تحفظ دلانا تھا۔
عبداللہ بن زبیر کے بعد 542ھ، 636ھ، 660ھ، 670ھ، 1010ھ میں اس کی تجدید کی گئی جب کہ سعودی عرب کی حکومت نے شاہ فہد کے دور میں 1417ء میں الشاذوران کی تجدید کی گئی اور اس کی تیاری میں زرد رنگ کی سنگ مرمر کی جگہ کرارہ نانی نہایت عمدہ پانچ سیٹنی میٹر موٹی ٹائل کا استعمال کیا گیا۔ صحن مطاف سے اس کی اونچائی 11 سینٹی میٹر سے 40 سینٹر میٹر تک ہے۔ الشاذوران میں 36 نئے حصے جوڑے گئے جب کہ حجر اسماعیل میں 46 حصے ہیں جن میں سے 22 بالائی سطح پر،24 دیوار حجر اسود کے ساتھ ہیں۔ اس کے ساتھ غلاف کعبہ کی 57 کڑیاں جوڑی گئی ہیں۔
الھاشمی کا کہنا ہے کہ الشاذوران کے 8 ٹکڑے باب کعبہ کی دائیں جانب نصب ہیں۔ یہ خشک جگہ ہے اور اسے گوندنے کی جگہ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی دیواریں اٹھاتے ہوئے ان کا مسالحہ اسی جگہ گوندا تھا۔ یہاں نصب شاذوران کے بلاکوں کی لمبائی 33 سینٹی میٹر اور چوڑائی 21 سینٹر میٹر ہے۔ پہلی بار یہاں پر یہ پتھر خلیفہ ابو جعفرمنصور کے دور میں نصب کیے گئے اوران کے نیچے نیلے رنگ یں 631ھ یعنی آج سے 807 سال پہلی کی تاریخ درج کی گئی۔

غلاف کعبہ 'کسوہ'

خانہ کعبہ کا ذکر غلاف کعبہ کے تذکرے کے بغیر ادھورا ہے۔ سعودی محقق الھاشمی کا کہنا ہے کہ غلاف کعبہ کی تیاری مسلمان خلفاء کی اولین ترجیحات اور دلچسپیوں میں شامل رہی۔ پہلا غلاف تبع الیمانی نامی بادشاہ کےدور میں تیار کیا گیا اور چاند گرہن کے موقع پر اسے کعبے کی زینت بنایا گیا۔ اس کے بعد قریش کے جد امجد قصی بنی کلاب نے زائرین کعبہ کی خدمت کرنے والے السقایہ،[پانی پلانے والے] الرفادہ اور غلاف کعبہ تیار کرنے والوں کو جمع کیا اور نیا غلاف تیار کیا۔ یہ غلاف قریش کے دور تک رہا۔
فتح مکہ کے بعد سنہ 8 ھ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےیمنی کپڑے سے غلاف کعبہ تیار کرایا۔اموی دور حکومت میں غلاف سال میں دو بارتبدیل کیا جاتا۔ ایک 10 محرم کو اور دوسری بار ماہ صیام کے آخر میں تبدیل کیا جاتا۔
عباسی خلفاء کے دور میں غلاف کعبہ پر خلیفہ کا نام لکھنے کی روایت پڑی۔ اس کے علاوہ غلاف کی تیاری کی جگہ اور تاریخ بھی لکھی جانے لگی۔
عثمانی دور خلافت میں غلاف کعبہ مصر میں تیار کرنے کے بعد حجاز روانہ کیا جاتا۔ غلاف کی تیاری کے بعد اس کی حجاز روانگی سے قبل مصر میں اور حجاز میں جشن منایا جاتا۔ 1345ھ تک مصر غلاف کعبہ کی تیاری میں سرگرم رہا۔ مگر اس کے بعد مصری حکومت نے غلاف کعبہ کی تیاری روک دی۔ شاہ عبدالعزیز آل سعود نے 1346ھ میں چند ایام کے اندر نیا غلاف تیار کرانے کے بعد اسے کعبے کی زینت بنایا۔پرانے زمانے میں غلاف کعبہ ریشمی کپڑے سے ہاتھ سے تیار کیا جاتا تھا مگر اب سعودی عرب کی حکومت نے غلاف کعبہ کی تیاری کے لیے ایک باضابطہ کارخانہ قائم کیا ہے جس میں سال بھر ماہرین بہترین اور اعلیٰ معیار کے کپڑے سے غلاف کعبہ تیار کرنے میں مصروف عمل ہیں۔

پاکستان پارے کی بدترین آلودگی کا شکار ہے، سروے رپورٹ



صنعتی زرعی فضلے میں پارے کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے۔ فوٹو: فائل
صنعتی زرعی فضلے میں پارے کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے۔ فوٹو: فائل
 اسلام آباد: پاکستانی شہروں میں رہنے والی ملک کی 40 فیصد آبادی کو گرد کے ذرات اور حیاتیاتی نظام میں موجود پارے کا سامنا ہے جب کہ زیریں سندھ کے میدانوں میں پارے  کی سب سے زیادہ مقدار دیکھی گئی ہے۔
سائنس آف دی ٹوٹل اینوائرمنٹ میں شائع ایک رپورٹ میں پاکستانی ماہرین نے ملک کو پانچ خطوں یعنی سوات وادی و گلگت بلتستان، کشمیر، زیریں ہمالیہ اور سندھ کے میدانوں میں تقسیم کرتے ہوئے 22 اہم علاقوں سے انسانی بالوں کے نمونے لے کر ان کا تجزیہ کیا ہے۔
پاکستان میں اپنی نوعیت کے اس پہلے مطالعے کے بعد جو حقائق سامنے آئے ہیں ان میں سرِفہرست زیریں سندھ کے میدان ہیں جہاں زرعی اور صنعتی علاقوں میں پارے کی مقدار سب سے زیادہ ہے۔
دوسری جانب اس سروے کے مرکزی اسکالر اور  کامسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی سے وابستہ سید علی مستجاب اکبر شاہ ایقانی نے بتایا کہ ڈیٹا سے ظاہر ہوا ہے کہ لاہور کے صنعتی علاقوں میں پارے کی آلودگی سب سے زیادہ ہے یعنی 3000 حصے فی ارب اور حیاتیاتی ارتکاز ( بایو اکیوملیشن) 2480 حصے فی ارب ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماحول میں پارے کے ارتکاز کو نوٹ کرنے کے لیے انسانی بال نہایت اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ اس کی جڑوں میں پارہ جمع ہوتا رہتا ہے۔ انسانی پیشاب اور خون کے مقابلے میں بالوں کو دیکھنا آسان اور کم خرچ ہوتا ہے۔
سروے رپورٹ کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ اسپتالوں اور صنعتوں سے نکلنے والا فضلہ پارے کی آلودگی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ رپورٹ پر اپنے خیالات بیان کرتے ہوئے سسٹین ایبل ڈیویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) کے سینیئر مشیر محمود خواجہ نے کہا کہ پاکستان میں مرکری یعنی پارے کی آلودگی کے سروے میں کئی سقم تھے اور ان کی معلومات نہ ہونے سے پالیسی سازی میں رکاوٹ آتی رہی ہے۔ تاہم یہ نئی بیس لائن اسٹڈی اس خلا کو پر کرے گی اور حکومت پارے کے زہریلے اثرات پر کوئی قابلِ عمل پالیسی مرتب کرسکے گی۔
دیگر ماہرین نے اس ضمن میں مزید تحقیق اور فوری اقدامات پر زور دیا ہے۔ واضح رہے کہ پارہ شدید زہریلے خواص رکھتا ہے اور بچے کی پیدائش میں نقائص، گردے فیل ہونے، جسم میں کپکپاہٹ اور رسولیوں کی وجہ بنتا ہے۔

گوگل اسٹریٹ ویو: راہ چلتے 10 مناظر


گوگل اپنے صارفین کو بہت ساری مصنوعات کے ذریعے سروس فراہم کر رہا ہے، ان میں گوگل اسٹریٹ ویو بھی شامل ہے، جس کے ذریعے گوگل 2007 سے دنیا کے 45 ممالک کے 3 ہزار شہروں کیبہترین پینارامک تصاویر شائقین سے شیئر کر چکا ہے۔
اس دوران ان ممالک کی 5 لاکھ میل سڑکوں کو ان پینارامک تصاویر کا حصہ بنایا گیا۔
برطانوی اخبار انڈیپینڈنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق کینیڈا سے تعلق رکھنے والے فوٹوگرافر جان ریفمین نے گوگل اسٹریٹ ویو کے لیے کیے گئے بہترین پینارامک تصاویر کے کچھ اسکرین شاٹس اپنے بلاگ میں شیئر کیے، تاہم ان کی جگہوں کا ذکر نہیں کیا۔
ان تصاویر کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا کس حد تک خوبصورت ہے۔
جان ریفمین نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ انہوں نے گھنٹوں بیٹھ کر گوگل اسٹریٹ ویو کے آرکائیوز پر ان پینارومک شوٹس کو ڈھونڈا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بہترین تصاویر حاصل کرنے کے حصول میں وہ گوگل کی فوٹیجز سالوں سے دیکھ رہے ہیں۔
جو تصاویر انہوں نے جمع کی وہ دنیا بھر سے لی گئی ہیں۔
ان میں سے کئی تصاویر میں نہایت خوبصورت مناظر پیش کیے گئے۔
اس کے علاوہ ان میں کچھ ایکشن سینز بھی نظر آئے
ان تصاویر میں سڑکوں پر سپر ہیروز اور کارٹون کے کردار بھی دیکھنے میں آئے
اس کلیکشن میں جانوروں کی بھی دلچسپ تصاویر شامل کی گئیں۔

دنیا کی طاقتور ترین بیٹری والا اسمارٹ فون

فون سے لگاتار 32 گھنٹے یا 26گھنٹے تک ویڈیو دیکھی جاسکتی ہے— فوٹو : بشکریہ ٹوئٹر
ایسا اسمارٹ فون لینا کون پسند نہیں کرے گا، جو ایک بار چارج کیے جانے کے بعد کئی دن بلکہ ایک ہفتے تک چل سکے؟، چین کی ایک کمپنی نے ایسی ڈیوائس تیار کر لی ہے جو اس صلاھیت کی حامل ہوگی۔
گیونی (Gionee) کا ایم 2017 (M2017) نامی اسمارٹ فون اس وقت دنیا کی طاقتور ترین بیٹری والی ڈیوائس ہے۔

— فوٹو : بشکریہ ٹوئٹر
— فوٹو : بشکریہ ٹوئٹر

اس فون کے ساتھ 7000 ایم اے ایچ بیٹری دی گئی ہے جبکہ آج کل بیشتر فونز دو ہزار سے تین ہزار ایم اے ایچ سے زیادہ بیٹری نہیں رکھتے، بلکہ اس چینی موبائل کی بیٹری بیشتر ٹیبلیٹس کی بیٹری سے بھی زیادہ طاقتور ہے۔
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس فون سے لگاتار 32 گھنٹے تک بات اور 26 گھنٹے تک ویڈیو دیکھی جاسکتی ہے جبکہ عام استعمال کی صورت میں یہ فون ایک ہفتے تک بھی چل سکتا ہے۔
اس فون میں اسنیپ ڈراگون 653 پراسیسر اور چھ جی بی ریم بھی موجود ہیں۔

— فوٹو : بشکریہ ٹوئٹر
— فوٹو : بشکریہ ٹوئٹر

یہ درحقیقت ایک لگژری فون ہے جو فی الحال چین تک ہی محدود ہے مگر ہوسکتا ہے کہ مستقبل قریب میں اسے دنیا کے دیگر ممالک میں بھی فروخت کے لیے پیش کیا جائے، جس کی ابتداء قریبی پڑوسی ممالک سے ہو سکتی ہے۔
اس کی اسکرین ایج ٹو ایچ ٹیکنالوجی کی حامل ہے جو کہ سام سنگ کے گلیکسی ایس سیون ایج جیسی ہے جبکہ 12 اور 13 میگاپکسلز کے دو رئیر کیمرے موجود ہیں جن میں آئی فون سیون کی طرح کا 2x آپٹیکل زوم دیا گیا ہے۔
اس فون میں گولڈ بیک کیمرہ پلیٹ اور آل گولڈ سافٹ وئیرز آئیکون بھی دیئے گئے ہیں، جبکہ فنگر پرنٹ ریڈر بھی دیا گیا ہے اور 128 سے 256 جی بی اسٹوریج بھی دی گئی ہے۔
اس فون کی قیمت بھی ایک ہزار ڈالرز (ایک لاکھ روپے) کے لگ بھگ ہے مگر بیٹری کی طاقت کو دیکھتے ہوئے مناسب لگتی ہے۔

جمعرات، 29 دسمبر، 2016

چین کا انقلابی انجن ’’ایم ڈرائیو‘‘ بنانے کی دوڑ میں آگے نکل جانے کا دعویٰ

ایم ڈرائیو کی تخلیق کا تصور برطانوی موجود راجر شویئر نے پیش کیا تھا۔  فوٹو: فائل
ایم ڈرائیو کی تخلیق کا تصور برطانوی موجود راجر شویئر نے پیش کیا تھا۔ فوٹو: فائل
الیکٹرومیگنیٹک ڈرائیو جسے مختصراً ایم ڈرائیو (EmDrive ) کہا جاتا ہے، ایک ایسا انجن ہے جسے چلانے کے لیے پیٹرول، ڈیزل، گیس اور بجلی کے بجائے الیکٹرومیگنیٹک ریڈی ایشن یعنی برقیاتی تاب کاری درکار ہوگی۔
روایتی انجن قانون بقائے معیارحرکت کے تحت کام کرتے ہیں جس میں مادّہ کی ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیلی کے ذریعے میکانی عمل یا مکینیکل ری ایکشن پیدا کیا جاتا ہے۔ یہ ری ایکشن انجن کو چلنے کی قوت فراہم کرتا ہے۔ اس کے برعکس ایم ڈرائیو میں ری ایکشن پیدا نہیں ہوگا۔ یہ انجن ایک مائیکرو ویو کیویٹی میں مقید برقیاتی تاب کاری سے طاقت حاصل کرے گا۔ نیوٹن کے تیسرے قانون کے مطابق ہر عمل کا ایک ردعمل ہوتا ہے، اور ردعمل کی قوت عمل کرنے والی قوت کے مساوی ہوتی ہے، مگر ایم ڈرائیو اس قانون کی نفی کرتا ہے۔
2010ء میں اس انقلابی انجن کی تیاری پر امریکا اور چین نے بہ یک وقت کام شروع کیا تھا۔ چھے برس گزرنے کے بعد اب چین نے ایم ڈرائیو تخلیق کرلینے کا دعویٰ کردیا ہے۔ کمرشل سیٹیلائٹ ٹیکنالوجی فار دی چائنا اکیڈمی آف اسپیس اینڈ ٹیکنالوجی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر چن یو نے دس دسمبر کو اعلان کیا کہ چین نے تجربہ گاہوں میں ایم ڈرائیوز ٹیکنالوجی کی کام یاب آزمائش کرلی ہے اور اب اس کی عملی آزمائش خلا میں کی جارہی ہے۔ ارضی مدار میں چین کی تجربہ گاہ تیانگ گونگ ٹو ستمبر میں پہنچائی گئی تھی۔ ایم ڈرائیو کی آزمائش اسی میں کی جارہی ہے۔
ایم ڈرائیو کی تخلیق کا تصور برطانوی موجود راجر شویئر نے پیش کیا تھا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ بیشتر سائنس داں اس نوع کے انجن کی تخلیق کو ناممکن قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ طبیعیات کے بنیادی قوانین سے متصادم کوئی بھی ایجاد کرنا ممکن نہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق اس طرح کے آلات نظری طور پر تیار کیے جاسکتے ہیں مگر انھیں حقیقت میں ڈھالنا ناممکن ہے۔ اسی تناظر میں جہان سائنس میں چین کے اس دعوے کے حوالے سے تجسس پایا جارہا ہے۔ سائنس دانوں کے علاوہ سائنس کے عام طالب علم بھی جاننے کے لیے بے چین ہیں کہ اس دعوے میں کتنی سچائی ہے۔
اگر چین کا دعویٰ درست ہے تو پھر ایم ڈرائیو کی تخلیق تسخیر کائنات میں ایک نئے باب کی بنیاد بنے گی، کیوں کہ نظری طور پر یہ انجن خلائے بسیط میں سفر کے لیے سب سے موزوں ہیں۔ ایندھن کی ضرورت نہ ہونے کی وجہ سے کم وزن خلائی جہازوں کی تیاری ممکن ہوجائے گی۔ ایم ڈرائیو چوں کہ خود توانائی کا ماخذ ہوگا، لہٰذا ایک بجلی گھر کی طرح یہ خلائی گاڑیوں اور دوسرے آلات کو توانائی فراہم کرسکے گا۔ ایم ڈرائیو ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے چھوٹی جسامت کے مگر زیادہ کارآمد مصنوعی سیارے بھی بنائے جاسکیں گے۔ مگر ایم ڈرائیو انجن کی سب سے خاص بات یہ ہوگی کہ اس کا استعمال کرتے ہوئے اتنے تیز رفتار ایئر کرافٹ بنائے جاسکیں گے جو زمین سے مریخ تک صرف دس دنوں میں پہنچ جائیں گے۔