صحت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
صحت لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 2 جولائی، 2017

ہیلتھ کیئر اور مصنوعی ذہانت

ٹیکنالوجی نے صحت کی دیکھ بھال میں انقلاب کی بنیاد رکھ دی ہے۔ فوٹو : فائل
ٹیکنالوجی نے صحت کی دیکھ بھال میں انقلاب کی بنیاد رکھ دی ہے۔ فوٹو : فائل
ٹیکنالوجی میں ہونے والی مسلسل پیش رفتوں نے موبائل فون، لیپ ٹاپ ایپس سمیت اس صنعت کی تمام مصنوعات کی قیمتیں آسمان سے زمین پر لاپٹخی ہیں، مگر صحت کے شعبے میں صورت حال مختلف نظر آتی ہے۔
ٹیکنالوجی نے اس شعبے میں آلات سے لے کر خدمات تک ہر شے کو منہ گا کردیا ہے۔ اس کا ازالہ کرنے کے لیے اب مختلف کمپنیاں مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس ( اے آئی) اور ڈیٹا اور آلات کو باہم مربوط کرکے اس انداز سے استعمال کرنے کے طریقے وضع کررہی ہیں جن سے صحت کی دیکھ بھال اور علاج معالجے پر ہونے والے اخراجات میں نمایاں کمی آئے اور صحت کی سہولیات کے معیار میں اضافہ ہو۔
اگر پانچ سے دس سال کے عرصے میں اس رجحان کے مثبت نتائج سامنے آجاتے ہیں تو پھر کانگریس کو طبی سہولیات اور بیمے کے بڑھتے ہوئے اخراجات پر تشویش ظاہر کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ پھر غالباً اس کے بجائے اخراجات میں نمایاں کمی اس کے لیے باعث تشویش امر ثابت ہوگا۔ پھر اوباما دور میں نافذ کیے گئے صحت کے منصوبے کی منسوخی پر بحث معمولی معلوم ہوگی۔
اس منظرنامے پر یقین کرنا مشکل لگ رہا ہوگا؟ تاہم بہت جلد یہ حقیقت بن جائے گا۔ اس کا ایک ثبوت ذیابیطس کے گرد گھومتی سرگرمیاں ہیں، جو دنیا کی سب سے منہگی بیماری ہے۔ امریکا کی دس فی صد آبادی یعنی تین کروڑ افراد کو یہ مرض لاحق ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ایک عشرے کے بعد چین میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد امریکا کی کُل آبادی سے بڑھ جائے گی۔ اس مرض کا شکار افراد علاج معالجے پر سالانہ پانچ سے دس ہزار ڈالر خرچ کرتے ہیں۔
علاوہ ازیں ذیابیطس کی پیچیدگیوں کے باعث ہونے والے دیگر امراض کے علاج پر اس سے کہیں زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے۔ سینٹرفارڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق صرف امریکا میں ذیابیطس پر سالانہ 245 ارب ڈالرخرچ ہوتے ہیں۔ اس منہگی بیماری کا سستا علاج تلاش کرنے کی کوشش متعدد افراد کررہے ہیں۔ انھی میں سے ایک سیمی لنکینن ہے۔ وہ ایتھلیٹ رہ چکا ہے۔ 2011ء میں اسے ٹائپ ٹو ذیابیطس تشخیص ہوئی۔ کئی لوگوں کی طرح سیمی نے بھی اپنی بیماری کو سمجھنے کے لیے ہر ممکن سعی کی۔
آگہی کی جستجو کے اس سفر میں اس کی ملاقات کیلے فورنیا یونی ورسٹی کے طبی محقق ڈاکٹر اسٹیفن فنی اور جیف وولیک سے ہوئی۔ دونوں محققین کم نشاستے کی حامل خوراک پر دو کتابیں تحریر کرچکے ہیں، نیز اس موضوع پر ان کی کئی تحقیق شایع ہوچکی ہیں کہ کیسے خوراک اور طرز زندگی میں مستقل بنیادوں پر کیا جانے والا تغیرو تبدل کئی مریضوں کو اس مرض سے نجات دلا سکتا ہے۔ تاہم انتہائی مشکل ہونے کے باعث ان کی پیش کردہ تجاویز یا منصوبے پر عمل درآمد بیشتر لوگوں کے لیے آسان نہیں۔ خواہش مند مریض کو قریب قریب ایک ڈاکٹر ہمہ وقت اپنے ساتھ رکھنا ہوگا، جو کہ ہر کسی کے لیے ممکن نہیں۔
لنکینن پیہم کوششوں کے بعد فنی اور وولیک کو بالآخر یہ باور کرانے میں کام یاب ہوگیا کہ ٹیکنالوجی ایک اسمارٹ فون میں ڈاکٹر اور نگراں کو ’ قید‘ کرسکتی ہے جو ہمہ وقت مریض کے ساتھ رہے گا۔ یوں تینوں افراد نے مل کر 2014ء میں Virta Health نامی کمپنی کی بنیاد ڈالی۔ ورٹا ہیلتھ دراصل ایک سوفٹ ویئر ہے۔
ذیابیطس کا مریض اپنے اسمارٹ فون میں موجود اس ایپ میں باقاعدگی سے ڈیٹا یعنی گلوکوز لیول، وزن، بلڈپریشر وغیرہ داخل کرتا ہے۔ اس دوران ایپ مختلف سوالات بھی پوچھتی ہے۔ مصنوعی ذہانت سے لیس یہ ایپ یا سوفٹ ویئر داخل کردہ ڈیٹا کی بنیاد پر مریض میں ذیابیطس کی صورت حال کا ٹھیک ٹھیک اندازہ کرکے ورٹا کے ڈاکٹروں کی ٹیم کی راہنمائی کرتی ہے۔
ڈاکٹر موصول ہونے والے ڈیٹا کی بنیاد پر اسی وقت، اسی ایپ کے ذریعے مریض کو دوا یا خوراک تبدیل کرنے کی ہدایت کرتے یا پھر کوئی اور مشورہ جیسے کوئی مخصوص ورزش وغیرہ، دیتے ہیں۔ سیمی کے مطابق تمام طبی فیصلے ڈاکٹر ہی کرتے ہیں مگر اس سوفٹ ویئر کی وجہ سے ان فیصلوں کی افادیت دس گنا بڑھ جاتی ہے۔
ڈیٹا بروقت داخل کرتے رہنے اور اس کی روشنی میں ملنے والے مشوروں اور ہدایات پر عمل کرنے کی وجہ سے ذیابیطس پر قابو پانے میں حیران کُن مدد ملتی دیکھی گئی ہے۔ ورٹا ہیلتھ سے مستفید ہونے والے 87 مریضوں نے یا تو انسولین کی خوراک کم کردی یا پھر انھیں اس کے استعمال سے مکمل نجات مل گئی۔
ورٹا نے اے آئی سوفٹ ویئر، اسمارٹ فونز اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کو باہم مربوط کرکے اپنے ڈاکٹروں کو اس قابل کردیا کہ وہ کلینک یا اسپتال کی نسبت کئی گنا زیادہ مریضوں سے مستقل رابطے میں رہتے ہیں۔ اس نظام کا نتیجہ ذیابیطس کے مؤثر علاج کی صورت میں ظاہر ہورہا ہے جو مریضوں کو ادویہ، ڈاکٹروں کے دفاتر اور اسپتال کے ہنگامی امداد کے کمروں سے دور رکھنے میں معاون ہوسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ذیابیطس کے علاج پر ہونے والے مجموعی اخراجات نمایاں طور پر کم ہوجائیں گے۔
ذیابیطس سے تنہا ورٹا ہیلتھ برسرپیکار نہیں ہے۔ Livongo، ورٹا کے سوفٹ ویئر سے ملتا جُلتا پروگرام ہے مگر اس کا ڈاکٹروں پر انحصار اول الذکر سے کم ہے۔ سوا پانچ کروڑ ڈالر کے سرمائے سے رواں سال مارچ میں قائم ہونے والی کمپنی نے خون میں شکر کی سطح جانچنے والا لاسلکی آلہ بنایا ہے جو ذیابیطس کے مریض کا ڈیٹا اپ لوٹ کرتا ہے۔ اس ڈیٹا کی بنیاد پر اے آئی سوفٹ ویئر مریض کی حالت کا اندازہ کرتے ہوئے اسے مفید مشورے اور معلومات بھیج دیتا ہے۔
ایک اور کمپنی Fractyl نے وسیع تر طبی طریقہ اختیار کیا ہے۔ اس نے ایک قسم کی مثانے میں سے پیشاب نکالنے کی نلکی (کیتھیٹر) ایجاد کی ہے جو آنتوں میں تغیر لاکر خون میں شکر کی زیادتی کا سبب بننے والے عمل کو اُلٹا دیتی ہے۔ یوں ذیابیطس پر قابو پانے مدد ملتی ہے۔
امریکا میں اس وقت 130 نئی کمپنیاں کسی نہ کسی پہلو سے ذیابیطس پر قابو پانے کی جنگ میں شامل ہیں۔ ان کی کام یابی یا ناکامی سے قطع نظر اس جنگ میں ان کی کوششیں بہت اہمیت کی حامل ہیں کیوں کہ صحت کی دیکھ بھال کے وسائل پر ذیابیطس بے انتہا بھاری بوجھ ہے۔ Livongo کے بانی ہمنت تنیجا کہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی ذیابیطس کی مد میں ہونے والے اخراجات میں کم از کم ایک کھرب ڈالر کی بچت کرسکتی ہے۔ اتنی بڑی رقم کی بچت سے امریکی حکومت متعدد نئے منصوبے شروع کرسکتی ہے۔
اگر ذیابیطس کے صرف 20 فی صد مریضوں کو علاج معالجے اور ڈاکٹروں کے کلینکوں کے چکر لگانے سے نجات مل جائے تو اس مد میں بچنے والی کثیر رقم دوسرے امراض میں مبتلا مریضوں کے کام آسکے گی۔ لنکینن کا کہنا ہے کہ اگر ہم صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات محدود کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ذیابیطس جیسے صحت کے تحولی مسائل (میٹابولک ہیلتھ ایشوز) کو جڑ سے ختم کرنا ہوگا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ پندرہ سال کے دوران ہیلتھ کیئر کمپنیاں نہ صرف امراض کا علاج کررہی ہوں گی بلکہ آغاز ہی میں ان کی شناخت کرکے اسی مرحلے پر انھیں ختم کردینے کے بھی قابل ہوچکی ہوں گی۔
پچھلے ایک عشرے کے دوران، امریکا میں تمام میڈیکل ریکارڈز ڈیجیٹل ہوکر ایک سوفٹ ویئر میں محفوظ ہوچکے ہیں جو پہلے کاغذات پر ڈاکٹروں کی خوف ناک تحریروں کی صورت میں تھے۔ تاہم ڈیجٹائزیشن کے اس عمل سے ہیلتھ کیئر کے اخراجات کم کرنے میں مدد نہیں ملی بلکہ ان میں اضافہ ہوا ہے، کیوں کہ اس مقصد کے لیے بڑے بڑے کمپیوٹر سسٹمز نصب کیے گئے اور ڈاکٹروں اور طبی ماہرین کو سوفٹ ویئر استعمال کرنے کی تربیت بھی دی گئی۔ امریکا میں 54 فی صد سے زائد مریضوں کا طبی ریکارڈ Epic Systems نامی کمپنی کے پاس محفوظ ہے، مگر اس کمپنی نے طبی ریکارڈ تک رسائی دینے کے لیے جو لائحہ عمل بنایا ہے اس میں ڈاکٹروں اور نرسوں کا وقت بہت ضایع ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے کمپنی کا تنقید ہوتی رہتی ہے۔
مریضوں کی تعداد بڑھنے کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل میڈیکل ریکارڈز کا حجم بھی تیزی سے وسیع ہورہا ہے۔ ورٹا اور لیونگو جیسی سہولیات کا استعمال بھی ڈیٹا میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ علاوہ ازیں انٹرنیٹ سی جُڑے آلات چاہے وہ Fitbits ہو یا پھر اس سے منسلک گلوکوز میٹر یا پھر ایپل کے ایئرپوڈز جیسی بایومیٹرک ریڈنگز لینے والی ڈیوائسز ، یہ تمام بھی ڈیٹا یعنی میڈیکل ریکارڈز کے حجم میں اضافہ کررہی ہیں۔ اس میڈیکل ریکارڈ کی بنیاد پر اے آئی سوفٹ ویئر عمومی طور پر امراض اور انفرادی مریضوں کے بارے میں جان کاری حاصل کرکے ٹیکنالوجی کے اطلاق کی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔ اے آئی کے نئے اطلاقات ہیلتھ کیئر انڈسٹری کی کایا پلٹ سکتے ہیں۔
Qventus ایک اور نئی کمپنی ہے جو اے آئی کی مدد سے اسپتال میں آن لائن جاری سرگرمیوں کو کھنگالتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کررہی ہے کہ ڈاکٹروں اور نرسوںکے وقت کی بچت کیسے کی جائے تاکہ وہ زیادہ مریضوں کو خدمات فراہم کرسکیں۔ کئی اسپتال اس کمپنی کے سوفٹ ویئر سسٹم سے استفادہ کررہے ہیں۔ ان میں سے فورٹ اسمتھ، آرکنساس میں قائم مرسی ہاسپٹل ہے۔
Qventus کی خدمات حاصل کرنے کے بعد اسپتال نے انھی وسائل میں رہتے ہوئے ایک سال کے دوران تین ہزار زیادہ مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کیں۔ اس طرح مریضوں کی تعداد 18 فی صد بڑھ گئی۔ یہاں ٹیکنالوجی نے طبی خدمات کی رسد بڑھانے میں کردار ادا کیا اور ہیلتھ کیئر پر آنے والے اخراجات گھٹانے میں بھی معاون ہوئی۔
اے آئی ڈاکٹروں کے کام کو بھی کسی حد تک خودکار بنانے لگی ہے۔ آئی بی ایم کا سوال و جواب کا کمپیوٹر نظام ’واٹسن‘ دنیا کا بہترین تشخیص کار بننے کی راہ پر گام زن ہے۔ اس کا سوفٹ ویئر مریضوں کی معلومات اور ہر سال شایع ہونے والی ہزاروں لاکھوں طبی تحقیق کا موازنہ کرتے ہوئے تشخیصی عمل انجام دیتا ہے۔ واٹسن اپنی یادداشت میں تازہ ترین خبریں بھی محفوظ کرتا ہے، مثلاً کس خطے میں کون سی وبا پھیلی ہوئی ہے۔ یہ معلومات حالیہ دنوں میں اس خطے کا سفر کرنے والے افراد میں مرض کی تشخیص کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔
واٹسن مریض سے مختلف سوالات پوچھتے ہوئے مرض کا تعین کرتا ہے۔ آئی بی ایم کے اس نظام کی آزمائش کئی بڑے اسپتالوں میں کی جارہی ہے۔ تاہم ٹیکنالوجی میں ہونے والی روزافزوں پیش رفت کی بنیاد پر امید کی جارہی ہے کہ ایک روز واٹسن یا اس سے ملتا جلتا سسٹم ہر فرد اسمارٹ فون وغیرہ کے ذریعے استعمال کرسکے گا۔ واٹسن کے طرز پر امیزون نے ’ ڈاکٹر اے آئی‘ لانچ کیا ہے۔ اس سے اپنا طبی مسئلہ بیان کیا جائے تو یہ سوالات پوچھنا شروع کردیتا ہے، اور کچھ دیر کے بعد ممکنہ مرض یا کیفیت کا تعین کردیتا ہے۔
شعبۂ طب میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار کے ساتھ مختلف کمپنیاں اب جینیات پر مبنی نئی اقسام کی ادویہ تیار کررہی ہیں۔ سولہ سال پہلے ہیومن جینوم پروجیکٹ اور ماہر جینیات کریگ وینٹر کی قائم کردہ کمپنی سیلیرا جینومیکس نے انسانی جینوم کا نقشہ ترتیب دینے میں کام یابی حاصل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ وینٹر کا کہنا تھا کہ اس کا پروجیکٹ سپرکمپیوٹر پر بیس ہزار گھنٹے صرف کرنے کے بعد مکمل ہوا تھا۔
رواں برس ایک کمپنی کلر جینومکس ڈھائی سو ڈالر میں ایک ٹیسٹ کررہی ہے جس میں انسانی جسم کے تمام جینز کی سیکونسنگ یا سلسلہ بندی کی جاسکتی ہے۔ اس کمپنی کا مقصد جینیاتی سلسلہ بندی کو اتنا ارزاں کردینا ہے کہ پیدا ہونے والے ہر بچے کا یہ ٹیسٹ ممکن ہوجائے اور پیدائش کے ساتھ ہی یہ معلوم ہوجائے کہ زندگی میں اسے کون کون سی بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں۔
مندرجہ بالا کے علاوہ بھی کئی کمپنیاں ہیلتھ کیئر کے مختلف پہلوؤں کو ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ کررہی ہیں۔ چناں چہ یہ بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ بہت جلد ہیلتھ کیئر ٹیکنالوجی کی وسعت کے ساتھ صحت کی دیکھ بھال سہل تر اور ارزاں ہوجائے گی۔

عالمی درجہ حرارت میں اضافہ سے زرعی پیداوار کو خطرات لاحق

موسمیاتی تبدیلی کے باعث ملک میں غذائی قلت جیسے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے، تجزیاتی تحقیق۔ فوٹو : فائل
موسمیاتی تبدیلی کے باعث ملک میں غذائی قلت جیسے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے، تجزیاتی تحقیق۔ فوٹو : فائل
اسلام آباد: گلوبل وارمنگ کے باعث عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا پاکستان کی زرعی پیداوار کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں جس سے پائیدار غذائی خود کفالت یا فوڈ سکیورٹی کے حصول کیلیے ملکی سطح پر کیے جانے والے اقدامات کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
فاقی وزارت موسمیاتی تبدیلی کے ترجمان محمد سلیم شیخ کی جانب سے جاری بیان میں کہا ہے کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی کے ذیلی ادارے گلوبل چیینج امپیکٹ اسٹڈی سنٹر نے اپنی تحقیقی تجزیئے میں خبردارکیا ہے کہ آنے والی دہائیوں میں موسمیاتی تبدیلی کی ملکی زراعت اور پانی پر شدید منفی اثرات کے نتیجے میں ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات خوراک کو پورا کرنا مشکل ہوسکتا ہے، بھوک اور لوگوںکو درپیش غذائی قلت جیسے مسائل میں شدت آسکتی ہے۔

اگرمیت کو خلا میں چھوڑ دیا جائے تو کیا ہوگا؟

خلا کا ماحول ہماری زمین کے مقابلے میں بالکل مختلف ہے اس لیے وہاں مُردہ جسم کے ساتھ عجیب و غریب واقعات ہوسکتے ہیں۔ (فوٹو: فائل)
خلا کا ماحول ہماری زمین کے مقابلے میں بالکل مختلف ہے اس لیے وہاں مُردہ جسم کے ساتھ عجیب و غریب واقعات ہوسکتے ہیں۔ (فوٹو: فائل)
کراچی: اگر کسی شخص کے جسم کو مرنے کے بعد زمین میں دفنانے کے بجائے خلا میں چھوڑ دیا جائے تو کیا ہوگا؟ بظاہر یہ سوال احمقانہ لگتا ہے لیکن ایسا ہونا کچھ ناممکن بھی نہیں اور ایسی صورت میں بہت ہی دلچسپ جوابات ہمارے سامنے آتے ہیں۔
ویسے تو آج کل خلا میں جانا بہت مہنگا سودا ہے لیکن شاید آنے والے عشروں میں خلا کا سفر بہت کم خرچ ہو جائے گا اور کوئی بعید نہیں کہ اکیسویں صدی کے اختتام تک خلا میں پہنچنا اتنا ہی آسان اور کم خرچ ہوجائے جتنا آج ایک سے دوسرے ملک کا سفر ہے۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ زمین پر تنگ پڑتی ہوئی جگہ کے پیشِ نظر مستقبل میں ’’خلائی قبرستان‘‘ کا رواج پڑ جائے۔ یہ اس لیے بھی ممکن محسوس ہوتا ہے کیونکہ خلا بہت ہی بڑی جگہ ہے، اتنی بڑی کہ ہمارا سیارہ زمین اس پورے نظامِ شمسی میں ایک نقطے جیسی حیثیت رکھتا ہے۔
اب فرض کیجیے کہ اگر کسی شخص کے مرنے کے بعد اس کے جسدِ خاکی کو خلا میں چھوڑ دیا جائے جبکہ وہ کسی حفاظتی خول وغیرہ میں بند بھی نہ ہو تو چند گھنٹوں، چند دنوں، چند مہینوں اور یہاں تک کہ کئی برسوں کے بعد اس کے جسم پر کیا بیتے گی؟
اب تک اس بارے میں کوئی تجربہ تو نہیں کیا گیا لیکن کچھ سائنسی اندازے ضرور لگائے  گئے ہیں جو بڑی حد تک مناسب بھی معلوم ہوتے ہیں۔ وہ اندازے کیا ہیں؟ ملاحظہ کیجیے:
خلا میں نہ تو ہوا ہوتی ہے اور نہ ہی نمی، یعنی اگر کسی مردہ جسم کو خلا میں چھوڑ دیا جائے تو اس میں موجود نمی بڑی تیزی سے ختم ہو گی۔ چونکہ انسانی جسم کا 80 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے ماہرین کا اندازہ ہے کہ مُردہ جسم کے خلا میں چھوڑے جانے کے ایک گھنٹے کے اندر اندر ہی اس کی کمیت صرف 20 فیصد رہ جائے گی۔
زمین پر زندہ حالت میں تن و مند دکھائی دینے والا 100 کلوگرام وزنی انسان جب مرنے کے بعد خلا میں پہنچے گا تو کچھ ہی دیر میں وہ صرف 20 کلوگرام وزنی رہ جائے گا۔ وہ ہڈیوں کا ایک ایسا ڈھانچہ بن چکا ہوگا جس پر کھال منڈھی ہوگی۔ یعنی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ صرف ایک گھنٹے میں وہ شخص ایک ’’خشک ممی‘‘ میں تبدیل ہوچکا ہوگا۔
یہ بھی یاد رہے کہ پانی وہ مادّہ ہے جو زندگی کی اہم ترین ضرورت بھی ہے اس لیے پانی کی عدم دستیابی پر انسانی جسم میں موجود تمام جراثیم بھی بڑی تیزی سے ختم ہوجائیں گے یعنی خلا میں مُردہ انسانی جسم گلنے سڑنے سے بھی محفوظ رہے گا۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر خلا میں مُردہ جسم کو جراثیم مرجانے کے بعد گلنے سڑنے کا سامنا نہیں ہوگا تو کیا وہ ہمیشہ اسی حالت میں رہے گا؟ اس سوال کے مختلف جوابات ہیں۔
اگر مُردہ جسم زمین کے گرد نچلے مدار میں گردش کر رہا ہو گا تو اس کا مدار بتدریج مختصر ہوتا چلا جائے گا اور چند گھنٹوں سے لے کر چند دنوں کے اندر اندر ہی وہ زبردست رفتار کے ساتھ زمینی کرہ ہوائی میں داخل ہوجائے گا۔ یہاں ہوا کے ذرّات سے شدید رگڑ اور زبردست درجہ حرارت کی وجہ سے وہ صرف چند لمحوں میں جل کر راکھ ہوجائے گا اور بالائی کرہ ہوائی میں بکھر جائے گا۔ زمین سے دیکھنے پر یہ منظر شہابِ ثاقب کی طرح دکھائی دے گا۔
اس سے کچھ زیادہ بلندی پر وہ مدار ہے جہاں ’’خلائی ملبے‘‘ (space debris) کی بڑی مقدار زمین کے گرد چکر لگا رہی ہے۔ صرف چند ملی میٹر باریک ذرّات سے لے کر چند سینٹی میٹر جتنے بڑے ٹکڑوں پر مشتمل اس خلائی ملبے کا بڑا حصہ پرانے مصنوعی سیارچوں اور خلائی راکٹوں کی باقیات پر مشتمل ہے اور اس کی رفتار کئی کلومیٹر فی سیکنڈ ہوتی ہے۔
اگر کوئی میت اس مدار میں ہوگی تو قوی امکان ہے کہ خلائی ملبے کے ٹکڑے اس سے بھی ٹکرائیں گے اور اپنی غیرمعمولی تیز رفتار کی وجہ سے لاش پر گڑھے ڈال سکتے ہیں اور اگر ٹکرانے والے ملبے کی جسامت زیادہ ہوئی تو ایسا ایک ہی ٹکڑا میت کے پرخچے اُڑا دینے کے لیے کافی ہو گا۔
اس سے بھی اوپر تقریباً 36 ہزار کلومیٹر کی بلندی پر وہ مدار ہے جس میں مواصلاتی سیارچے زمین کے گرد چکر لگاتے ہیں اور جسے ’’ارض ساکن مدار‘‘ (جیو اسٹیشنری آربٹ) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ مدار قدرے پر سکون ہے اور یہاں پہنچنے والی میت کے لیے خلائی ملبے سے ٹکرانے کے امکانات خاصے کم ہیں۔
البتہ، مدار چاہے کوئی بھی ہو لیکن اتنا ضرور طے ہے کہ خلا میں بھیجی جانے والی کسی بھی میت کو (خصوصی حفاظتی انتظامات کے بغیر) سورج سے آنے والی خطرناک شمسی ہواؤں اور کائناتی شعاعوں کی بڑی مقدار کا سامنا کرنا پڑے گا جو اسے کچھ ہی عرصے میں جھلسا کر کوئلے جیسا سیاہ کردیں گی۔ تب یہ خلائی لاش کسی بے ہنگم پتھر کی طرح دکھائی دے گی۔
یہ تو ہوئی زمینی مدار میں میت پہنچانے کی بات لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کوئی لاش زمین کے بجائے سورج کے گرد مدار میں پہنچا دی جائے۔ تب کیا ہو گا؟
اگر سورج کے گرد ایسی کسی لاش کا مدار چھوٹا ہوا یعنی اس کا فاصلہ سورج سے کم ہوا تو اس کا حشر بھی کم و بیش وہی ہوگا جو زمینی مدار میں چکر لگانے والی کسی لاش کا ہو سکتا ہے، اور جس کا تذکرہ اوپر کی سطور میں کیا جاچکا ہے۔
تاہم اگر وہ میت کسی بہت بڑے مدار میں پہنچا دی جائے جہاں وہ سورج سے بہت فاصلے پر رہتے ہوئے اس کے گرد چکر لگا رہی ہو تو اس تک پہنچنے والی شمسی ہواؤں کی شدت بھی بہت کم رہ جائے گی یعنی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسے انتہائی سرد اور قدرے محفوظ ماحول کا سامنا ہو گا جہاں وہ ہزاروں لاکھوں سال تک اسی حالت میں رہتے ہوئے چکر لگاتی رہے گی۔
دور دراز خلا کا ماحول انتہائی سرد بھی ہوتا ہے جس کا اوسط درجہ حرارت صرف 2.73 ڈگری کیلون یعنی منفی 270 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی کم ہوتا ہے۔ خلا کے اس تاریک اور شدید سرد ماحول میں کوئی بھی لاش برف سے بھی زیادہ ٹھنڈی رہے گی اور اگر اسے کسی ناگہانی آفت کا سامنا کرنا نہیں پڑا تو وہ کروڑوں اربوں سال تک تقریباً اسی حالت میں رہے گی۔

جمعرات، 8 جون، 2017

اضافی بازوؤں کی سہولت فراہم کرنے والا روبوٹک نظام

میٹالمبس کو پیر اور ہاتھوں کے سینسر سے بھی قابو کیا جاسکتا ہے۔ فوٹو: فائل
میٹالمبس کو پیر اور ہاتھوں کے سینسر سے بھی قابو کیا جاسکتا ہے۔ فوٹو: فائل
ٹوکیو: جاپانی ماہرین نے ایسے روبوٹک بازو تیار کر لئے ہیں جو کمر پر بھی پہنے جا سکتے ہیں اور ان سے معذور افراد کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں جنہیں ایک وقت میں کئی کام کرنے پڑتے ہیں۔
روبوٹک بازووں کو میٹا لِمبس کا نام دیا گیا ہے جنہیں پاؤں کے ٹخنوں اور ہاتھوں کی کہنیوں کو موڑ کر حرکت دی جاتی ہے اور یہ عمل جوڑوں اور پیروں پر موجود سینسر کی مدد سے انجام دیا جاتا ہے۔ ماہرین نے اس ایجاد کو ’ملٹی پل آرمز انٹرایکشن میٹا مورفزم‘ کا نام دیا ہے جس میں مصنوعی بازو آپ کے جسم کا حصہ بن جاتے ہیں۔
روبوٹ بازو جسم اور دھڑ کے لحاظ سے عین اس طرح حرکت کرتے ہیں جس طرح ہمارے بازو ہمارے بدن کے ساتھ ساتھ گھومتے اور حرکت کرتے ہیں۔ بازؤں کو پیروں کے انگوٹھوں کے مدد سے حرکت دی جاتی ہے کیونکہ انگوٹھے موڑتے ہی سینسر مشینی بازو کو گھماتے اور آگے کی جانب حرکت دیتے ہیں۔
مصنوعی ہاتھوں کے ذریعے آپ کسی بھی شے کو گرفت کر سکتے ہیں اور معمولی پینٹ برش سے لے کر چھوٹا گلاس بھی اٹھا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ روبوٹک بازووں کی جگہ کوئی پنجہ اور ویلڈنگ آلہ بھی لگایا جا سکتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اسے ہر جگہ صورتحال کے مطابق استعمال کر سکتے ہیں۔
میٹالمِبس کے ساتھ خاص جرابیں (موزے) بھی دی گئی ہیں جس پر بازو کو حرکت دینے والے سینسر لگائے گئے ہیں۔ ان کی حرکت کے لحاظ سے بازو گھومتے اور اپنی پوزیشن بدلتے ہیں۔ جوں ہی کو پاؤں کا انگوٹھا مڑتا ہے تو اسی لحاظ سے روبوٹ کی انگلیاں بند ہو جاتی ہیں۔ اس طرح کسی شے کو گرفت کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔
انجینیئروں کے مطابق روبوٹ بازو کے آپشنز کو سہولت کے لحاظ سے تبدیل کیا جاسکتا ہے اس کے علاوہ اپنے اصل بازوؤں سے بھی روبوٹ کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جس طرح سائنس فکشن فلموں میں ایک آدمی کےچار ہاتھ ہوتے ہیں میٹالمبس بھی آپ کو اس طرح مزید دو بازؤں کی قوت فراہم کرتا ہے۔

جمعرات، 1 جون، 2017

خون میں پلیٹلیٹس بنانے والا ’ماسٹر سوئچ‘ دریافت

اس دریافت کی بدولت مصنوعی ذرائع سے پلیلیٹس حاصل کرتے ہوئے لاکھوں مریضوں کا انحصار عطیہ کردہ خون پر کم کیا جاسکے گا۔ (فوٹو: فائل)
اس دریافت کی بدولت مصنوعی ذرائع سے پلیلیٹس حاصل کرتے ہوئے لاکھوں مریضوں کا انحصار عطیہ کردہ خون پر کم کیا جاسکے گا۔ (فوٹو: فائل)
ورجینیا: طبی ماہرین نے ایک ایسا ’’ماسٹر سوئچ‘‘ دریافت کرلیا ہے جو ضرورت پڑنے پر مختلف اقسام کے پلیٹلیٹس تیار کرسکتا ہے اور یوں خون میں پائے جانے والے ان اہم خلیات کی کمی پوری کرسکتا ہے۔
واضح رہے کہ ہمارے خون میں سرخ خلیات کے علاوہ ’’پلیلٹیٹس‘‘ (Platelets) کہلانے والے خلیات بھی پائے جاتے ہیں جو ضرورت پڑنے پر خون کے لوتھڑے بنا کر زخم سے خون کا بہاؤ روک کر ہماری جان بچاتے ہیں۔ نوزائیدہ بچوں کے خون میں پائے جانے والے پلیٹلیٹس کی جسامت کم ہوتی ہے جبکہ بڑی عمر کے لوگوں میں یہ نسبتاً زیادہ جسامت کے حامل ہوتے ہیں۔
خون کے سرخ خلیات کی طرح پلیٹلیٹس بھی ہڈی کے گودے میں بنتے ہیں لیکن سرخ خلیات کے مقابلے میں ان کی مقدار بہت کم ہوتی ہے جبکہ اب تک انہیں جسم سے باہر، مصنوعی ماحول میں تیار کرنے کی کوششیں بھی کسی خاص کامیابی سے ہم کنار نہیں ہوسکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک پلیٹلیٹس کی تمام ضرورت عطیہ کردہ خون سے ان خلیات کو علیحدہ کرکے پوری کی جارہی ہے۔
یونیورسٹی آف ورجینیا اسکول آف میڈیسن میں ماہرین کی ایک ٹیم نے اس مسئلے کا حل ایک ’’ماسٹر سوئچ‘‘ کی صورت میں دریافت کرلیا ہے جو نہ صرف پلیٹلیٹس کی پیداوار بڑھا سکتا ہے بلکہ ضرورت پڑنے پر نوزائیدہ بچوں یا بالغوں کےلیے جداگانہ اقسام کے پلیٹلیٹس بھی تیار کرسکتا ہے۔
یہ دریافت اس لحاظ سے اہم ہے کیونکہ خون کی بیماریوں میں مبتلا افراد کے علاوہ قبل از وقت پیدا ہوجانے والے بچوں کو بھی پلیٹلیٹس کی ضرورت پڑتی ہے جسے پورا کرنا اکثر اوقات بہت مشکل ثابت ہوتا ہے۔
ہڈی کے گودے میں موجود خلیات کا حیاتی کیمیائی ’’ماسٹر سوئچ‘‘ یہی کام کرتا ہے جو صحت مند جسم میں بہ وقتِ ضرورت پلیٹلیٹس کی زیادہ مقدار بنانے کا باعث بنتا ہے۔ اس دریافت کے بعد جب یہ سوئچ پیٹری ڈش میں رکھے گئے ہڈی کے گودے سے لیے گئے خلیات پر آزمایا گیا تو اس سے زیادہ مقدار میں پلیٹلیٹس بننے لگے جبکہ وقت بھی خاصا کم صرف ہوا۔ یہی نہیں بلکہ تھوڑے سے مختلف حالات میں اس سوئچ نے اپنی کارکردگی میں تبدیلی کرتے ہوئے ایسے پلیٹلیٹس بنانا شروع کردیئے جو نوزائیدہ بچوں کے خون میں پائے جاتے ہیں۔
ماہرین کو امید ہے کہ اس ماسٹر سوئچ کا طریقہ کار بہتر طور پر سمجھنے کے بعد خون کی مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد کا علاج بھی ہوسکے گا اور متبادل ذرائع سے پلیٹلیٹس کی زیادہ مقدار فراہم کرتے ہوئے عطیہ کردہ خون پر انحصار بھی کم سے کم کیا جاسکے گا۔
اس تحقیق اور دریافت کی تفصیلات ’’جرنل آف کلینیکل انویسٹی گیشن‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

بدھ، 24 مئی، 2017

خون میں زہریلے مادے صاف کرنے والی انقلابی مقناطیسی مشین


یہ چھوٹی سی مشین خون میں زہریلے مادے صاف کرنے میں نہایت مؤثر پائی گئی ہے۔ فوٹو:  ڈیلی میل
یہ چھوٹی سی مشین خون میں زہریلے مادے صاف کرنے میں نہایت مؤثر پائی گئی ہے۔ فوٹو: ڈیلی میل
 لندن: برطانوی سائنسدانوں نے جان لیوا سیپسِس انفیکشن سے بچانے والی ایک مقناطیسی مشین بنائی ہے جو خون سے زہریلے اور فاسد مادے صاف کرسکتی ہے۔
اس سے مریض اسپتال سے جلد فارغ ہوجاتا ہے جو اخراجات اور ڈاکٹروں کا بوجھ کم کرتا ہے۔ یہ کسی ڈائیلیسس مشین کی طرح خون صاف کرتی ہے لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ خون کی صفائی مقناطیس کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اگلے سال اسے نہ صرف انسانوں پر سیپسس کے لیے آزمایا جائے گا بلکہ لیوکیمیا اور ملیریا کا مرض دور کرنے پر بھی غور کیا جائے گا۔
مشین کو یونیورسٹی کالج لندن کے ڈاکٹر جارج فروڈشم نے پی ایچ ڈی کے دوران ڈیزائن کیا۔ سیپسس کے مرض میں خون کے اندر زہریلے مواد جمع ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور اس سے بدن کا جسمانی دفاعی نظام بھی متاثر ہوتا ہے جو کئی اہم اعضا کو ناکارہ بناکر مریض کو موت کی دہلیز تک لے جاتا ہے۔ صرف برطانیہ میں اس سے 44 ہزار افراد سالانہ ہلاک ہورہے ہیں۔
میڈی سیو نامی یہ مشین  پہلے مریض کا خون رگوں سے کشید کرتی ہے اور ان میں مقناطیسی ذرات شامل کرتی ہے۔ خون میں تیرنے والے زہریلے بیکٹیریا اور چھوٹے خردنامی ٹکڑے اینڈوٹوکسنس مقناطیسی ذرات سے چپک جاتے ہیں۔ اس کے بعد ان ذرات کو طاقتور مقناطیس سے کھینچ لیا جاتا ہے اور خون خطرناک اجزا سے پاک ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد صاف خون بدن میں دوبارہ داخل کردیا جاتا ہے۔
مشین کے موجد ڈاکٹر جارج کے مطابق خون میں کوئی مقناطیسی ذرہ شامل نہیں ہوپاتا اور اس عمل میں چند گھنٹے لگ سکتے ہیں لیکن ہر مریض کا وقت مختلف ہوسکتا ہے۔ دیگر ماہرین نے سیپسس جیسے خطرناک مرض سے نجات دلانے والی اس ٹیکنالوجی کا خیرمقدم کیا ہے۔ برطانوی سیپسس ٹرسٹ سے وابستہ ڈاکٹر رون ڈینیئلز کہتے ہیں کہ اس سے لاکھوں افراد مستفید ہوں گے۔

گرمی میں ٹھنڈا رکھنے والی ’’زندہ خلیات‘‘ کی حامل ٹی شرٹ

ایم آئی ٹی کی تیار کردہ زندہ خلیات والی شرٹ جو کمرشل بنیادوں پر بھی بنائی جاتی ہے۔ فوٹو: ایم آئی ٹی
ایم آئی ٹی کی تیار کردہ زندہ خلیات والی شرٹ جو کمرشل بنیادوں پر بھی بنائی جاتی ہے۔ فوٹو: ایم آئی ٹی
بوسٹن: اب وہ دن دور نہیں جب زندہ خلیات (سیلز) سے بنے اسمارٹ کپڑے عام ہوں گے اور ایسی ہی ایک ٹی شرٹ میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے سائنسدانوں نے بنائی ہے۔ بائیولوجِک نامی کمپنی کی اس ٹی شرٹ پر خردنامیوں (مائیکروبس) کی ایک باریک لکیر بنائی گئی ہے جو گرمی اور پسینے کی صورت میں پہننے والوں کو ٹھنڈک فراہم کرے گی۔  
ٹی شرٹ پر کام کرنے والے ماہر وین وینگ نے کہا کہ خردنامیوں اور جراثیم کے خلیات ماحول میں نمی کی تبدیلی کا احساس کرتے ہیں اور خود کو تبدیل کرتے ہیں۔ خشکی میں یہ سکڑ جاتے ہیں اور نمی کی موجودگی میں پھیل کر ان کی جسامت بڑھ جاتی ہے۔
وینگ اور ان کے ساتھیوں نے ایک کوٹ کی تیاری میں ای کولائی بیکٹیریا کے خلیات شامل کئے ہیں اور اس عمل کو بایوپرنٹنگ کا نام دیا ہے، خلیات کو ربڑ کی باریک شیٹ لیٹکس پر لگایا گیا۔ جب جب گرمی اور نمی پیدا ہوئی تو کپڑا مڑگیا اور اس میں چھوٹے چھوٹے سوراخ کھل گئے جن سے باہر کی ہوا بدن میں آنے لگی اور اس طرح ایک عام قمیض سانس لینے والی شرٹ میں تبدیل ہوگئی۔
وینگ کہتے ہیں کہ یہ کپڑا بدن کی نمی کے لحاظ سے خمیدہ ہوجاتا ہے اور جسم سے پسینے کو سکھانے میں مدد دیتا ہے، آزمائش کے طور پر اسے 100 مرتبہ خشک اور گیلے مراحل سے گزارا گیا اور اس کی صلاحیت پر کوئی فرق نہیں پڑا تاہم کمرشل اسپورٹس شرٹ اور کپڑوں کے لیے مزید تحقیق کی جارہی ہے تاکہ اسے بہتر سے بہتر بنایا جاسکے۔
اسی ٹیم نے ایک ایسا ٹی بیگ بھی بنایا ہے جو چائے تیار ہوجانے پر آپ کو مطلع کرتا ہے اور اب وہ ایسے لیمپ شیڈ پر کام کررہے ہیں جو بلب کی حرارت کے ساتھ مختلف اشکال اختیار کرلیتے ہیں۔ ماہرین پرامید ہیں کہ وہ اپنی اس ایجاد کو عام افراد کے لیے 2020 کے اولمپکس کے موقع پر پیش کریں گے۔

پیر، 22 مئی، 2017

مسلم انجینئر نے ’’ذہین ٹی شرٹ‘‘ ایجاد کر لی


یہ ذہین ٹی شرٹ سانس کی رفتار نوٹ کرتے ہوئے کئی تنفسی بیماریوں کی تشخیص اور علاج میں ڈاکٹروں کی مدد کرسکتی ہے۔ (فوٹو: فائل)
یہ ذہین ٹی شرٹ سانس کی رفتار نوٹ کرتے ہوئے کئی تنفسی بیماریوں کی تشخیص اور علاج میں ڈاکٹروں کی مدد کرسکتی ہے۔ (فوٹو: فائل)
کیوبیک: کینیڈا کی یونیورسٹی آف لاوال میں پروفیسر یونس مصدق کی سربراہی میں ماہرین نے ایک ایسی ذہین ٹی شرٹ ایجاد کرلی ہے جو نہ صرف اپنے پہننے والے کے سانس لینے کی رفتار پر نظر رکھتی ہے بلکہ اسے متعدد بار دھویا بھی جا سکتا ہے۔
اس کا مقصد سانس کی رفتار کے ذریعے تنفسی امراض (سانس کی بیماریوں) پر نظر رکھنا اور دمہ، بے خوابی اور سانس کے مختلف امراض کی تشخیص کرنا ہے۔
تحقیقی جریدے ’’سینسرز‘‘ کے تازہ شمارے میں اس منفرد ٹی شرٹ کی شائع شدہ تفصیلات کے مطابق اس میں سینے کے مقام پر ایک ننھا، نرم اور لچک دار قسم کا انٹینا سلا ہوا ہے جو ایک کھوکھلے بصری ریشے (آپٹیکل فائبر) پر مشتمل ہے جس کی اندرونی سطح پر چاندی کی پرت چڑھائی گئی ہے جبکہ بیرونی ماحول سے حفاظت کے لیے اس پر ایک مضبوط لیکن لچک دار پولیمر کی بیرونی پرت موجود ہے۔
یہ سینسر بیک وقت دو کام کرتا ہے: یہ سینے کے پھیلنے اور سکڑنے کی بنیاد پر سانس لینے کی رفتار نوٹ کرتا ہے جبکہ نوٹ کی گئی ان پیمائشوں کو ساتھ ہی ساتھ وائرلیس سگنلوں کی شکل میں نشر بھی کرتا رہتا ہے جو قریب رکھے ہوئے کمپیوٹر یا پھر صارف کے اسمارٹ فون پر وصول کیے جاسکتے ہیں۔
سانس کی رفتار پر مسلسل رکھنے والے دوسرے طریقوں اور ماضی میں بنائی گئی دوسری اسمارٹ ٹی شرٹس کے برخلاف اس نئی اسمارٹ ٹی شرٹ میں ایسا کوئی تار، برقیرہ یا سینسر نہیں جو براہِ راست انسانی جسم کو چھوتا ہو جبکہ یہ اتنی آرام دہ ہے کہ اسے پہننے والے کو کسی خاص انداز میں اٹھنے بیٹھنے کی پابندی کرنا نہیں ہوتی۔ پروفیسر یونس کہتے ہیں، ’’ہمارے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ (ٹی شرٹ) اپنے پہننے والے کی فطری حرکات میں رکاوٹ نہیں ڈالتی اور اسے پہن کر کھڑے ہونے، اٹھنے، بیٹھنے اور چلنے پھرنے جیسے معمولات بھی اسی طرح انجام دیئے جاسکتے ہیں جیسے کوئی عام سی ٹی شرٹ پہنی ہو۔‘‘
تجربات کے دوارن اس ٹی شرٹ کو 20 سے زائد مرتبہ دھویا گیا لیکن پانی اور واشنگ پاؤڈر سے بہت دیر تک سامنا ہونے کے باوجود بھی اس ٹی شرٹ کو کچھ نہیں ہوا اور یہ پہلے کی طرح کام کرتی رہی۔
اب یہ ماہرین کسی ایسے ادارے کی تلاش میں ہیں جو اس نئی اسمارٹ ٹی شرٹ کو تجارتی پیمانے پر تیار کرکے طبّی استعمال کےلیے فروخت کرسکے۔
پروفیسر یونس مصدق کا تعلق لاوال یونیورسٹی، کیوبیک کی فیکلٹی آف سائنس اینڈ انجینئرنگ کے سینٹر فار آپٹکس، فوٹونکس اینڈ  لیزرز سے ہے جبکہ وہ ’’کینیڈا ایکسی لینس ریسرچ چیئر اِن فوٹونک انوویشنز‘‘ کا اعلی اعزاز بھی رکھتے ہیں۔

کوما کے مریض کو جگانے کیلیے کامیاب تجربہ


سائنسدانوں نے دماغی طور پر مردہ افراد کے دماغ کو ہلکی بجلی دے کر انہیں کوما سے باہر نکالا،
فوٹو: بشکریہ ارورے سیبو
سائنسدانوں نے دماغی طور پر مردہ افراد کے دماغ کو ہلکی بجلی دے کر انہیں کوما سے باہر نکالا، فوٹو: بشکریہ ارورے سیبو
بیلجیئم: ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے دماغی طور مردہ 2 مریضوں کے دماغ کو برقی سرگرمیوں سے تحریک دے کر انہیں طویل بے ہوشی ’’کوما‘‘ سے باہر نکالنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔
اس اہم کام سے گھروں کے بستروں پر لیٹے ایسے لاتعداد مریضوں کے لیے بھی امید پیدا ہوئی ہے جو بولنے اور اپنے ہاتھ پاؤں ہلانے سے معذور ہیں۔ یونیورسٹی آف لی بیلجیئم میں کئے گئے تجرباتی عمل کو ٹرانس کرینیئل ڈائریکٹ کرنٹ سیمولیشن (ٹی ڈی سی ایس) کا نام دیا گیا ہے جسے پہلی مرتبہ کوما کے مریضوں پر آزمایا گیا ہے۔
اس سے قبل ماہرین نے مریضوں کے لیے ذاتی ٹی ڈی سی ایس ہیلمٹ بنانے کی کوشش کی تاکہ ضرورت پڑنے پر مریض کے دماغ کو برقی طور پر تحریک دی جا سکے اور ان کا دماغ بہتر طور پر کام کرنے لگے۔ تجرباتی طور پر دماغی ماہر ارورے سیبو نے ایک مریض کے سر کے اس مقام پر الیکٹروڈ (برقیرے) لگائے جسے پرفرنٹل کارٹیکس کہتے ہیں اور وہ شعور کنٹرول کرتا ہے۔
2 گھنٹے تک ہلکی بجلی دینے والے 2 مریضوں نے حیرت انگیز طور پر اپنے جسم کے بعض حصوں کو ہلانا شروع کردیا۔ اس کامیابی کے بعد سائنسدانوں کی ٹیم نے 15 ایسے مریض منتخب کیے جو کسی حادثے یا واقعے کے بعد دماغی طور پر متاثر تھے اور کم سے کم 3 ماہ تک بولنے سے قاصر تھے۔
ان مریضوں کو مسلسل 5 روز تک 20 منٹ دماغ میں برقی رو دوڑائی گئی جب کہ دیگر کا فرضی علاج کیا گیا یعنی کم فریکوئنسی کی بجلی دماغ پر پہنچائی گئی۔ جن افراد کو مناسب بجلی دی گئی ان پر بہتر اثرات مرتب ہوئے جب کہ کم فریکوئنسی بجلی لینے والے مریضوں میں کوئی بہتری نہیں دیکھی گئی۔
ماہرین اب تک شش و پنج میں ہیں کہ یہ عمل کس طرح اور کیونکر کارگر ہے اور اس کی آزمائش میں بہت احتیاط کی بھی ضرورت ہے۔ اس سے مریضوں کو فائدہ ضرور ہوا اور 30 فیصد مریضوں نے بہت اچھا برتاؤ کیا تاہم جنس، عمر، ہارمون اور ادویات کے اثرات ٹی ڈی سی ایس کی کارکردگی پر اثر ڈال سکتے ہیں۔

جمعرات، 18 مئی، 2017

زمین کے دور دراز جزیرے پر بھی کچرے کی بھرمار

ہینڈرسن جزیرے پر موجود کوڑے کا ایک منظر۔ فوٹو: بشکریہ جینیفر لیورز یونیورسٹی آف تسمانیہ
ہینڈرسن جزیرے پر موجود کوڑے کا ایک منظر۔ فوٹو: بشکریہ جینیفر لیورز یونیورسٹی آف تسمانیہ
نیوزی لینڈ: اگر آپ نیوزی لینڈ سے بحری جہاز میں 13 روز دن رات سفر کریں تو ہینڈرسن جزیرے پر پہنچیں گے جسے یونیسکو نے عالمی ورثےکی فہرست میں شامل کیا ہے جو اب تک انسانوں کے پہنچ سے دور ہے تاہم کبھی کبھار یہاں سائنسداں تحقیق کے لیے ضرور آتے ہیں لیکن اب اس جزیرے پر 18 ٹن سے زائد پلاسٹک کچرا موجود ہے جسے دیکھ کر ماہرین بھی حیران رہ گئے ہیں۔
اس انکشاف سے معلوم ہوا ہے کہ جو پلاسٹک کا کوڑا کرکٹ ہم سمندر میں ڈال رہے ہیں وہ لہروں کے دوش پر دنیا کے انتہائی دور علاقوں تک پہنچ رہا ہے۔ ایک خاتون سائنسداں کا کہنا ہے کہ انہوں نے مئی 2015 میں یہاں سمندری حیات اور جانوروں کو بری حالت میں دیکھا اور انسانوں کی جانب سے پھیلائے گئے پلاسٹک کے کم سے کم لاکھوں ٹکڑے دیکھے۔
خاتون سائنسدان نے اس دور افتادہ جزیرے پر بھی پلاسٹک کا کچرا بڑی مقدار میں دریافت کیا ہے۔ اس جزیرے کے ہر مربع میٹر پر روزانہ پلاسٹک کے 27 ٹکڑے جمع ہورہے ہیں جب کہ دیگر ماہرین نے اس صورتحال کو انتہائی خوفناک قرار دیا ہے۔ سمندری حیات کے ایک ماہر نے کہا کہ سمندروں کا کوڑا کرکٹ پوری زمین کو بہت تیزی سے اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق 18 ٹن پلاسٹک نے اس پورے جزیرے کو لپیٹ میں لے رکھا ہے اور اندازہ ہے کہ اس وقت 5 ٹریلین ٹن پلاسکٹ کے ٹکڑے سمندروں کے دوش پر زیرِ گردش ہیں۔

جمعرات، 11 مئی، 2017

آلودگی جذب کرکے ہائیڈروجن بنانے والا آلہ


شمسی توانائی سے چلنے والا یہ آلہ آلودگی کوہائیڈروجن گیس میں تبدیل کرسکتا ہے جس سے کئی فوائد حاصل ہوں گے، ماہرین،
فوٹو: بشکریہ جامعہ اینٹ ورپ
شمسی توانائی سے چلنے والا یہ آلہ آلودگی کوہائیڈروجن گیس میں تبدیل کرسکتا ہے جس سے کئی فوائد حاصل ہوں گے، ماہرین، فوٹو: بشکریہ جامعہ اینٹ ورپ
بیلجیئم: انجینئروں نے ایک انقلابی آلہ بنایا ہے جو ہمارے دو بڑے مسائل حل کرسکتا ہے اول یہ فضائی آلودگی جذب کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں ہائیڈروجن بناتا ہے۔
یونیورسٹی آف  اینٹ ورپ کے ماہرین نے ایک چھوٹا سا آلہ تیار کیا ہے جو دھوپ سے چلتا ہے اور سورج کی روشنی استعمال کرتا ہے۔ یہ آلودگی کھا کر اس کے بدلے ہائیڈروجن گیس خارج کرتا ہے۔ آلہ ہوا سے پانی کے بخارات جذب کرتا ہے اور جب اس میں آلودہ ہوا داخل کی گئی تو یہ توقع سے بہتر کام کرنے لگا۔
بنیادی طور پر اس ایجاد کے 2 حصے ہیں اور درمیان میں ایک جھلی یا پرت رکھی گئی ہے۔ اس کے دونوں جانب دو اہم ری ایکشن ہوتے ہیں۔ ایک جانب آلودہ ہوا کو صاف کیا جاتا ہے اور آلودگی کو غیرمضر اجزا میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ یہ عمل نینومٹیریل کے ذریعے انجام پاتا ہے جو سورج کی روشنی میں اپنا کام کرتا ہے۔
ہائیڈروجن مالیکیول ٹوٹ کر درمیانی جھلی سے گزرتے ہیں اور دوسری جانب ہائیڈروجن گیس سے عمل کرتے ہیں۔ اس ہایڈروجن گیس کو بعد ازاں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ جتنی آلودگی ہوگی یہ نظام اتنی ہی ہائیڈروجن گیس بنائے گا۔ اس طرح فوری طور پر صنعتی آلودگی میں اسے استعمال کرکے خطرناک اثرات کو ختم کرکے اس سے ہائیڈروجن گیس حاصل کی جاسکتی ہے۔  تاہم یہ ایک ابتدائی ٹیسٹ ہے اس ایجاد کی اصل افادیت اس وقت سامنے آئے گی جب اس کی بنیاد پر ایک بڑا پائلٹ پلانٹ بناکر اس کی آزمائش کی جائے گی۔

جمعرات، 4 مئی، 2017

صرف 2 منٹ میں دماغ کا آپریشن کرنے والا روبوٹ سرجن


روبوٹک ڈرل نامی یہ سرجن روبوٹ انسانی دماغ کا حساس آپریشن بھی صرف 2 منٹ میں کرتے ہوئے سرجری میں انقلاب برپا کرسکتا ہے۔
فوٹو: یونیورسٹی آف یوٹاہ
روبوٹک ڈرل نامی یہ سرجن روبوٹ انسانی دماغ کا حساس آپریشن بھی صرف 2 منٹ میں کرتے ہوئے سرجری میں انقلاب برپا کرسکتا ہے۔ فوٹو: یونیورسٹی آف یوٹاہ
یوٹاہ: کینیڈا کے ماہرین نے ایک ایسا روبوٹ سرجن ایجاد کیا ہے جو اپنے باریک برموں کی مدد سے دماغ کا آپریشن صرف 2 منٹ میں مکمل کرسکتا ہے اور اس طرح یہ دنیا بھر میں دماغ کے لاکھوں مریضوں کو ہر سال فائدہ پہنچا سکتا ہے۔
دماغ کی درست ترین عکس نگاری کے لیے یہ روبوٹ سی ٹی اسکین سے استفادہ کرتا ہے اور اپنے برموں کو نپے تلے انداز میں حرکت دیتے ہوئے دماغ کا حساس ترین آپریشن بھی صرف 2 منٹ میں کرسکتا ہے۔ اب تک یہ ایسے تجرباتی پتلوں پر آزمایا جاچکا ہے جو اندرونی اور بیرونی طور پر بالکل حقیقی انسانی کھوپڑی جیسے ہیں۔ البتہ کینیڈا کی وزارتِ صحت سے منظوری مل جانے کے بعد اس سے مریضوں کے آپریشن بھی تجرباتی طور پر کیے جائیں گے تاکہ اس کی کارکردگی درست طور پر سامنے آسکے۔
سرجری کے شعبے میں بہت زیادہ ترقی ہوجانے کے بعد بھی اب تک دماغ کا آپریشن مشکل ترین تصور کیا جاتا ہے کیونکہ دماغ انسانی جسم کا نازک ترین حصہ ہے اور آپریشن میں معمولی سی غلطی بھی مریض کی جان لے سکتی ہے یا پھر اسے ساری زندگی کےلیے معذور بھی بناسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دماغ کے چھوٹے سے چھوٹے آپریشن میں بھی کم سے کم 2 گھنٹے لگ جاتے ہیں جب کہ کامیابی کا اوسط امکان صرف 10 فیصد کے لگ بھگ رہتا ہے۔
لیکن یونیورسٹی آف یوٹاہ کینیڈا میں ایجاد کیے گئے اس روبوٹ کی بدولت یہ سارا منظرنامہ آنے والے برسوں میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ آپریشن کے دوران انسانی سرجن کے ہاتھ کانپ سکتے ہیں جب کہ انسانی آنکھ ایک خاص حد سے زیادہ باریک بینی کا مظاہرہ نہیں کرسکتی۔ اس کے مقابلے میں روبوٹ سرجن کی نظر بہت تیز ہے جب کہ اس سے آپریشن کو تیر بہدف بنانے کے لیے سی ٹی اسکین کی مدد سے مسلسل اور تیز رفتار عکس نگاری بھی کی جاتی رہتی ہے۔ اس طرح یہ دماغ کے ان چھوٹے اور اندرونی حصوں کو بھی پوری تفصیل سے دیکھ سکتا ہے جنہیں دیکھنا انسان کے بس سے باہر ہے۔
اپنے تجرباتی مرحلے میں یہ پوری طرح سے خودکار نہیں بلکہ انسانی آپریٹر کی نگرانی میں اپنا کام انجام دیتا ہے۔ البتہ انسانی تجربات کے دوران جانچ پڑتال مکمل ہوجانے کے بعد امید ہے کہ یہ مستقبل میں تقریباً مکمل خودمختار حیثیت سے دماغ کے آپریشن انجام دے رہا ہوگا۔ توقع ہے کہ ’’روبوٹک ڈرل‘‘ کہلانے والے اس دماغی سرجن روبوٹ کے انسانی تجربات کی اجازت اس سال کے اختتام تک مل جائے گی۔

پیر، 10 اپریل، 2017

خراب دودھ کی نشاندہی کرنے والا ’’نینو اسٹیکر‘‘ تیار


اس اسٹیکر کو دودھ کے ڈبوں کے اندر لگا کر اس کی افادیت معلوم کی جاسکے گی، ماہرین،
فوٹو: بشکریہ ٹرینٹی کالج ، ڈبلن
اس اسٹیکر کو دودھ کے ڈبوں کے اندر لگا کر اس کی افادیت معلوم کی جاسکے گی، ماہرین، فوٹو: بشکریہ ٹرینٹی کالج ، ڈبلن
ڈبلن: ہمیں اس وقت بہت غصہ آتا ہے جب چائے اور کافی میں دودھ ڈالنے کے بعد اس کا پہلا گھونٹ بھرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ خراب دودھ نے مشروب برباد کردیا لیکن اب ماہرین نے اس کا بھی حل تلاش کرلیا ہے۔
ماہرین نے ایک ایسا نینو اسٹیکر بنایا ہے جو فوری طور پر دودھ کے خراب معیار سے آگاہ کرسکتا ہے اور اس سے چائے اور کافی خراب ہونے سے بچ جائے گی بلکہ خصوصاً چھوٹے بچے خراب دودھ پینے سے محفوظ رہیں گے۔
ٹرینٹی کالج ڈبلن کے ماہرین نے اسے تیار کیا ہے اور اسے دودھ کے ڈبوں کے اندر لگا کر اس کی افادیت معلوم کی جاسکے گی۔ نینو اسٹیکر اتنا باریک ہے کہ اسے دو جہتی (ٹو ڈائمینشن) میں بنایا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق گریفین، فاسفورین اور مولبڈینائٹ نامی مادوں سے باریک سرکٹ کاڑھے جاسکتے ہیں، ان کی مدد سے اشیائے خوردونوش کے اسمارٹ پیکٹ، کرنسی نوٹ اور ای پاسپورٹ بھی بنائے جاسکتے ہیں۔
اسے بنانے والے ماہرین نے بتایا کہ ان کی ایجاد معمولی تبدیلی سے کسی کارٹن کی معلومات اسمارٹ فون کو بھیج سکتی ہے۔ ماہرین نے انک جیٹ پرنٹر کے ذریعے ٹرانسسٹر چھاپے جو سرکٹ میں کسی سوئچ کی طرح کام کرسکتے ہیں۔ ماہرین پرامید ہیں کہ اس طرح کی باریک نینوپرتوں کو کئی اہم کاموں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

شہد کی مکھیوں کی نظر انسانی سوچ سے کئی گنا زیادہ تیز ہوتی ہے


اپنی اسی تیز نظر کی بدولت شہد کی مکھیوں کو حملہ آور پرندوں اور جانوروں سے بچنے کا بہتر موقعہ ملتا ہے، ماہرین، فوٹو؛ فائل
اپنی اسی تیز نظر کی بدولت شہد کی مکھیوں کو حملہ آور پرندوں اور جانوروں سے بچنے کا بہتر موقعہ ملتا ہے، ماہرین، فوٹو؛ فائل
ایڈیلیڈ: آسٹریلوی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ شہد کی مکھی کی نظر ہمارے سابقہ تصورات سے کہیں زیادہ تیز ہوتی ہے جس کی مدد سے وہ حملہ آور کو شناخت کر کے تیزی سے فرار ہوجاتی ہیں۔
ایڈیلیڈ یونیورسٹی میں ماہرینِ حیاتیات نے مقامی طور پر پائی جانے والی شہد کی مکھیوں کا باریک بینی سے مطالعہ کیا اور مختلف نوعیت کے مصنوعی حالات کے تحت یہ جاننے کی کوشش کی کہ شہد کی مکھیاں اپنے ارد گرد کی اشیاء کو کس حد تک واضح دیکھ سکتی ہیں۔
کئی مہینوں تک جاری رہنے والے اس مطالعے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ شہد کی مکھیوں کی نظر ہماری سابقہ معلومات کے مقابلے میں کم از کم 30 فیصد زیادہ تیز ہوتی ہے اور وہ اپنے سامنے تقریباً 2 فٹ کی دوری پر موجود کسی چیز کو بالکل صاف صاف دیکھ سکتی ہیں۔ اگرچہ دائیں بائیں اور اوپر نیچے موجود چیزیں انہیں قدرے دھندلی نظر آتی ہیں لیکن پھر بھی وہ اتنی واضح ضرور ہوتی ہیں کہ ان میں حرکت پر شہد کی مکھیاں اپنے بچاؤ کے لیے فوری طور پر اُڑ جاتی ہیں۔
شہد کی مکھیوں میں یہ تیز نظر اس قدرتی صلاحیت کے علاوہ ہے جس کے تحت وہ ہوا میں انتہائی معمولی ارتعاش (تھرتھراہٹ) تک کو محسوس کرسکتی ہیں اور اپنی طرف بڑھنے والی کسی چیز کو دیکھے بغیر ہی اس سے ہوشیار ہوجاتی ہیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اپنی اسی تیز نظر کی بدولت شہد کی مکھیوں کو حملہ آور پرندوں اور جانوروں سے بچنے کا بہتر موقع ملتا ہے اور وہ جان بچا کر فرار ہونے میں آسانی سے کامیاب ہوجاتی ہیں۔ اس تحقیق کی رپورٹ ’نیچر‘ پبلشنگ گروپ کے ریسرچ جرنل ’’سائنٹفک رپورٹس‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ تمام اقسام کی مکھیوں اور بیشتر کیڑے مکوڑوں کی آنکھ ہزاروں باریک باریک عدسوں پر مشتمل ہوتی ہے جسے ’’مرکب آنکھ‘‘ (کمپاؤنڈ آئی) بھی کہا جاتا ہے۔ اپنی مرکب آنکھ کی مدد سے کیڑے ایک وسیع منظر پر آسانی سے نظر رکھ سکتے ہیں جب کہ کسی حملہ آور یا شکاری سے بچ کر تیزی سے فرار بھی ہوسکتے ہیں۔

جمعہ، 7 اپریل، 2017

سمندری پانی کو میٹھا بنانے والی ’نینو چھلنی‘ ایجاد کرلی گئی


اس میں سوراخوں کی چوڑائی بطور خاص ہے کہ ان میں سے پانی کے سالمات تو گزر سکتے ہیں لیکن نمک کے سالمات نہیں۔ (فوٹو: مانچسٹر یونیورسٹی)
اس میں سوراخوں کی چوڑائی بطور خاص ہے کہ ان میں سے پانی کے سالمات تو گزر سکتے ہیں لیکن نمک کے سالمات نہیں۔ (فوٹو: مانچسٹر یونیورسٹی)
مانچسٹر: برطانوی کیمیا دانوں کی ایک ٹیم نے ’’گریفین‘‘ نامی مادّہ استعمال کرتے ہوئے ایسی چھلنی ایجاد کرلی ہے جس کے سوراخ صرف ایک نینومیٹر جتنے چوڑے ہیں جب کہ وہ سمندر کے شدید نمکین پانی تک کو بڑی تیزی سے صاف کرکے میٹھا اور پینے کے قابل بناسکتی ہے۔
’’گریفین‘‘ دراصل کاربن کی ایک بہروپی شکل ہے جس میں کاربن کے ایٹم کسی بڑی سالماتی چادر (مالیکیولر شیٹ) کی شکل میں ایک دوسرے سے منسلک ہوتے ہیں۔ اپنی دریافت سے لے کر اب تک گریفین کو متعدد تحقیقی اور اطلاقی مقاصد میں استعمال کیا جاچکا ہے جب کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس سے وابستہ امکانات کی دنیا وسیع سے وسیع تر ہوتی جارہی ہے۔
اسی تسلسل میں یونیورسٹی آف مانچسٹر کے سائنسدانوں نے پانی کی صفائی میں گریفین آکسائیڈ استعمال کرتے ہوئے نینومیٹر پیمانے کے سوراخوں والی چھلنیاں بنانے کا فیصلہ کیا تاہم قباحت یہ تھی کہ جب گریفین آکسائیڈ کو پانی میں رکھا جاتا ہے تو اس کی سالماتی چادر پھول جاتی ہے جس کے نتیجے میں اس کے شگاف بھی زیادہ چوڑے ہوجاتے ہیں جن میں سے نمک کے سالمات بہ آسانی گزرتے چلے جاتے ہیں۔ یعنی یہ پانی کو نمک سے پاک کرنے میں بالکل بے کار ہوجاتی ہے۔
یہ مسئلہ حل کرنے کے لیے ماہرین نے گریفین پر ’’ایپوکسی ریزن‘‘ کہلانے والے ایک خاص مادّے کی بیرونی پرت چڑھادی جس نے اسے پانی پڑنے پر پھولنے سے باز رکھا۔ تجربات کے دوران اس ’’نینو چھلنی‘‘ نے نمکین پانی کو بڑی تیزی سے اور مکمل طور پر صاف کرکے پینے کے قابل بنایا۔
ماہرین کا کہنا ہےکہ پانی اور نمک کے سالمات (مالیکیولز) کی جسامت میں بہت معمولی سا فرق ہوتا ہے جسے مدنظر رکھتے ہوئے اس ’’گریفین نینو چھلنی‘‘ میں سوراخوں کی چوڑائی بطورِ خاص اتنی رکھی گئی کہ ان میں سے پانی کے سالمات تو گزر سکتے ہیں لیکن نمک کے سالمات نہیں۔ اس نینو چھلنی کا ایک اور بڑا فائدہ یہ ہے کہ اگر اس کے ایک طرف نمکین پانی کا دباؤ بڑھایا جائے تو دوسری طرف سے صاف پانی خارج ہونے کی رفتار بھی بڑھ جاتی ہے جب کہ اس پورے عمل کے دوران نینو چھلنی کے سوراخ بھی نمک کے سالمات سے بند نہیں ہوتے۔
یوں تو سمندر کے نمکین پانی کو صاف اور پینے کے قابل بنانے کے لیے ’’ریورس اوسموسس‘‘ اور اسی قسم کے دوسرے طریقے برسوں سے موجود ہیں لیکن وہ سب کے سب اوّل تو بہت مہنگے ہیں اور دوسرے وہ بہت پیچیدہ بھی ہیں۔ لیکن گریفین پر مشتمل نینو چھلنی ان سب سے کہیں بہتر، سادہ اور کم خرچ بھی ہے جو خاص طور پر غریب ممالک میں آلودہ پانی کو صاف کرنے میں بہت مدد کرسکتی ہے۔ اگلے مرحلے میں ماہرین اسے قابلِ عمل واٹر فلٹر میں بدلنے کی تیاریاں کررہے ہیں۔ اس ایجاد کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’نیچر نینوٹیکنالوجی‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔