پاکستان لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
پاکستان لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 1 جون، 2017

بدین کی 5 لاکھ ہیکٹر زرعی اراضی سمندر کا نوالہ بن گئی

انڈس ڈیلٹا میں بدین میں اب ماہی گیروں کی رسائی مچھلیوں تک کم سے کم ہوتی جارہی ہے۔ فوٹو: بشکریہ محمد عمر
انڈس ڈیلٹا میں بدین میں اب ماہی گیروں کی رسائی مچھلیوں تک کم سے کم ہوتی جارہی ہے۔ فوٹو: بشکریہ محمد عمر
کراچی:  سندھ ڈیلٹا کے علاقے میں دریائی بہاؤ کمزور ہونے کے باعث سمندر دریا کو کئی کلومیٹر پیچھے دھکیل چکا ہے اور اس سے زرخیز ڈیلٹا کی 55 لاکھ ہیکٹر اراضی مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے۔
غربت کے خاتمے اور انسانی فلاح کی بین الاقوامی تنظیم ’اوکسفام‘ پاکستان نے چند روز قبل اپنی ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سندھ ڈیلٹا کے علاقے میں دریائی بہاؤ کمزور ہونے کے بعد سمندر دریا کو کئی کلومیٹر پیچھے دھکیل چکا ہے بلکہ اس سے زرخیز ڈیلٹا کی 5 لاکھ ہیکٹر اراضی مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ دریا اور سمندری بہاؤ کے درمیان توازن اس وقت تک قائم رہتا ہے جب تک دریا سے پانی کی خاص مقدار سمندر میں گرتی رہتی ہے تاہم پانی کی شدید کمی کی وجہ سے سمندری پانی دریا کے راستے اوپر چڑھ گیا ہے اور گزشتہ 16 برس میں سمندری پانی سندھ ڈیلٹا میں 85 کلومیٹراندر تک گھس آیا ہے جس کی وجہ سے ایک جانب تو اطراف کے زرخیز کھیت ختم ہو گئے ہیں تو دوسری جانب خود سمندر نے بھی زرخیز زمین کو نگلنا شروع کردیا ہے۔
اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلیوں اور شدید موسمیاتی کیفیات سے ماہی گیری، پولٹری فارمنگ اور کھیتی باڑی متاثر ہوئی ہے۔ روز بروز کم ہوتے وسائل سے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ بدین کے علاقے میں 65 فیصد افراد اسی روزگار سے وابستہ رہے ہیں لیکن اب وہاں کے باسیوں پر زندگی تنگ ہوتی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2001 اور 2002 تک بدین ایک زرخیز علاقہ تھا جہاں 82,200 ہیکٹر علاقہ سرسبز تھا اور 2016 میں یہ زمین گھٹتے گھٹتے صرف 61,900 ہیکٹر رہ گئی جس کی وجہ سے خوراک اور زراعت کا نظام بری طرح متاثر ہوا، اب یہاں کے لوگ دیگر علاقوں سے چاول اور گندم خریدنے پر مجبور ہیں۔ دوسری جانب یہاں کے لوگ پینے کے صاف پانی سے بھی محروم ہو چکے ہیں جب کہ غریب افراد یا تو قرض لینے پر مجبور ہیں یا پھر اپنے عزیزو اقارب کے ہاں سکونت اختیار کر گئے ہیں۔
زراعت ختم ہونے سے یہاں کے لوگوں نے ’’مینگرووز‘‘ (تمر) درختوں کی بے دریغ کٹائی شروع کردی ہے اور انہیں کوئلے میں بدل کرمعمولی قیمت پر فروخت کیا جارہا ہے۔ اس طرح سمندری اتار چڑھاؤ اور طوفان کو روکنے والے مینگرووز تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ ماہی گیری ختم ہونے سے معاشی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں اور اب مچھلیاں پکڑنے کے لیے مچھیرے ڈیلٹا کے بجائے گہرے پانیوں کا رخ کر رہے ہیں۔

بدھ، 17 مئی، 2017

پاکستان بھی رینسم ویئر وائرس حملے کی زد میں آگیا


ڈیٹا یرغمال کر بنانے والے اس وائرس سے اب تک پاکستان سمیت 150 ممالک میں 230000 سے زیادہ کمپیوٹرز متاثر ہوچکے ہیں۔ (فوٹو: فائل)
ڈیٹا یرغمال کر بنانے والے اس وائرس سے اب تک پاکستان سمیت 150 ممالک میں 230000 سے زیادہ کمپیوٹرز متاثر ہوچکے ہیں۔ (فوٹو: فائل)
کراچی: سائبر سیکیورٹی کے عالمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جمعے سے شروع ہونے والا رینسم ویئر کا عالمی حملہ ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ یہ آنے والے دنوں میں مزید کئی ممالک تک پھیل سکتا ہے۔
آج 15 مئی 2017 تک دنیا بھر کے 150 ممالک میں مختلف افراد اور اداروں کے 2 لاکھ 30 ہزار سے زیادہ کمپیوٹرز اس حملے کا شکار ہوچکے ہیں۔ پاکستان بھی WanaCryptor 2.0 یا WannaCry کہلانے والے اس رینسم ویئر کے حملوں کی زد پر آچکا ہے لیکن خوش قسمتی سے پاکستان میں ان حملوں کی شدت دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں کم ریکارڈ کی گئی ہے۔
کمپیوٹر اور انٹرنیٹ سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں ہفتے اور اتوار کے روز عام تعطیل ہوتی ہے اس لیے ان 2 دنوں میں اس کا جتنا پھیلاؤ بھی دیکھا گیا وہ اس کے اصل خطرے کے مقابلے میں بہت کم تھا۔ لیکن پیر کے روز کاروباری، تجارتی اور دفتری مصروفیات شروع ہونے پر یہ زیادہ تیزی سے پھیلنے لگا اور اب تک 150 سے زیادہ ملکوں میں پھیل چکا ہے۔
واضح رہے کہ WanaCryptor 2.0 یا WannaCry رینسم ویئر کو آپریٹنگ سسٹم ونڈوز ایکس پی میں سیکیورٹی کے حوالے سے موجود ایک خرابی سے فائدہ اٹھا کر کمپیوٹر کو متاثر کرنے کےلیے تیار کیا گیا ہے۔ اگرچہ ونڈوز آپریٹنگ سسٹم بنانے والی کمپنی مائیکروسافٹ کارپوریشن نے اس خرابی کو دور کرنے کے لیے اس سال مارچ میں ایک عدد سیکیورٹی اپ ڈیٹ جاری کردی تھی لیکن مائیکروسافٹ کی جانب سے ایکس پی کے لیے اپریل 2014 سے سپورٹ ختم ہوجانے کے بعد بیشتر صارفین اس طرف متوجہ نہیں تھے۔ ان حملوں کے بعد مائیکروسافٹ نے یہی اپ ڈیٹ ایک بار پھر جاری کردی ہے جس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ شاید اس رینسم ویئر کے حملے کی شدت کم ہوجائے گی۔

پیر، 10 اپریل، 2017

پاکستانی طالب علموں نے 3 گھنٹے میں مکان تیارکرڈالا


پاکستانی طالبعلموں کا بنایا ہوا گھر جسے صرف تین گھنٹے میں ڈھائی لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جا سکتا ہے۔
فوٹو: بشکریہ ٹیم ماڈیولس ٹیک
پاکستانی طالبعلموں کا بنایا ہوا گھر جسے صرف تین گھنٹے میں ڈھائی لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جا سکتا ہے۔ فوٹو: بشکریہ ٹیم ماڈیولس ٹیک
 کراچی: پاکستان کے تین طالبعلموں نے بے گھر افراد کی مدد کے جذبے کے تحت دن رات محنت کر کے ایسا قابل رہائش مکان تیار کر لیا ہے جس کی قیمت صرف ڈھائی لاکھ روپے ہے اور اسے چند گھنٹوں میں تعمیر کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں گھر بنانا انتہائی کٹھن مرحلہ ہوتا ہے اور اس میں لاکھوں روپے مالیت کے ساتھ کئی مہینے بھی صرف ہو جاتے ہیں جب کہ غریب افراد کے لئے تو مکان کی تعمیر میں سال یا اس سے بھی کچھ زیادہ عرصہ لگ جاتا ہے لیکن این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں سوِل انجینئرنگ سے وابستہ تین طالبعلموں نبیل صدیقی، یاسین خالد اور محمد ثاقب نے اس کا ایک دلچسپ اور انتہائی آسان حل تلاش کر لیا ہے۔
این ای ڈی کے تینوں طالبعلم پاکستان میں دہشتگردی سے متاثرہ افراد اور جنگ زدہ شام میں مہاجرین کے لیے فکرمند رہتے تھے اور اسی جذبے کے تحت اپنے فائنل ایئر پروجیکٹ کے طور پر انہوں نے کم خرچ اور فوری مکان تیار ہونے والا ایسا مکان تیار کیا جسے عام گھروں کی طرح بنایا اور توڑا جا سکتا ہے اور اسے با آسانی ایک سے دوسری جگہ پر منتقل بھی کیا جا سکتا ہے۔ ان نوجوانوں کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک مکمل گھر ہے جو 10 برس تک قائم رہ سکتا ہے۔
پروجیکٹ کے ایک رکن نبیل صدیقی نے ایکپریس ٹریبیون کو بتایا کہ ’ہم ایسی شے بنانا چاہتے تھے جس کے ذریعے حقیقی دنیا میں لوگوں کے مسائل حل کئے جاسکیں لیکن اسے عملی جامہ پہنانا اتنا ہی مشکل ثابت ہوا یہاں تک کے این ای ڈی یونیورسٹی کے اساتذہ نے بھی اسے ایک دیوانے کی بڑ قرار دیا۔
یاسین خالد نے بتایا کہ ’جب ہم نے گھر کا ڈیزائن جامعہ کے پروفیسروں کے سامنے رکھا تو ہر ایک نے اسے ناقابلِ عمل سمجھا کیونکہ قلیل وقت میں تحقیق، ڈیزائن اور تعمیراتی مٹیریل پر کام کرنا ممکن نہ تھا تاہم ایک استاد نے ہمارے حوصلہ افزائی کی اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لئے ہماری مدد کی۔
پروجیکٹ میں شامل تیسرے طالب علم ثاقب کا کہنا تھا کہ اس مکان کی تعمیر کے لئے اچھی خاصی رقم درکار تھی اورہمارا خیال تھا کہ ہمیں اسٹیل اور سیمنٹ کمپنیوں سے اپنے اس منصوبے کے لیے مدد مل جائے گی۔ ہم خوشی اور جوش سے ان کے پاس گئے لیکن نیک خواہشات لیے خالی ہاتھ گھر لوٹے، کوئی بھی طالبعلموں کو رقم نہیں دینا چاہتا تھا لیکن اس کے باوجود ہم نے ہمت نہ ہاری اور پروجیکٹ پر کام کا فیصلہ کیا۔
خالد کے مطابق ہم نے والدین سے پیسے لیے، اپنی اشیا فروخت کیں اور جیب خرچ کے پیسے بچا کر پروجیکٹ کا تعمیراتی سامان خریدا، اس کے بعد ایک دوست کے گھر کے عقبی (بیک یارڈ) لان میں کام شروع کر دیا، ابتدا میں خطیر رقم سے غلط مٹیریل آ گیا لیکن باہمت ٹیم نے اپنی غلطیوں سے سیکھا اور اس پر کام کرنے والے مزدوربھی نہیں جانتے تھے کہ آخر کیا بنانا ہے۔
اس کے بعد یہ منصوبہ کراچی میں واقع ایک ٹیکنالوجی انکیوبیٹر ادارے کو پیش کیا گیا جہاں خوش قسمتی سے اس پروجیکٹ کو منظور کرلیا گیا جس کے نتیجے میں طالبعلموں نے موڈیولس ٹیک نامی کمپنی قائم کی اور مختلف اداروں سے رابطے شروع کر دیئے۔
نیسٹ انکیوبیٹر پر رہنمائی سے معلوم ہوا کہ فوری طور پر تیار ہونے والے اس گھر کو مزدور کالونی، سیاحتی لاجز، فوجی کیمپ، کلینک، اسکول اور لوگوں کو فوری پناہ دینے کے لیے تیار کیا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک مکمل گھر ہے نہ کہ کوئی عارضی پناہ گاہ ہے۔

جمعرات، 6 اپریل، 2017

پاکستانی نوجوانوں نے امریکا میں ایجادات کا مقابلہ جیت لیا


پاکستانی طالبعلم اول انعام جیتنے کے بعد سبز ہلالی پرچم کے ساتھ مسرور دکھائی دے رہے ہیں۔ نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ، اسلام آباد کے ہونہار طالبعلموں نے رعشہ اور کپکپاہٹ دور کرنے والا ایک دستی آلہ بنایا ہے۔ فوٹو: بشکریہ اسٹینفرڈ سینٹر ٹویٹ
پاکستانی طالبعلم اول انعام جیتنے کے بعد سبز ہلالی پرچم کے ساتھ مسرور دکھائی دے رہے ہیں۔ نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ، اسلام آباد کے ہونہار طالبعلموں نے رعشہ اور کپکپاہٹ دور کرنے والا ایک دستی آلہ بنایا ہے۔ فوٹو: بشکریہ اسٹینفرڈ سینٹر ٹویٹ
 کراچی: نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے طلبا نے کیلی فورنیا کی اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے ایک اختراعاتی چیلنج میں پہلا ایوارڈ اور انعام حاصل کرلیا ہے۔
اس مقابلے کو اسٹینفرڈ سینٹر آن لونگیوٹی ڈیزائن نے منعقد کیا تھا جس میں عمررسیدہ افراد کی سہولت اور امراض کی شدت کم  کرنے کے لیے ایجادات اور اختراعات کے آئیڈیا مانگے گئے تھے۔ اس ضمن میں نسٹ کے تین طالبعلموں نے ایک خاص آلہ تیار کیا ہے جسے ٹی اے ایم ای (ٹریمر ایکویزیشن اینڈ منی مائزیشن) کا نام دیا گیا ہے۔ 30 مارچ 2017 کو ہونے والے اس مقابلے میں اسے اپنی افادیت کی بنا پر پہلا انعام دیا گیا ہے۔
ٹی اے ایم ای کو نسٹ کے اسکول آف الیکٹریکل انجینئرنگ اینڈ کمپیوٹر سائنسز (ایس ای ای سی ایس) کے ارسلان جاوید، حوریہ انعم، اویس شفیق اور شیراز صدیقی نے ڈیزائن کیا ہے جبکہ اس کی آزمائش میں مختلف امراض کے ماہرین اور ڈاکٹر شامل ہیں۔ طلبا و طالبات نے ڈاکٹر سید محمد رضا کاظمی کی نگرانی اپنا یہ پروجیکٹ بنایا ہے جو اس سے قبل کئی بھی دنیا بھر سے کئی ایوارڈ حاصل کرچکا ہے۔
یہ ایک ہلکا پھلکا آلہ ہے جسے لباس کے اندر بازو پر لپیٹا جاسکتا ہے اور وہ باہر سے نظر نہیں آتا۔ ٹی اے ایم ای ماہرِ نفسیات اور اعصابی ڈاکٹروں کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ  رعشہ اور ہاتھوں کی غیر ارادی  کپکپاہٹ کو نوٹ کرکے الیکٹروڈ کے ذریعے ہلکی بجلی خارج کرکے ان سگنلوں کو کم  (یا کینسل) کرتا ہے۔ اس طرح مریض کسی شے کو تھامنے، کھانے پینے اور لکھتے ہوئے دقت محسوس نہیں کرتا۔
پاکستانی ٹیم کے سامنے میسا چیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی)، کورنیل یونیورسٹی، بیجنگ یونیورسٹی اور خود اسٹیفرڈ یونیورسٹی کے طلبہ اور طالبات شریک تھے جن کی ایجادات کے سامنے پاکستانی ماہرین کی اختراع انعام یافتہ قرار پائی۔
عام مشاہدہ ہے کہ یہ مرض عمررسیدہ افراد کو لاحق ہوتا ہے کیونکہ ان کا دماغ غیرضروری سگنل ہاتھوں کو بھیجتا ہے۔ اس کے علاوہ کسی دماغی چوٹ اور حادثے کے مریض بھی اس سے استفادہ کرسکتے ہیں۔
اس آلے کی کئی طبی آزمائشیں کی گئی ہیں جو اس ویب سائٹ پر دیکھی جاسکتی ہے اور اسی مناسبت سے یہ لونگیوٹی چیلنج میں پہلے انعام کی حقدار قرار پائی ہے جو نہ صرف نسٹ بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک قابلِ فخر بات ہے۔

جمعہ، 31 مارچ، 2017

پاکستانی نژاد برطانوی نوجوان انقلابی ایجاد سے کروڑ پتی بن گیا

نوجوان نے اسمارٹ فون سے آن اور آف ہونے والے سادہ سوئچ بنائے تھے جس سے سالانہ اربوں روپے بچائے جاسکتے ہیں
نوجوان نے اسمارٹ فون سے آن اور آف ہونے والے سادہ سوئچ بنائے تھے جس سے سالانہ اربوں روپے بچائے جاسکتے ہیں
کینٹ، برطانیہ: پاکستانی نژاد برطانوی نوجوان موجد اپنی سادہ اور حیرت انگیز ایجاد کی بدولت اب تک 13 کروڑ روپے (10 لاکھ برطانوی پونڈ) کی رقم بطور سرمایہ جمع کرچکا ہے۔
یاسر خٹک کی عمر اس وقت 21 برس ہے اور انہوں نے اسکول کے دور میں ایک سادہ سوئچ اور ساکٹ بنایا تھا جسے اسمارٹ فون ایپ کے ذریعے کھولا اور بند کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ایپ استعمال ہونے والی بجلی کی مقدار اور حفاظتی اقدامات سے بھی ہاتھوں ہاتھ آگاہ کرتی ہے۔ اس کا عملی مظاہرہ یاسر نے اسکول کے ایک پروجیکٹ میں کیا تھا۔
اب یاسر خٹک نے ایک ٹیکنالوجی کمپنی (اسٹارٹ اپ) بنالی ہے اور ان کی ایجاد کو اگر صرف برطانیہ میں ہی استعمال کیا جائے تو اس سے سالانہ پونے 2 ارب پونڈ کی بچت کی جاسکتی ہے۔ موبائل کو ریموٹ کنٹرول کے طور پر استعمال کرکے گھریلو روشنیاں اور برقی آلات کھولے اور بند کیے جاسکتے ہیں۔
نوجوان نے ممتاز سائنسدان سرجیمس ڈائسن کی سوانح سے متاثر ہوکر ایسی شے بنانے کا ارادہ کیا جو روزمرہ استعمال ہوسکے اور اس سے رقم کی بچت بھی ہوسکے۔ ان کی ایجاد نے اسکول میں ہی 20 ہزار پونڈ کی سرمایہ کاری حاصل کرلی تھی۔
یاسر خٹک کی ایپ فون چارجر سے لے کر فالتو بلبوں تک کو اس وقت بند کرتی ہے جب وہ استعمال نہیں ہورہے ہوتے۔ صرف برطانیہ میں ہی لوگ 16 فیصد بجلی ضائع کردیتے ہیں جس سے 25 لاکھ گھروں کو بجلی فراہم کی جاسکتی ہے۔
اس ایپ کے لیے پہلے سے استعمال ہونے والے سوئچ کو دور سے آن آف کرنے کے قابل بنایا جاسکتا ہے۔ یاسر کے مطابق اس سسٹم سے بچے، بوڑھے اور دیگر ایسے افراد بھی فائدہ اٹھاسکتے ہیں جنہیں اٹھنے اور بیٹھنے میں مشکل پیش آتی ہے یا جن کا ہاتھ بجلی کے نظام تک نہیں پہنچ پاتا۔

بدھ، 15 فروری، 2017

پاکستانی نژاد امریکی خاتون ناسا میں انتہائی اہم عہدے پر تعینات


حِبا رحمانی پاکستان میں پیدا ہوئیں اور اب وہ جدید ترین راکٹ اور خلائی پروازوں کی ابتدائی جانچ میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ فوٹو: بشکریہ ناسا کینڈی اسپیس سینٹر، فلوریڈا
حِبا رحمانی پاکستان میں پیدا ہوئیں اور اب وہ جدید ترین راکٹ اور خلائی پروازوں کی ابتدائی جانچ میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ فوٹو: بشکریہ ناسا کینڈی اسپیس سینٹر، فلوریڈا
فلوریڈا: پاکستان میں پیدا ہونی والی خاتون سائنسدان اب ناسا کے ایک اہم ترین عہدے پر تعینات ہیں اور بعض حالات میں راکٹ اور خلائی سواریاں ان کی اجازت کے بغیر اڑان نہیں بھرسکتیں۔
خاتون سائنسدان حِبا رحمانی پاکستان میں پیدا ہوئیں لیکن اوائل عمری میں وہ کویت منتقل ہوگئیں۔ اس کے بعد عراق جنگ میں انہیں اپنے والدین کے ساتھ اردن اور عراق کے درمیانی سرحد پر کچھ وقت پناہ گزین کے طور پر گزارنا پڑا۔ اس دوران انہیں لق و دق صحرا کی ریت پر سونا پڑا لیکن ریگستان کی اندھیری رات میں ٹمٹماتے ستارے دیکھ کر انہیں فلکیات کا شوق پیدا ہوگیا تاہم وہ دوبارہ پاکستان آگئیں۔
جب کویت عراق جنگ ختم ہوئیں تو حِبا اپنے والدین کے ساتھ کویت آگئیں اور ابتدائی تعلیم کو جاری رکھا۔ 1997 میں حِبا نے یونیورسٹی آف سینٹرل فلوریڈا میں داخلہ لیا اور وہ انجینیئر بننے کی خواہشمند تھیں۔ 2000 میں گریجویشن کے بعد حِبا رحمانی مشہور طیارہ ساز کمپنی بوئنگ سے وابستہ ہوئیں اور وہاں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے مختلف حصوں کی جانچ کا کام کیا۔
بعد ازاں انہیں خلانورد بننے کا شوق ہوا اور اس کے لیے انہوں نے جارجیا ٹیک سے ماسٹرز کی ڈگری لی۔ 2008 میں انہوں نے کینیڈی اسپیس سینٹر، فلوریڈا میں باقاعدہ ملازمت کی۔ وہ ایک انجینیئر کی حیثیت سے جدید ترین راکٹوں کا قبل ازوقت پرواز جائزہ لیتی ہیں اور اس سے وابستہ مشکلات کو حل کرتے ہوئے مفید مشورے بھی دیتی ہیں۔ مختصراً یوں کہا جاسکتا ہے کہ ان کی اجازت کے بغیر شاید ہی کوئی راکٹ پرواز کرسکتا ہے۔
حِبا رحمانی اب ناسا میں ایویانکس اینڈ فلائٹ کنٹرول انجینیئر کے عہدے پر تعینات ہیں۔ راکٹوں کے علاوہ حِبا پیگاسس، ایکس ایل اور فیلکن نائن جیسے جدید خلائی طیاروں کی ٹیسٹنگ اور جائزے کا کام کرچکی ہیں۔
حبا لوگوں اور خصوصاً خواتین کو سائنس و ٹیکنالوجی کی تعلیم دینے کی خواہاں ہیں جس کے لیے وہ کئی عملی پروگرامز کا حصہ بن چکی ہیں۔ ان کے نزدیک سخت محنت اور مستقل مزاجی ہی کامیابی کی کنجی ہے.

سمندرکے گہرے ترین مقام بھی انسانی گندگی سے غیر محفوظ


آلودگی ہمارے سمندروں کے فرش تک پہنچ کر وہاں حیات کو نقصان پہنچارہی ہے، تحقیقی رپورٹ، فوٹو؛ فائل
آلودگی ہمارے سمندروں کے فرش تک پہنچ کر وہاں حیات کو نقصان پہنچارہی ہے، تحقیقی رپورٹ، فوٹو؛ فائل
 لندن: سمندروں سے متعلق ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسانی آلودگی سمندر کے گہرے ترین مقامات تک پہنچ رہی ہے اور مضر اور پابندی کے حامل خطرناک کیمیکل سمندروں کی تہہ میں سرایت کرکے وہاں موجود جانداروں کو داغدار کررہے ہیں۔
ہفت روزہ سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق 11 کلومیٹر گہرائی میں انسولیٹنگ کیمیکلز اور ریفریجریشن میں استعمال ہونے والے مائعات وہاں موجود حساس جانداروں کو نقصان پہنچارہے ہیں اور خیال ہے کہ یہ پلاسٹک کے کچرے سے خارج ہوئے ہیں۔
اس سے قبل ماہرین سمجھ رہے تھے کہ سمندری آلودگی زیادہ گہرائی تک نہیں جاتی لیکن اب انسانی سرگرمیوں کے دوررس اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ ماہرین نے سمندروں میں قدرتی طور پر موجود گہری کھائیوں مثلاً ماریانا ٹرینچ اور کراماڈیک میں خاص آبی روبوٹ بھیجے اور وہاں موجود ایک  جانور ایمفی پوڈ پر تحقیق کی ہے۔ کئی ایمفی پوڈز میں پولی کلورینیٹڈ بائی فینائلز (پی سی بی) کے آثار دیکھے گئے جن پر 40 سال قبل کینسر اور دیگر بیماریوں کی بنا پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔
سائنسدانوں کی ٹیم اتنی گہرائی میں موجود انسانی آلودگی کو دیکھ کر حیران ہے۔ ماہرین نے ایک اور خطرناک کیمیکل پولی برومینیٹڈ ڈائی فینائل ایتھر (پی بی ڈی ای) کے آثار بھی بھی نوٹ کیے ہیں یہ کیمیکلز دونوں کھائیوں کے تمام جانوروں میں موجود ہیں۔
اس تحقیق سے ایک اہم انکشاف یہ بھی ہوا ہے کہ آلودگی ہمارے سمندروں کے فرش تک پہنچ کر وہاں حیات کو نقصان پہنچارہی ہے۔

پیر، 13 فروری، 2017

17 سالہ پاکستانی نوجوان دنیا کا تیسرا امیر ترین گیمر بن گیا


سمائل ڈوٹا ٹو کے بہترین کھلاڑی تصور کئے جاتے ہیں۔ فوٹو: سمائل فیس بک پروفائل
سمائل ڈوٹا ٹو کے بہترین کھلاڑی تصور کئے جاتے ہیں۔ فوٹو: سمائل فیس بک پروفائل
 کراچی: پاکستان کے 17 سالہ نوجوان سمائل حسن نے نے بین الاقوامی ویڈیو گیم مقابلے میں شریک ہوکر 2,401,560 ڈالر کی رقم جیت لی ہے جو پاکستانی 25 کروڑ روپے سے بھی زیادہ ہے۔ اس کامیابی کے بعد سمائل ای اسپورٹس کے مقابلے میں رقم کمانے والے تیسرے بڑے گیمر بن گئے ہیں۔ یہ مقابلہ 22 جنوری کو کروشیا میں منعقد ہوا تھا۔ واضح رہے کہ یہ مجموعی رقم انہوں نے دو سال کے عرصے میں کئی ٹورنامنٹس جیت کر کمائی ہے۔
اس سے قبل 15 برس کی عمر میں سمائل ڈوٹا ٹو ایشین چیمپیئن شپ میں بھی فتح حاصل کرچکے ہیں۔
ڈوٹا ٹو کثیر کھلاڑیوں کے درمیان مفت میں کھیلا جانے والا ایک اسٹریٹیجی ویڈیو گیم ہے جو ڈیفنس آف اینشینٹ (ڈی او ٹی اے) گیم کا تسلسل ہے۔ یہ گیم دو ٹیموں کے درمیان کھیلا جاتا ہے۔ سمائل نے سات برس کی عمر میں یہ گیم کھیلنا شروع کیا اور اس پر مہارت حاصل کرلی ۔ اس کے بعد وہ 14 برس کی عمر میں امریکہ منتقل ہوگئے۔ امریکہ میں وہ دنیا کے کم عمر ترین گیمر بنے جنہوں نے دس لاکھ ڈالر جیتنے میں اپنی ٹیم کی مدد کی ہے۔ ان کی ٹیم کا نام ’ایول جینیئس‘ ہے اور 2015 میں اسی ٹیم نے ڈوٹا ٹو ایشین چیمپیئن شپ اپنے نام کی تھی۔
گیمنگ کی دنیا میں ان کا نام Suma1L ہے اور 2016 میں مشہور امریکی جریدے ٹائم نے سمائل کو دنیا کے بااثر ترین نو عمر افراد میں شامل کیا تھا اور اسی فہرست میں ملالہ یوسفزئی بھی شامل تھیں۔ سمائل کے ٹویٹر فالوورز کی تعداد 30 ہزار تک پہنچ چکی ہے اور وہ اپنے گیمز کی لائیو اسٹریم بھی پیش کرتے رہتے ہیں۔

بدھ، 8 فروری، 2017

32 ہزار پاسپورٹ، 95 ہزار شناختی کارڈ منسوخ، 9 کروڑ 83 ہزار موبائل سمز بلاک

وزارت داخلہ کے مطابق شناختی کارڈز غیر ملکیوں کو جعلسازی سے جاری ہوئے۔ ساڑھے چار لاکھ مشکوک شناختی کارڈز عارضی بلاک ہیں۔ ای سی ایل اور بلیک لسٹ کا کمپیوٹرائزڈ نظام متعارف، بلیک لسٹ میں 32 ہزار غیر ملکی اور 10 ہزار پاکستانیوں کے نام ڈال دیئے گئے۔
اسلام آباد: (روزنامہ دنیا) وزارت داخلہ کی طرف سے غیر ملکیوں کو جاری پاکستانی پاسپورٹس اور قومی شناختی کارڈز کی دوبارہ تصدیقی مہم کے دوران اب تک 32 ہزار پاسپورٹ کینسل کئے گئے ہیں۔ غیر ملکیوں کو جعلسازی سے جاری ہونے والے 95 ہزار 959 قومی شناختی کارڈز کو شناخت کر کے منسوخ کیا گیا جبکہ ساڑھے چار لاکھ سے زائد مشکوک شناختی کارڈز عارضی طور پر بلاک کئے گئے ہیں جن کو تصدیق کے بعد کھولا جائے گا۔ اس کے علاوہ تصدیقی مہم کے نتیجے میں 9 کروڑ 83 لاکھ موبائل سمز بلاک کر دی گئیں۔
وزارت داخلہ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کی ہدایت پر جعل سازی سے حاصل کئے گئے قومی شناختی کارڈز اور پاسپورٹس کے حوالے سے ایک مہم اس وقت شروع کی گئی، جب یہ بات سامنے آئی کہ غیر ملکیوں جن کی زیادہ تر تعداد افغان باشندوں پر مشتمل تھی کے پاس پاکستان کے پاسپورٹ اور قومی شناختی کارڈز ہیں۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں غیر مجاز افراد کو سرکاری اور سفارتی پاسپورٹ جاری کئے گئے ہیں۔ مہم کے دوران 32 ہزار سے زائد پاسپورٹ منسوخ کئے گئے جو غیر ملکیوں نے غلط طریقے سے حاصل کئے تھے۔ قومی شناختی کارڈز کی از سر نو تصدیق کے لئے نادرا کی طرف سے کئی رخی حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے مہم شروع کی گئی۔ اس کے لئے تصدیق شدہ بائیو میٹرک سم سبکرائبرز کے گیارہ اعشاریہ پانچ ملین اعدادوشمار سے بھی کام لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ماضی میں شناختی کارڈوں کی تصدیقی مہم کے دوران 519 کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز منسوخ کئے گئے جن میں سے 26 کارڈز دو ہزار گیارہ جبکہ 493 کارڈز دو ہزار بارہ میں منسوخ کئے گئے۔ رپورٹ کے مطابق ماضی میں سیکیورٹی اور قومی سلامتی کے ادارے بار بار درخواست کر رہے تھے کہ غیر تصدیق شدہ سم کارڈز بند کر دیے جائیں کیونکہ یہ دہشت گردی، اغوا برائے تاوان اور دوسرے واقعات میں استعمال کئے جا رہے ہیں تاہم ماضی کی حکومتیں اس حوالے سے کارروائی میں ناکام رہیں۔ دو ہزار پندرہ میں وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے ٹاسک ملنے پر وزیر داخلہ نے ملک کی پانچ بڑی موبائل کمپنیوں کو کہا کہ وہ نوے روز کے اندر موبائل سم کنکشنز کی بائیو میٹرک تصدیق کرائیں جس میں تیس دن کی بعد ازاں رعایتی مدت دی گئی۔ 15 مئی 2015ء کو 9 کروڑ 83 لاکھ ایسے موبائل کنکشن بلاک کر دیئے گئے جن کی یا تو تصدیق نہ ہو سکی یا جن کی ملکیت سامنے نہ آئی۔ صرف چار ماہ کی قلیل مدت میں موبائل کمپنیوں کی طرف سے اسی ہزار بائیو میٹرک تصدیقی مشینوں کے ذریعے ملک بھر میں سم کارڈز کی تصدیق مکمل کی گئی۔

جمعرات، 2 فروری، 2017

ایشیائی باشندے سب سے زیادہ فیس بک استعمال کرتے ہیں


گزشتہ 2 سال میں ایشیاء میں فیس بک کے صارفین میں 57 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ فوٹو؛ فائل
گزشتہ 2 سال میں ایشیاء میں فیس بک کے صارفین میں 57 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ فوٹو؛ فائل
کیلی فورنیا: ایشیا فیس بک استعمال کرنے والا دنیا کا بڑا خطہ بن گیا اور یہ فیس بک کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔
فیس بک کی جانب سے جاری کردہ نئے اعدادو شمار کے مطابق فیس بک کے صارف سب سے زیادہ ایشیاء میں پائے جاتے ہیں جہاں روزانہ 39 کروڑ 60 لاکھ افراد فیس بک استعمال کرتے ہیں۔ گزشتہ 2 سال میں ایشیا میں فیس بک کے صارفین میں 57 فیصد اضافہ ہوا ہے جو کہ کسی بھی خطے میں موجود فیس بک کے صارفین کی تعداد میں تیز ترین اضافہ ہے جب کہ ایشیاء میں فیس بک کی آمدن میں بھی 15 مہینوں میں دُگنا اضافہ ہوا ہے۔

منگل، 31 جنوری، 2017

سندھ حکومت کا آن لائن ٹیکسی ، رکشہ سروس بند کرنے کا فیصلہ


ایپلیکشن کریم اور اوبر کو بند کرنے کیلئے پی ٹی اے سے سفارش کر دی گئی ، فٹنس ، کمرشل لائسنس اور روٹ پرمٹ نہیں لیا گیا :ذرائع
کراچی (دنیا نیوز ) سندھ حکومت نے آن لائن ٹیکسی، رکشہ سروس کو بند کرنے کی تیاری کر لی ۔ ایپلیکیشن کریم اور اوبر کو بند کرنے کیلئے پی ٹی اے سے سفارش کر دی ۔ سیکرٹری ٹرانسپوٹ سندھ طحہ فاروقی کی جانب سے پی ٹی اے کو ایپلیکیشن بند کرنے کے لئے خط لکھ دیا گیا ہے ۔
کہا گیا ہے کہ اوبر اور کریم نے قانونی تقاضے پورے نہیں کئے ۔ ان اداروں نے فٹنس ، کمرشل لائنس اور روٹ پرمٹ حاصل نہیں کیا ۔ بتایا گیا کہ کمپنی چھ ماہ سے سندھ حکومت کے خط کا جواب نہیں دے رہی ۔ واضح رہے کہ آن لائن سروسز کراچی میں زور پکڑتی جا رہی ہیں ۔ شہر میں ٹرانسپورٹ کے ناقص نظام سے تنگ شہری یہ سروسز حاصل کر رہے ہیں ۔

جمعہ، 20 جنوری، 2017

2016؛ انسانی تاریخ کا دوسرا گرم ترین سال قرار

2016 کا اوسط درجہ حرارت 2015 کے اوسط سے 0.07 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا جبکہ یہ انسانی تاریخ میں 1880 کے بعد دوسرا گرم ترین سال بھی ثابت ہوا۔ (فوٹو: فائل)
2016 کا اوسط درجہ حرارت 2015 کے اوسط سے 0.07 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا جبکہ یہ انسانی تاریخ میں 1880 کے بعد دوسرا گرم ترین سال بھی ثابت ہوا۔ (فوٹو: فائل)
ہیوسٹن / لندن: عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) کے ماہرین نے کہا ہے کہ 2016 انسانی تاریخ کا ایک اور گرم ترین سال ثابت ہوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق 2016 کا اوسط درجہ حرارت 2015 کے اوسط سے 0.07 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا جبکہ یہ انسانی تاریخ میں 1880 کے بعد دوسرا گرم ترین سال بھی ثابت ہوا۔ علاوہ ازیں 1961 سے 1990 تک کے طویل مدتی عالمی اوسط درجہ حرارت کے مقابلے میں بھی یہ سال 0.77 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ گرم رہا۔
اس پورے سال کے دوران خطِ استواء سے لے کر قطبین تک، دنیا کے کم و بیش ہر حصے میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت کا غلبہ رہا جس کی ایک بڑی وجہ ماحولیاتی مظہر ’’ایل نینو‘‘ (El Niño) کو قرار دیا جارہا ہے۔ البتہ اس ضمن میں انسانی سرگرمیوں خاص طور پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے بے تحاشا اخراج کو بھی دوسری اہم ترین وجہ بتایا جارہا ہے۔
اگرچہ یہ بات تشویشناک ہے لیکن ماہرین کےلئے بالکل بھی غیر متوقع نہیں کیونکہ اس بارے میں وہ پہلے ہی پیش گوئی کرچکے تھے۔
واضح رہے کہ ’’ایل نینو‘‘ بہت وسیع پیمانے پر واقع ہونے والا ایک قدرتی مظہر ہے جس کے نتیجے میں بحرالکاہل کے پانی کا بڑا حصہ معمول سے کہیں زیادہ گرم ہوجاتا ہے اور زمین کے مجموعی درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ بھی بنتا ہے۔ اسی کے ساتھ انسانی سرگرمیوں کے باعث فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دوسری گرین ہاؤس گیسوں کی بڑی مقدار میں شمولیت نے بھی عالمی ماحول کو گرمانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔
البتہ 2017 کے بارے میں ماہرین کی پیش گوئی ہے کہ اس دوران ایل نینو کا زور ٹوٹ جائے گا جس کی بدولت یہ سال شاید پچھلے دو برسوں (2015 اور 2016) جتنا شدید گرم نہ رہے۔
اس کے باوجود، ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان کو زمینی ماحول پر اپنے منفی اثرات کم سے کم کرنا ہوں گے ورنہ شاید عالمی ماحول اس مقام پر پہنچ جائے جہاں اس کی دوبارہ سے بحالی ممکن نہ ہوسکے۔
ماحول سے متعلق سائنسی تحقیقات کو شک کی نگاہ سے دیکھنے والوں کا دعوی ہے کہ ان اعداد و شمار میں انسانی سرگرمیوں کو کچھ زیادہ ہی بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے؛ تاہم درجہ حرارت میں اضافے سے انکار کرنا اب ان کےلئے بھی ممکن نہیں رہا ہے۔

جمعرات، 19 جنوری، 2017

پاکستانی طلبا کا طب کی دنیا میں بڑا کارنامہ


جامعہ کراچی میں واقع طالبات کی ٹیم دل کے دورے کی ابتدائی شناخت کرنے والے آلے کی آزمائش کررہی ہیں۔ تصویر اطہر خان ایکسپریس
جامعہ کراچی میں واقع طالبات کی ٹیم دل کے دورے کی ابتدائی شناخت کرنے والے آلے کی آزمائش کررہی ہیں۔ تصویر اطہر خان ایکسپریس
کراچی: جامعہ کراچی اور سرسید یونیورسٹی  کے طالبعلموں نے دل کے دورے سے خبردار کرنے والا ایک آلہ بنایا ہے جو کسی مریض میں ہارٹ اٹیک کا پتا لگا کر خبردار کرسکتا ہے اور وہ قریبی عزیزوں کو ایس ایم ایس سے مطلع کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
جامعہ میں واقع ڈاکٹر پنجوانی سینٹر فار مالیکیولرمیڈیسن اینڈ ڈرگ ریسرچ (پی سی ایم ڈی ) کی پی ایچ ڈی طالبات اور سرسید یونیورسٹی آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے ایک طالبعلم نے مشترکہ طور پر یہ آلہ تیار کیا ہے۔ پاکستان میں تیار کیا جانے والا یہ اپنی نوعیت کا واحد پروٹوٹائپ ہے جس میں موجود سرکٹ ڈسپلے پر دل دھڑکنے کی رفتار ظاہر کرتا رہتا ہے۔
فی الحال یہ ایک نمونہ یا پروٹوٹائپ ہے جسے مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔  صبا مجید، کنول افتخار، ماہا شاہد، عائشہ عزیز، مہوش سبحان، مہوش تنویراور مریم آسکانی نے اس کے پیرامیٹرز اور اصول وضع کئے ہیں جب کہ سرکٹ ڈیزائننگ اور تیاری کا کام سعد احمد خان نے کیا ہے جو سرسید یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔ تمام طالبات نے یہ پروجیکٹ ڈاکٹر پروفیسر شبانہ سیم جی کی نگرانی میں بنایا ہے۔
ٹیم میں شامل طالبات پی سی ایم ڈی میں فارماکولوجی میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ ان میں ایک بلوچ طالبہ مریم آسکانی بھی ہیں جو کراچی کے علاقے لیاری میں رہائش پذیر ہیں اور اپنے خاندان میں ڈاکٹریٹ کرنے والی پہلی لڑکی ہیں۔ مریم نے بتایا کہ انہیں بچپن سے ہی پڑھنے کا شوق تھا اور اب ان کی تعلیم کو دیکھ کر خاندان کے دیگر لوگ بھی اپنی بچیوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کررہے ہیں۔
صبا مجید نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آلے کو انگلی پر پہنا جاتا ہے جو نبض اور جسمانی درجہ حرارت کو نوٹ کرتا رہتا ہے ۔ اگریہ دونوں اشاریئے معمول سے ذیادہ یا کم ہوں تو اس کا الارم بج جاتا ہے اور اس میں جی ایس ایم ٹیکنالوجی سے مریض کے مقام کی نشاندہی بھی کی جاسکتی ہے جبکہ سم کارڈ کے ذریعے ایمبولینس، ڈاکٹر، عزیز رشتے دار سمیت کئی افراد کو ایس ایم ایس کے ذریعے مریض کی کیفت سے آگاہ بھی کیا جاسکتا ہے۔
ہارٹ اٹیک ڈٹیکشن ڈیوائس نامی یہ آلہ ای سی جی کی  جگہ تو نہیں لے سکتا لیکن ابتدائی صورتحال سے خبردار کرسکتا ہے۔ دل کے دورے میں فوری طور پر ابتدائی طبی امداد ضروری ہوتی ہے اور ہر گزرتا ہوا منٹ بہت قیمتی ہوتا ہے۔ اسی لیے ابتدائی حالت ظاہر کرکے یہ جانی نقصان سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔
طالبات کے مطابق اسے اسلام آباد میں منعقدہ ایک اختراعاتی مقابلے کے لیے طبی و حیاتیاتی اختراع کے زمرے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ اس مقابلے کا نام ڈسٹنگوئشڈ انوویشن کولیبریشن اینڈ اینٹرپرونیئرشپ (ڈائس) تھا جہاں اس نے پہلا انعام حاصل کیا تھا۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق اس پروٹوٹائپ کی تیاری پر 30 ہزار روپے کی لاگت آئی ہے تاہم تمام طالبات نے اتفاق کیا کہ اسے مریضوں پر آزمانے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ آلے کی معیاربندی اور کیلبریشن  کی بہت ضرورت ہے جو فیلڈ ورک کے بعد ہی ممکن ہوگی۔ دوسری جانب پورے آلے کو کسی کڑے (ہینڈ بینڈ) میں سمونے سے یہ مزید بہتر، مختصر اور مؤثر ہوسکتا ہے۔
صبا مجید کے مطابق اس کامیابی کے بعد ہمیں مزید وسائل کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ امراضِ قلب کے ماہرین، بایومیڈیکل انجینئر اور دیگر پروفیشنلز کی ایک سرگرم ٹیم کی ضرورت ہے تاکہ اس کام کو مزید آگے بڑھایا جاسکے۔ دوسری جانب اس کی کامیابی کے لیے امراضِ قلب کے ماہرین اور بایو میڈیکل انیجینئروں پر مشتمل ایک ماہرانہ ٹیم کی ضرورت پر بھی زوردیا گیا ہے۔

پیر، 16 جنوری، 2017

پی آئی اےنے مسافروں کے لیے انٹرنیٹ سروس متعارف کرادی


کراچی: قومی ائیرلائن نے آج سےاپنی چند بہترین اندرون ملک پروازوں پرمسافروں کے لیے انٹرنیٹ کی سہولت متعارف کرا دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق اس سسٹم کو مسافر اپنے موبائل فون‘ ٹیبلٹس اور لیپ ٹاپ سے منسلک کر کے اپنی پسند کی انٹرٹینمنٹ دیکھ اور سن سکیں گے۔
شروع میں یہ سہولت کراچی سے اسلام آباد اور لاہور کے درمیان پروازوں پر حاصل ہو گی جن میں پرواز PK300, PK-301, PK302, PK 303, PK304,PK305,PK308اورُPK309 شامل ہیں۔
پہلے مرحلے میں 30گھنٹے کا انٹرٹینمنٹ دستیاب ہوگا جس میں ڈرامے‘ کامیڈی پروگرام‘ بچوں کی فلمیں‘ تلاوت ‘ ڈاکومینٹریز، حفاظتی فلمیں‘ اردو فلمیں اور گانے شامل ہیں۔
دوسرے مرحلے کےلئے کام جاری ہے جس میں ایک ایپلی کیشن کے ذریعے انگریزی فلمیں، بچوں کےلئے گیمز اور نقشہ جات شامل ہوں گے۔
اس سسٹم کو آزمائشی بنیادوں پر شروع کیا گیا ہے اور مسافروں کی جانب سے موصول ہونے والی آراء کے بعد اگلے چند ہفتوں میں اس کو دوسری پروازوں پر بھی شروع کر دیا جائے گا۔
قومی ایئر لائن نے مسافروں سے درخواست کی ہے کہ اس نئے سسٹم کے بارے میں ایئر لائن کو اپنی رائے سے آگاہ کریں۔
واضح رہے کہ پی آئی اے ان دنوں مالی مشکلات  کا شکار ہے کچھ روز قبل ادارےکے ملازمین کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا تھا۔

ہفتہ، 14 جنوری، 2017

ارفع کریم ؛ پاکستان کا حقیقی چہرہ

ارفع کریم نعت خوانی اور مباحثہ جیسے اہم شعبوں میں بھی کسی سے کم نہ تھیں: فوٹو: فائل
ارفع کریم نعت خوانی اور مباحثہ جیسے اہم شعبوں میں بھی کسی سے کم نہ تھیں: فوٹو: فائل
فیصل آباد: 9 برس کی عمرمیں مائیکرو سافٹ پروفیشنل ہونے کا اعزاز حاصل کرنے والی ارفع کریم کی پانچویں برسی آج منائی جارہی ہے۔
کم عمرترین مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل ارفع کریم 1995 میں فیصل آباد میں پیدا ہوئی۔ مائیکروسافٹ کارپوریشن کی دعوت پر جولائی 2005 میں ارفع کریم امریکا گئیں جہاں مائیکروسافٹ کے بانی چیئرمین بل گیٹس نے خصوصی طورپران سے ملاقات کی اورانہیں مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ ایپلی کیشن کی سند سے نوازا۔
ارفع کریم نے اپنی خداداد صلاحیتوں سے آئی ٹی کی دنیا میں وہ اعزازحاصل کیا جوان سے پہلے کوئی حاصل نہ کرسکا، ارفع کریم مائیکروسافٹ پروفیشنل ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین نعت خواں اورمقرر بھی تھیں۔ ارفع کریم نے دبئی کے فلائنگ کلب میں صرف 10 سال کی عمرمیں ایک طیارہ اڑایا اورطیارہ اڑانے کا سرٹیفکیٹ بھی حاصل کیا۔ انہیں 22 دسمبر 2011 کو مرگی کا دورہ پڑنے پر لاہور کے اسپتال میں منتقل کیا گیا جہاں وہ کچھ  روزکوما میں رہنے کے بعد 14 جنوری 2012 کو خالق حقیقی سے جا ملیں۔
کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جومرکر بھی امرہوجاتے ہیں، ارفع کریم رندھاوا نے بھی جہان فانی سے جہان ابدی کی جانب کوچ کیا تو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زندۂ جاوید ہو گئیں۔ ارفع نے فاطمہ جناح گولڈ میڈل، سلام پاکستان یوتھ ایوارڈ، پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سمیت کئی اعزازات بھی حاصل کیے۔ اگرزندگی وطن عزیز کے اس گوہر نایاب سے وفا کرتی تونہ جانے کتنے ہی کارنامے سرانجام دیتیں اورکتنے ہی اعزازات ان کی جھولی میں آ گرتے۔
ارفع کے والد بیٹی کے دنیا سے جانے کو دکھ نہیں سمجھتے کیونکہ ان کے نزدیک وہ تو قوم کی بیٹی تھی، ارفع کریم کوعظیم کارنامے پر حکومت کی طرف سے بطور اعزاز ارفع کریم آئی ٹی ٹاورتعمیر کیا گیا۔

ہفتہ، 31 دسمبر، 2016

2016 کے اہم خواتین اور ان کے کارنامے

دنیا کا کوئی بھی شعبہ ہو، خواتین کی شمولیت کے بغیر ادھورا ہے۔ آج اکیسویں صدی میں یہ بات ایک حقیقت بن چکی ہے جب ہمیں ایسے شعبوں میں بھی خواتین نظر آتی ہیں جنہیں اس سے پہلے صرف مردوں کے لیے ہی مخصوص سمجھا جاتا تھا۔سال 2016 میں کئی پاکستانی خواتین نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ 

ترقی یافتہ شہروں سے لے کر پسماندہ اور روایت پسند علاقوں تک کئی خواتین اپنے عزم و حوصلے کے سبب دنیا کی نظروں کا مرکز بنیں اور یہ پیغام دیا کہ وقت بدل رہا ہے، خواتین کی اہمیت کو تسلیم نہ کرنے والوں کو اب اپنا ذہن بدلنا ہوگا۔آئیے دیکھتے ہیں کہ اس سال کن خواتین نے پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند کیا۔

:حوصلے اور انتھک جدوجہد کی مثال پاکستانی خواتینپاکستانی نژاد خاتون نرگس ماولہ والا نے اس وقت پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند کردیا جب انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ خلا میں کشش ثقل کی  لہروں کی نشاندہی کرنے کا کارنامہ انجام دے ڈالا۔
فروری کی ایک روشن صبح پاکستان کی پہلی آسکر ایوارڈ یافتہ شخصیت شرمین عبید چنائے دوسرا آسکر ایوارڈ جیتنے میں کامیاب ہوگئیں۔ ان کی ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلم ’آ گرل ان دی ریور ۔ پرائس آف فورگیونیس‘ غیرت کے نام پر قتل کے موضوع پر بنائی گئی جس نے پاکستانی قوانین پر بھی واضح اثرات مرتب کیے۔
ساؤتھ ایشین گیمز 2016 میں دو پاکستانی لڑکیاں رخسانہ اور صوفیہ پاکستان کے لیے باکسنگ کے میدان میں میڈلز جیتنے والی اولین خواتین بن گئیں۔
اپریل میں پاک نیوی کی تاریخ میں پہلی بار بلوچستان سے تعلق رکھنے والی ذکیہ جمالی پاکستان نیوی کی پہلی کمیشن آفیسر بن گئیں۔
اسی ماہ سوات سے تعلق رکھنے والی تبسم عدنان کو خواتین کے حقوق کے لیے انتھک جدوجہد پر کولمبیا میں نیلسن منڈیلا ایوارڈ سے نوازا گیا۔پاکستان کی پہلی خاتون شوٹر مناہل سہیل نے ریو اولمپکس 2016 میں حصہ لیا۔کوئٹہ کے اسلامیہ گرلز کالج میں سیکنڈ ایئر کی طالبہ نورینہ شاہ نے اس وقت ملک بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کروالی جب علم فلکیات پر  اپنے مطالعے اور تجزیے کے باعث اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور دنیا بھر کے ماہرین فلکیات نے ان کی مہارت کو سراہا۔اگست میں ہونے والے ریو اولمپکس کے مقابلوں میں پاکستانی نژاد مادیہ غفور نے یوں تو نیدر لینڈز کی نمائندگی کی، تاہم وہ اولمپک مقابلوں  میں شریک ہونے والی پہلی بلوچ خاتون کھلاڑی تھی۔اگست میں ہی 2 پائلٹ بہنوں مریم مسعود اور ارم مسعود نے بطور کو پائلٹ بیک وقت 777 بوئنگ طیارے اڑا کر ایک نئی تاریخ رقم کی۔
ستمبر میں پاکستانی طالبہ شوانہ شاہ کو امریکا میں محمد علی ہیومنٹیرین ایوارڈ سے نوازا گیا۔ شوانہ شاہ سنہ 2012 سے معاشرے کی پسماندہ خواتین کی بحالی، ان پر تشدد اور جنسی ہراسمنٹ کے خلاف کام کر رہی ہیں۔اسی ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پہلی دفعہ منعقد کیے جانے والے گلوبل گولز ایوارڈز میں ایک پاکستانی ادارے ’ڈاکٹ ۔ ہرز‘ نے بہترین اور کامیاب کوشش کا ایوارڈ اپنے نام کرلیا۔ یہ ادارہ پسماندہ علاقوں کی خواتین کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔پاکستانی خاتون ڈاکٹر ثانیہ نشتر کو عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے کے لیے نامزد کیا گیا۔ اس عہدے کی دوڑ میں کل 6 امیدواروں میں صرف 22 خواتین شامل تھیں جن میں سے ایک ڈاکٹر ثانیہ نشتر تھیں۔اکتوبر میں صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع سوات سے تعلق رکھنے والی نویں جماعت کی طالبہ حدیقہ بشیر کو ایشیائی لڑکیوں کے حقوق کی سفیر کا ایوارڈ  دیا گیا۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی لڑکی ہیں۔
چودہ سال قبل اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی مختاراں مائی اس وقت ایک بار پھر سب کی توجہ کا مرکز بن گئیں جب فیشن پاکستان ویک 20166 میں انہوں نے ریمپ پر واک کی۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف خواتین کو بااختیار بنانے کے اقدام کی حمایت کرنا تھا، بلکہ لوگوں کی توجہ ریپ جیسے گھناؤنے جرم کی طرف دلانا بھی تھا۔نومبر میں پاکستان کی ڈیجیٹل حقوق فاؤنڈیشن کی بانی نگہت داد کو ہالینڈ حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کے ٹیولپ ایوارڈ 2016 سے  نوازا گیا۔اسی ماہ سوات سے تعلق رکھنے والی دو لڑکیوں گلالئی اسمعٰیل اور صبا اسمعٰیل کے قائم کردہ سماجی ادارے ’اویئر گرلز‘ کو سابق فرانسیسی صدر سے منسوب شیراک پرائز سے نوازا گیا۔ اویئر گرلز گزشتہ 144 سال سے پختونخواہ میں خواتین کی تعلیم وصحت کے لیے سرگرم عمل ہے۔دسمبر میں رافعہ قسیم بیگ بم ڈسپوزل یونٹ کا حصہ بننے والی پہلی پاکستانی اور ایشیائی خاتون بن گئیں۔ وہ اس سے قبل خیبر پختونخوا کی پولیس  فورس میں خدمات انجام دے رہی تھیں۔:ایک اہم سنگ میلپاکستان میں خواتین کے تحفظ کے لیے سب سے اہم اقدام 7 اکتوبر 2016 کو اٹھایا گیا جب پارلیمنٹ میں غیرت کے نام پر قتل اور زنا بالجبر کے واقعات کی روک تھام کا بل منظور کرلیا گیا۔ترمیمی بل کے مطابق غیرت کے نام پر قتل فساد فی الارض تصور ہوگا اور صلح یا معافی کے باوجود 25 سال سزائے قید ہوگی۔بل میں عصمت دری کے مقدمات میں ملزم کا ڈی این اے ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا جبکہ متاثرہ خاتون کی شناخت کسی بھی سطح پر ظاہر نہ کرنے کی شق شامل کی گئی۔:عالمی سیاست میں خواتین کا کرداردنیا بھر میں جہاں کئی شعبوں میں خواتین نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، وہیں شعبہ سیاست میں بھی خواتین کی تعداد میں اضافہ نظر آیا اور کئی اہم سیاسی عہدوں پر خواتین کی تقرری عمل میں آئی۔مئی میں جرمنی کی ایک ریاستی اسمبلی میں پہلی بار اسپیکر کے عہدے کے لیے مسلمان خاتون مہتریم آراس کو منتخب کیا گیا۔اسی ماہ تائیوان میں پہلی خاتون صدر سائی انگ ون کی حکومت کا آغاز ہوا۔جون میں ورجینیا راگی روم کی تاریخ میں ڈھائی سو سال بعد خاتون میئر منتخب ہوئیں۔جولائی میں تھریسا مے نے برطانوی وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا۔ آئرن لیڈی کہلائی جانے والی مارگریٹ تھیچر کے بعد وہ اس عہدے  پر فائز ہونے والی دوسری خاتون ہیں۔اگست میں ٹوکیو کی عوام نے اپنی پہلی خاتون گورنر یوریکو کوئیکے کا انتخاب کیا۔ اس سے قبل وہ ملک کی پہلی خاتون وزیر دفاع بھی رہ چکی  تھیں۔
امریکا میں رواں برس ہونے والے صدارتی انتخاب کے لیے سابق خاتون اول اور سابق سیکریٹری خارجہ ہیلری کلنٹن بھی میدان میں  کھڑی ہوئیں، لیکن قسمت نے اس بار بھی ان کا ساتھ نہ دیا۔وہ اس سے قبل سنہ 2008 میں بھی بارک اوباما کے مدمقابل بطور صدارتی امیدوار کھڑی ہوئی تھیں۔ گو کہ وہ امریکا کی پہلی خاتون صدارتی امیدوار تو نہ تھیں، تاہم اگر وہ صدر منتخب ہوجاتیں، جس کے امکانات بہت زیادہ تھے، تو وہ امریکا کی پہلی خاتون صدر کہلاتیں۔صومالیہ میں سال کے آخر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے ایک خاتون فڈومو ڈیب بھی امیدوار ہیں۔ اگر وہ صدر منتخب  ہوگئیں تو صومالیہ کی پہلی خاتون صدر کہلائی جائیں گی۔:دیگر اہم واقعاتریو اولمپکس 2016 میں امریکی ایتھلیٹ ابتہاج محمد وہ پہلی امریکی مسلمان خاتون بنیں جنہوں نے باحجاب ہو کر کھیلوں میں شرکت کی۔ ریو 2016 میں انہوں نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔reshmaبھارت میں تیزاب گردی کا شکار ریشما قریشی نے نیویارک فیشن ویک میں ریمپ پر واک کر کے یہ پیغام دیا کہ تیزاب سے مسخ ہوجانے والے چہروں کو بھی زندگی جینے کا حق ہے۔21داعش کی خوفناک قید سے جان بچا کر بھاگ آنے والی کرد خاتون 23 سالہ نادیہ مراد طحہٰ کو اقوام متحدہ کا خیر سگالی سفیر مقرر کیا گیا اور انہیں یورپی یونین کی پارلیمنٹ کی جانب سے سخاروف انعام سے نوازا گیا۔haji-aliبھارت کی مشہور درگاہ حاجی علی میں خواتین کے داخلے پر عائد پابندی 4 سال بعد ختم کردی گئی۔سعودی شہزادے ولید بن طلال نے مطالبہ کیا کہ سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ پر ایک طویل عرصے سے عائد پابندی کو فوری طور  پر ختم کیا جائے۔22امریکا کی کیسنڈرا ڈی پیکول نامی سیاح نے دنیا کے تمام ممالک کی سیاحت کرنے والی واحد خاتون کا اعزاز اپنے نام کرلیا۔