گیم، لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
گیم، لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 11 مئی، 2017

ہر شے کو ٹچ اسکرین بنانے والا اسپرے


الیکٹرک نامی انقلابی اسپرے میز سے لے کر دیوار تک پر ایک خاص پرت لگا کر اسے ٹچ اسکرین بنادیتا ہے، فوٹو؛ فائل
الیکٹرک نامی انقلابی اسپرے میز سے لے کر دیوار تک پر ایک خاص پرت لگا کر اسے ٹچ اسکرین بنادیتا ہے، فوٹو؛ فائل
نیویارک: انجینیئروں نے ایک ایسا انقلابی اسپرے پینٹ بنایا ہے جو کسی بھی سطح کو ٹچ پیڈ میں تبدیل کرکے اسے ٹچ اسکرین میں تبدیل کردیتا ہے۔
اس پینٹ کو ’الیکٹرک‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اسے گاڑی کے اسٹیئرنگ، گٹار کی سطح اور دیوار تک پر آزما کر اسے ٹچ اسکرین میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ کارنیگی میلون یونیورسٹی کے ماہرین نے اس کے ذریعے اسمارٹ فون کیس کو انٹرایکٹو بنانے کا تجربہ بھی کیا ہے جب کہ اس کے ذریعے بٹن اور سلائیڈر بھی بنائے جاسکتے ہیں۔
اسے کارنیگی میلون یونیورسٹی کے فیوچر انٹرفیس گروپ کے ماہرین نے بنایا ہے جس کے سربراہ کا کہنا ہےکہ پہلی مرتبہ اسپرے پینٹ کے ایک ڈبے سے کسی بھی شے کو ٹچ اسکرین میں بدلا جاسکتا ہے۔ فی الحال یہ چھوٹی ہموار سطحوں کو ٹچ اسکرین میں تبدیل کردیتا ہے۔
اس سے قبل یہ ٹیکنالوجی بہت مہنگی تھی اور بڑی دیواروں اور فرنیچر کے لیے اس کی تیاری محال تھی لیکن اب کاربن اور موصل ( کنڈکٹو) پینٹ کے ذریعے اسے ممکن بنایا گیا ہے۔ اس کے بعد الیکٹروڈ کو سینسر کی جگہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ پینٹ سوکھ جانے کے بعد اس میں ہلکی بجلی دوڑائی جاتی ہے اور الیکٹروڈ کے ذریعے اس وولٹیج کو کنٹرول کیا جاتا ہے جودرحقیقت بٹن کی طرح کام کرتا ہے۔
جوں ہی کوئی پینٹ پر انگلی رکھے وولٹیج میں کمی واقع ہوتی ہے جو کسی سگنل کا کام کرتا ہے۔  اس عمل کو الیکٹرانک کی زبان میں ٹوموگرافک ریکنسٹرکشن بھی کہا جتا ہے اور ٹو ڈی سینسنگ نظام انگلی کے محلِ وقوع کو نوٹ کرتا ہے۔
اس پر کام کرنے والے ایک طالب علم کا کہنا ہےکہ پینٹ سے سلائیڈر اور ٹچ بٹن بھی بنائے جاسکتے ہیں۔ اس کے ذریعے فی الحال شوقیہ کام کرنے والے ویکیوم بنانے اور تھری ڈی پرنٹنگ کا کام کرسکتے ہیں۔

جمعرات، 4 مئی، 2017

فیس بک نے 50 نئے گیمز متعارف کرادیئے


فیس بک نے اپنے میسنجر استعمال کرنے والے صارفین کے لیے گیم متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، فوٹو؛ فائل
فیس بک نے اپنے میسنجر استعمال کرنے والے صارفین کے لیے گیم متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، فوٹو؛ فائل
سان فرانسسكو: فیس بک نے اپنے میسنجر استعمال کرنے والے صارفین کے لیے 50 مشہور گیمز کا اعلان کیا ہے جو ہر ماہ میسنجر استعمال کرنے والے ایک ارب 20 صارفین کھیل سکیں گے۔
اگرچہ میسنجر ایپ میں گیمز گزشتہ برس متعارف کرائے گئے تھے لیکن اب تک وہ بی ٹا ٹیسٹنگ کے مرحلے میں تھے یعنی لانچ سے پہلے آزمائشی مراحل سے گزررہے تھے۔ اب میسنجر استعمال کرنے والے اپنی ایپ کے ذریعے دوستوں کے ساتھ 50 گیم کھیل سکیں گے جن میں الفاظ والے گیمز، ایٹ بال پول، پیک مین، سولٹیئر، اسنیک، نوم کیٹ، کوکنگ ماما، کٹ دی روپ، مارس روور، ٹومب رنر، ٹاور میچ، برک پاپ، سلوپ سلائیڈر، ماسٹر آرچر، بنجو، سوڈوکو اور دیگر گیمز شامل ہیں۔ اب آپ یہ گیمز پوری دنیا کے دوستوں کے ساتھ کھیل سکیں گے۔
فیس بک کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ پرلطف، مسابقت اور سماجی انداز ہے جس کے ذریعے آپ اپنے دوستوں کو چیلنج اور خوش کرسکیں گے۔ اس کے لیے میسنجر ٹیکسٹ باکس کے پہلو میں ایک پلس سائن پر کلک کریں اور آپشن میں سے گیم پر جاکر کسی بھی گیم کا انتخاب کریں یا پھر صرف انگلی سے چھو کر بھی گیم شروع کیا جاسکتا ہے۔ ان میں 80 اور90 کے دہائی کے آرکیڈ گیم بھی شامل ہیں جن میں گیلگا اور اسپیس انویڈرز نمایاں ہیں۔ یہ گیم ان لوگوں کے لیے زیادہ متاثر کن ہوں گے جو آج سے 30 برس قبل آرکیڈ مشینوں پر گیمز کھیلا کرتے تھے۔
یہ گیمز فیس بک، میسنجر اور میسنجر کی ویب سائٹ پر یکساں طور پر کھیلے جاسکیں گے اور ان کا اجرا جلد ہی کیا جائے گا۔ فیس بک نے اعلان کیا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ مزید انسٹنٹ گیمز بھی متعارف کرائے جائیں گے۔

پیر، 13 فروری، 2017

17 سالہ پاکستانی نوجوان دنیا کا تیسرا امیر ترین گیمر بن گیا


سمائل ڈوٹا ٹو کے بہترین کھلاڑی تصور کئے جاتے ہیں۔ فوٹو: سمائل فیس بک پروفائل
سمائل ڈوٹا ٹو کے بہترین کھلاڑی تصور کئے جاتے ہیں۔ فوٹو: سمائل فیس بک پروفائل
 کراچی: پاکستان کے 17 سالہ نوجوان سمائل حسن نے نے بین الاقوامی ویڈیو گیم مقابلے میں شریک ہوکر 2,401,560 ڈالر کی رقم جیت لی ہے جو پاکستانی 25 کروڑ روپے سے بھی زیادہ ہے۔ اس کامیابی کے بعد سمائل ای اسپورٹس کے مقابلے میں رقم کمانے والے تیسرے بڑے گیمر بن گئے ہیں۔ یہ مقابلہ 22 جنوری کو کروشیا میں منعقد ہوا تھا۔ واضح رہے کہ یہ مجموعی رقم انہوں نے دو سال کے عرصے میں کئی ٹورنامنٹس جیت کر کمائی ہے۔
اس سے قبل 15 برس کی عمر میں سمائل ڈوٹا ٹو ایشین چیمپیئن شپ میں بھی فتح حاصل کرچکے ہیں۔
ڈوٹا ٹو کثیر کھلاڑیوں کے درمیان مفت میں کھیلا جانے والا ایک اسٹریٹیجی ویڈیو گیم ہے جو ڈیفنس آف اینشینٹ (ڈی او ٹی اے) گیم کا تسلسل ہے۔ یہ گیم دو ٹیموں کے درمیان کھیلا جاتا ہے۔ سمائل نے سات برس کی عمر میں یہ گیم کھیلنا شروع کیا اور اس پر مہارت حاصل کرلی ۔ اس کے بعد وہ 14 برس کی عمر میں امریکہ منتقل ہوگئے۔ امریکہ میں وہ دنیا کے کم عمر ترین گیمر بنے جنہوں نے دس لاکھ ڈالر جیتنے میں اپنی ٹیم کی مدد کی ہے۔ ان کی ٹیم کا نام ’ایول جینیئس‘ ہے اور 2015 میں اسی ٹیم نے ڈوٹا ٹو ایشین چیمپیئن شپ اپنے نام کی تھی۔
گیمنگ کی دنیا میں ان کا نام Suma1L ہے اور 2016 میں مشہور امریکی جریدے ٹائم نے سمائل کو دنیا کے بااثر ترین نو عمر افراد میں شامل کیا تھا اور اسی فہرست میں ملالہ یوسفزئی بھی شامل تھیں۔ سمائل کے ٹویٹر فالوورز کی تعداد 30 ہزار تک پہنچ چکی ہے اور وہ اپنے گیمز کی لائیو اسٹریم بھی پیش کرتے رہتے ہیں۔

منگل، 31 جنوری، 2017

بچوں کو کارٹون فلموں کا حصہ بنانے والی ایپ تیار


مفت میں دستیاب ایپ ’’ٹون ٹاسٹک تھری ڈی‘‘ کے ذریعے اب بچے اپنی تصویر اور آواز کارٹون میں شامل کرسکتے ہیں۔
فوٹو: بشکریہ ٹون ٹاسٹک تھری ڈی
مفت میں دستیاب ایپ ’’ٹون ٹاسٹک تھری ڈی‘‘ کے ذریعے اب بچے اپنی تصویر اور آواز کارٹون میں شامل کرسکتے ہیں۔ فوٹو: بشکریہ ٹون ٹاسٹک تھری ڈی
سان فرانسسکو: گوگل نے بچوں کے لیے ایک دلچسپ ایپ تیار کی ہے جس سے وہ اپنی شکل والے کارٹون کرداروں کو ایک ویڈیو میں شامل کرسکتے ہیں اور اس میں اپنی آواز بھی ریکارڈ کرسکتے ہیں۔
تین سال سے زائد عمر کے بچے اب کوئی رقم خرچ کیے بغیر ’ٹون ٹاسٹک تھری ڈی‘ ایپ ڈاؤن لوڈ کرکے مختلف کہانیوں میں اپنی شکل شامل کرسکتے ہیں اور اپنی آواز ریکارڈ کرکے ان کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اس طرح وہ بچوں کی کہانیوں پر مبنی کارٹونوں میں شامل ہوسکتے ہیں۔ یہ ایپ بچوں کے کردار شامل کرنے میں ان کی بھرپور رہنمائی کرتی ہے۔
ایپ کو گُوگل کے تعلیمی شعبے نے جاری کیا ہے جس میں تمام کردار اور ماحول تھری ڈی ہے۔ اس میں بچے کسی بھی کردار پر اپنا چہرہ لگا کر خود اس میں شامل ہوسکتے ہیں بلکہ بچے پروڈیوسر بن کر اپنی چھوٹی کہانیاں اور ویڈیوز خود تیار کرسکتے ہیں۔ اسی طرح اسکول کے لیے بہت دلچسپ کیریکٹر بنائے جاسکتے ہیں۔
گوگل نے اسے ڈجیٹل پتلی تماشہ (پپٹ تھیٹر) قرار دیا ہے جس کے ذریعے بچے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو جگا سکتے ہیں۔ ایپ اسمارٹ فونز، ٹیبلٹس اور کروم بک پر چل سکتی ہے۔ ایپ میں بہت سارے بنے بنائے کردار شامل ہیں جن میں روبوٹ، سمندری قزاق اور وِلن شامل ہیں ۔
اس ایپ کے ذریعے بچے اپنے کردار خود بھی بناسکتے ہیں پھر ان میں مرضی کے رنگ شامل کرکے اپنی تصویر بھی لگاسکتے ہیں اور خود کارٹون کہانی میں شامل ہوسکتے ہیں۔ اس میں  بچے اپنی آواز بھی شامل کرسکتے ہیں جب کہ ویڈیو بنانے کے بعد اسے اپنے ساتھیوں اور دوستوں سے بھی شیئر کرسکتے ہیں۔

بدھ، 21 دسمبر، 2016

سوشل میڈیا رشتوں کے لیے زہر قاتل؟

سوشل میڈیا کا استعمال ہماری زندگی کا لازمی جز بن چکا ہے۔ زندگی کا کوئی بھی مرحلہ ہو، اسے سوشل میڈیا پر رسمی و غیر رسمی دوستوں اور بعض اوقات اجنبی افراد کے ساتھ بھی شیئر کرنا ایک معمول کی بات بن چکی ہے۔
لیکن ماہرین کا متفقہ طور پر ماننا ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال ہماری نفسیاتی صحت پر منفی اثرات مرتب کررہا ہے۔ کم استعمال کرنے والے اس کے مضر اثرات کا شکار کم، اور زیادہ استعمال کرنے والے اس کے نقصانات کا زیادہ شکار ہیں، تاہم اس کے منفی اثرات سے کوئی بھی شخص محفوظ نہیں۔
حال ہی میں ماہرین سماجیات کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق نے ان پر انکشاف کیا کہ وہ ازدواجی جوڑے جو اپنی زندگی کے معاملات سوشل میڈیا پر شیئر کرتے تھے، ایک ناخوشگوار زندگی گزار رہے تھے۔
انہوں نے دیکھا کہ جن جوڑوں نے اپنی ذاتی زندگی کو صحیح معنوں میں ذاتی اور خفیہ رکھا اور انہوں نے سوشل میڈیا پر اس کی تشہیر نہیں کی، وہ نسبتاً ایک خوشگوار زندگی گزار رہے تھے۔
ماہرین نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے چند وجوہات پیش کیں جنہیں پڑھ کر آپ کو اندازہ ہوسکے گا کہ سوشل میڈیا کس طرح آپ کے ازدواجی رشتے کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
گزشتہ 2 سال سے جس طرح عام تصاویر کی جگہ سیلفیاں مقبول ہوگئی ہیں، اس نے نفسیاتی و طبی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر بہت زیادہ اپنی سیلفیز پوسٹ کرنے والے افراد نفسیاتی مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں۔
اسی طرح اپنی تصاویر اور اسٹیٹس میں دوسروں کو ٹیگ کرنا، کمنٹس یا لائیکس حاصل کرنے کی جستجو بھی خود پسندی کو فروغ دے رہی ہے جو آگے چل کر نفسیاتی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق فیس بک کا استعمال لوگوں کو خوشی کو ختم کر رہا ہے۔ ماہرین نے دیکھا کہ وہ تنہا افراد جو فیس بک کا استعمال کم کرتے تھے اور شادی کے بعد بھی انہوں نے اس عادت کو برقرار رکھا، وہ اپنے ہی جیسے حالات کا شکار افراد سے نسبتاً خوش پائے گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنے ازدواجی یا دیگر رشتوں کے بارے میں مستقل سوشل میڈیا پر پوسٹنگ کرتے رہنا عدم تحفظ کے احساس کو فروغ دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق انہوں نے تحقیق میں دیکھا کہ وہ افراد جو اپنے رشتوں سے ناخوش یا غیر مطمئن تھے وہ اپنے رشتوں کے بارے میں سوشل میڈیا پر زیادہ پوسٹنگ کرتے تھے۔
سماجی و طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کل کے جدید دور میں سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی سے دور رہنا تو ناممکن ہے، لیکن سوشل میڈیا کا استعمال کم کرنا خصوصاً اپنی ذاتی زندگی کو اس سے دور رکھنا آپ کو بے شمار سماجی، طبی اور نفسیاتی مسائل سے بچا سکتا ہے۔

اتوار، 18 دسمبر، 2016

پانچ پاؤنڈ کے نوٹ پر 62 ہزار ڈالر انعام


لندن: برطانیہ میں ان دنوں شہری پانچ پاؤنڈ مالیت کے چار کرنسی نوٹوں کی تلاش میں ہیں کیونکہ ان میں سے ایک کرنسی نوٹ انہیں پچاس ہزار آسٹریلوی پاؤنڈز یعنی 62 ہزار امریکی ڈالر کا مالک بنا سکتا ہے۔
برطانوی میڈیا  اور  سوشل میڈیا کے علاوہ پرنٹ میڈیا پر بھی ان چار کرنسی نوٹوں کی تلاش کے حوالے سے خبریں آ رہی ہیں جس کے بعد شہری ان نوٹوں کو تلاش کرنے میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔
خیال رہے کہ پانچ پاؤنڈ مالیت کا کرنسی نوٹ بنک آف انگلیڈ کے حالیہ ایام میں جاری کردہ نوٹوں میں شامل ہے مگر پانچ ڈالر مالیت کے چار کرنسی نوٹ ایسے ہیں جن پر شناختی علامات عام نوٹوں سے مختلف ہیں۔
منفرد شناختی علامتوں نے ان نوٹوں کی قیمت میں اضافہ کردیا اور نوٹ جمع کرنے کے شوقین افراد کے علاوہ دیگر برطانوی شہری بھی ان کی تلاش میں دیوانہ وار نکل پڑے ہیں۔
برطانوی کثیرالاشاعت جریدہ ’’میٹرو‘‘ کے مطابق حال ہی میں چار مطلوبہ کرنسی نوٹوں میں سے ایک نوٹ جنوبی ویلز کے علاقے بلاک ووڈ میں ایک شخص کو سینڈ وچ کی خریداری کے دوران ہاتھ آیا جس نے اس نوٹ کے بدلے میں پچاس ہزار آسٹریلوی پاؤنڈ کمائے ہیں۔
کرنسی نوٹ دینے والے شخص کی شناخت خفیہ رکھی گئی ہے جبکہ اسی مالیت کے دیگر تین کرنسی نوٹ تاحال سامنے نہیں آسکے۔ غالب امکان یہی ہے کہ بقیہ تینوں نوٹ بھی برطانیہ کے اندر ہی گردش کررہے اور ان کے بیرون ملک جانے کا امکان بہت کم ہے۔

معذور باپ کا بلند حوصلہ، بیٹے سے کیا وعدہ پورا کردیا


سنگاپور: ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والے 33 سالہ معذور شخص نے وہیل چیئر کے ساتھ 500 میٹر اونچی چٹان پر چڑھ کر ثابت کردیا کہ معذوری مجبوری نہیں ہوتی۔
تفصیلات کے مطابق دسمبر 2011 میں کار حادثے کے بعد معذوری کی زندگی گزارنے والے لائی چائی وئی نامی ایتھلٹ نے اپنے معذوری کو مجبوری نہیں بنایا اور زندگی گزارنے کے لیے جدوجہد کی۔
لائی چائی وئی نے اپنے بیٹے سے کیے وعدے کو پورا کرنے کے لیے اُس کی سالگرہ کے موقع پر 500 میٹر اونچائی کی چڑھان پر وہیل چیئر کے ذریعے سر کرنے کا اعلان کیا اور اس میں کامیابی حاصل کی۔
ایتھیلیٹ لائی چائی نے اس سے قبل چار بار ایشین چیمپئن شپ میں ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے ریکارڈ اپنے نام کرچکے ہیں مگروہ اس وقت تندرست تھے، اس بار معذوری کے باوجود انہوں نے اپنے بیٹے سے کیے وعدے کو پورا کیا جس پر وہ اور اُن کا خاندان بہت خوش ہے۔
اس موقع پرلائی چائی نے کہا کہ’’9 دسمبر کو پیش آنے والے حادثے کے بعد جب مجھے ہوش آیا تو اسپتال میں موجود تھا، آپریشن کے لیے آنے والے ڈاکٹر نے خبر سنائی کہ میرا نچلا دھڑ ناکارہ ہوگیا ہے اور اب بقیہ زندگی معذوری کے ساتھ ہی گزرے گی‘‘۔
انہوں نے کہا کہ ’’ڈاکٹر کی یہ بات سننے کے بعد مجھ پر سکتہ طاری ہوگیا تاہم اسپتال سے فارغ ہونے کے بعد زندگی میں جدوجہد کی ٹھانی اور اپنے اُس سفر کو جاری رکھا تاکہ کسی کی مدد درکار نہ ہو‘‘۔
اہل خانہ اور دوستوں کا کہنا ہے کہ ’’حادثے کے بعد لائی چائی اپنے مشن کو جاری نہ رکھنے پرافسردہ تھا تاہم اس نے وہیل چیئر کے ساتھ ہی اپنے جدوجہد کو جاری رکھنے کا اعلان کیا اور اپنے بیٹے سے اُس کی سالگرہ پر چٹان سر کرنے کا وعدہ کیا‘‘۔
لائی چائی نے اپنے چار سالہ بچے کی سالگرہ پر وہیل چیئر کے ساتھ چٹان پر چڑھ کر نہ صرف اپنے وعدے کی پاسداری کی بلکہ معذوری کو عذر بنانے والے افراد کو پیغام دیا کہ یہ کوئی مجبوری نہیں تاہم اگر جدوجہد کو جاری رکھا جائے۔

جمعہ، 16 دسمبر، 2016

ماضی کے سپرہٹ گیم "سپرماریو رن" کی موبائل ایپلی کیشن متعارف

ابتدائی طور پر ایپلی کیشن آئی فون میں دستیاب ہوگی جس کے لئے صارفین کو 10 ڈالر ادا کرنا ہوں گے۔۔ فوٹو:فائل
ابتدائی طور پر ایپلی کیشن آئی فون میں دستیاب ہوگی جس کے لئے صارفین کو 10 ڈالر ادا کرنا ہوں گے۔۔ فوٹو:فائل
نیویارک: ویڈیو گیم کی دکان پر جاکر “سپر ماریو رن” کھیلنے کے شوقین افراد تیار ہوجائیں کیوں اب اس گیم کو موبائل فون پر بھی کھیلا جا سکے گا۔
سپرماریو رن گیم کے ڈیزائنر ٹیڈی ڈیف کا کہنا ہے کہ سپرماریو گیم کو اپنے وقت میں بہت پذیرائی ملی جس کے بعد اس کی ایپلی کیشن بھی تیارکرلی گئی تاہم پہلے مرحلے میں یہ ایپلی کیشن صرف آئی فون صارفین کو 10 ڈالر میں دستیاب ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ سپرماریو رن کے فری ورژن میں گیم کا مختصر سا حصہ ہے جس میں گیم کے ابتدائی راؤنڈز دیئے گئے ہیں تاہم  مکمل گیم آئی فون صارفین امریکا میں اسے 10 ڈالر اور برطانیہ میں 8 پاؤنڈ کی ادائیگی سے ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں۔
دوسری جانب سپرماریو رن گیم کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے رقم کی ادائیگی پر صارفین شدید ناراض ہیں جن کا کہنا ہے کہ موبائل پر کئی کمپنیاں صارفین کو مفت گیم فراہم کر رہی ہیں لیکن سپرماریو گیم کے لئے قیمت کی ادائیگی ناانصافی ہے جب کہ مفت ورژن میں صرف 6 راؤنڈ ہیں اور وہ بھی مختصر اس لئے گیم کے ڈیزائنرز کو چاہیئے کہ وہ اسے فری رکھیں
۔