منگل، 28 فروری، 2017

جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے آواز کو خاص رخ پر موڑنا ممکن ہوگیا


میٹا مٹیریلز سے بنی اینٹیں اسپیکر کی آواز کو خاص سمت اور شدت سے موڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔فوٹو؛ فائل
میٹا مٹیریلز سے بنی اینٹیں اسپیکر کی آواز کو خاص سمت اور شدت سے موڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔فوٹو؛ فائل
 لندن: شاید اب وہ دن دور نہیں جب گھر میں یا تقاریب میں اسپیکروں کی آواز ہر ایک کے کان تک پہنچنے کی بجائے صرف مخصوص لوگوں کو ہی سنائی دے گی۔
برطانیہ میں یونیورسٹی آف برسٹل اور یونیورسٹی آف سسیکس نے میٹا مٹیریلز کی چھوٹی چھوٹی اینٹوں سے ایک چادر بنائی گئی ہے۔ ہر اینٹ آواز کو کچھ دیر روکتی ہے اور اسے اینٹوں سے بنے آڑے ترچھے راستوں سے گزارتی ہے اور اس طرح کسی بھی رخ پر آواز کو پھینکا جاسکتا ہے۔ سسیکس یونیورسٹی کے ماہر پروفیسر کے مطابق ایسی اینٹیں کسی بھی مٹیریل سے بنائی جاسکتی ہیں اور اسے تھری ڈی پرنٹر پر پولیمر کے ذریعے بھی تیار کیا جاسکتا ہے۔
ایک طرح کے خاص مادے ’’میٹا مٹیریل‘‘ یا ’’سپر مٹیریل‘‘ سے انسانی ناخن کے برابر یہ اینٹیں بنائی گئی ہیں جنہیں آواز کنٹرول کرنے کے لیے بہت آسانی سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔  میٹا مٹیریلز سے بنی ہلکی پُھلکی شیٹ کو کسی بھی اسپیکر یا لاؤڈ اسپیکر پر لگا کر درست انداز میں آواز کو ایک خاص سمت میں پھینکا جاسکتا ہے جب کہ بقیہ افراد یہ آواز نہیں سن سکیں گے۔ اس طرح کسی بھی جگہ ’’آوازوں کا مرکز‘‘ (آڈیو ہاٹ اسپاٹس) قائم کیا جاسکتا ہے جہاں بیٹھے لوگ ہی آواز سن سکتے ہیں۔
میٹا مٹیریلز کو غائب ہونے والے لباسوں میں استعمال کیا جارہا ہے جو روشنی کو موڑ کر پشت کا منظر دکھاتے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ اس میں موجود شخص غائب ہوچکا ہے۔ اسی اصول پر یہ آواز کی لہروں کو موڑنے، پھیلانے اور ایک جگہ فوکس کرنے کا کام کرسکتے ہیں۔
اسی طرح انسانی جسم میں طاقتور آواز کو ایک جگہ ڈال کر اس سے سرطانی رسولیوں کا خاتمہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ ماہرین نے اپنی تحقیق کو جرنل نیچر میں شائع کرایا ہے۔

پیر، 27 فروری، 2017

انتظار کی گھڑیاں ختم، نئے نوکیا 3310 کی نقاب کشائی کردی گئی

نئے نوکیا 3310 کی بیٹری ٹاک ٹائم 22 گھنٹے سے بھی زائد ہے۔ فوٹو: بشکریہ وائرڈ ڈاٹ کام
نئے نوکیا 3310 کی بیٹری ٹاک ٹائم 22 گھنٹے سے بھی زائد ہے۔ فوٹو: بشکریہ وائرڈ ڈاٹ کام
بارسلونا: نوکیا نے 17 سال بعد ایک مرتبہ پھر چند تبدیلیوں کے ساتھ مقبول زمانہ موبائل فون 3310 کا نیا ورژن متعارف کرا دیا۔
بارسلونا میں جاری موبائل ورلڈ کانگریس ٹیکنیکل شو کے دوران مشہور زمانہ فون نوکیا 3310 کی نقاب کشائی کردی گئی۔ ماضی کی طرح نوکیا 3310 میں چند تبدیلیوں کے ساتھ وہی خوبیاں رکھی گئی ہیں جو اس موبائل کی پہچان تھیں جیسا کے موبائل فون مضبوطی کے اعتبار سے دیگر موبائلوں کے مقابلے میں مضبوط ثابت ہوگا جب کہ اس کی بیٹری ٹائمنگ بھی 22 گھنٹے ٹاک ٹائم بتائی جاتی ہے۔
نیا نوکیا 3310 مکمل طور پر فیچر موبائل ہے جس میں ایس 30 آپریٹنگ سسٹم ہے جو اینڈرائڈ یا آئی او ایس آپریٹنگ سسٹم کا تو مقابلہ نہیں کرسکتا تاہم اس میں 2.5 جی انٹرنیٹ استعمال کرسکتے ہیں جب کہ موبائل میں 2 میگا پگسلز کا کیمرا آپشن بھی دیا گیا ہے۔
نوکیا 3310 تین مختلف رنگوں لال، پیلے اور نیلے رنگ میں دستیاب ہوگا جس کی قیمت 49 یورو ہے جو پاکستانی روپوں میں ساڑھے 5 ہزار روپے بنتی ہے۔ عوام کے بھرپور مطالبے پر کمپنی نے نئے نوکیا 3310 میں اسنیک گیم کا نیا ورژن بھی رکھا ہے۔

اتوار، 26 فروری، 2017

دنیا کی سب سے تیزرفتارمیموری چپ تیار


سونی کارپوریشن نے 300 میگا بائٹس فی سیکنڈ رفتار والی ایس ڈی میموری پیش کردی ہے۔ فوٹو؛ سونی
سونی کارپوریشن نے 300 میگا بائٹس فی سیکنڈ رفتار والی ایس ڈی میموری پیش کردی ہے۔ فوٹو؛ سونی
ٹوکیو: سونی کارپوریشن نے دنیا کی سب سے تیز رفتار ایس ڈی میموری پیش کردی ہے جس سے 300 میگا بائٹس فی سیکنڈ کی زبردست رفتار پر ڈیٹا پڑھا جاسکتا ہے جب کہ اس پر ڈیٹا لکھنے کی رفتار 299 میگا بائٹس فی سیکنڈ بتائی جارہی ہے۔
یہ میموری کارڈز جنہیں ایس ایف جی (SF-G) ایس ڈی کارڈز کا نام دیا گیا ہے 32 جی بی، 64 جی بی اور 128 جی بی کی گنجائش میں دستیاب ہوں گے لیکن فی الحال ان کی قیمت کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے البتہ یہ اس سال اپریل تک فروخت کے لیے جاری کردیئے جائیں گے۔
ان میموری کارڈز کو ’’الٹرا ہائی اسپیڈ ٹو‘‘ (UHS-II) معیار کے مطابق بنایا گیا ہے جس کے تحت کسی میموری کارڈ میں ڈیٹا ٹرانسفر کی رفتار 312 میگا بائٹس فی سیکنڈ ہوتی ہے اور اگر ڈیٹا ریڈ/ رائٹ (ڈیٹا پڑھنے اور لکھنے) کے کام ایک ساتھ کیے جائیں تو پھر ہر ایک عمل کی انفرادی رفتار 156 میگا بائٹس فی سیکنڈ ہونی چاہیے۔
اب تک کسی بھی میموری کارڈ کے لیے ممکن نہیں کہ وہ دیر تک ڈیٹا ٹرانسفر میں یہ زبردست رفتار برقرار رکھ سکے اور اسی وجہ سے ایک ساتھ زیادہ ڈیٹا کاپی کرنے پر یو ایس بی ڈرائیو/ میموری کارڈ کی رفتار بتدریج کم پڑتی چلی جاتی ہے جو بالآخر صرف 4 میگا بائٹس فی سیکنڈ رہ جاتی ہے۔ مگر سونی کارپوریشن کا دعویٰ ہے کہ اس کے ایس ایف جی میموری کارڈز میں ڈیٹا ٹرانسفر ریٹ لمبے وقت تک برقرار رہے گا کیونکہ اس مقصد کے لیے خصوصی الگورتھم وضع کیا گیا ہے جو ڈیٹا ٹرانسفر ریٹ کو کم ہونے نہیں دیتا۔
اس وقت 256 جی بی کی ایس ڈی میموریز دستیاب ہیں جب کہ یو ایس بی اسٹوریج ڈرائیوز کی گنجائش ٹیرا بائٹس میں ہوچکی ہے لیکن سونی کا کہنا ہے کہ ابھی اس کی توجہ ڈیٹا ٹرانسفر ریٹ برقرار رکھنے پر ہے اور گنجائش میں اضافے پر بعد میں کام کیا جائے گا۔

ایسا صحرا جہاں لوگ زہر پی کر زندہ رہتے ہیں

جین میں ایک ایسے خامرے (اینزائم) کا کوڈ موجود ہے جو سنکھیا کو 2 قدرے کم زہریلے مرکبات میں تبدیل کر دیتا ہے۔ فوٹو: الامی اسٹاک
جین میں ایک ایسے خامرے (اینزائم) کا کوڈ موجود ہے جو سنکھیا کو 2 قدرے کم زہریلے مرکبات میں تبدیل کر دیتا ہے۔ فوٹو: الامی اسٹاک
کراچی: انسان میں اپنے گردوپیش، آب وہوا اور ماحول کی دیگر چیزوں سے مطابقت پیدا کرنے کی جو زبردست صلاحیت پائی جاتی ہے اس کا مشاہدہ چلی کے صحرا ’اٹاکاما Atacama‘ کے رہنے والے لوگوں میں کیا جاسکتا ہے جنھوں نے زہر پینے کی صلاحیت پیدا کرلی ہے۔
یونیورسٹی آف چلی کے سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق صحرا کے ’کیوبراڈا کامارونس (Quebrada Camarones)‘ خطے کے پانی میں سنکھیا (آرسینک) کی مقدار اس مقدار سے 100 گنا زیادہ ہے جس سے زیادہ کو عالمی ادارہ صحت نے زہر قرار دے رکھا ہے۔
محققین نے اس علاقے کے 150 افراد کے جینز کا جائزہ لیا ہے اور ان کے ڈی این اے میں ایک ایسے انحرافی جین کا پتہ چلایا ہے جو باقی ماندہ نوع انسانی میں نہیں ہے۔ اس جین میں ایک ایسے خامرے (اینزائم) کا کوڈ موجود ہے جو سنکھیا کو 2 قدرے کم زہریلے مرکبات میں تبدیل کر دیتا ہے۔
اس علاقے میں 7 ہزار سال قبل جنوبی امریکا کے اصل مکینوں نے جب آبادیاں بسائیں تو ان کے پاس 2 راستے تھے: یا تو وہ علاقے میں دستیاب سنکھیا آلود پانی پینا شروع کردیں یا پھر پیاسے رہ کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں چنانچہ انھوں نے یہ پانی پینا شروع کردیا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان باشندوں کی آئندہ نسلوں کے نظام انہضام میں سنکھیا پینے اور اسے ہضم کرنے کی زبردست صلاحیت پیدا ہوگئی ہے۔

ٹیبلٹ اوراسمارٹ فون کے لیے وائرلیس چارجر

اس چارجر کو بجلی کے ساکٹ میں لگادیا جاتا ہے جس کے بعد یہ اپنے قریب موجود اسمارٹ فون یا ٹیبلٹ کو چارج کرسکتا ہے۔ فوٹو؛ یانک ٹیک
اس چارجر کو بجلی کے ساکٹ میں لگادیا جاتا ہے جس کے بعد یہ اپنے قریب موجود اسمارٹ فون یا ٹیبلٹ کو چارج کرسکتا ہے۔ فوٹو؛ یانک ٹیک
سلیکان ویلی: اسٹارٹ اپ کمپنی ’’یانک ٹیک‘‘ نے اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ کے لیے وائرلیس چارجر تیار کرلیا ہے جسے ’’مدر باکس‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔
چھوٹی گیند جیسے اس وائرلیس چارجر کو بجلی کے ساکٹ میں لگادیا جاتا ہے جس کے بعد یہ اپنے قریب موجود اسمارٹ فون یا ٹیبلٹ کو چارج کرسکتا ہے۔ البتہ اس سے چارج ہونے والی ڈیوائس کے لیے یو ایس بی چارجنگ پورٹ سے لیس ہونا ضروری ہوگا جو مدر باکس کے ساتھ ہی فراہم کی جائے گی۔
یہ کسی آلے کو 2 واٹ سے 10 واٹ تک کی شرح سے چارج کرسکے گا جس کا انحصار آلے اور چارجر کے درمیانی فاصلے پر ہوگا۔ مدر باکس سے اینڈروئیڈ اور آئی او ایس، دونوں آپریٹنگ سسٹمز والے اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹ چارج کیے جاسکیں گے۔
مدر باکس کا قدرے چھوٹا ورژن بیٹری استعمال کرتا ہے جسے پاور پلگ میں لگانے کی ضرورت نہیں ہوتی البتہ چارجنگ ختم ہوجانے پر اسے بجلی کے ساکٹ میں لگاکر دوبارہ چارج کیا جاسکتا ہے۔
یانک ٹیک نے اپنے وائرلیس چارجر کے لیے کراؤڈ فنڈنگ کی مد میں 25 ہزار ڈالر سے زیادہ رقم جمع کرلی ہے اور اس کی پہلی کھیپ ستمبر 2017 تک مارکیٹ میں پیش کردی جائے گی۔ وہ صارفین جو مدر باکس خریدنے کے لیے پہلے بکنگ کروائیں گے انہیں یہ آلہ 79 ڈالر میں فروخت کیا جائے گا جب کہ اس کی حتمی قیمت کا اعلان آئندہ چند ماہ بعد متوقع ہے۔

جمعہ، 24 فروری، 2017

سمندری گھونگھے کے زہر سے درد کا دیرپا علاج


سمندری گھونگھے کے زہر میں موجود پیپٹائیڈ سے درد کا بہتر اور دیرپا علاج ممکن ہوسکے گا۔ فوٹو؛ فائل
سمندری گھونگھے کے زہر میں موجود پیپٹائیڈ سے درد کا بہتر اور دیرپا علاج ممکن ہوسکے گا۔ فوٹو؛ فائل
یوٹاہ: کینیڈا کے ماہرین نے سمندری گھونگھے کے زہر میں ایک ایسا مادّہ دریافت کیا ہے جو نہ صرف درد ختم کرتا ہے بلکہ اس کا اثر لمبے عرصے تک برقرار بھی رہتا ہے۔
یہ مادہ ایک پیپٹائیڈ ہے جو ’’کونس ریگیئس‘‘ نامی چھوٹے سمندری گھونگھے کے زہر میں قدرتی طور پر موجود ہوتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اپنی درد کش خصوصیات کے باوجود یہ مادّہ درد ختم کرنے والی مروجہ دواؤں سے یکسر مختلف ہے جن میں عام طور پر ’’اوپیوئیڈ‘‘ (opioid) نامی مرکبات استعمال کیے جاتے ہیں۔
اوپیوئیڈ مرکبات ہمارے اعصاب کو سُن کرتے ہوئے درد کی شدت میں کمی لاتے ہیں لیکن ان کے اثرات صرف ایک دن تک ہی رہتے ہیں جب کہ اگر ان کی زیادہ مقدار استعمال کرلی جائے تو یہ موت کی وجہ بھی بن سکتے ہیں۔ صرف امریکا میں اوپیوئیڈز کی زائد مقدار لینے کے باعث روزانہ 90 افراد ہلاک ہوجاتے ہیں اور اسی وجہ سے ماہرین چاہتے ہیں کہ ان کا کوئی بہتر متبادل تلاش کیا جائے جو ان جان لیوا اثرات سے پاک بھی ہو۔
ان ہی کوششوں کے دوران یونیورسٹی آف یوٹاہ میں ماہرین کی ایک ٹیم نے جب چھوٹی کون جیسی شکل والے ننھے منے گھونگھے کے زہر کا تجزیہ کیا تو اس میں RgIA پیپٹائیڈ دریافت ہوا جو درد ختم کرنے والی خصوصیات کا حامل تھا۔ چوہوں پر آزمائشوں کے دوران اس پیپٹائیڈ نے زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا جب کہ اس کے مفید اثرات بھی تین دن تک برقرار رہے۔ اوپیوئیڈز کے برعکس اس کے استعمال میں بظاہر کوئی خطرہ بھی سامنے نہیں آیا۔
ابتدائی کامیابی کے بعد اب اس پیپٹائیڈ پر مزید تحقیق کی جارہی ہے جس سے معلوم ہوسکے گا کہ یہ انسانوں میں کس حد تک مفید و مؤثر ہے اور یہ کہ انسانوں پر بھی اس کے دیرپا اثرات ویسے ہی مرتب ہوتے ہیں جیسے چوہوں میں دیکھے گئے ہیں یا نہیں۔ اس تحقیق کے نتائج ’’پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز‘‘ کی تازہ اشاعت میں آن لائن شائع ہوئے ہیں۔

روس کا 2022 تک سیاحوں کو چاند پر لے جانے کا اعلان

پہلی پرواز میں 9 سیاحوں کو  سویوزاسپیس کرافٹ میں چاند کے مدار پر لے جایا جائے گا،فوٹو:فائل
پہلی پرواز میں 9 سیاحوں کو سویوزاسپیس کرافٹ میں چاند کے مدار پر لے جایا جائے گا،فوٹو:فائل
ماسکو: روس کی  معروف ایرواسپیس کمپنی انرجیا نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2022 تک سیاحوں کی پہلی فلائٹ چاند پر اتارے گی۔
برطانوی میڈیا کے مطابق انرجیا کمپنی کے سی ای او ولادی میر سولینسیو کا کہنا ہے کہ 2022 تک سیاحوں کو چاند پر لے جانے کے لئے مختلف کمپنیوں سے آئندہ ماہ معاہدے کریں گے جب کہ پہلی پرواز میں 9 سیاحوں کو  سویوز  اسپیس کرافٹ میں چاند کے مدار پر لے جایا جائے گا۔
کمپنی سی ای او کے مطابق چاند پر جانے کے خواہشمند افراد رواں ہفتے اپنے کوائف جمع کرادیں جس کے بعد انہیں 5 سے 6 سال انتظار کے بعد چاند پر لے جایا جائے گا اور معاہدے پر دستخط کرنے والوں میں سے ممکنہ امیدواروں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
اس سے قبل انرجیا  کمپنی کا گزشتہ سال نومبر میں کہنا تھا کہ ان کے سیاحوں کی پہلی فلائٹ 2031 سے پہلے نہیں جاسکتی تاہم اب کمپنی نے سیاحوں کو 2022 تک چاند لے جانے کا اعلان کر کے سب کو حیران کردیا ہے تاہم کمپنی نے چاند کا سفر کرنے کے اخراجات کے حوالے سے اب تک کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔

نئے نوکیا 3310 کی معلومات منظرعام پر آگئیں

موبائل کا ڈیزائن اس کے مشہور زمانہ موبائل کی طرز پر ہی ہوگا تاہم نیا 3310 وزن میں ہلکا اور  پتلا ہوگا۔۔ فوٹو: ڈیلی میل
موبائل کا ڈیزائن اس کے مشہور زمانہ موبائل کی طرز پر ہی ہوگا تاہم نیا 3310 وزن میں ہلکا اور پتلا ہوگا۔۔ فوٹو: ڈیلی میل
بارسلونا: نوکیا کے مشہور زمانہ موبائل فون 3310 کو دوبارہ متعارف کرانے کے اعلان کے بعد اب اس حوالے سے مزید معلومات منظرعام پر آگئیں۔
ٹیکنالوجی کی معلومات فراہم کرنے والی چین کی معروف ویب سائٹ “وی ٹیک” کے مطابق نوکیا کے نئے موبائل 3310 میں اینڈراؤنڈ نہیں ہوگا البتہ وہ مکمل طور پر نئی خصوصیات کا حامل ہوگا  جب کہ موبائل کا ڈیزائن اس کے مشہور زمانہ موبائل کی طرز پر ہی ہوگا تاہم نیا 3310 وزن میں ہلکا اور پتلا ہوگا۔
ممکنہ طور پر نوکیا 3310 سبز، زرد اور پیلے رنگ میں دستیاب ہوگا اور آئندہ ہفتے 27 فروری سے 2 مارچ تک بارسلونا میں ہونے والی موبائل ورلڈ کانگریس میں اس کی نقاب کشائی بھی کئے جانے کا امکان ہے۔ نوکیا کے نئے موبائل کے حوالے سے بتایا جارہا ہے کہ یہ اینڈرائیڈ اور آئی او ایس آپریٹنگ سسٹم کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
نوکیا 3310 کی قیمت کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں تاہم غالب امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس کی قیمت تقریباً 49 پاؤنڈ ہوگی جو پاکستانی روپوں میں تقریباً ساڑھے 6 ہزار روپے بنتی ہے۔
واضح رہے کہ نوکیا نے سال 2000 میں ہینڈ سیٹ 3310 متعارف کرایا تھا جس نے دنیا بھر میں نہ صرف مقبولیت حاصل کی بلکہ  سب سے زیادہ فروخت ہونے والے موبائل فون کا  اعزاز بھی حاصل کیا۔

ماہرین فلکیات نے زمین جیسے 7 سیارے دریافت کرلیے


زمین سے 39 نوری سال دور ایک ستارے کے گرد زمین جیسے 7 سیاروں کا ماحول زندگی کے لیے سازگار ہوسکتا ہے، سائنسداں، فوٹو؛ ناسا
زمین سے 39 نوری سال دور ایک ستارے کے گرد زمین جیسے 7 سیاروں کا ماحول زندگی کے لیے سازگار ہوسکتا ہے، سائنسداں، فوٹو؛ ناسا
لندن: ماہرین فلکیات کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے زمین سے 39 نوری سال دور ایک ستارے کے گرد زمین جیسے 7 سیارے دریافت کرنے کا اعلان کیا ہے جہاں کا ماحول زندگی کےلیے سازگار ہوسکتا ہے۔
تحقیقی جریدے ’’نیچر‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ’’ٹریپسٹ 1‘‘ (TRAPPIST-1) نامی بونے ستارے کے گرد 7 سیارے گردش کررہے ہیں جن کی کمیت ہماری زمین سے مماثلت رکھتی ہے جب کہ ان میں سے 6 سیارے ’’معتدل علاقے‘‘ میں واقع ہیں یعنی ان کی سطح کا درجہ حرارت صفر سے 100 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوسکتا ہے۔
مئی 2016 میں فلکیات دانوں نے ٹریپسٹ 1 کے گرد چکر لگاتے ہوئے 3 سیارے دریافت کیے تھے جس کے بعد ماہرین کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے زمینی اور خلائی دوربینوں کی مدد سے اسی ستارے کا مزید مطالعہ جاری رکھا اور مزید 4 سیارے دریافت کرلیے۔ ان کے بارے میں جہاں یہ پتا چلا ہے کہ ان کی کمیت ہمارے سیارے زمین جیسی ہے وہیں یہ امید بھی ہے کہ شاید وہاں زندگی کی ابتداء، تسلسل اور ارتقاء کے لیے سازگار ماحول بھی موجود ہو۔
واضح رہے کہ ٹریپسٹ 1 ایک بونا ستارہ ہے یعنی اس کی کمیت ہمارے سورج کے مقابلے میں کہیں کم ہے، اسی بناء پر اس سے خارج ہونے والی روشنی بھی ہمارے سورج کے مقابلے میں بہت مدھم ہے کیونکہ یہ اپنا نیوکلیائی ایندھن بڑی کفایت شعاری سے خرچ کررہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جتنی آہستگی سے اپنا نیوکلیائی ایندھن جلا رہا ہے، اس حساب سے یہ آئندہ 100 سال تک یونہی روشن رہے گا۔
اگرچہ ٹریپسٹ 1 کے گرد گھومتے ہوئے ساتوں سیارے بھی اس سے نہایت قریب ہیں لیکن اس سے توانائی کا اخراج کم ہونے کی وجہ سے ان سیاروں کا ماحول ممکنہ طور پر خاصا معتدل، متوازن اور زندگی کےلیے سازگار ہوسکتا ہے۔
فی الحال ہم ان سیاروں کی کمیت، گردشی مدت اور مرکزی ستارے سے ان کے فاصلوں کے علاوہ کچھ نہیں جانتے لیکن امید کی جارہی ہے کہ زمینی اور خلائی دوربینوں کی مدد سے ہمیں ان کی فضائی ترکیب اور ماحول کے بارے میں معلومات میسر آجائیں گی۔ اس حوالے سے ناسا نے منصوبہ بھی تیار کرلیا ہے جس پر جلد ہی کام شروع کردیا جائے گا۔

مینڈکوں کی سات نئی اورانتہائی چھوٹی اقسام دریافت


7 میں سے مینڈکوں کی 4 اقسام اتنی چھوٹی ہیں کہ ایک روپے کے سکّے پر بھی آسانی سے سما جائیں۔
(فوٹو: یونیورسٹی آف دہلی)
7 میں سے مینڈکوں کی 4 اقسام اتنی چھوٹی ہیں کہ ایک روپے کے سکّے پر بھی آسانی سے سما جائیں۔ (فوٹو: یونیورسٹی آف دہلی)
نئی دہلی: بھارتی سائنسدانوں نے جنوبی بھارت میں مغربی گھاٹ کے علاقے سے مینڈکوں کی 7 نئی اقسام دریافت کی ہیں جن میں سے 4 اتنی چھوٹی ہیں کہ ایک روپے کے سکّے پر بھی آسانی سے سما جائیں۔
ان تمام مینڈکوں کا تعلق ’’نکٹی بیٹریکس‘‘ جنس سے ہے جنہیں مقامی طور پر ’’رات کے مینڈک‘‘ کہا جاتا ہے جب کہ انہیں یونیورسٹی آف دہلی کی پی ایچ ڈی طالبہ اور دیگر ماہرین نے 5 سالہ تحقیق کے بعد دریافت کیا ہے۔
ان مینڈکوں کی چار اقسام کی جسامت 12.2 ملی میٹر سے 15.4 ملی میٹر تک ہے جو ایک روپے کے سکّے یا انگوٹھے کے ناخن پر بڑے آرام سے براجمان ہوسکتے ہیں۔ یہ جنوبی بھارت میں مغربی گھاٹ کے گھنے جنگلات اور دلدلی علاقوں میں پائے جاتے ہیں اور اپنا زیادہ وقت کیچڑ میں گزارتے ہیں۔
مینڈکوں کے اب تک دریافت نہ ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے طالبہ کا کہنا تھا کہ یہ جسامت میں بہت ہی چھوٹے ہیں جب کہ ان کی آواز بھی ٹڈوں اور جھینگروں جیسی ہوتی ہے جس کی بناء پر اب تک انہیں مینڈکوں کی علیحدہ اقسام کے طور پر شناخت نہیں کیا جاسکا تھا۔
اس دریافت کے ساتھ ہی نکٹی بیٹریکس مینڈکوں کی معلومہ انواع کی تعداد 35 ہوگئی ہے جن میں سے 7 کی جسامت 18 ملی میٹر یا اس سے بھی کم ہے۔ خیال ہے کہ یہ مینڈک آج سے تقریباً 7 کروڑ سے 8 کروڑ سال پہلے وجود پذیر ہوئے تھے۔
واضح رہے کہ جل تھلیوں (ایمفی بیئنز) کے حوالے سے بھارت کے مغربی گھاٹ کا علاقہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ 2006 سے 2015 کے دوران یہاں سے جل تھلیوں کی 103 انواع دریافت ہوئیں جب کہ اسی عرصے میں دنیا بھر سے 1581 نئے جل تھلئے دریافت ہوئے تھے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ قدرتی ماحول میں انسانی دخل اندازیوں کی وجہ سے ان مینڈکوں کی ایک تہائی اقسام پہلے ہی معدومیت کے خطرے میں مبتلا ہیں اور اگر توجہ نہ دی گئی تو شاید یہ علاقہ جلد ہی نہ صرف مینڈکوں سے بلکہ زندگی کی دوسری کئی اقسام سے بھی محروم ہوجائے گا۔

بدھ، 22 فروری، 2017

سام سنگ کا ری فربشڈ نوٹ 7 اسمارٹ فون کم قیمت میں فروخت کا فیصلہ


ری فربشڈ گیلکسی نوٹ 7 اسمارٹ فون کی ممکنہ قیمت 50 ہزار سے 60 ہزار روپے تک ہوسکتی ہے۔ (فوٹو: فائل)
ری فربشڈ گیلکسی نوٹ 7 اسمارٹ فون کی ممکنہ قیمت 50 ہزار سے 60 ہزار روپے تک ہوسکتی ہے۔ (فوٹو: فائل)
سیئول: سام سنگ نے اپنے ری فربشڈ گیلکسی نوٹ 7 اسمارٹ فون غریب اور ترقی پذیر ملکوں میں رواں برس سے فروخت کے لئے پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سام سنگ نے ری فربشڈ گیلکسی نوٹ 7 اسمارٹ فون غریب اور ترقی پذیر ملکوں میں رواں برس جون سے فروخت کے لئے پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مقصد سام سنگ کے خسارے کا ازالہ کرنا ہے کیونکہ گزشتہ برس لانچ ہونے والے گیلکسی نوٹ 7 اسمارٹ فونز میں آگ لگنے اور بیٹری پھٹنے کے کئی واقعات کے بعد سام سنگ نے دنیا بھر سے یہ تمام اسمارٹ فونز واپس منگوا لیے تھے جن کی تعداد تقریباً 25 لاکھ بتائی جاتی ہے۔
محتاط تحقیق کے مطابق سام سنگ نوٹ 7 کی بیٹری میں خرابی تھی جو زیادہ چارج ہونے پر دھماکے سے پھٹ جاتی تھی یا پھر آگ پکڑ لیتی تھی، اندازہ ہے کہ ان موبائل فونز کی چیکنگ کے دوران 2 لاکھ کے لگ بھگ نوٹ 7 اسمارٹ فونز تباہ کیے گئے لیکن سام سنگ کے پاس اب بھی ایسے 23 لاکھ سے زیادہ اسمارٹ فونز موجود ہیں جنہیں مناسب داموں ٹھکانے لگانے کےلیے ری فربش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ری فربشڈ گیلکسی نوٹ 7 میں پرانی اور طاقتور 3500 ایم اے ایچ بیٹری کی جگہ قدرے کمزور 3000 ایم اے ایچ بیٹری لگائی گئی ہے جس سے اسمارٹ فون چارج رہنے کا دورانیہ ضرور کم ہوجائے گا لیکن فون کے پھٹنے یا آگ پکڑنے کا خطرہ نہیں رہے گا۔ اس کے علاوہ فون کے باقی تمام فیچرز تقریباً ویسے کے ویسے ہی رہنے دیئے گئے ہیں۔
اگرچہ یہ بھی طے ہوچکا ہے کہ مذکورہ ری فربشڈ گیلکسی نوٹ 7 اسمارٹ فونز کو پاکستان جیسے غریب اور ترقی پذیر ممالک میں فروخت کیا جائے گا لیکن یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان کی قیمت کتنی ہوگی۔
اگر ہم اسمارٹ فونز کی مارکیٹ کا جائزہ لیں تو مقامی طور پر ری فربشڈ اسمارٹ فونز کی قیمت نئے کے مقابلے میں تقریباً آدھی یا اس سے بھی کم ہوتی ہے جبکہ ان کی کوئی وارنٹی بھی نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس اگر کوئی کمپنی اپنے ہی پرانے اسمارٹ فونز ری فربش کرکے خود ہی فروخت کرتی ہے تو وہ مناسب مدت کی وارنٹی بھی دیتی ہے لیکن ایسی صورت میں ان کی قیمت نئے کے مقابلے میں 30 سے 40 فیصد تک کم ہوتی ہے۔
ان معلومات کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ ری فربشڈ گیلکسی نوٹ 7 اسمارٹ فون کی ممکنہ قیمت 50 ہزار سے 60 ہزار روپے تک ہوسکتی ہے لیکن یہ بھی ایک اندازہ ہے جسے حتمی نہیں سمجھنا چاہئے۔

آئی فون 8 میں انتہائی جدید فیچرز ہوسکتے ہیں، موبائل ماہرین


سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق نئے آئی فون میں تھری ڈی محلِ وقوع اور چہرہ شناخت کرنے کا نظام ہوگا۔ فوٹو؛ فائل
سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق نئے آئی فون میں تھری ڈی محلِ وقوع اور چہرہ شناخت کرنے کا نظام ہوگا۔ فوٹو؛ فائل
ہانگ کانگ: اسمارٹ فون کے ماہرین آئی فون کے نئے ماڈل کے بے چینی سے منتظرہیں اور اس ضمن میں کئی پیشگوئیاں جاری ہیں لیکن اب ہانگ کانگ میں کے جی آئی سیکیورٹیز کے ماہر کا کہنا ہےکہ آئی فون 8 جدید ترین سیلفی فون ہوسکتا ہے۔
کے جی آئی کے ماہر نے ایک حالیہ بلاگ میں لکھا ہےکہ فرنٹ کیمرہ سامنے کی جگہ کا تھری ڈی احساس کرتے ہوئے چہرے کو بھی شناخت کرسکے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نئے تھری ڈی کیمرے کو گیمز کے لیے استعمال کیاجاسکے گا یعنی اپنی تصویر لے کر آپ خود کو گیم کے کردار میں ڈھال سکیں گے۔ اس کےعلاوہ چہرہ شناخت کرنے کا عمل بہتر سیلفی کے لیے شامل کیا جارہا ہے۔ آئی فون 8 میں ایک سینسر کیمرہ بھی ہوگا جو شے کی دوری کا اندازہ لگائے گا اور اس فاصلے کی بنیاد پر آگمینٹڈ ریئلٹی سافٹ ویئر کو چلانا ممکن ہوگا جس کا تذکرہ ایپل کمپنی کے سی ای او ٹِم کُک کئی مرتبہ کرچکے ہیں۔
ایک اہم بات یہ ہے کہ ایپل نے حال ہی میں ’’فیس شفٹ‘‘ نامی ایک کمپنی خریدی ہے جو آگمینٹڈ ریئلٹی کے تحت چہرے کی شناخت والے نظام پر کام کررہی ہے۔
کے جی آئی کے ماہر کا مزید کہنا ہےکہ آئی فون کا اگلا سینسر انفراریڈ ٹرانسمیٹر اور رسیور سے لیس ہوگا اور کیمرہ سسٹم سونی سے بنوایا جارہا ہے۔
توقع ہے کہ ایپل میں خمیدہ کناروں والا 5.8 انچ اسکرین ہوگا اور اس کے کنارے نہیں ہوں گے جب کہ ڈسپلے کو او ایل ای ڈی سے بنائے جانے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ وائرلیس چارجنگ کا آپشن شامل کیا جائے گا جس کا تذکرہ پہلے بھی کئی ماہرین کرچکے ہیں۔

اب فیس بک کے ذریعے رقم بھیجیں


لائکس اور شیئر سے آگے بڑھ کر اب فیس بک نے بین الاقوامی طور پر رقم منگوانے اور بھیجنے کی سہولت کا اعلان کیا ہے۔ فوٹو؛ فائل
لائکس اور شیئر سے آگے بڑھ کر اب فیس بک نے بین الاقوامی طور پر رقم منگوانے اور بھیجنے کی سہولت کا اعلان کیا ہے۔ فوٹو؛ فائل
 لندن: دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہوتی ہوئی سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک نے اب ایک انوکھی سہولت متعارف کرادی ہے جس میں صارفین بیرون ملک رقم بھی بھیج سکتے ہیں۔
فیس بک کے ذریعے رقم ٹرانسفر کرنے کی سہولت ایک نئی کمپنی ٹرانسفر وائز کے ذریعے ہوسکے گی جس نے ایک چیٹ بوٹ لانچ کیا ہے جو فیس بک صارفین کو اس کی میسنجر سروس کے ذریعے رقم منگوانے اور بھیجنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
تجرباتی طور پر یہ چیٹ بوٹ امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا اور یورپی یونین کے درمیان رقم کی آمد و ترسیل کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ صارفین کو ان کی کرنسی کی مناسب شرح تبادلہ ( ایکسچینج ریٹس) سے بھی آگاہ کرتا ہے۔
اس سے قبل فیس بک کے ذریعے رقم کی منتقلی کی سہولت صرف امریکا میں موجود تھی لیکن مختلف ممالک کے اکاؤنٹس کے درمیان رقم کا تبادلہ ممکن نہ تھا۔  ٹرانسفر وائز کمپنی لندن میں واقع ہے جس کے ذریعے ہر ماہ 10 لاکھ افراد ایک ارب ڈالر تک کی رقم کا تبادلہ کرتے ہیں۔ اس نئی کمپنی  کے لیے ورجن فاؤنڈر رچرڈ برینسن اور ایک مالیاتی فرم اینڈرسین ہوروز نے رقم فراہم کی ہے۔
ٹرانسفر وائز پیسوں کی منتقلی کے درمیان بھاری رقم کا مطالبہ نہیں کرتی اور اسی بنا پر لوگوں نے اسے پسند کیا ہے۔ کمپنی صارفین کو اجازت دیتی ہے کہ وہ اپنی رقم اپنے ملک کے کسی مقامی ٹرانسفر وائز بیک اکاؤنٹ میں جمع کروادیں اور اتنی ہی رقم دوسرے ملک کے کسی مقامی ٹرانسفر وائز بینک سے حاصل کرسکتے ہیں۔
کمپنی کو برطانیہ کے مالیاتی اداروں نے ریگولیشن سند دیدی ہے جب کہ کمپنی کا مؤقف ہے کہ اس کا چیٹ بوٹ صارفین کے تحفظ کے تمام معیارات پر پورا اترتا ہے۔ فیس بک میسنجر کے لیے یہ چیٹ بوٹ پہلی مرتبہ گزشتہ سال اپریل میں جاری کیا گیا تھا۔

منگل، 21 فروری، 2017

آٹھویں سالگرہ پر واٹس ایپ کا صارفین کو نئے فیچر کا تحفہ


اب واٹس ایپ صارفین بھی اپنے دوستوں کےلیے تصاویر وغیرہ پر مشتمل پوسٹیں شیئر کرواسکتے ہیں جو 24 گھنٹے بعد خودبخود ڈیلیٹ ہوجایا کریں گی۔ (فوٹو: فائل)
اب واٹس ایپ صارفین بھی اپنے دوستوں کےلیے تصاویر وغیرہ پر مشتمل پوسٹیں شیئر کرواسکتے ہیں جو 24 گھنٹے بعد خودبخود ڈیلیٹ ہوجایا کریں گی۔ (فوٹو: فائل)
سلیکان ویلی: واٹس ایپ نے اپنی آٹھویں سالگرہ کے موقعے پر صارفین کو ایک نئے فیچر کا تحفہ دیا ہے جس کا نام ’’اسٹیٹس‘‘ رکھا گیا ہے۔
واٹس ایپ کے نئے فیچر کے تحت صارفین اپنے دوستوں کے لیے تصاویر، ویڈیوز، گفس، ایموجیز، ڈرائنگز اور کمنٹس وغیرہ پر مشتمل پوسٹیں شیئر کرواسکتے ہیں جو 24 گھنٹے بعد خودبخود ڈیلیٹ ہوجایا کریں گی۔ البتہ یہ فیچر فی الحال صرف اینڈروئیڈ اسمارٹ فونز کے لیے ہے جسے جلد ہی ایپل آئی فون اور ونڈوز اسمارٹ فونز کےلیے بھی پیش کردیا جائے گا۔
اس سے پہلے تک واٹس ایپ کے ذریعے انفرادی یا گروپ ڈسکشن ہی ممکن تھی جبکہ اس میں فیس بُک یا انسٹاگرام کی طرح وسیع تر حلقہ احباب کےلیے پوسٹیں شیئر کرانے کی سہولت موجود نہیں تھی لیکن اب ’’اسٹیٹس‘‘ کے اضافے سے واٹس ایپ بھی دوسری سوشل میڈیا ایپس کے قریب ہوگیا ہے۔
بالکل یہی فیچر سوشل میڈیا ایپ ’’اسنیپ چیٹ‘‘ میں پہلے سے موجود ہے جو ’’اسٹوریز‘‘ کہلاتا ہے اور کہا جارہا ہے کہ واٹس ایپ اسٹیٹس کا خیال بھی اسی سے چوری کیا گیا ہے لیکن واٹس ایپ کے شریک بانی جان کوم کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے واٹس ایپ کی تیاری شروع کی تھی تو ان کے پیش نظر اسی طرح کا فیچر تھا جس پر وہ کام کررہے تھے؛ اور واٹس ایپ ’’اسٹیٹس‘‘ کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے اس خواب کو تعبیر دی ہے جبکہ صارفین کےلیے یہ ایک تحفہ بھی ہے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اسنیپ چیٹ نے واٹس ایپ اسٹیٹس کو ’’چوری‘‘ قرار دیتے ہوئے واٹس ایپ کے خلاف عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

چادر کی طرح تہہ ہونے والی بلٹ پروف جیکٹ تیار

یہ بلٹ پروف کئی طرح کی گولیوں کا سامنا کر سکتی ہے جس کے پیچھے بیک وقت دو لوگ چھپ سکتے ہیں
 فوٹو: بشکریہ برگھم یوتھ یونیورسٹی
یہ بلٹ پروف کئی طرح کی گولیوں کا سامنا کر سکتی ہے جس کے پیچھے بیک وقت دو لوگ چھپ سکتے ہیں فوٹو: بشکریہ برگھم یوتھ یونیورسٹی
یوٹاہ: برگھم یوتھ یونیورسٹی (بی وائے یو)  کے ماہرین نے تہہ ہوجانے والے کاغذ ڈیزائن (اوریگامی) کی طرح ایک ہلکی پھلکی بُلٹ پروف چادر بنائی ہے جسے سکیڑ کر باآسانی ایک کار میں رکھا جاسکتا ہے۔
اس ہلکی پھلکی لیکن مضبوط بلٹ پروف ڈھال کو 12 مختلف پرتوں سے بنایا گیا ہے۔ اسے پولیس مقابلے میں آگے رکھ کر کئی اقسام کی دستی گنوں کی گولیاں روکی جاسکتی ہیں۔ پاکستان اور امریکا میں اینٹی ٹیررازم ٹیموں کے لیے یہ ایک عمدہ مددگار چادر ہے جسے تہہ کرکے بہت آسانی سے ایک سے دوسرے مقام تک پہنچایا جاسکتا ہے۔
بی وائے یو کے ماہرین نے اسے تیار کیا ہے جو ایک وقت میں 2 پولیس اہلکاروں کو بھی گولیوں سے بچاسکتی ہے ۔ اسے کھولنا اور بند کرنا بہت آسان ہے کیونکہ اس میں دھاتی پلیٹوں کی بجائے کئی مضبوط پرتیں بنائی گئی ہیں۔
چادر کا وزن 24 کلوگرام (55 پونڈ ) ہے جب کہ روایتی جیکٹوں ڈھالوں کا وزن 50 کلوگرام (100 پونڈ) تک ہوتا ہے۔ چادر کو یوشیمورا اوریگامی پیٹرن پر بنایا گیا ہے جو مقابلے میں مصروف سپاہیوں کو کئی اقسام کی ہینڈ گنز اور پستولوں سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔
12 پرتوں والی چادر 9 ایم ایم سمیت دیگر فائرنگ سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہےکہ  عشاریہ چار چار میگنم کا وار سخت ہوتا ہے جسے یہ آسانی سے جھیل جاتی ہے کیونکہ اس میں ایک خاص کیولر فیبرک استعمال کی گئی ہے۔
دوسری صورت میں دو بدو فائرنگ میں عام افراد اور بچوں کو بچانے میں بھی یہ چادر استعمال کی جاسکتی ہے۔ فی الحال بلٹ پروف ڈھال پر مختلف تجربات کیے جارہے ہیں اور اس پر کئی اقسام کی گولیاں مختلف فاصلوں سے برسا کر اس کی افادیت کو نوٹ کیا جارہا ہے۔

10 ڈگری تک درجہ حرارت کم کرنے والا پلاسٹک تیار

یہ پلاسٹک خود پر پڑنے والی تقریباً تمام انفراریڈ شعاعوں کو منعکس کرتے ہوئے ٹھنڈک پیدا کرتا ہے۔
فوٹو: سائنس میگزین
یہ پلاسٹک خود پر پڑنے والی تقریباً تمام انفراریڈ شعاعوں کو منعکس کرتے ہوئے ٹھنڈک پیدا کرتا ہے۔ فوٹو: سائنس میگزین
کولوراڈو: امریکی ماہرین نے ایک ایسا اچھوتا پلاسٹک تیار کیا ہے جو اپنے سے چھونے والی کسی بھی چیز کا درجہ حرارت اطراف کے مقابلے میں 10 ڈگری سینٹی گریڈ کم کرسکتا ہے۔
ریسرچ جرنل ’’سائنس‘‘ میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی مقالے میں یونیورسٹی آف بولڈر، کولوراڈو کے سائنسدانوں کا کہنا ہےکہ یہ مادہ نہ صرف کم خرچ ہے بلکہ اسے پلاسٹک جیسی لچک دار چادروں کی شکل میں بڑے پیمانے پر تیار بھی کیا جاسکتا ہے جن کی پیداواری لاگت 25 سینٹ سے 50 سینٹ فی مربع میٹر تک ہوتی ہے۔
اسے بنانے کے لیے بازار میں عام دستیاب پلاسٹک اور گلاس پاؤڈر (شیشے کا سفوف) استعمال کیے گئے ہیں جب کہ یہ خود پر پڑنے والی تقریباً تمام انفراریڈ شعاعوں کو منعکس کرتے ہوئے ٹھنڈک پیدا کرتا ہے۔
واضح رہے کہ کسی چیز میں جذب ہونے والی انفراریڈ شعاعیں ہی اسے گرم کرنے کا سبب بنتی ہیں اور اگر کسی طرح انہیں داخل ہونے ہی نہ دیا جائے تو درجہ حرارت میں اضافہ بھی نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ اگر کسی جسم سے انفراریڈ شعاعیں خارج کردی جائیں تب بھی اس کا درجہ حرارت کم ہوجائے گا۔ یہ نیا پلاسٹک جیسا مادّہ ان دونوں خصوصیات میں بہترین ہے۔
اسی طرح کا ایک اور مادّہ 2014 میں اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے ماہرین تیار کرچکے تھے مگر وہ لچک دار نہیں تھا جب کہ اس سے گرمی میں 5 ڈگری سینٹی گریڈ جتنی ہی کمی کی جاسکی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کا تیار کردہ یہ مادّہ لچک دار، پائیدار اور کم خرچ ہونے کی وجہ سے گرمی میں ٹھنڈک پہنچانے والے کپڑوں سے لے کر مائیکروچپس تک کو ٹھنڈا رکھنے والے نظاموں کا حصہ بن سکے گا۔

پیر، 20 فروری، 2017

دنیا کا آٹھواں زیرِ آب براعظم دریافت

نیوزی لینڈ کا مشہور و بلند پہاڑ ماؤنٹ کک جو مجوزہ آٹھویں براعظم ’’زی لینڈیا‘‘ کے اس 6 فیصد حصے میں شامل ہے جو سمندر سے باہر ہے۔ فوٹو: فائل
نیوزی لینڈ کا مشہور و بلند پہاڑ ماؤنٹ کک جو مجوزہ آٹھویں براعظم ’’زی لینڈیا‘‘ کے اس 6 فیصد حصے میں شامل ہے جو سمندر سے باہر ہے۔ فوٹو: فائل
ویلنگٹن: نیوزی لینڈ کے ماہرینِ ارضیات نے مطالبہ کیا ہے کہ سمندر کے نیچے واقع زمین کے ایک وسیع ٹکڑے کو آٹھویں براعظم یعنی ’’زی لینڈیا‘‘ کی حیثیت سے تسلیم کیا جائے۔
یہ مطالبہ انہوں نے جیولوجیکل سوسائٹی آف امریکہ کے ریسرچ جرنل میں شائع ہونے والی ایک تازہ رپورٹ میں کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ’زی لینڈیا‘ 50 لاکھ مربع کلومیٹر پر محیط ہے جو پڑوسی براعظم آسٹریلیا کے رقبے کا دو تہائی ہے۔ البتہ زی لینڈیا کا تقریباً 94 فیصد حصہ سطح سمندر کے نیچے ہے جبکہ اس کا صرف 6 فیصد حصہ ہی سطح سمندر سے اوپر ہے جو کچھ چھوٹے جزیروں کے علاوہ جنوبی اور شمالی نیوزی لینڈ اور نیو کیلیڈونیا کی صورت  میں خشکی کے بڑے ٹکڑوں کی صورت میں دیکھا جاسکتا ہے۔
اس خطہ زمین کو علیحدہ براعظم قرار دلوانے کی یہ کوئی نئی کوشش نہیں بلکہ نیوزی لینڈ کے ارضیات داں نک مورٹائمر پچھلے 20 سال سے اس پر تحقیق کررہے تھے اور اعداد و شمار جمع کرنے میں مصروف تھے کیونکہ انہیں اس نئے براعظم کی موجودگی کا پورا یقین تھا۔
عام طور پر خشکی کے بڑے ٹکڑوں ہی کو براعظم شمار کیا جاتا ہے جن کی تعداد اب تک 7 ہے جن میں انٹارکٹیکا، آسٹریلیا، ایشیا، یورپ، افریقہ، شمالی امریکہ اور جنوبی امریکہ شامل ہیں۔ نیوزی لینڈ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ آسٹریلوی ارضیاتی پلیٹ (ٹیکٹونک پلیٹ) کا حصہ ہے اس لیے اسے علیحدہ براعظم کا درجہ نہیں دیا جاسکتا۔
اس مقبول رائے سے اختلاف کرتے ہوئے مورٹائمر اور ان کے ساتھیوں نے نیوزی لینڈ اور اس کے گرد و نواح میں واقع زیرآب ارضیاتی ساختوں کا جائزہ لینا شروع کیا۔ اب ان کا کہنا ہے کہ ان کے مجوزہ ’’زی لینڈیا‘‘ میں وہ تمام خصوصیات ہیں جو کسی بھی جداگانہ براعظم میں ہونی چاہئیں یعنی یہ ارد گرد کی ارضیاتی ساختوں سے نسبتاً اونچا ہے، اس کی ارضیاتی خصوصیات منفرد ہیں، اس کا رقبہ بھی بالکل واضح اور قابلِ پیمائش ہے جب کہ اس کا قشر (کرسٹ) سمندری فرش کی معمول کی موٹائی سے کہیں زیادہ موٹا بھی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ان تمام باتوں کی بنیاد پر ’زی لینڈیا‘ کو صرف علیحدہ نام ہی نہیں دیا جائے بلکہ اسے بین الاقوامی طور پر دنیا کا آٹھواں براعظم بھی تسلیم کیا جائے۔ مگر یہ فیصلہ اتنا آسان اور سیدھا سادا نہیں ہوگا کیونکہ فی الحال ماہرینِ ارضیات کی ایسی کوئی عالمی تنظیم موجود ہی نہیں جو ایسے کسی بھی دعوے کا تفصیل سے جائزہ لے سکے اور دنیا میں آٹھویں براعظم کے موجود ہونے یا نہ ہونے کا باضابطہ (آفیشل) اعلان ہی جاری کرسکے۔
واضح رہے کہ طبیعیات، کیمیا، حیاتیات اور فلکیات وغیرہ کی ایسی عالمی تنظیمیں موجود ہیں جو درجہ بندیوں کا جائزہ لیتی رہتی ہیں اور ضرورت پڑنے پر ان میں تبدیلیاں بھی کرتی رہتی ہیں۔ اس کی مشہور مثال 2006 کا واقعہ ہے جب فلکیات دانوں کی عالمی تنظیم (آئی اے یو) نے طویل بحث و مباحثے کے بعد نظامِ شمسی میں سیاروں کی نئی تعریف مقرر کی تھی اور جس کے تحت پلوٹو کو سیاروں کی فہرست سے خارج کرتے ہوئے اسے ’’بونا سیارہ‘‘ (Dwarf Planet) قرار دیا گیا تھا۔
اس کے بعد سے دنیا بھر کی نصابی کتابوں میں بھی سیاروں کی تعریف بدل دی گئی اور آج بچوں کو بتایا جاتا ہے کہ نظامِ شمسی میں 8 بڑے سیارے (Major Planets) ہیں جن میں ہماری زمین بھی شامل ہے جبکہ ابھی ہم صرف پانچ بونے سیاروں یعنی پلوٹو، سیرس، ایرس، ہاؤمیا اور ’’ماکے ماکے‘‘ سے واقف ہیں۔
اسی طرز پر ’زی لینڈیا‘ کےلیے دنیا کے آٹھویں براعظم کا درجہ پانا بہت مشکل ہوگا لیکن بہت ممکن ہے کہ ماہرینِ ارضیات کی عالمی تنظیم اس حوالے سے اپنے مینڈیٹ پر نظرِ ثانی کرلے اور ہمیں جلد ہی اس مسئلے کا کوئی حل میسر آجائے۔
بتاتے چلیں کہ ویلنگٹن، نیوزی لینڈ میں جنگلی حیات کی ایک محفوظ پناہ گاہ ’’کروری وائلڈ لائف سینکچوئری‘‘ کا نیا نام بھی ’’زی لینڈیا‘‘ ہے اور اسی سے متاثر ہوکر ماہرینِ ارضیات نے مجوزہ آٹھویں براعظم کےلیے یہ نام منتخب کیا ہے۔

ہفتہ، 18 فروری، 2017

سمندروں میں آکسیجن کی کمی کا ذمہ دار کون؟


سمندروں میں آکسیجن کی مقدار کم ہوئی ہے اور اس سے نازک نظامِ زندگی متاثر ہوسکتا ہے۔ فوٹو: فائل
سمندروں میں آکسیجن کی مقدار کم ہوئی ہے اور اس سے نازک نظامِ زندگی متاثر ہوسکتا ہے۔ فوٹو: فائل
ہیمبرگ: ایک وسیع تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ 50 برس میں پوری دنیا کے سمندروں میں آکسیجن کی مقدار کم ہوئی ہے لیکن بظاہر یہ امر ذیادہ تشویشناک نہیں۔
جرمنی میں واقع سمندروں پر تحقیق کے اہم مرکز کے ماہری نے گزشتہ 50 برسوں کا ڈیٹا حاصل کیا ہے اور اس کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس عرصے میں سمندروں میں گھلی آکسیجن میں 2 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ سائنسدانوں نے کے مطابق اگرچہ یہ اضافہ ذیادہ نہیں لیکن اس سے سمندری جاندار متاثر ہوسکتے ہیں جو آکسیجن کے بارے میں بہت حساس واقع ہوتے ہیں۔
ادارے کے سائنسداں داکٹر لوتھر اسٹراما کے مطابق ’ اگرچہ سمندروں میں آکسیجن کی یہ معمولی کمی تشویشناک نہیں لیکن اس کے سمندری مخلوقات پر دور رس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں کیونکہ سمندروں میں ہرجگہ آکسیجن یکساں مقدار میں نہیں پائی جاتی۔‘
ماہرین کے مطابق 1960 سے 2010 کے درمیان آکسیجن کی مقدار کم ہوئی ہے جس سے مچھلیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔ سروے میں سمندروں کی سطح سے لے کر اتھاہ گہرائیوں تک کا ڈیٹا حاصل کیا گیا ہے اور اس کے لیے دوردراز مقامات کا ڈیٹا بھی لیا گیا ہے۔
تحقیقی ٹیم کے سربراہ سنکے شمٹکو کہتےہیں کہ یہ سمندروں میں آکسیجن کی مقدار ناپنے کا پہلا سروے ہے ۔ اس کا اندازہ سمندروں کے مستقبل کی پیشگوئی کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانوں نے روایتی ایندھن استعمال کیا جس سے گلوبل وارمنگ بڑھی ہے۔ پھر یہ حرارت دھیرے دھیرے سمندروں میں سرایت کرتی جارہی ہے۔ گرم پانی آکسیجن نہیں تھام سکتا اور یوں سمندروں کا آکسیجن نکل کر فضا میں داخل ہونا شروع ہوگیا اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو 2100 تو عالمی سمندروں کی آکسیجن میں 7 فیصد تک کمی واقع ہوگی اور کوئی نہیں جانتا کہ اس سے بحری حیات کو کتنا نقصان پہنچ سکتا ہے۔