
سلیکان ویلی: ہوسکتا ہے کہ مشہور ای میل سروس اور سرچ انجن ’’یاہو‘‘ کا موجودہ نام آنے والے دنوں میں برقرار نہ رہے اور اس کی جگہ نیا نام ’’ایلٹابا‘‘ رکھ دیا جائے۔
ای میل سروس اور سرچ انجن یاہو اور ’’ویریزون‘‘ (Verizon) نامی کمپنی کے درمیان مذاکرات جاری ہیں جن کے کامیاب ہوجانے کی صورت میں “یاہو” کا بڑا حصہ ویریزون کی ملکیت بن جائے گا جبکہ یاہو کے پاس کچھ جائیداد کے علاوہ صرف چینی ای کامرس کمپنی ’’علی بابا‘‘ اور یاہو جاپان میں حصص ہی باقی رہ جائیں گے۔ ایسی صورت میں یاہو کا موجودہ بورڈ آف ڈائریکٹرز بھی تبدیل ہوجائے گا۔
چونکہ علی بابا میں یاہو کے حصص کی مالیت خاصی زیادہ ہے اس لئے کمپنی نے اندرونی طورپرفیصلہ کیا ہے کہ وہ بھی علی بابا کی تقلید کرتے ہوئے اپنا نام بدل کر ’’ایلٹابا‘‘ (Altaba) کرلے گی لیکن صرف ایسا اس صورت میں ہوگا جب ویریزون کے ساتھ اس کا سودا حتمی طور پر طے پا جائے۔
بحرانوں سے گھری ہوئی ’’یاہو!‘‘ کمپنی کی ساکھ کو پچھلے سال ان خبروں سے بھی شدید نقصان پہنچا جن میں بتایا گیا تھا کہ یاہو پر موجود 1.5 ارب (150 کروڑ) ای میل اکاؤنٹس کی سیکیورٹی ممکنہ طور پرمتاثر تھی جس کا ہیکروں نے فائدہ بھی اٹھایا تھا۔ ان خبروں سے پہلے تک اندازہ تھا کہ ویریزون تقریباً 5.8 ارب (580 کروڑ) ڈالر میں یاہو کا بڑا حصہ خرید لے گا لیکن پھر ان مذاکرات میں وقتی تعطل آگیا۔
اس وقت یاہو اور ویریزون میں ایک بار پھر فروخت سے متعلق مذاکرات شروع ہوچکے ہیں اور توقع ہے کہ جنوری 2017 کے اختتام تک اس معاہدے کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔ اگر ایسا ہوگیا تو یاہو کا موجودہ نام بھی تبدیل کردیا جائے گا۔ انٹرنیٹ سیکیورٹی کے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یاہو میں امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کےلئے ایسی ٹیکنالوجی پر کام جاری ہے جس کے ذریعے ای میلز پر نظر رکھی جاسکے گی اور ان میں موجود متن کو کسی بھی خاص لفظ یا مجموعہ الفاظ کے لئے کھنگالا بھی جاسکے گا۔
اس ٹیکنالوجی کا مقصد ای میل کے متن کی بنیاد پر دہشت گردوں اور شرپسندوں کے منصوبوں سے قبل از وقت آگاہ ہونا ہے۔ اگرچہ یاہو نے اب تک ان خبروں کی تصدیق نہیں کی ہے لیکن پھر بھی اسے آزادئ اظہار کے حامیوں کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔





