ہفتہ، 24 دسمبر، 2016

خودکار گاڑی، اوبر نے ٹسیٹ روک دیا



معروف امریکی کار سروس کمپنی اوبر نے ریگولیٹر کی جانب سے بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کی رجسٹریشن منسوخ کیے جانے کے بعد سان فرانسسکو میں ان گاڑیوں کے ٹیسٹ کو روک دیا ہے۔

اوبر
معروف امریکی کار سروس کمپنی اوبر نے ریگولیٹر کی جانب سے بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کی رجسٹریشن منسوخ کیے جانے کے بعد سان فرانسسکو میں ان گاڑیوں کے ٹیسٹ کو روک دیا ہے۔

کمپنی نے حال ہی میں مسافروں کو بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کی بکنگ کا آپشن دیا تھا۔
لیکن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر اوبر نے ٹیسٹ کے لیے خصوصی پرمِٹ نہ لیا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اوبر انتظامیہ نے کہا ہے کہ انھیں اس کی ضرورت نہیں کیونکہ سیٹ پر ‎سیفٹی ڈرائیور موجود ہے اس لیے خصوصی پرمٹ کی ضرورت نہیں ہے۔


بڑیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیاںImage copyrightVOLVO
Image captionاوبر کا کہنا ہے کہ گاڑی میں ڈرائیونگ سیٹ پر سیفٹی ڈرائیور موجود ہے اسے پرمٹ کی ضرورت نہیں ہے

حکام کا کہنا ہے کہ کیلیفورنیا میں دیگر بیس کمپنیاں بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کا تجربہ کر رہی ہیں لیکن ان کے پاس خصوصی پرمٹ ہے۔
کیلیفورنیا میں گوگل جیسی دوسری کمپنیوں نے اس طرح کی ٹیسٹ ڈرائیونگ کے لیے باضابطہ پرمٹ حاصل کیا ہے۔
ہر پہلی دس گاڑیوں کے پرمٹ کے لیے ڈیڑھ سو ڈالر خرچہ آتا ہے جبکہ اس کے علاوہ مزید 10 گاڑیوں کے لیے 50 ڈالر چارج کیے جاتے ہیں۔
حکام کی جانب سے اوبر کو قانونی کارروائی کی دھمکی ملنے سے قبل سان فرانسسکو میں اوبر کی بغیر ڈرائیور کے چلنے والی ایک گاڑی کی ویڈیو یوٹیوب پر اپ لوڈ کی گئی جو ریڈ سگنل کو پار کر کے رک رہی تھی۔