جمعرات، 8 جون، 2017

اضافی بازوؤں کی سہولت فراہم کرنے والا روبوٹک نظام

میٹالمبس کو پیر اور ہاتھوں کے سینسر سے بھی قابو کیا جاسکتا ہے۔ فوٹو: فائل
میٹالمبس کو پیر اور ہاتھوں کے سینسر سے بھی قابو کیا جاسکتا ہے۔ فوٹو: فائل
ٹوکیو: جاپانی ماہرین نے ایسے روبوٹک بازو تیار کر لئے ہیں جو کمر پر بھی پہنے جا سکتے ہیں اور ان سے معذور افراد کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں جنہیں ایک وقت میں کئی کام کرنے پڑتے ہیں۔
روبوٹک بازووں کو میٹا لِمبس کا نام دیا گیا ہے جنہیں پاؤں کے ٹخنوں اور ہاتھوں کی کہنیوں کو موڑ کر حرکت دی جاتی ہے اور یہ عمل جوڑوں اور پیروں پر موجود سینسر کی مدد سے انجام دیا جاتا ہے۔ ماہرین نے اس ایجاد کو ’ملٹی پل آرمز انٹرایکشن میٹا مورفزم‘ کا نام دیا ہے جس میں مصنوعی بازو آپ کے جسم کا حصہ بن جاتے ہیں۔
روبوٹ بازو جسم اور دھڑ کے لحاظ سے عین اس طرح حرکت کرتے ہیں جس طرح ہمارے بازو ہمارے بدن کے ساتھ ساتھ گھومتے اور حرکت کرتے ہیں۔ بازؤں کو پیروں کے انگوٹھوں کے مدد سے حرکت دی جاتی ہے کیونکہ انگوٹھے موڑتے ہی سینسر مشینی بازو کو گھماتے اور آگے کی جانب حرکت دیتے ہیں۔
مصنوعی ہاتھوں کے ذریعے آپ کسی بھی شے کو گرفت کر سکتے ہیں اور معمولی پینٹ برش سے لے کر چھوٹا گلاس بھی اٹھا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ روبوٹک بازووں کی جگہ کوئی پنجہ اور ویلڈنگ آلہ بھی لگایا جا سکتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اسے ہر جگہ صورتحال کے مطابق استعمال کر سکتے ہیں۔
میٹالمِبس کے ساتھ خاص جرابیں (موزے) بھی دی گئی ہیں جس پر بازو کو حرکت دینے والے سینسر لگائے گئے ہیں۔ ان کی حرکت کے لحاظ سے بازو گھومتے اور اپنی پوزیشن بدلتے ہیں۔ جوں ہی کو پاؤں کا انگوٹھا مڑتا ہے تو اسی لحاظ سے روبوٹ کی انگلیاں بند ہو جاتی ہیں۔ اس طرح کسی شے کو گرفت کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔
انجینیئروں کے مطابق روبوٹ بازو کے آپشنز کو سہولت کے لحاظ سے تبدیل کیا جاسکتا ہے اس کے علاوہ اپنے اصل بازوؤں سے بھی روبوٹ کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جس طرح سائنس فکشن فلموں میں ایک آدمی کےچار ہاتھ ہوتے ہیں میٹالمبس بھی آپ کو اس طرح مزید دو بازؤں کی قوت فراہم کرتا ہے۔

سڑک پردوڑتا اورفضا میں اڑنے والا ہیلی کاپٹر

ہیلی کاپٹر کو پرواز کے لیے صرف 100 میٹر کا رن وے درکار ہوتا ہے اوریہ 180 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرتا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
ہیلی کاپٹر کو پرواز کے لیے صرف 100 میٹر کا رن وے درکار ہوتا ہے اوریہ 180 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرتا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
جمہوریہ چیک: دنیا بھر میں اڑنے والی گاڑیوں اور ہیلی کاپٹروں کی تیاری جاری ہے جنہیں عام لوگ بھی خرید سکیں لیکن اس ضمن میں سابقہ چیکوسلواکیہ اور موجودہ جمہوریہ چیک کے ایک پائلٹ نے ’’جائرو ڈرائیو‘‘ نامی چھوٹا ہیلی کاپٹر بنایا ہے جس میں دو آدمی بیٹھ سکتے ہیں۔ اچھی خبر یہ ہے کہ اسے سڑک پر دوڑنے اور اڑان بھرنے کا لائسنس مل گیا ہے۔
جائرو ڈرائیو ہیلی کاپٹر کی قیمت 50 ہزار برطانوی پاؤنڈ یا پاکستانی 70 لاکھ روپے ہے اور اسے پرواز کے لیے صرف 100 میٹر کا رن وے درکار ہوتا ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتارِ پرواز 180 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے اور سڑک پر دوڑنے کی رفتار صرف 40 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے جبکہ ایک وقت میں یہ 600 کلومیٹر کا طویل فاصلہ طے کرسکتا ہے۔
چیک پائلٹ کے مطابق یہ دنیا کی پہلی سواری ہے جو زمین اور فضا دونوں کےلیے موزوں ہے۔ جائروڈرائیو سڑک پر الیکٹرک بیٹری سے چلتا ہے اور فضا میں ایندھن سے پرواز کرتا ہے جبکہ مارچ میں اسے پرواز کا لائسنس بھی مل چکا ہے۔

چین میں دنیا کی تیز ترین لفٹ جس کی رفتار 75 کلومیٹر فی گھنٹہ

ہٹاچی نے دنیا کی برق رفتار لفٹ کو سی ٹی ایف ٹاور میں نصب کیا ہے جو تصویر میں دائیں جانب نمایاں ہے۔ فوٹو: بشکریہ ڈیلی میل
ہٹاچی نے دنیا کی برق رفتار لفٹ کو سی ٹی ایف ٹاور میں نصب کیا ہے جو تصویر میں دائیں جانب نمایاں ہے۔ فوٹو: بشکریہ ڈیلی میل
بیجنگ: چین میں دنیا کی سب سے تیز رفتار لفٹ کو آزمایا گیا ہے جو ایک گھنٹے میں 75 کلومیٹر کی رفتار سے سفر کرتی ہے۔ ریکارڈ قائم کرنے والی لفٹ کا گوانگ زُو کی ایک تجارتی بلڈنگ سی ٹی ایف فائنانس سینٹر میں تجربہ کیا گیا ہے۔
سی ٹی ایف سینٹر 530 میٹر بلند ہے جس پر ہٹاچی کمپنی کی تیار کردہ برق رفتار لفٹ کو آزمایا جاچکا ہے۔ کمپنی کے مطابق وہ اس سے بھی زیادہ رفتار سے لفٹ چلاسکتی ہے لیکن اس کے لیے کنٹرول یونٹس اور موٹروں میں کچھ تبدیلیاں کرنا ہوں گی تاہم چین میں لفٹوں کا جائزہ لینے والے قومی ادارے نے اس لفٹ کو تیز ترین قرار دیا ہے۔
ہٹاچی کمپنی کے مطابق کئی لوگوں کو بٹھا کر اس لفٹ کی آزمائش کی گئی ہے اور اس دوران اسے 72 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلایا گیا ہے۔  اس رفتار پر ارتعاش اور شور سے محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی طور پر ڈیزائن کردہ رولرز چاروں کونوں پر لگائے گئے ہیں۔ یہ رولر زوردار ارتعاش کو جذب کرتے ہیں اور لفٹ میں بیٹھے لوگوں کو اس کا احساس نہیں ہوتا۔

ادائیگی کرنے کے لیے سیلفی سے شناخت کروائیے

 ہم شکل جڑواں افراد تک اس شناختی نظام کو بے وقوف نہیں بنا سکتے، بینک کا دعویٰ۔ فوٹو: فائل
ہم شکل جڑواں افراد تک اس شناختی نظام کو بے وقوف نہیں بنا سکتے، بینک کا دعویٰ۔ فوٹو: فائل
ساؤ پالو: برازیل میں ایک ڈیجیٹل بینک نے اکاؤنٹ ہولڈرز کی جانب سے ادائیگی کے وقت سیلفی کے ذریعے تصدیق کا انوکھا طریقہ اختیار کر لیا ہے جس کے بارے میں بینک کا دعویٰ ہے کہ یہ طریقہ روایتی پاس ورڈ اور فنگر پرنٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر طور پر شناخت کے قابل ہے۔
بینک کا کہنا ہے کہ ابھی یہ طریقہ ابتدائی مرحلے پر متعارف کروایا گیا ہے اور اسے صارفین کی جانب سے بڑے پیمانے پر اعتماد حاصل ہوجانے کے بعد ہر قسم کی چھوٹی بڑی ادائیگی میں شناخت کے لیے اختیار کیا جائے گا۔
جب اس بینک کے کسی اکاؤنٹ ہولڈر کی جانب سے ادا کی جانے والی رقم ایک خاص حد سے زیادہ ہو تو اسمارٹ فون پر موجود بینکنگ ایپ فوراً ایکٹیو ہو جاتی ہے اور صارف کو سیلفی کھینچنے کا پیغام دیتی ہے۔ یہ سیلفی فوری طور پر بینک کے سرور پر بھیج دی جاتی ہے جہاں بینک کا انتہائی جدید شناختی سافٹ ویئر (سیلفی میں نظر آنے والے) چہرے کے خد و خال کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے اور تصدیق ہو جانے کے بعد وہ رقم منتقل کردیتا ہے۔
خاص بات یہ ہے کہ اس پورے عمل میں صرف چند سیکنڈ لگتے ہیں جبکہ اس دوران صارف کی سیلفی میں چہرے پر موجود درجن بھر سے زائد نقوش کا تجزیہ کیا جاتا ہے اور انہیں بینک کے ڈیٹابیس میں متعلقہ صارف کی تصویروں سے ملاتے ہوئے تصدیق کی جاتی ہے کہ سیلفی بھیجنے والا شخص اس بینک کا صارف ہی ہے یا کوئی اور۔
برازیلی ڈیجیٹل بینک کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کریڈٹ کارڈ، ڈیبٹ کارڈ، پاس ورڈ اور فنگر پرنٹس سے بھی زیادہ مؤثر اور محفوظ ہے کیونکہ بینک کا سافٹ ویئر انہیں 100 فیصد درست معلومات فراہم کرتا ہے۔
بینک کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ ہم شکل جڑواں افراد تک اس شناختی نظام کو بے وقوف نہیں بنا سکتے کیونکہ بظاہر بالکل ایک جیسے نظر آنے والے دو چہروں میں بھی کچھ نہ کچھ فرق ضرور ہوتا ہے لیکن وہ صرف انتہائی باریک بینی سے دیکھنے پر ہی واضح ہوتا ہے اور یہ شناختی سافٹ ویئر اس معمولی ترین فرق تک کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انفارمیشن سیکیوریٹی کے ماہرین پہلے ہی سے یہ امید ظاہر کرتے آ رہے ہیں کہ چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی ترقی کرتے کرتے بالآخر 100 فیصد درستگی کے مرحلے پر پہنچ جائے گی جس میں مصنوعی ذہانت کا بہت دخل ہو گا۔ تب اسے زندگی کے ہر شعبے میں بلا خوف و خطر استعمال کیا جاسکے گا۔ یوں لگتا ہے جیسے اب وہ زمانہ بہت قریب آن پہنچا ہے۔

باریک ترین ٹرانسسٹر سرکٹ والی کمپیوٹر چپ

تصویر میں آئی بی ایم کا ایک ماہر سلیکن ویفر کے ساتھ ہے جس سے 5 نینومیٹر چپ تیار کی گئی ہے۔ فوٹو: بشکریہ آئی بی ایم
تصویر میں آئی بی ایم کا ایک ماہر سلیکن ویفر کے ساتھ ہے جس سے 5 نینومیٹر چپ تیار کی گئی ہے۔ فوٹو: بشکریہ آئی بی ایم
 واشنگٹن: ٓآئی بی ایم، سام سنگ اور گلوبل فاؤنڈریز نے دنیا کی پہلی 5 نینومیٹر سرکٹ والی مائیکروچپ تیار کرلی ہے جو مصنوعی ذہانت، ورچوئل ریئلٹی اور دیگر شعبوں میں انقلاب برپا کرسکتی ہے اور موبائل بیٹریوں کی کارکردگی میں تین گنا تک اضافہ بھی کرسکتی ہے۔
واضح رہے کہ اس وقت اسمارٹ فون سے لے کر طاقتور ترین کمپیوٹرز تک میں جو مائیکروپروسیسر استعمال ہورہے ہیں ان میں ٹرانسسٹر کی جسامت 10 نینومیٹر ہوتی ہے یعنی اس نئی چپ میں ٹرانسسٹر کا سائز روایتی مائیکروچپ کے مقابلے میں آدھا ہے۔
اس درجے کی مائیکروچپ سے بجلی کم خرچ ہوگی اور موبائل آلات کو تین گنا زائد وقفے کے لیے چلانا ممکن ہوگا۔ دنیا میں اب تک باریک ترین سرکٹ والی اس چپ میں سرکٹ کے ایک جزو کی موٹائی صرف چند ایٹموں جتنی یعنی ڈی این اے کے دو حلقوں کے برابر ہے۔
اس کارنامے کے بعد پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ انگلی کے ناخن جتنی جگہ پر 30 ارب ٹرانسسٹر (جو برقی آلات میں آن اور آف سوئچز کا کام کرتے ہیں) سرکٹ کی شکل میں سموئے جاسکیں۔ اگلا مرحلہ اس ٹیکنالوجی کو تجارتی پیمانے تک پہنچانا ہے جس میں مزید چند سال لگ جائیں گے۔ آئی بی ایم نے جاپان کے شہر کیوٹو میں ہونے والی ایک نمائش میں اس چپ کی تفصیلات پیش کی ہیں۔
اس چپ کو بنانے کےلیے سلیکان نینو شیٹ کو ایک کے اوپر ایک کرکے لگایا گیا ہے جو چپ سازی کے مروجہ طریقوں سے قدرے مختلف ہے۔ مارکیٹ میں موجود 10 نینومیٹر ٹیکنالوجی والے مائیکروپروسیسرز کے مقابلے میں 5 نینومیٹر مائیکروپروسیسرز کی کارکردگی 40 فیصد زیادہ متوقع ہے۔
بتاتے چلیں کہ مائیکروچپ کی عالمی صنعت کی ترقی جاری رہنے کےلیے جہاں زیادہ سے زیادہ رفتار والے مائیکروپروسیسرز کا تیار ہونا ضروری ہے وہیں مائیکرو چپ میں سرکٹ کا باریک سے باریک تر ہوتے رہنا بھی لازمی ہے۔ اسی مقصد کے تحت مختلف صنعتی اور تحقیقی اداروں میں منصوبے جاری ہیں تاکہ آنے والے برسوں میں مائیکروچپ سرکٹ کو ہر ممکن حد تک باریک کیا جاسکے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے تکنیکی طور پر ہم 3 نینومیٹر جتنے سرکٹ سائز والی مختصر مائیکروچپ بناسکتے ہیں لیکن جسامت اس سے کم کرنے پر ہمیں براہِ راست قوانینِ قدرت کا سامنا ہوگا اور تب ہمیں مزید مختصر و مؤثر مائیکروچپس بنانے کےلیے ایک بالکل مختلف ٹیکنالوجی درکار ہوگی۔

اتوار، 4 جون، 2017

ایپل کا توڑ اینڈرائیڈ اسمارٹ فون

فون کی قیمت 70 ہزار روپے پاکستانی رکھی گئی ہے جو 699 ڈالر بنتی ہے۔ فوٹو: بشکریہ ڈیلی میل
فون کی قیمت 70 ہزار روپے پاکستانی رکھی گئی ہے جو 699 ڈالر بنتی ہے۔ فوٹو: بشکریہ ڈیلی میل
 واشنگٹن: اینڈرائڈ سسٹم کے موجد اینڈی روبنس نے ایک نیا اسمارٹ فون متعارف کرایا ہے جو ان کے بقول آئی فون کو شکست دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
اینڈی ربنسن نے اس اسمارٹ فون کو ’ایسنشل فون پی ایچ ون ‘ کا نام دیا ہے جس میں ان کے مطابق دنیا کا سب سے بہترین کیمرہ فون ہونے کے ساتھ کوالکوم کا اسنیپ ڈریگن 835 پروسیسر بھی نصب ہے۔ اسمارٹ فون کی باڈی روایتی المونیم کی بجائے ٹیٹانیئم پر مشتمل ہے جو اچانک گرجانے کی صورت میں ٹوٹ پھوٹ سے محفوظ رہتا ہے۔ اس پر علیحدہ سے ایک 360 ڈگری کیمرہ بھی نصب کیا جا سکتا ہے۔
کیمرے کی ایک اور خاص بات اس کا ہلکا پھلکا ہونا ہے یعنی اس کا وزن صرف 35 گرام ہے اور اس میں ڈویئل 12 میگا پکسل فِش آئی سینسر نصب ہے جو 30 فریم فی سیکنڈ کی شرح سے فورکے 360 ڈگری ویڈیو بنا سکتا ہے۔ سینسر کی وجہ سے یہ کم روشنی میں بھی تصویر اور ویڈیو بنا سکتا ہے۔
دیگر اشیا میں مقناطیسی کنیکٹر، 128 جی بی کی اندرونی اسٹوریج (بلٹن میموری)، فنگر پرنٹ سینسر، یو ایس بی ٹائپ سی پورٹ اور 3040 ایم اے ایچ بیٹری نصب کی گئی ہے۔ اسکرین پر گوریلا گلاس 5 لگایا گیا ہے لیکن اس کے باوجود وہ 500 این آی ٹی ایس کی روشنی فراہم کرتا ہے جب کہ اوسط ایل سی ڈی 200 سے 300 این آئی ٹی ایس روشنی خارج کرتا ہے۔
اس نئے فون پر ہیڈفون جیک کی گنجائش نہیں لیکن کمپنی کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فون پیک میں اس کا ڈونگل ضرور شامل کیا جائے گا۔ فون کی قیمت 70 ہزار روپے پاکستانی رکھی گئی ہے جو 699 ڈالر بنتی ہے۔ روبِن کا خیال ہے کہ یہ آئی فون کے لیے ایک سخت حریف ثابت ہو گا اور اسے تین رنگوں میں پیش کیا جا رہا ہے۔

دنیا کا سب سے بڑا ہوائی جہاز اُڑان بھرنے کو تیار


یہ صرف ہوائی جہاز نہیں بلکہ خلائی سفر کو مستقبل میں انتہائی کم خرچ بنادے گا۔ (فوٹو: فائل)
یہ صرف ہوائی جہاز نہیں بلکہ خلائی سفر کو مستقبل میں انتہائی کم خرچ بنادے گا۔ (فوٹو: فائل)
نیو میکسیکو: دنیا کا سب سے بڑا ہوائی جہاز ’’اسٹریٹو لانچ‘‘ اُڑان بھرنے کی تیاریاں کر رہا ہے اور یہ طیارہ آنے والے برسوں میں نہایت کم خرچ پر راکٹوں کو خلاء میں بھیجنے کا کام بھی کر سکے گا۔
اسٹریٹو لانچ کا منصوبہ مائیکرو سافٹ کے شریک بانی پال ایلن نے شروع کیا ہے جب کہ اِس منصوبے کو آگے بڑھانے میں انہیں مشہور ایئرواسپیس کمپنی ’’اسکیلڈ کمپوزٹس‘‘ کے علاوہ ایلون مسک کی ’’اسپیس ایکس‘‘ کی تکنیکی معاونت بھی حاصل ہے۔
چند روز قبل اسٹریٹو لانچ کا پہلا پروٹوٹائپ کیلیفورنیا کے موہاوی صحرا میں بنے ایک وسیع ہینگر سے پہلی مرتبہ باہر لایا گیا جہاں جلد ہی اس کے انجن اور دیگر اہم نظاموں کی آزمائش کی جائے گی جس کے مکمل ہو جانے کے بعد یہ 2019 کی ابتدائی تاریخوں میں اپنی پہلی تجرباتی اُڑان بھرے گا۔
اسٹریٹو لانچ کو بطورِ خاص سیارچہ بردار راکٹوں کو انتہائی  بلندی پر پہنچا کر خلا کی سمت چھوڑنے کے لیے تیار کیا گیا ہے جس سے خلائی سفر کے اخراجات بہت کم کیے جا سکیں گے۔
اسٹریٹو لانچ کے بازوؤں کا پھیلاؤ 385 فٹ اور اونچائی 50 فٹ ہے جب کہ اس میں 28 دیوقامت پہئے (وہیل) لگے ہیں اور ہر پہیہ کسی ٹرک جتنی جسامت کا ہے۔ علاوہ ازیں اس میں بوئنگ 747 مسافر بردار طیارے میں نصب ہونے والے 6 عدد طاقتور جیٹ انجن بھی لگائے گئے ہیں جو مجموعی طور پر 500,000 پونڈ سے بھی زیادہ پے لوڈ کو ہزاروں فٹ کی بلندی تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
آئندہ 18 ماہ تک اس کی زمینی آزمائشیں جاری رکھی جائیں گی اور مختلف پہلوؤں سے اس کے تحفظ کی یقین دہانی حاصل کی جائے گی جس کے بعد توقع ہے کہ یہ 2019 کے ابتدائی مہینوں میں اپنی پہلی پرواز کرے گا۔ البتہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ یہ تجارتی طور پر کب سے استعمال میں آنا شروع ہو جائے گا۔ تاہم اتنا ضرور ہے کہ اسٹیریو لانچ اور ایسی دوسری ٹیکنالوجیز کی بدولت خلائی سفر کے اخراجات مستقبل میں بہت ہی کم رہ جائیں گے۔