جمعہ، 26 مئی، 2017

اب وائی فائی کے ذریعے دیواروں کے پار دیکھنا ممکن

جرمنی کے طالب علم وائی فائی کے ذریعے کمرے میں رکھی اشیا کے دھندلے ہولوگرام حاصل کیے ہیں۔  فوٹو: فائل
جرمنی کے طالب علم وائی فائی کے ذریعے کمرے میں رکھی اشیا کے دھندلے ہولوگرام حاصل کیے ہیں۔ فوٹو: فائل
برلن: ہم جانتے ہیں کہ وائی فائی دیواروں سے گزر سکتی ہے اور اسی لیے ایک کمرے کا راؤٹر دوسرے کمرے میں سگنل بھیجتا ہے لیکن اسی کیفیت کو استعمال کرتے ہوئے کمرے میں موجود اشیا مثلاً میز ، کرسی اور خود انسانوں کے تھری ڈی ہولوگرام بناکر ان کی موجودگی کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔
ٹیکنکل یونیورسٹی آف میونخ کے 23 سالہ طالب علم فلپ ہول کہتے ہیں کہ وائی فائی سے کسی کمرے کو اسکین کیا جاسکتا ہے، فلپ نے ایک چھوٹا سا آلہ بنایا ہے جس کی تفصیل فزیکل لیٹر نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے، یہ ایک آزمائشی آلہ ہے جو کمرے میں رکھی اشیا سے ٹکرانے اور دوبارہ پلٹنے والی وائی فائی امواج کے ذریعے اس شے کا ایک ہیولہ یا خاکہ سا بناتا ہے۔
اگر کمرے کی میز پر کوئی کپ رکھا ہے تو یہ اسے ایک شکل کی مانند دکھائے گا، صوفے پر بیٹھے شخص یا پالتو جانور کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ مختصراً یہ کسی بھی چار سینٹی میٹر لمبی شے کو دکھا سکتا ہے۔
اگرچہ وائی فائی کے ایک دو اینٹینا سے کمرے کی اشیا کی دو جہتی (ٹو ڈائمینشنل) تصاویر لی جاسکتی ہے لیکن فلپ کا تیار کردہ نظام کمرے کی ایک ایک شے کا تھری ڈی ہولوگرام بناسکتا ہے۔
اس نظام میں دو اینٹینا ہیں ، ایک ساکت رہتا ہے اور دوسرا حرکت کرتا رہتا ہے۔ فکسڈ اینٹینا وائی فائی سے بیک گراؤنڈ (پس منظر) کی تصویر لیتا رہتا ہے جبکہ ایک اینٹینا کو کمرے میں گھماکر اشیا کی مختلف زاویوں سے تصاویر لی جاتی ہے اور ایک سافٹ ویئر فوری طور پر اس کی نقشہ سازی کرتا رہتا ہے، اگرچہ ابھی ٹھوس اشیا کے دھندلے ہولوگرام بن رہے ہیں لیکن جلد ہی اس ٹیکنالوجی کو بہتر بنایاجاسکتا ہے ۔
فلپ کے مطابق ایک اضافی ریفرنس اینٹینا کے ذریعے حادثات میں ملبے تلے دبے افراد کی نشاندہی کی جاسکتی ہے جب کہ اس سے جاسوسی کا کام بھی لیا جاسکتا ہے۔

بدھ، 24 مئی، 2017

خون میں زہریلے مادے صاف کرنے والی انقلابی مقناطیسی مشین


یہ چھوٹی سی مشین خون میں زہریلے مادے صاف کرنے میں نہایت مؤثر پائی گئی ہے۔ فوٹو:  ڈیلی میل
یہ چھوٹی سی مشین خون میں زہریلے مادے صاف کرنے میں نہایت مؤثر پائی گئی ہے۔ فوٹو: ڈیلی میل
 لندن: برطانوی سائنسدانوں نے جان لیوا سیپسِس انفیکشن سے بچانے والی ایک مقناطیسی مشین بنائی ہے جو خون سے زہریلے اور فاسد مادے صاف کرسکتی ہے۔
اس سے مریض اسپتال سے جلد فارغ ہوجاتا ہے جو اخراجات اور ڈاکٹروں کا بوجھ کم کرتا ہے۔ یہ کسی ڈائیلیسس مشین کی طرح خون صاف کرتی ہے لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ خون کی صفائی مقناطیس کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اگلے سال اسے نہ صرف انسانوں پر سیپسس کے لیے آزمایا جائے گا بلکہ لیوکیمیا اور ملیریا کا مرض دور کرنے پر بھی غور کیا جائے گا۔
مشین کو یونیورسٹی کالج لندن کے ڈاکٹر جارج فروڈشم نے پی ایچ ڈی کے دوران ڈیزائن کیا۔ سیپسس کے مرض میں خون کے اندر زہریلے مواد جمع ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور اس سے بدن کا جسمانی دفاعی نظام بھی متاثر ہوتا ہے جو کئی اہم اعضا کو ناکارہ بناکر مریض کو موت کی دہلیز تک لے جاتا ہے۔ صرف برطانیہ میں اس سے 44 ہزار افراد سالانہ ہلاک ہورہے ہیں۔
میڈی سیو نامی یہ مشین  پہلے مریض کا خون رگوں سے کشید کرتی ہے اور ان میں مقناطیسی ذرات شامل کرتی ہے۔ خون میں تیرنے والے زہریلے بیکٹیریا اور چھوٹے خردنامی ٹکڑے اینڈوٹوکسنس مقناطیسی ذرات سے چپک جاتے ہیں۔ اس کے بعد ان ذرات کو طاقتور مقناطیس سے کھینچ لیا جاتا ہے اور خون خطرناک اجزا سے پاک ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد صاف خون بدن میں دوبارہ داخل کردیا جاتا ہے۔
مشین کے موجد ڈاکٹر جارج کے مطابق خون میں کوئی مقناطیسی ذرہ شامل نہیں ہوپاتا اور اس عمل میں چند گھنٹے لگ سکتے ہیں لیکن ہر مریض کا وقت مختلف ہوسکتا ہے۔ دیگر ماہرین نے سیپسس جیسے خطرناک مرض سے نجات دلانے والی اس ٹیکنالوجی کا خیرمقدم کیا ہے۔ برطانوی سیپسس ٹرسٹ سے وابستہ ڈاکٹر رون ڈینیئلز کہتے ہیں کہ اس سے لاکھوں افراد مستفید ہوں گے۔

گرمی میں ٹھنڈا رکھنے والی ’’زندہ خلیات‘‘ کی حامل ٹی شرٹ

ایم آئی ٹی کی تیار کردہ زندہ خلیات والی شرٹ جو کمرشل بنیادوں پر بھی بنائی جاتی ہے۔ فوٹو: ایم آئی ٹی
ایم آئی ٹی کی تیار کردہ زندہ خلیات والی شرٹ جو کمرشل بنیادوں پر بھی بنائی جاتی ہے۔ فوٹو: ایم آئی ٹی
بوسٹن: اب وہ دن دور نہیں جب زندہ خلیات (سیلز) سے بنے اسمارٹ کپڑے عام ہوں گے اور ایسی ہی ایک ٹی شرٹ میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے سائنسدانوں نے بنائی ہے۔ بائیولوجِک نامی کمپنی کی اس ٹی شرٹ پر خردنامیوں (مائیکروبس) کی ایک باریک لکیر بنائی گئی ہے جو گرمی اور پسینے کی صورت میں پہننے والوں کو ٹھنڈک فراہم کرے گی۔  
ٹی شرٹ پر کام کرنے والے ماہر وین وینگ نے کہا کہ خردنامیوں اور جراثیم کے خلیات ماحول میں نمی کی تبدیلی کا احساس کرتے ہیں اور خود کو تبدیل کرتے ہیں۔ خشکی میں یہ سکڑ جاتے ہیں اور نمی کی موجودگی میں پھیل کر ان کی جسامت بڑھ جاتی ہے۔
وینگ اور ان کے ساتھیوں نے ایک کوٹ کی تیاری میں ای کولائی بیکٹیریا کے خلیات شامل کئے ہیں اور اس عمل کو بایوپرنٹنگ کا نام دیا ہے، خلیات کو ربڑ کی باریک شیٹ لیٹکس پر لگایا گیا۔ جب جب گرمی اور نمی پیدا ہوئی تو کپڑا مڑگیا اور اس میں چھوٹے چھوٹے سوراخ کھل گئے جن سے باہر کی ہوا بدن میں آنے لگی اور اس طرح ایک عام قمیض سانس لینے والی شرٹ میں تبدیل ہوگئی۔
وینگ کہتے ہیں کہ یہ کپڑا بدن کی نمی کے لحاظ سے خمیدہ ہوجاتا ہے اور جسم سے پسینے کو سکھانے میں مدد دیتا ہے، آزمائش کے طور پر اسے 100 مرتبہ خشک اور گیلے مراحل سے گزارا گیا اور اس کی صلاحیت پر کوئی فرق نہیں پڑا تاہم کمرشل اسپورٹس شرٹ اور کپڑوں کے لیے مزید تحقیق کی جارہی ہے تاکہ اسے بہتر سے بہتر بنایا جاسکے۔
اسی ٹیم نے ایک ایسا ٹی بیگ بھی بنایا ہے جو چائے تیار ہوجانے پر آپ کو مطلع کرتا ہے اور اب وہ ایسے لیمپ شیڈ پر کام کررہے ہیں جو بلب کی حرارت کے ساتھ مختلف اشکال اختیار کرلیتے ہیں۔ ماہرین پرامید ہیں کہ وہ اپنی اس ایجاد کو عام افراد کے لیے 2020 کے اولمپکس کے موقع پر پیش کریں گے۔

منگل، 23 مئی، 2017

وہ مسلم سائنسداں جن کا نام کمپیوٹر سائنس میں آج تک زندہ ہے


دنیا کو اعشاری نظام اور الجبرا سے روشناس کروانے والے ’’محمد بن موسی الخوارزمی‘‘ کا نام کمپیوٹر ’’الگورتھم‘‘ میں پوشیدہ ہے۔ (فوٹو: فائل)
دنیا کو اعشاری نظام اور الجبرا سے روشناس کروانے والے ’’محمد بن موسی الخوارزمی‘‘ کا نام کمپیوٹر ’’الگورتھم‘‘ میں پوشیدہ ہے۔ (فوٹو: فائل)
کراچی: آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے والا ہر شخص ’’الجبرا‘‘ سے ضرور واقف ہوتا ہے اور ریاضی کا یہ مضمون جدید سائنس کے تقریباً ہر شعبے میں انتہائی مفید ثابت ہورہا ہے۔ دوسری جانب کمپیوٹر سائنس کا ہر طالب علم اور ہر سافٹ ویئر انجینئر ’’الگورتھم‘‘ کے بارے میں ضرور جانتا ہے۔ ان دونوں چیزوں کا تعلق ’’محمد بن موسی الخوارزمی‘‘ سے ہے جو آٹھویں اور نویں صدی عیسوی کے مشہور مسلم ریاضی داں گزرے ہیں۔
محمد بن موسی الخوارزمی کا مختصر تعارف یہ ہے کہ وہ لگ بھگ 780 عیسوی میں فارس کے علاقے ’’خوارزم‘‘ میں پیدا ہوئے جو موجودہ ازبکستان میں واقع ہے اور ’’خیوہ‘‘ کہلاتا ہے۔ ریاضی کے مختلف شعبہ جات میں مہارت حاصل کرنے کے بعد وہ بغداد چلے آئے اور خلافتِ عباسیہ کے تحت قائم ’’بیت الحکمت‘‘ سے بطور عالم (اسکالر) وابستہ ہوگئے اور 850 عیسوی میں اپنی وفات تک یہیں مقیم رہے۔
بیت الحکمت میں رہتے ہوئے الخوارزمی نے ہندوستانیوں کے ایجاد کردہ ’’اعشاری نظام‘‘ (decimal system) اور اس میں شامل ’’صفر‘‘ (Zero) کو عملی مثالوں کے ذریعے عام فہم بنا کر پیش کیا؛ اور اسی کام کی بدولت آج ہم جمع، نفی، ضرب اور تقسیم جیسے حسابی عوامل کو زبردست سہولت کے ساتھ انجام دے سکتے ہیں۔
لیکن محمد بن موسی الخوارزمی کا عظیم ترین کارنامہ ان کی تصنیف ’’کتاب المختصر فی حساب الجبر والمقابلہ‘‘ ہے جسے ’’الجبرا‘‘ پر دنیا  کی سب سے پہلی کتاب قرار دیا جاتا ہے جس میں انہوں نے تفصیل سے یہ بتایا کہ الجبرا کی مدد سے روزمرہ حسابی مسائل کیسے حل کیے جاسکتے ہیں اور نامعلوم مقداریں کیسے معلوم کی جاسکتی ہیں۔
آپ کو یہ جان کر شاید حیرت ہو کہ آج سے 1200 سال پہلے لکھی گئی اس کتاب میں الجبرا کے جو بنیادی اصول اور قواعد بیان کیے گئے ہیں، وہ آج تک بالکل اسی طرح استعمال ہورہے ہیں جیسے الخوارزمی نے پیش کیے تھے۔ ’’کتاب المختصر فی حساب الجبر والمقابلہ‘‘ اس قدر مقبول کتاب تھی کہ یہ مسلم عہدِ زریں میں ریاضی کی اہم ترین نصابی کتاب رہی۔ بعد ازاں لاطینی اور دوسری متعدد یورپی زبانوں میں اس کتاب کے تراجم ہوئے اور یوں یہ آئندہ کئی صدیوں تک یورپی ممالک کی اعلی تعلیمی درسگاہوں (یونیورسٹیز) میں بھی جدید ریاضی کی کلیدی کتاب کے طور پر پڑھائی جاتی رہی۔
یورپی زبانوں میں ترجمے کے دوران ہی اس نئے ریاضیاتی مضمون کا عربی عنوان مختصر کرکے ’’الجبرا‘‘ کردیا گیا جو آج تک چلا آرہا ہے۔ علاوہ ازیں لاطینی میں الخوارزم کا نام ’’الگورتھم‘‘ (Algorithm) کردیا گیا اور یہ مسلمان ریاضی دان اسی نام سے مغرب میں مشہور ہوا۔
بیسویں صدی عیسوی میں جب کمپیوٹر ایجاد ہوا تو اس شعبے کے ماہرین نے کمپیوٹر پروگرام یا سافٹ ویئر لکھنے کا منظم طریقہ وضع کیا جسے محمد بن موسی الخوارزمی کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ’’الگورتھم‘‘ کہا جانے لگا۔
واضح رہے کہ ’’الگورتھم‘‘ کا تعلق کسی کمپیوٹر پروگرامنگ لینگویج سے نہیں ہوتا بلکہ یہ کسی مخصوص کام کو انجام دینے والے قواعد و ضوابط کا منظم اور ترتیب وار مجموعہ ہوتا ہے جسے سامنے رکھتے ہوئے کوئی کمپیوٹر پروگرام (یعنی سافٹ ویئر) لکھا جاتا ہے۔ کمپیوٹر سائنس کے علاوہ طب (میڈیسن) کے شعبے میں بھی امراض کی تشخیص سے لے کر علاج معالجے تک کے منظم اور ترتیب وار طریقہ کار کو بھی ’’الگورتھم‘‘ ہی کہا جاتا ہے۔
اس طرح محمد بن موسی الخوارزمی کا نام جدید سائنس میں آج تک زندہ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ آج کا مسلمان خود کو عمومی طور پر ’’ذہین صارف‘‘ سے آگے نہیں بڑھا پایا ہے اور اپنے بزرگوں کے کارنامے پڑھ کر فخر ضرور کرتا ہے لیکن ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش نہیں کرتا

دبئی میں پہلے روبوٹ پولیس اہلکارنے کام شروع کردیا


دبئی روبوٹ پولیس اہلکار کو آئی بی ایم اور گوگل کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔ فوٹو: بشکریہ دوبئی پولیس
دبئی روبوٹ پولیس اہلکار کو آئی بی ایم اور گوگل کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔ فوٹو: بشکریہ دوبئی پولیس
دبئی سٹی: جرائم کے خلاف دبئی نے پہلا روبوٹ سپاہی بنالیا ہے جو بہت جلد اپنی ذمے داریاں سنبھال لے گا۔
منصوبے کے تحت یہ دبئی کی سڑکوں پربھی گشت کرے گا۔ اس روبوکوپ کا قد 5 فٹ 5 انچ ہے جو لوگوں کے چہرے کے تاثرات سمجھ سکتا ہے۔ لوگ اس کے پاس آکر جرم کی رپورٹ لکھوا سکتے ہیں جبکہ فی الحال اس کا مقصد ٹریفک چالان کرنا اور جرمانہ وصول کرنا ہے۔
دبئی پولیس کا منصوبہ ہے کہ 2030 تک دبئی پولیس کے 25 فیصد اہلکار روبوٹ بنائے جائیں جو مختلف زبانیں بول سکیں اور مختلف کام کرسکیں۔ اماراتی روبوٹ پولیس فورس کا فیصلہ حال ہی میں ہونے والی ایک خلیج سیکیورٹی کانفرنس میں کیا گیا ہے جو تین روز تک جاری رہے گی۔
اس موقع پر دبئی اسمارٹ پولیس کے ڈائریکٹر جنرل بریگیڈیئر جنرل خالد نصر الرزاقی نے کہا، ’دنیا کے پہلے روبوٹ سپاہی کا اجرا اماراتی تاریخ کا اہم سنگِ میل ہے اور ٹیکنالوجی کے ذریعے اسمارٹ سٹی کے خواب کی جانب ایک اہم قدم بھی ہے۔‘
دبئی پولیس کے ایک اور افسر بریگیڈیئرعبداللہ بن سلطان نے کہا ہے کہ مستقبل میں مزید روبوٹ دبئی پولیس کا حصہ بنیں گی۔ روبوٹ پولیس افسر 20 میٹر دوری سے لوگوں کے چہرے پہچان سکتا ہے۔ اس کے سینے پر ایک ٹچ اسکرین نصب ہے جسے استعمال کرکے عوام پولیس رپورٹ درج کراسکتے ہیں۔ یہ رپورٹ فوری طور پر پولیس کال سینٹر منتقل کردی جاتی ہے۔
دبئی پولیس 2025 تک اس شہر کو سیکیورٹی کے لحاظ سے 5 بہترین شہروں میں شامل کرنا چاہتی ہے اور 2030 تک 50 فیصد پولیس عمارتوں کو اپنی بجلی خود بنانے کے قابل کرنا چاہتی ہے۔ اسی طرح 2030 تک ایک ڈی این اے ڈیٹا بینک بھی بنایا جائے گا۔ اس روبوٹ سپاہی کی تیاری میں دبئی پولیس، گوگل، اور آئی بی ایم سپر کمپیوٹر نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔

پیر، 22 مئی، 2017

رواں سال دریافت ہونے والے نئے کیڑے مکوڑے اور پودے


سائنسدانوں نے ہیری پوٹر کی ٹوپی جیسی مکڑی اور گلابی پتے جیسے کیڑے سمیت کئی جاندار دریافت کئے ہیں۔ فوٹو: فائل
سائنسدانوں نے ہیری پوٹر کی ٹوپی جیسی مکڑی اور گلابی پتے جیسے کیڑے سمیت کئی جاندار دریافت کئے ہیں۔ فوٹو: فائل
واشنگٹن: ہرسال نت نئے جاندار اور کیڑے مکوڑے دریافت ہوتے رہتے ہیں لیکن ماہرین نے اب مختلف ممالک میں نئے جاندار دریافت کئے ہیں جن کی ایک جھلک خود آپ کو بھی حیران کردے گی۔
ماہرین نے 2008 میں جانداروں کی نئی انواع کی دریافت کا ایک بین الاقوامی مشن شروع کیا تھا جس کے تحت اب تک کئی اہم اور نئے جاندار دریافت ہوئے ہیں اور اب انہوں نے 2017 کے تین ماہ میں تلاش کئے جانے والے 10 حیرت انگیز جانداروں کی تصاویر اور تفصیل شائع کی ہے۔
1: ہیری پوٹر مکڑی
بھارتی ریاست کرناٹکا کے مغربی گھاٹ سے ملنے والی یہ مکڑی ہیری پوٹر فلم کی مشہور جادوئی ٹوپی سے مشابہہ ہے۔ اس فلم میں جادو سکھانے والے چار افراد میں سے ایک گوڈرک گرائفنڈور ہوتا ہے اور اسی مناسبت سے مکڑی کا حیاتیاتی نام بھی ’ایریوویکسیا گرائیفنڈورائی‘ رکھا گیا ہے۔
اس چھوٹی سی مکڑی کی جسامت 7 ملی میٹر ہے اور یہ سوکھے پتوں اور مردہ جانداروں میں چھپ کر رہتی ہے۔ اسے بھارتی ماہر جاوید احمد نے دریافت کیا ہے۔
2: پتے نما گلابی کیڑا
ملائیشیا سے ملنے والی یہ مخلوق ایک کیڑا ہے جو عین گلابی پتے جیسا لگتا ہے۔ اس کی سب سے پہلی تصویر پیٹر کرک نے اتاری تھی اور اسی مناسبت سے اسے ’یولوفوفائلم کرکائی‘ کا نام دیا گیا ہے۔
اس میں مادہ کا رنگ گلابی اور نر کا رنگ سبز ہوتا ہے اور لمبائی 40 ملی میٹر یا ڈیڑھ انچ کے برابر ہے۔

3: ایک نیا چوہا
گریکلیمس ریڈکس ایک چھوٹا چوہا ہے جو انڈونیشیا سے ملا ہے یہ پودے اور اپنے سے چھوٹے جانوروں کو کھاتا ہے اور اس کی یہی بات سب سے عجیب ہے۔
انڈونیشیا کے سلاویسی جزائر سے اس کی سات نئی اقسام دریافت ہوئی ہیں۔
4: ایک ملی پیڈ جس کے 414 پیر ہیں
کیلیفورنیا کے سیقویا نیشنل پارک میں ایک تاریک جگہ سے ایک قسم کا کیڑا ’ ملی پیڈ‘ دریافت ہوا جس کے 414 پاؤں اور 4 عضوئے تناسل ہیں۔

خود کو بچانے کے لیے یہ زہریلا مواد خارج کرتا ہے۔
5: گیم آف تھرون والی چیونٹی
گیم آف تھرونز ٹی وی سیریز میں ایک ڈریگن دکھایا گیا ہے جس سے ملتی جلتی ایک چیونٹی دریافت ہوئی ہیں اور اس کے بدن پر کانٹے نما ابھار ہیں۔
پاپوا نیو گنی سے ایک چیونٹی ملی ہے  جسے تھری ڈی امیجنگ کی مدد سے تفصیلاً دیکھا گیا ہے اور اسے ’ ڈریگن چیونٹی‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے بدن پر کانٹے دار ابھار ہیں جس سے وہ اپنا دفاع کرتی ہے۔
6:  پیلی ٹکیوں والی اسٹنگ رے
میٹھے پانی کی یہ بڑی اسٹنگ رے مچھلی برازیل کے دریا ٹوکانٹنس سے ملی ہے ۔ اس پر گول ٹکیہ جیسے پیلے اور نارنجی  دھبے ہیں اور اسی مناسبت سے اسے پولکا ڈاٹ کہا گیا ہے۔
بالغ اسٹنگ رے کا وزن 20 کلوگرام اور وزن 43 انچ تک ہے۔ برازیل کے اس دریا میں اب تک 350 مختلف اقسام کی مچھلیاں دریافت ہوچکی ہیں جو ایک ریکارڈ ہے۔ اسٹنگ رے کو پوٹاموٹرائگون ریکس کا نام دیا گیا ہے۔
7: زہریلا کن کھجورا
تصویر میں نظر آنے والا عجیب و غریب کن کھجورا اسکولوپینڈرا کیٹریکٹا ہے جو پانی اور خشکی دونوں پر رہتا ہے۔ یہ رات کو نکلتا ہے اور اپنے سے چھوٹے جانداروں کو زہر سے بے بس کرکے کھالیتا ہے۔
اس کی لمبائی 8 انچ اور اس کے پیروں کی تعداد 40 ہے جبکہ سبزمائل سیاہ رنگ اسے مزید خوفناک بناتا ہے۔ اسے تھائی لینڈ میں دریافت کیا گیا ہے۔
8: خون بہانے والا ٹماٹر
جانوروں سے ہٹ کر ماہرین نے ایک نیا ٹماٹر دریافت کیا ہے جسے کاٹا جائے تو اس سے خون کی شکل کا مائع بہتا ہے۔ اسے سولینم اوسی کرونٹم کا نام دیا گیا ہے۔
اس کا پودا چھ فٹ تک بلند ہوتا ہے اور اس کا تنا ٹھوس لکڑی پر مشتمل ہوتا ہے۔
9: شیطانی شکل کا پھول
آرکڈ کا پھول ثعلب مصری بھی کہلاتا ہے اور اس کے درمیان میں ایک خاص شکل موجود ہے جو دیکھنے میں کسی شیطانی چہرے کی مانند دکھائی دیتی ہے۔  یہ کولمبیا سےدریافت ہوا ہے ۔
10: سمندری گلابی کیڑا
اسپین کے سمندروں میں 12 ہزار فٹ گہرائی میں ایک گلابی کیڑا ملا ہے جسے Xenoturbella churro کا نام دیا گیا ہے۔ اس کا نام اسپین کی ایک پیسٹری کے نام پر رکھا گیا ہے اور اس کی شکل بھی پیسٹری سے ملتی جلتی ہے۔

مسلم انجینئر نے ’’ذہین ٹی شرٹ‘‘ ایجاد کر لی


یہ ذہین ٹی شرٹ سانس کی رفتار نوٹ کرتے ہوئے کئی تنفسی بیماریوں کی تشخیص اور علاج میں ڈاکٹروں کی مدد کرسکتی ہے۔ (فوٹو: فائل)
یہ ذہین ٹی شرٹ سانس کی رفتار نوٹ کرتے ہوئے کئی تنفسی بیماریوں کی تشخیص اور علاج میں ڈاکٹروں کی مدد کرسکتی ہے۔ (فوٹو: فائل)
کیوبیک: کینیڈا کی یونیورسٹی آف لاوال میں پروفیسر یونس مصدق کی سربراہی میں ماہرین نے ایک ایسی ذہین ٹی شرٹ ایجاد کرلی ہے جو نہ صرف اپنے پہننے والے کے سانس لینے کی رفتار پر نظر رکھتی ہے بلکہ اسے متعدد بار دھویا بھی جا سکتا ہے۔
اس کا مقصد سانس کی رفتار کے ذریعے تنفسی امراض (سانس کی بیماریوں) پر نظر رکھنا اور دمہ، بے خوابی اور سانس کے مختلف امراض کی تشخیص کرنا ہے۔
تحقیقی جریدے ’’سینسرز‘‘ کے تازہ شمارے میں اس منفرد ٹی شرٹ کی شائع شدہ تفصیلات کے مطابق اس میں سینے کے مقام پر ایک ننھا، نرم اور لچک دار قسم کا انٹینا سلا ہوا ہے جو ایک کھوکھلے بصری ریشے (آپٹیکل فائبر) پر مشتمل ہے جس کی اندرونی سطح پر چاندی کی پرت چڑھائی گئی ہے جبکہ بیرونی ماحول سے حفاظت کے لیے اس پر ایک مضبوط لیکن لچک دار پولیمر کی بیرونی پرت موجود ہے۔
یہ سینسر بیک وقت دو کام کرتا ہے: یہ سینے کے پھیلنے اور سکڑنے کی بنیاد پر سانس لینے کی رفتار نوٹ کرتا ہے جبکہ نوٹ کی گئی ان پیمائشوں کو ساتھ ہی ساتھ وائرلیس سگنلوں کی شکل میں نشر بھی کرتا رہتا ہے جو قریب رکھے ہوئے کمپیوٹر یا پھر صارف کے اسمارٹ فون پر وصول کیے جاسکتے ہیں۔
سانس کی رفتار پر مسلسل رکھنے والے دوسرے طریقوں اور ماضی میں بنائی گئی دوسری اسمارٹ ٹی شرٹس کے برخلاف اس نئی اسمارٹ ٹی شرٹ میں ایسا کوئی تار، برقیرہ یا سینسر نہیں جو براہِ راست انسانی جسم کو چھوتا ہو جبکہ یہ اتنی آرام دہ ہے کہ اسے پہننے والے کو کسی خاص انداز میں اٹھنے بیٹھنے کی پابندی کرنا نہیں ہوتی۔ پروفیسر یونس کہتے ہیں، ’’ہمارے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ (ٹی شرٹ) اپنے پہننے والے کی فطری حرکات میں رکاوٹ نہیں ڈالتی اور اسے پہن کر کھڑے ہونے، اٹھنے، بیٹھنے اور چلنے پھرنے جیسے معمولات بھی اسی طرح انجام دیئے جاسکتے ہیں جیسے کوئی عام سی ٹی شرٹ پہنی ہو۔‘‘
تجربات کے دوارن اس ٹی شرٹ کو 20 سے زائد مرتبہ دھویا گیا لیکن پانی اور واشنگ پاؤڈر سے بہت دیر تک سامنا ہونے کے باوجود بھی اس ٹی شرٹ کو کچھ نہیں ہوا اور یہ پہلے کی طرح کام کرتی رہی۔
اب یہ ماہرین کسی ایسے ادارے کی تلاش میں ہیں جو اس نئی اسمارٹ ٹی شرٹ کو تجارتی پیمانے پر تیار کرکے طبّی استعمال کےلیے فروخت کرسکے۔
پروفیسر یونس مصدق کا تعلق لاوال یونیورسٹی، کیوبیک کی فیکلٹی آف سائنس اینڈ انجینئرنگ کے سینٹر فار آپٹکس، فوٹونکس اینڈ  لیزرز سے ہے جبکہ وہ ’’کینیڈا ایکسی لینس ریسرچ چیئر اِن فوٹونک انوویشنز‘‘ کا اعلی اعزاز بھی رکھتے ہیں۔