بدھ، 17 مئی، 2017

پاکستان بھی رینسم ویئر وائرس حملے کی زد میں آگیا


ڈیٹا یرغمال کر بنانے والے اس وائرس سے اب تک پاکستان سمیت 150 ممالک میں 230000 سے زیادہ کمپیوٹرز متاثر ہوچکے ہیں۔ (فوٹو: فائل)
ڈیٹا یرغمال کر بنانے والے اس وائرس سے اب تک پاکستان سمیت 150 ممالک میں 230000 سے زیادہ کمپیوٹرز متاثر ہوچکے ہیں۔ (فوٹو: فائل)
کراچی: سائبر سیکیورٹی کے عالمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جمعے سے شروع ہونے والا رینسم ویئر کا عالمی حملہ ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ یہ آنے والے دنوں میں مزید کئی ممالک تک پھیل سکتا ہے۔
آج 15 مئی 2017 تک دنیا بھر کے 150 ممالک میں مختلف افراد اور اداروں کے 2 لاکھ 30 ہزار سے زیادہ کمپیوٹرز اس حملے کا شکار ہوچکے ہیں۔ پاکستان بھی WanaCryptor 2.0 یا WannaCry کہلانے والے اس رینسم ویئر کے حملوں کی زد پر آچکا ہے لیکن خوش قسمتی سے پاکستان میں ان حملوں کی شدت دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں کم ریکارڈ کی گئی ہے۔
کمپیوٹر اور انٹرنیٹ سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں ہفتے اور اتوار کے روز عام تعطیل ہوتی ہے اس لیے ان 2 دنوں میں اس کا جتنا پھیلاؤ بھی دیکھا گیا وہ اس کے اصل خطرے کے مقابلے میں بہت کم تھا۔ لیکن پیر کے روز کاروباری، تجارتی اور دفتری مصروفیات شروع ہونے پر یہ زیادہ تیزی سے پھیلنے لگا اور اب تک 150 سے زیادہ ملکوں میں پھیل چکا ہے۔
واضح رہے کہ WanaCryptor 2.0 یا WannaCry رینسم ویئر کو آپریٹنگ سسٹم ونڈوز ایکس پی میں سیکیورٹی کے حوالے سے موجود ایک خرابی سے فائدہ اٹھا کر کمپیوٹر کو متاثر کرنے کےلیے تیار کیا گیا ہے۔ اگرچہ ونڈوز آپریٹنگ سسٹم بنانے والی کمپنی مائیکروسافٹ کارپوریشن نے اس خرابی کو دور کرنے کے لیے اس سال مارچ میں ایک عدد سیکیورٹی اپ ڈیٹ جاری کردی تھی لیکن مائیکروسافٹ کی جانب سے ایکس پی کے لیے اپریل 2014 سے سپورٹ ختم ہوجانے کے بعد بیشتر صارفین اس طرف متوجہ نہیں تھے۔ ان حملوں کے بعد مائیکروسافٹ نے یہی اپ ڈیٹ ایک بار پھر جاری کردی ہے جس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ شاید اس رینسم ویئر کے حملے کی شدت کم ہوجائے گی۔

اتوار، 14 مئی، 2017

فیس بک کا مدرزڈے پرخصوصی تحفہ


کسی بھی دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے مقابلے میں فیس بُک پر مدرز ڈے کے سب سے زیادہ پیغامات پوسٹ کیے جاتے ہیں، فوٹو؛ فائل
کسی بھی دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے مقابلے میں فیس بُک پر مدرز ڈے کے سب سے زیادہ پیغامات پوسٹ کیے جاتے ہیں، فوٹو؛ فائل
سلیکان ویلی: ماؤں کے عالمی دن (مدرز ڈے) کے موقعے پر فیس بُک نے ایک نیا تاثراتی ایموجی (ری ایکشن ایموجی) ’’تھینک فُل‘‘ پیش کردیا ہے تاکہ صارفین فیس بُک کے ذریعے اپنی والدہ کا شکریہ ادا کرسکیں۔
اگرچہ یہ ایموجی پچھلے سال بھی پیش کیا گیا تھا لیکن اس بار یہ زیادہ شوخ رنگوں والے جامنی پھول کی شکل میں ہے جب کہ فیس بُک کی اسمارٹ فون ایپ استعمال کرنے والے صارفین جب اس ایموجی کے آئیکن کو ایک سیکنڈ تک پریس کرکے چھوڑیں گے تو پوری اسکرین پر پھولوں کی برسات ہوجائے گی اور یہ نظارہ فرینڈ لسٹ میں شامل تمام افراد دیکھ سکیں گے۔
فیس بک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اب کی بار پیش کیے گئے ری ایکشن ایموجی ’’تھینک فُل‘‘ کا مقصد ماں سے محبت کے جذبے کے اظہار کو زیادہ جاندار بنانا ہے کیونکہ مدرز ڈے پر کسی بھی دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے مقابلے میں فیس بُک پر سب سے زیادہ پیغامات پوسٹ کیے جاتے ہیں۔ پچھلے سال مدرز ڈے کے حوالے سے فیس بُک پر صرف ایک دن میں آنے والے پیغامات کی تعداد تقریباً 11 کروڑ بتائی جاتی ہے۔

ہفتہ، 13 مئی، 2017

عالمی رینسم ویئر حملہ، 100 ملکوں میں ہزاروں کمپیوٹروں کا ڈیٹا یرغمال


ہیکروں کی جانب سے رینسم ویئر کی عالمگیر کارروائی میں اب تک 100 ملکوں میں کمپیوٹرز پر 45000 حملے ریکارڈ کیے جاچکے ہیں۔ (فوٹو: فائل)
ہیکروں کی جانب سے رینسم ویئر کی عالمگیر کارروائی میں اب تک 100 ملکوں میں کمپیوٹرز پر 45000 حملے ریکارڈ کیے جاچکے ہیں۔ (فوٹو: فائل)
سائبر سیکیوریٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ نامعلوم ہیکروں کی جانب سے گزشتہ روز انٹرنیٹ کی تاریخ میں ’’رینسم ویئر‘‘ کی سب سے بڑی کارروائی کی گئی جس میں برطانیہ، روس، یوکرین، تائیوان، بھارت، چین، اٹلی، مصر، اسپین اور امریکا سمیت اب تک 100 ملکوں میں کمپیوٹروں پر 45000 حملے ریکارڈ کیے جاچکے ہیں۔
ان حملوں کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہزاروں افراد اور چھوٹے بڑے اداروں کے کمپیوٹروں پر موجود ڈیٹا لاک ہوچکا ہے جس تک رسائی کا پاس ورڈ فراہم کرنے کےلیے نامعلوم ہیکروں نے متاثرہ افراد/ اداروں سے فی کس اوسطاً 300 ڈالر کا تاوان ڈیجیٹل کرنسی ’’بِٹ کوائن‘‘ (Bitcoin) کی شکل میں طلب کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ان سائبر حملوں میں امریکا کی ’’نیشنل سیکیوریٹی ایجنسی‘‘ (این ایس اے) میں تیار کیے گئے خفیہ ’’سائبر ہتھیار‘‘ تھوڑی بہت ترمیم کے ساتھ استعمال کیے گئے ہیں۔ یہ ’’سائبر ہتھیار‘‘ یا دشمن کے انفرادی کمپیوٹر اور کمپیوٹر نیٹ ورک کو نشانہ بنانے والے سافٹ ویئر پچھلے سال ہیکروں نے این ایس اے کی آن لائن ہارڈ ڈسک اسٹوریج سے چوری کیے تھے۔
تب سائبر سیکیوریٹی کے غیر جانبدار ماہرین نے شدید تشویش ظاہر کی تھی لیکن امریکی حکومت نے یہ معاملہ دبادیا تھا اور ان سائبر ہتھیاروں کی تفصیلات جاری کرنے سے بھی گریز کیا تھا۔
فی الحال یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ رینسم ویئر کے تازہ ترین حملوں میں ہیکروں کا کونسا گروپ ملوث ہے اور اس کا تعلق کس ملک (یا کن ممالک) سے ہے لیکن اس سے روس، یوکرین اور تائیوان شدید طور پر متاثر ہوئے ہیں جبکہ متعدد برطانوی ہسپتالوں میں مریضوں کا ڈیٹا بھی نامعلوم ہیکروں کے رحم و کرم پر ہے۔ امریکا کی نیشنل ہیلتھ سروس بھی اس رینسم ویئر حملے کی زد میں آچکی ہے جبکہ اسپین میں ٹیلی کمیونی کیشن سیکٹر کے کمپیوٹرز اس حملے کی زیادہ زد میں آئے ہیں۔ روسی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ روس میں ان حملوں سے لگ بھگ 1000 کمپیوٹرز متاثر ہوچکے ہیں۔
سائبر سیکیوریٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیرمعمولی طور پر بڑے پیمانے کے ان حملوں کا مقصد کسی خاص ملک یا کسی خاص ہدف کو نشانہ بنانا نہیں تھا بلکہ رینسم ویئر کو زیادہ سے زیادہ کمپیوٹروں تک پھیلانے پر کام کیا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ تاوان کی اوسط رقم بہت کم یعنی صرف 300 ڈالر طلب کی گئی ہے جبکہ تاوان کے مطالبے کا پیغام 28 مختلف زبانوں میں ہے۔ تاہم اس امکان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ مستقبل میں ہیکرز اسی رینسم ویئر کو مزید تبدیلیوں کے بعد مخصوص اور بڑے اداروں پر سائبر حملوں کے قابل بنالیں۔
اسی بناء پر سائبر سیکیوریٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اسی نوعیت کے رینسم ویئر کا زیادہ بڑا اور زیادہ شدید حملہ مستقبل میں کیا جاسکتا ہے۔
مذکورہ سائبر حملوں میں WanaCryptor 2.0 یا WannaCry کہلانے والا رینسم ویئر استعمال کیا گیا ہے جو ونڈوز آپریٹنگ سسٹم میں سیکیوریٹی کی ایک کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی کارروائی کرتا ہے جبکہ یہ خاص طور پر ونڈوز ایکس پی والے کمپیوٹروں کےلیے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ مائیکروسافٹ نے اس آپریٹنگ سسٹم کےلیے سپورٹ اپریل 2014 میں بند کردی تھی لیکن یہ آج بھی دنیا بھر کے کروڑوں کمپیوٹروں پر استعمال کیا جارہا ہے۔

درختوں سے پھل توڑنے والا کسان روبوٹ

ابنڈنٹ روبوٹکس کے مطابق پھل توڑنے والا روبوٹ 10 انسانوں کے برابر کام کرسکتا ہے۔ تصویر بشکریہ: ابنڈنٹ ٹیکنالوجی
ابنڈنٹ روبوٹکس کے مطابق پھل توڑنے والا روبوٹ 10 انسانوں کے برابر کام کرسکتا ہے۔ تصویر بشکریہ: ابنڈنٹ ٹیکنالوجی
کیلیفورنیا: روبوٹ کی تیز رفتار ترقی سے انسانی ملازمتوں کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ لیکن اب ایک امریکی کمپنی نے زرعی روبوٹس بنانے شروع کردیے ہیں اور ایک روبوٹ تیز انسانوں کے برابر تیزی سے سیب توڑ کر جمع کرسکتا ہے۔
یہ روبوٹ ’ابنڈنٹ روبوٹکس‘ نے امریکہ میں تارکینِ وطن سے متعلق بدلتی ہوئی پالیسی کے پس منظر میں تیار کیا ہے کیونکہ امریکہ بھر کے زرعی علاقوں میں زیادہ تر کام غیرملکی تارکینِ وطن ہی کرتے ہیں۔ تاہم یہ روبوٹ اتنی تیزی سے کام کرتا ہے کہ 10 افراد کے برابریا اسی تیزی سے درختوں سے پھل اتارسکتا ہے۔ تاہم ابھی یہ صرف سیب توڑ رہا ہے اور انہیں احتیاط سے ایک جگہ جمع کرسکتا ہے۔
ابنڈنٹ روبوٹکس کے سی ای او اور شریک بانی ڈین اسٹیر کے مطابق روبوٹ سیب درخت سے توڑ کربالکل انسانوں کی طرح کریٹ میں جمع کرسکتا ہے۔ لیکن اسے نیند، کھانے اور وقفہ لینے کی ضرورت نہیں ہوتی اور اس وقت ایک روبوٹ 10 انسانوں کے برابر کام کررہا ہے۔
تاہم کسان تنظیموں نے اس روبوٹ پر تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔ لیکن کمپنی کے مطابق بڑھتے ہوئے مسائل کا حل نکالنا ضروری ہے اور یہ روبوٹ اس کا مؤثر حل ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ 1800 کی ابتدا میں زراعت میں مشینری کی آمد سے بہت تبدیلیاں واقع ہوئی تھیں اور اب دوبارہ زرعی نظام کو جدید کرنے کا وقت آگیا ہے جو وقت کا عین تقاضا بھی ہے۔

جمعہ، 12 مئی، 2017

پلوں اور سڑکوں میں نقص معلوم کرنے والا روبوٹ


یہ روبوٹ انسانوں سے بھی بہتر انداز میں پلوں اور سڑکوں کی تعمیراتی خامیاں بھانپ سکتا ہے۔ فوٹو بشکریہ نیوسائنٹسٹ
یہ روبوٹ انسانوں سے بھی بہتر انداز میں پلوں اور سڑکوں کی تعمیراتی خامیاں بھانپ سکتا ہے۔ فوٹو بشکریہ نیوسائنٹسٹ
نیواڈا: دنیا بھر میں پلوں اورسڑکوں کی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے اور بڑے پلوں کا معمولی نقص وقت کے ساتھ ساتھ ایک بڑے حادثے کی وجہ بن سکتا ہے لیکن اب امریکی سائنسدانوں نے اس مسئلے کا بھی روبوٹک حل ڈھونڈ نکالا ہے۔
یونیورسٹی آف نیواڈا کے انجینئروں نے دنیا کا پہلا خودمختار روبوٹ بنایا ہے جو پلوں کا جائزہ لے سکتا ہے اوریہ روبوٹ ٹریفک روانی متاثر کیے بغیر اپنا کام کرتا رہتا ہے۔ اگرچہ جدید طریقوں میں پلوں اور سڑکوں کی نگرانی میں وہاں سوراخ کرکے اندر موجود مٹیریل، کنکریٹ اورفولادی ساخت کا جائزہ بھی لیا جاتا ہے تاہم 1980  کے عشرے میں ایجاد ہونے والے ریڈار سے یہ کام آسان ہوگیا ہے۔ لیکن اب بھی لوگوں کے ذریعے پلوں کا سروے کرانا ایک مہنگا عمل ہوتا ہے اور اس کے لیے پلوں سے ٹریفک کی آمدورفت معطل کرناپڑتی ہے مگر اس روبوٹ سے یہ کام بہتر انداز میں انجام دیا جاسکتا ہے۔
چار پہیوں والا یہ روبوٹ واٹر پروف ہے اور بیٹری سے چلتا ہے۔ اس میں برقی سینسر اور گراؤنڈ پینیٹریٹنگ ریڈار بھی موجود ہے جو پل کے اندر شکستہ حصوں اور زنگ آلود اسٹیل اسٹرکچر کا جائزہ لے کرخطرے  سے خبردار کرتا ہے۔ روبوٹ کا کمپیوٹر نظام ایک الگورتھم بھی رکھتا ہے جو پل کو مختلف کلر کوڈ میں دکھاتا ہے جس سے پل کے کمزور پہلو اور نقائص ظاہر ہوجاتے ہیں۔
ماہرین نے اسے امریکا کے چار بڑے شہروں کے پلوں پر آزمایا جہاں اس نے اپنی تیزی اور افادیت میں انسانی ماہرین کو مات دیدی۔ اگرچہ یہ پلوں کا جائزہ لینے میں انسان کی طرح وقت صرف کرتا ہے لیکن ڈیٹا کو گھنٹوں کی بجائے منٹوں میں پروسیس کرتا ہے، اب یہ ٹیم اسے مزید تیز بنارہی ہے۔
تعمیراتی ماہرین نے اس روبوٹ کی کارکردگی کو سراہا ہے لیکن بعض نے مشورہ دیا کہ انسانی آنکھ اور سمجھ بوجھ اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ اس روبوٹ کو انسانی سرویئر کے ساتھ استعمال کیا جائے تاکہ پلوں کو مزید بہتر انداز میں دیکھا جاسکے۔

جمعرات، 11 مئی، 2017

الٹراساؤنڈ سے کپڑے خشک کرنے والی مشین


اس ڈرائر کا ایک پروٹوٹائپ الٹراساؤنڈ فرنٹ لوڈنگ واشنگ مشین جیسا ہے جو گیلے کپڑوں کو منٹوں میں خشک کرسکتا ہے۔
فوٹو: امریکی محکمہ توانائی
اس ڈرائر کا ایک پروٹوٹائپ الٹراساؤنڈ فرنٹ لوڈنگ واشنگ مشین جیسا ہے جو گیلے کپڑوں کو منٹوں میں خشک کرسکتا ہے۔ فوٹو: امریکی محکمہ توانائی
ٹینیسی: امریکی انجینئروں نے الٹراساؤنڈ کی مدد سے کپڑے خشک کرنے والی ایک ایسی مشین ایجاد کرلی ہے جو روایتی ڈرائر کے مقابلے میں آدھے وقت میں اور بہت کم بجلی استعمال کرتے ہوئے کپڑے مکمل طور پر سُکھا دیتی ہے۔
امریکی محکمہ توانائی کی اوک رِج نیشنل لیبارٹری میں ایرانی نژاد ماہر ایوب مہدی زادہ مومن کی سربراہی میں 2 سالہ تحقیق کے بعد اب اس ’’الٹراسونک ڈرائر‘‘ کے 2 پروٹوٹائپ بنالیے گئے ہیں جو متوقع طور پر اگلے 3 سال تک فروخت کےلیے دستیاب ہوجائیں گے۔
انتہائی بلند فریکوئنسی والی آواز کی وہ لہریں جنہیں انسانی کان نہیں سن سکتے ’’الٹراساؤنڈ‘‘ یا ’’بالاصوتی لہریں‘‘ کہلاتی ہیں جن کا عام استعمال طبّی تشخیصی آلات بطورِ خاص الٹراساؤنڈ مشینوں میں کیا جاتا ہے۔ البتہ یہی لہریں اپنی زبردست تھرتھراہٹ کی وجہ سے پانی کو بڑی تیزی سے بھاپ میں بھی تبدیل کرسکتی ہیں اور اس الٹراسونک ڈرائر کا عملی راز بھی یہی ہے۔
اس میں خاص طرح کے چھوٹے چھوٹے پیزوالیکٹرک ٹرانس ڈیوسر لگائے گئے ہیں جن میں سے بجلی گزاری جاتی ہے تو بڑی تیزی سے تھرتھرانے لگتے ہیں اور الٹراساؤنڈ (بالاصوتی لہریں) خارج کرتے ہیں۔ جب یہ شدید لہریں اپنے قریب موجود پانی تک پہنچتی ہیں تو اسے صرف چند سیکنڈوں میں بھاپ بنا کر اُڑا دیتی ہیں اور اگر وہ پانی کسی گیلے کپڑے کا حصہ ہوگا تو وہ کپڑا بھی بہت کم وقت میں سوکھ جائے گا۔ گزشتہ سال کیے گئے تجربات کے دوران ایسے ہی ایک ٹرانس ڈیوسر نے صرف 20 سیکنڈ میں گیلا کپڑا خشک کردیا تھا جب کہ اس پورے عمل کے دوران وہ گرم بھی نہیں ہوا۔
اسی کام کو آگے بڑھاتے ہوئے اب جو پروٹوٹائپ الٹراسونک ڈرائر بنائے گئے ہیں ان میں سے ایک فرنٹ لوڈنگ واشنگ مشین جیسا ہے جو کپڑوں کو گھماتے ہوئے خشک کرتا ہے۔ متوقع طور پر اسے کسی جدید آٹومیٹک واشنگ مشین کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ وہ کپڑے دھونے کے بعد انہیں مکمل خشک بھی کرسکے۔
ایوب مومن کو امید ہے کہ آئندہ چند برسوں تک یہ الٹراسونک ڈرائر 500 ڈالر میں دستیاب ہوگا اور اگر یہ رائج ہوگیا تو صرف امریکا میں اس کی بدولت سالانہ 9 ارب ڈالر (95 ارب پاکستانی روپے) کی بچت ہوسکے گی۔

گوگل نے نیا ’’خفیہ آپریٹنگ سسٹم‘‘ تیار کرلیا


فوشیا نامی یہ آپریٹنگ سسٹم اسمارٹ فون، ٹیبلٹ، لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر پر یکساں سہولت سے انسٹال کیا جاسکے گا،
فوٹو: آرس ٹیکنیکا
فوشیا نامی یہ آپریٹنگ سسٹم اسمارٹ فون، ٹیبلٹ، لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر پر یکساں سہولت سے انسٹال کیا جاسکے گا، فوٹو: آرس ٹیکنیکا
سلیکان ویلی: گوگل کے نئے خفیہ آپریٹنگ سسٹم ’’فوشیا‘‘ (Fuchsia) کی تفصیلات منظرِ عام پر آگئی ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ مستقبل میں یہ اینڈروئیڈ اور کروم آپریٹنگ سسٹم کی جگہ لے گا جب کہ اسے اسمارٹ فون، ٹیبلٹ، لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر پر یکساں سہولت سے انسٹال اور استعمال کیا جاسکے گا۔
فوشیا آپریٹنگ سسٹم کے بارے میں اوّلین خبریں اگست 2016 میں آئی تھیں اور اس وقت یہ صرف کمانڈ لائن پر مشتمل تھا لیکن صرف چند ماہ کے عرصے میں گوگل نے اس پر تیزی سے کام آگے بڑھایا اور اب اس کا پروٹوٹائپ تیار کرلیا گیا ہے جو بظاہر اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ کے لیے ہے۔
انٹرنیٹ پر فوشیا آپریٹنگ سسٹم کی حال ہی میں جاری کی گئی نئی تصویروں، اسکرین شاٹس اور تکنیکی تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ گوگل کا کثیر لسانی ’’جی بورڈ‘‘ اس کا ڈیفالٹ کی بورڈ ہوگا، ڈیوائس اسکرین پر بیک وقت تین سے چار ایپس کھولی جاسکیں گی، صارف کی پروفائل پکچر اس کے ہوم پیج پر دکھائی دے گی جب کہ اس کے یوزر انٹرفیس کو ’’آرماڈیلو‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ فوشیا میں ہوم اسکرین بھی 2 حصوں میں تقسیم کی جاسکے گی لیکن اس بات کا فیصلہ صارفین اپنی مرضی سے کرسکیں گے۔
کمپیوٹر ہارڈویئر اور اسمارٹ فون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ’’فوشیا‘‘ کے ساتھ ہی گوگل نے مشہورِ زمانہ ’’لینکس‘‘ پر انحصار ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے کیونکہ یہ نیا آپریٹنگ سسٹم ’’میجنٹا‘‘ مائیکروکرنل سے استفادہ کرتا ہے جو لینکس کرنل سے بالکل مختلف ہے۔ کسی بھی آپریٹنگ سسٹم میں ’’کرنل‘‘ وہ کلیدی پروگرام ہوتا ہے جس کے بغیر وہ کام ہی نہیں کرسکتا۔
تکنیکی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ فوشیا کو بطورِ خاص طاقتور مائیکروپروسیسرز والے نئے ٹیبلٹس، اسمارٹ فونز اور کمپیوٹروں کےلیے تیار جارہا ہے۔ ماضی میں گوگل کے ڈیویلپر اس بات پر شکایت کرتے رہے ہیں کہ اینڈروئیڈ خاصا پیچیدہ ہے جس پر کام کرنے میں انہیں کئی مسائل کا سامنا رہتا ہے لیکن شاید فوشیا اپنے سادہ اور منظم ڈیزائن کی بدولت ڈیویلپرز کے لیے بھی بہتر ثابت ہوسکتا ہے۔
فوشیا میں انٹرفیس اور ایپس لکھنے کے لیے گوگل کی تیار کردہ سافٹ ویئر ڈیویلپمنٹ کِٹ ’’فلٹر‘‘ (Flutter) استعمال کی گئی جو بڑے ڈیٹا (بگ ڈیٹا) کے لیے ترمیم شدہ جاوا اسکرپٹ ’’ڈارٹ‘‘ میں لکھی گئی ہے۔
اگرچہ ’’فوشیا‘‘ کی تمام تفصیلات یہی ظاہر کرتی ہیں کہ اسے عام صارفین کے لیے ہی بنایا جارہا ہے لیکن فی الحال یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ گوگل اس منصوبے کو کب مکمل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور یہ کہ اسے کب تک عام صارفین کے لیے پیش کیا جائے گا۔