جمعہ، 31 مارچ، 2017

پاکستانی نژاد برطانوی نوجوان انقلابی ایجاد سے کروڑ پتی بن گیا

نوجوان نے اسمارٹ فون سے آن اور آف ہونے والے سادہ سوئچ بنائے تھے جس سے سالانہ اربوں روپے بچائے جاسکتے ہیں
نوجوان نے اسمارٹ فون سے آن اور آف ہونے والے سادہ سوئچ بنائے تھے جس سے سالانہ اربوں روپے بچائے جاسکتے ہیں
کینٹ، برطانیہ: پاکستانی نژاد برطانوی نوجوان موجد اپنی سادہ اور حیرت انگیز ایجاد کی بدولت اب تک 13 کروڑ روپے (10 لاکھ برطانوی پونڈ) کی رقم بطور سرمایہ جمع کرچکا ہے۔
یاسر خٹک کی عمر اس وقت 21 برس ہے اور انہوں نے اسکول کے دور میں ایک سادہ سوئچ اور ساکٹ بنایا تھا جسے اسمارٹ فون ایپ کے ذریعے کھولا اور بند کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ایپ استعمال ہونے والی بجلی کی مقدار اور حفاظتی اقدامات سے بھی ہاتھوں ہاتھ آگاہ کرتی ہے۔ اس کا عملی مظاہرہ یاسر نے اسکول کے ایک پروجیکٹ میں کیا تھا۔
اب یاسر خٹک نے ایک ٹیکنالوجی کمپنی (اسٹارٹ اپ) بنالی ہے اور ان کی ایجاد کو اگر صرف برطانیہ میں ہی استعمال کیا جائے تو اس سے سالانہ پونے 2 ارب پونڈ کی بچت کی جاسکتی ہے۔ موبائل کو ریموٹ کنٹرول کے طور پر استعمال کرکے گھریلو روشنیاں اور برقی آلات کھولے اور بند کیے جاسکتے ہیں۔
نوجوان نے ممتاز سائنسدان سرجیمس ڈائسن کی سوانح سے متاثر ہوکر ایسی شے بنانے کا ارادہ کیا جو روزمرہ استعمال ہوسکے اور اس سے رقم کی بچت بھی ہوسکے۔ ان کی ایجاد نے اسکول میں ہی 20 ہزار پونڈ کی سرمایہ کاری حاصل کرلی تھی۔
یاسر خٹک کی ایپ فون چارجر سے لے کر فالتو بلبوں تک کو اس وقت بند کرتی ہے جب وہ استعمال نہیں ہورہے ہوتے۔ صرف برطانیہ میں ہی لوگ 16 فیصد بجلی ضائع کردیتے ہیں جس سے 25 لاکھ گھروں کو بجلی فراہم کی جاسکتی ہے۔
اس ایپ کے لیے پہلے سے استعمال ہونے والے سوئچ کو دور سے آن آف کرنے کے قابل بنایا جاسکتا ہے۔ یاسر کے مطابق اس سسٹم سے بچے، بوڑھے اور دیگر ایسے افراد بھی فائدہ اٹھاسکتے ہیں جنہیں اٹھنے اور بیٹھنے میں مشکل پیش آتی ہے یا جن کا ہاتھ بجلی کے نظام تک نہیں پہنچ پاتا۔

جمعرات، 30 مارچ، 2017

سام سنگ گیلکسی ایس 8 کے پانچ بہترین فیچرز

گیلکسی ایس 8 کا اسکرین کناروں سے خمیدہ ہے اور ایک ڈیسک ٹاپ پی سی کی جگہ استعمال کیا جاسکتا ہے، فوٹو؛ اے ایف پی
گیلکسی ایس 8 کا اسکرین کناروں سے خمیدہ ہے اور ایک ڈیسک ٹاپ پی سی کی جگہ استعمال کیا جاسکتا ہے، فوٹو؛ اے ایف پی
نیویارک: سام سنگ نے آخرکار اپنی اہم ترین ایجاد فروخت کے لیے پیش کرہی دی جو نیا گیلکسی ایس 8 ہے جس کے 5 بہترین فیچرز ایسے ہیں جس کے متعلق کہا جارہا ہےکہ یہ آئی فون کو بھی پیچھے کرسکتے ہیں۔
کچھ ماہ قبل نوٹ 7 فون کی بیٹری از خود جلنے سے نہ صرف سام سنگ کو شدید خفت اٹھانا پڑی تھی بلکہ اسے شدید مالی نقصان بھی سہنا پڑا تھا تاہم اب جنوبی کوریا کی اس کمپنی  نے اپنے نئے ماڈل کو اسمارٹ فون کی دنیا میں ایک نئے ڈیزائن کے عہد سے تعبیر کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق  سام سنگ 8 اور 8 پلس فون اگلے آئی فون 7 کو مات دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق نئے اسمارٹ فون کے درج ذیل 5 نئے فیچر ایپل آئی فون سےکئی گنا بہتر ہیں۔
1: انفنیٹ ڈسپلے ( خمیدہ اسکرین)
سام سنگ گیلکسی ایس 8 اورایس 8 پلس فون کا سب سے قابلِ ذکر فیچر ’’انفنٹی ڈسپلے‘‘ ہے ۔ اس کا پورا فرنٹ شیشے کا بنا ہوا ہے اور کناروں سے خمیدہ ہے یعنی اس کا ڈسپلے کناروں سے مڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ سام سنگ نے ہوم بٹن ختم کردیا ہے اور اسکرین کے نیچے دباؤ محسوس کرنے والا ایک سیکشن لگایا ہے جو ہوم بٹن کی جگہ استعمال ہوسکتا ہے۔
انفنیٹی ڈسپلے کی وجہ سے اب سام سنگ ڈسپلے کی گنجائش بڑھ گئی ہے۔ ایس ایٹ اور ایس ایٹ پلس کا اسکرین سائز بالترتیب  5.8 اور 6.2 ہوگیا ہے جب کہ فون کی جسامت میں کوئی اضافہ نہیں کرنا پڑا ہے۔
2: بکس بائی ڈجیٹل اسسٹنٹ
گیلکسی ایس 8 میں سام سنگ نے بکس بائی ڈیجیٹل اسسٹنٹ متعارف کرایا ہے جو ایپل کے وائس کمانڈ سسٹم سائری سے مشابہہ ہے۔ اس کے ذریعے صارفین تصاویرسرچ کرنے، جیولوکیشن معلوم کرنے اور قریب موجود سہولیات کا جائزہ لے سکیں گے۔ اس کے لیے فون مصنوعی ذہانت ( اے آئی) استعمال کرتا ہے۔
3:چہرے کی شناخت اور آئرس اسکینر
سام سنگ نے اپنے بدنصیب نوٹ 7 فیبلٹ سے ایک ایجاد گیلکسی ایس 8 میں شامل کی ہے جو آئرس اسکینر ہے۔ اس میں چہرہ شناخت کرنے والا ( فیشل ریکگنیشن) نظام ہے جو آپ کا چہرہ دیکھتے ہی فون کو ان لاک کردیتا ہے اور اس طرح آپ کے رخِ روشن سے یہ فون کھل جائے گا۔
سام سنگ کے مطابق سیکیورٹی کا یہ فیچر اس سے قبل کبھی کسی اسمارٹ فون کا حصہ نہیں رہا ہے۔
4: ڈیکس اسٹیشن
سام سنگ اپنے نئے ایس 8 فون کے ساتھ ایک ڈیکس اسٹیشن بھی پیش کررہا ہے جو اسمارٹ فون کو ایک ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر میں تبدیل کرکے اسے ایک مکمل پی سی میں تبدیل کردیتا ہے۔ اب یہ کمپنی مائیکروسوفٹ کے ساتھ کام کرکے اس میں ایکسل، پاور پوائنٹ اور دیگر سافٹ ویئر بھی متعارف کرارہی ہے۔
5: کبھی نہ جلنے والی بیٹری
نوٹ 7 کی بیٹری میں آگ لگنے کے بے شمار واقعات نے سام سنگ کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور وہ سارے فون کمپنی کو واپس لے کر عوام کو رقم واپس کرنی پڑی تھی۔ اب دن رات کی محنت کے بعد سام سنگ نے کہا ہے کہ بلند کارکردگی والی بیٹری کے ڈیزائن میں ایک خرابی تھی جس سے وہ جل کر بھڑک رہی تھیں۔
سام سنگ کے مطابق اس نے 8 پوائنٹ بیٹری سیفٹی چیک کے ذریعے اپنی نئی بیٹریوں کو اچھی طرح چیک کیا ہے تاکہ بیٹری کا بلند معیار حفاظت کے ساتھ برقرار رکھا جاسکے۔ اس کے بعد ایکسرے اور انسانی آنکھوں سے بھی بیٹری کا بغور مطالعہ کیا گیا۔ اب سام سنگ کا دعویٰ ہے کہ گیلکسی ایس 8 اور ایس 8 پلس کی بیٹریاں بالکل محفوظ  ہیں اور جل کر تباہ نہیں ہوں گی۔

گیلکسی ایس 8 کا اسکرین کناروں سے خمیدہ ہے اور ایک ڈیسک ٹاپ پی سی کی جگہ استعمال کیا جاسکتا ہے، فوٹو؛ اے ایف پی
گیلکسی ایس 8 کا اسکرین کناروں سے خمیدہ ہے اور ایک ڈیسک ٹاپ پی سی کی جگہ استعمال کیا جاسکتا ہے، فوٹو؛ اے ایف پی
نیویارک: سام سنگ نے آخرکار اپنی اہم ترین ایجاد فروخت کے لیے پیش کرہی دی جو نیا گیلکسی ایس 8 ہے جس کے 5 بہترین فیچرز ایسے ہیں جس کے متعلق کہا جارہا ہےکہ یہ آئی فون کو بھی پیچھے کرسکتے ہیں۔
کچھ ماہ قبل نوٹ 7 فون کی بیٹری از خود جلنے سے نہ صرف سام سنگ کو شدید خفت اٹھانا پڑی تھی بلکہ اسے شدید مالی نقصان بھی سہنا پڑا تھا تاہم اب جنوبی کوریا کی اس کمپنی  نے اپنے نئے ماڈل کو اسمارٹ فون کی دنیا میں ایک نئے ڈیزائن کے عہد سے تعبیر کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق  سام سنگ 8 اور 8 پلس فون اگلے آئی فون 7 کو مات دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق نئے اسمارٹ فون کے درج ذیل 5 نئے فیچر ایپل آئی فون سےکئی گنا بہتر ہیں۔
1: انفنیٹ ڈسپلے ( خمیدہ اسکرین)
سام سنگ گیلکسی ایس 8 اورایس 8 پلس فون کا سب سے قابلِ ذکر فیچر ’’انفنٹی ڈسپلے‘‘ ہے ۔ اس کا پورا فرنٹ شیشے کا بنا ہوا ہے اور کناروں سے خمیدہ ہے یعنی اس کا ڈسپلے کناروں سے مڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ سام سنگ نے ہوم بٹن ختم کردیا ہے اور اسکرین کے نیچے دباؤ محسوس کرنے والا ایک سیکشن لگایا ہے جو ہوم بٹن کی جگہ استعمال ہوسکتا ہے۔
انفنیٹی ڈسپلے کی وجہ سے اب سام سنگ ڈسپلے کی گنجائش بڑھ گئی ہے۔ ایس ایٹ اور ایس ایٹ پلس کا اسکرین سائز بالترتیب  5.8 اور 6.2 ہوگیا ہے جب کہ فون کی جسامت میں کوئی اضافہ نہیں کرنا پڑا ہے۔
2: بکس بائی ڈجیٹل اسسٹنٹ
گیلکسی ایس 8 میں سام سنگ نے بکس بائی ڈیجیٹل اسسٹنٹ متعارف کرایا ہے جو ایپل کے وائس کمانڈ سسٹم سائری سے مشابہہ ہے۔ اس کے ذریعے صارفین تصاویرسرچ کرنے، جیولوکیشن معلوم کرنے اور قریب موجود سہولیات کا جائزہ لے سکیں گے۔ اس کے لیے فون مصنوعی ذہانت ( اے آئی) استعمال کرتا ہے۔
3:چہرے کی شناخت اور آئرس اسکینر
سام سنگ نے اپنے بدنصیب نوٹ 7 فیبلٹ سے ایک ایجاد گیلکسی ایس 8 میں شامل کی ہے جو آئرس اسکینر ہے۔ اس میں چہرہ شناخت کرنے والا ( فیشل ریکگنیشن) نظام ہے جو آپ کا چہرہ دیکھتے ہی فون کو ان لاک کردیتا ہے اور اس طرح آپ کے رخِ روشن سے یہ فون کھل جائے گا۔
سام سنگ کے مطابق سیکیورٹی کا یہ فیچر اس سے قبل کبھی کسی اسمارٹ فون کا حصہ نہیں رہا ہے۔
4: ڈیکس اسٹیشن
سام سنگ اپنے نئے ایس 8 فون کے ساتھ ایک ڈیکس اسٹیشن بھی پیش کررہا ہے جو اسمارٹ فون کو ایک ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر میں تبدیل کرکے اسے ایک مکمل پی سی میں تبدیل کردیتا ہے۔ اب یہ کمپنی مائیکروسوفٹ کے ساتھ کام کرکے اس میں ایکسل، پاور پوائنٹ اور دیگر سافٹ ویئر بھی متعارف کرارہی ہے۔
5: کبھی نہ جلنے والی بیٹری
نوٹ 7 کی بیٹری میں آگ لگنے کے بے شمار واقعات نے سام سنگ کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور وہ سارے فون کمپنی کو واپس لے کر عوام کو رقم واپس کرنی پڑی تھی۔ اب دن رات کی محنت کے بعد سام سنگ نے کہا ہے کہ بلند کارکردگی والی بیٹری کے ڈیزائن میں ایک خرابی تھی جس سے وہ جل کر بھڑک رہی تھیں۔
سام سنگ کے مطابق اس نے 8 پوائنٹ بیٹری سیفٹی چیک کے ذریعے اپنی نئی بیٹریوں کو اچھی طرح چیک کیا ہے تاکہ بیٹری کا بلند معیار حفاظت کے ساتھ برقرار رکھا جاسکے۔ اس کے بعد ایکسرے اور انسانی آنکھوں سے بھی بیٹری کا بغور مطالعہ کیا گیا۔ اب سام سنگ کا دعویٰ ہے کہ گیلکسی ایس 8 اور ایس 8 پلس کی بیٹریاں بالکل محفوظ  ہیں اور جل کر تباہ نہیں ہوں گی۔

فیس بک میسنجرپراب لائیو لوکیشن شیئرکریں

فیس بک میسنجر میں لائیو لوکیشن کا آپشن آن کرنے کے بعد کسی بھی دوست کے ساتھ اپنا مقام شیئر کریں۔ فوٹو:فائل
فیس بک میسنجر میں لائیو لوکیشن کا آپشن آن کرنے کے بعد کسی بھی دوست کے ساتھ اپنا مقام شیئر کریں۔ فوٹو:فائل
نیویارک: فیس بک میسنجر پر اب آپ اپنے دوستوں کو نہ صرف براہ راست اپنے مقام سے متعلق آگاہ کرسکیں گے بلکہ آپ اپنی لوکیشن کا تبادلہ ایک گھنٹے تک کرسکیں گے۔
فیس بک کے اس نئے فیچر سے آپ کسی گنجان جگہ پر گم ہونے کی صورت میں اپنے دوستوں کو براہ راست اپنی لوکیشن کے بارے میں بتا سکتے ہیں اور اس فیچر کو آن کرتے ہی آپ ایک گھنٹے تک براہ راست لوکیشن سے آگاہ کرسکتے ہیں، یعنی آپ کے دوست آپ کے مقام کی جگہ ایک گھنٹے تک دیکھ سکیں گے۔
فیس بک کا لائیو لاکیشن آپشن استعمال کرنے کے لئے آپ میپ پر اپنی موجودہ لوکیشن دیکھیں گے جس پر نیلے رنگ کا ٹیپ آپشن موجود ہوگا جسے دبانے کے بعد آپ جہاں جہاں جائیں گے آپ کے دوستوں کو اس مقام پر پتا چلتا رہے گا اور اس کا دورانیہ ایک گھنٹے تک ہوگا اور جس دوست کو بھی آپ اپنی لوکیشن شیئر کریں گے اسے ٹھیک ٹھیک اس مقام کے بارے میں معلوم ہوتا رہے گا یہی نہیں بذریعہ کار اس مقام تک پہنچنے کے لئے جتنا وقت درکار ہوگا اس کا بھی پتہ چلے گا۔
نقشے کے بالکل نیچے ایک گھڑی ہوگی جس میں آپ کی لائیو لوکیشن کا دورانیہ آرہا ہوگا اور کسی بھی وقت آپ ٹیپ بٹن کو دوبارہ دبا کر آپشن کو بند بھی کرسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ لائیو لوکیشن کی سہولت گوگل میپ اور ایپل پہلے ہی صارفین کو فراہم کرچکے ہیں لیکن فیس بک میسنجر میں اس آپشن کے شامل ہونے کے بعد صارفین کی بڑی تعداد اسے استعمال کرسکے گی۔

گوگل کا جی چیٹ ختم کرکے نئی ایپ لانے کا اعلان

26 جون سے گوگل ٹاک یا جی چیٹ سروس بند کی جارہی ہے، گوگل، فوٹو؛ فائل
26 جون سے گوگل ٹاک یا جی چیٹ سروس بند کی جارہی ہے، گوگل، فوٹو؛ فائل
سان فرانسسكو: سرچ انجن اور ویب سروس کی مشہور کمپنی گُوگل نے اعلان کیا ہے کہ اگلے چند ماہ میں گُوگل ٹاک یا جی چیٹ اور اس کی ایپ کو بند کردیا جائے۔
گوگل کی جانب سے گُوگل ٹاک یا جی چیٹ اور اس کی ایپ کو بند کرنے کے بعد اسے استعمال کرنے والے کروڑوں صارفین اس کی جگہ قدرے کم استعمال ہونے والی ایپلی کیشن گُوگل ہینگ آؤٹ استعمال کرسکیں گے۔
اس کی وجہ ماہرین نے یہ بتائی ہے کہ گُوگل اپنی بعض ایپلی کیشن اور سہولیات میں تبدیلی کرنا چاہتا ہے۔ اس سال 26 جون سے جی میل چیٹ یا جی چیٹ کے نام سے مشہور سروس اور فون ایپ دونوں بند ہوجائیں گی اور اس کی جگہ گُوگل ہینڈ آؤٹ استعمال کی جاسکے گی جو چار سال قبل متعارف کرائی گئی تھی۔ جی چیٹ 2005 میں پہلی مرتبہ منظرِ عام پر آئی تھی۔
گُوگل نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ وہ میسجنگ اور چیٹنگ کے لیے ایکس ایم پی پی پر بھی اپنا انحصار ختم کررہا ہے اور اس کی وجہ کچھ بھی ہو اصل بات یہ ہے کہ اب آپ گوگل ہینگ آؤٹ کی عادت اختیار کرلیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 75 لاکھ سے زائد افراد جی چیٹ کا باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں۔
گوگل وائس کا آپشن بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ گُوگل نے اپنی ویب سائٹ پر اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے چند ماہ میں تمام صارفین کو اس سے آگاہ کیا جائے گا اور اینڈروئیڈ استعمال کرنے والوں سے کہا ہے کہ وہ پلے اسٹور سے ہینگ آؤٹ ایپ انسٹال کریں۔

سائنسی جدت کے ساتھ کیسا ہوگا 2117؟

آنے والی صدی کی دنیا شاید آج سے اتنی زیادہ مختلف ہو کہ ہم اس کےلیے اور وہ ہمارے لیے مکمل اجنبی ہو، فوٹو؛ فائل
آنے والی صدی کی دنیا شاید آج سے اتنی زیادہ مختلف ہو کہ ہم اس کےلیے اور وہ ہمارے لیے مکمل اجنبی ہو، فوٹو؛ فائل
کراچی: موجودہ رجحانات کی بنیاد پر مستقبل کے بارے میں اندازے لگانا اور پیش گوئیاں کرنا آج سماجی علوم کا ایک باقاعدہ شعبہ بن چکا ہے جسے فیوچرولوجی یعنی ’’مستقبلیات‘‘ کہا جاتا ہے۔
ذیل میں دی گئی پیش گوئیاں بھی اسی نوعیت کی ہیں جن میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے تحت گزشتہ اور حالیہ ترقی کے سماجی اثرات کو آپس میں مربوط کرتے ہوئے اندازے لگانے کی کوشش کی گئی ہے کہ آج سے 100 سال بعد یعنی 2117 میں ممکنہ طور پر توانائی اور رہائش کی کیفیت کیا ہوگی اور اس ضمن میں اُس وقت کی جدید ترین ٹیکنالوجی سے کیونکر استفادہ کیا جارہا ہوگا۔
آسمانی اور زمینی سورج: توانائی کی مسلسل بڑھتی ہوئی ضروریات اور ماحولیاتی تحفظ کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے بڑے  بڑے آئینوں کے منصوبوں پر کام ہورہا ہے جنہیں خلاء میں پہنچادیا جائے گا جہاں رہتے ہوئے وہ سورج کی روشنی کو زمین پر موجود کسی خاص مقام پر مرکوز کریں گے جس سے گیگاواٹ پیمانے جتنی بجلی بنائی جاسکے گی۔
دوسری جانب امید ہے کہ آئندہ 20 سے 30 سال میں ’’فیوژن‘‘ یعنی گداخت کہلانے والی نیوکلیائی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے صاف ستھری نیوکلیائی توانائی کا تجارتی پیمانے پر حصول بھی ممکن ہوجائے گا۔ یاد رہے کہ فیوژن ہی وہ عمل ہے جس کی بدولت سورج پچھلے 5 ارب سال سے روشنی  اور حرارت خارج کررہا ہے جس کی بدولت زمین پر زندگی کا تانا بانا قائم ہے۔
تھری ڈی پرنٹروں سے بنے مکانات: ماہرین کا اندازہ ہے کہ آئندہ 100 سال میں تھری ڈی پرنٹنگ کی ٹیکنالوجی اتنی ترقی  یافتہ ہوجائے گی کہ اس سے پورے مکانات تک تعمیر کیے جاسکیں گے۔ بڑے تھری ڈی پرنٹر اس وقت بھی بن چکے ہیں لیکن وہ صرف اینٹیں ہی تیار کرسکتے ہیں جب کہ دیواریں اور چھتیں ’’پرنٹ کرنے‘‘ والے تھری ڈی پرنٹروں پر کام تجرباتی مراحل میں ہے۔
آنے والے برسوں میں مزید جدت کے ساتھ یہ تھری ڈی پرنٹر اس قابل ہوجائیں گے کہ ان میں پورے گھر کا ڈیزائن فیڈ کردیا جائے اور وہ ضروری مواد استعمال کرتے ہوئے پورا مکان خودکار انداز میں تعمیر کردیں۔
میلوں بلند فلک بوس عمارتیں: دنیا کے امیر ممالک میں بلند سے بلند تر عمارتیں بنانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور ایسے منصوبے  منظرعام پر آچکے ہیں جن کے تحت ایک کلومیٹر سے لے کر پانچ کلومیٹر تک بلند عمارتیں تعمیر کی جائیں گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہلکے اور مضبوط مادّوں کی بدولت ایسی عمارتیں بنانا اب ممکن ہوگیا ہے جو پہلے امکان کے دائرے میں نہیں تھیں۔
آئندہ 100 سال میں یہ رجحان مزید تقویت پاچکا ہوگا اور کوئی بعید نہیں کہ 2117 میں اس دنیا کے باسی 10 کلومیٹر بلند یا اس سے بھی اونچی عمارتوں کے بارے میں جان کر حیرت زدہ نہ ہوں۔
زیرِ آب شہر: انسانی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے اور خدشہ ہے کہ چند عشروں ہی میں زمین کی ساری خشکی انسانی رہائش کےلیے  ناکافی پڑ جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ اب سطح سمندر پر تیرتے ہوئے شہر بتدریج حقیقت بنتے جارہے ہیں لیکن بات صرف یہیں تک محدود نہیں بلکہ ایسے شہروں پر بھی کام شروع ہوچکا ہے جو سمندروں کی تہہ میں ہوں گے اور جنہیں ’’زیرِ آب شہر‘‘ (sub-aqueous cities) کا نام دیا گیا ہے۔
سطح کی نسبت سمندری تہہ میں شہر بسانا بہت مشکل کام ہے کیونکہ وہاں رہنے والوں کو ہر وقت وافر آکسیجن، مناسب درجہ حرارت، موزوں روشنی، صاف پانی اور غذا کی فراہمی یقینی بنانا لازمی امور میں شامل ہوگا۔ موجودہ ٹیکنالوجی کی مدد سے چند ایک افراد تو کچھ عرصے کے لیے سمندر کی تہہ میں قیام کرسکتے ہیں لیکن سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں پورا شہر بسانا اور طویل عرصے تک وہاں پر لوگوں کو رہنے کی تمام سہولیات فراہم کرنا اس سے بھی کہیں زیادہ پیچیدہ اور دقت طلب معاملہ ہے جب کہ اس پر آنے والی لاگت بھی یقیناً بہت زیادہ ہوگی۔ ان تمام باتوں کے باوجود کم از کم ڈرائنگ بورڈ کی حد تک سمندری تہہ میں شہر بسانے کے منصوبوں پر کام مسلسل جاری ہے جب کہ ٹیکنالوجی میں ہونے والی ترقی اب ان منصوبوں کو حقیقت سے قریب تر لے آئی ہے۔
زمین دوز شہر: جب ہم سینکڑوں منزلہ عمارتیں بنانے اور سمندر کی تہہ میں شہر بسانے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں تو زمین دوز شہر آباد کرنے میں کیا قباحت ہے۔ ویسے  بھی زیرِ زمین شہروں کی تاریخ بھی کم از کم 55 ہزار سال قدیم ہے۔ البتہ اسے اکیسویں اور بیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایسے شہروں پر کام کرنا ہوگا جو زمین میں سینکڑوں میٹر گہرائی تک منزل در منزل بنے ہوں اور جہاں انسانی زندگی کی تمام ضروریات دستیاب بھی ہوں۔
’’ارتھ اسکریپر‘‘ کہلانے والے یہ شہر گھٹن سے پاک ہوں گے جن میں تازہ ہوا اور روشنی  پہنچانے کا خصوصی بندوبست کیا جائے گا جو بہت بڑے پیمانے پر ہوگا۔ زیرِ آب شہروں کی نسبت شاید ایسے شہروں کی تعمیر آسان ہو اور یہ اکیسویں صدی ختم ہونے سے پہلے ہی تعمیر کرلیے جائیں۔
ایک عمارت میں پورا شہر: ویسے تو آج کل ایک بلند و بالا عمارت میں ہزاروں افراد رہائش پذیر ہوتے ہیں لیکن یہ تذکرہ اتنی  بڑی عمارت کا ہے جس میں بیک وقت لاکھوں افراد رہ سکیں گے اور جن کے گھروں سے لے کر دفاتر تک اسی ایک عمارت میں واقع ہوں گے۔ ایک لاکھ سے زیادہ افراد کو ایک محدود جگہ میں اس طرح سمونے کے لیے کہ انہیں اپنی تمام ضروریاتِ زندگی وہیں میسر ہوجائیں، کوئی آسان کام ہرگز نہیں لیکن اسے ناممکن بھی نہیں کہا جاسکتا۔
ایک عمارت میں بنایا اور بسایا گیا شہر ہمارے موجودہ تصورات سے بالکل مختلف بھی ہوسکتا ہے اور شاید آج کے دور کا انسان اسے پسند بھی نہ کرے لیکن یہ معاملہ اگلی یعنی بائیسویں صدی میں انسانوں کو درپیش رہائشی مسائل کا ہے اور بہت ممکن ہے کہ ایسے ’’یک عمارتی شہر‘‘ میں ہر شخص صرف چند مکعب فٹ پر مشتمل ایک ’’دڑبہ نما فلیٹ‘‘ میں رہائش پذیر ہو۔

سام سنگ گیلکسی ایس 8 اور ایس 8 پلس منظرعام پرآگیا

سام سنگ گیلکسی ایس 8 اور ایس 8 پلس کی تمام خصوصیات تقریباً ملتی جلتی ہیں۔ فوٹو؛ فائل
سام سنگ گیلکسی ایس 8 اور ایس 8 پلس کی تمام خصوصیات تقریباً ملتی جلتی ہیں۔ فوٹو؛ فائل
سیئول: سام سنگ نے آئی فون کی ٹکر کا فلیگ شپ اسمارٹ فون گلیکسی ایس 8 اور ایس 8 پلس متعارف کرادیا۔
سام سنگ نے گلیکسی نوٹ 7 کی ناکامی کے بعد اب 2 نئے اسمارٹ فونز متعارف کرادیئے جن کا مقابلہ آئی فون کے اسمارٹ فونز سے کیا جارہا ہے۔ سام سنگ ایس 8،  5.8 انچ اسکرین اور ایس 8 پلس 6.2 انچ اسکرین کا حامل فون ہے جن میں اینڈرائڈ 7.0 سوفٹ ویئرانسٹال کیا گیا ہے۔
سام سنگ ایس 8 کا مین کیمرا یعنی پیچھے والا کیمرا 12 میگاپکسل اور فرنٹ کیمرا 8 میگاپکسل ہے جس میں 64 جی بی اسٹوریج کی جگہ ہے اور ساتھ ہی اضافی اسٹوریج کے لئے مائیکر ایس ڈی کارڈ کی سہولت بھی ہے۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ سام سنگ ایس 8 689 پاؤنڈ میں دستیاب ہوگا جو پاکستانی روپوں میں تقریباً 90 ہزار روپے میں دستیاب ہوگا۔
سام سنگ ایس 8 پلس میں جدید ترین اینڈروئیڈ آپریٹنگ سسٹم ’’7.6‘‘ انسٹال کیا گیا ہے جب کہ یہ اسنیپ ڈریگن 835 پروسیسر سے لیس ہے اور اس میں بھی 64 جی بی بلٹ ان میموری اور بیٹری 3 ہزار ایم اے ایچ کی ہے۔ سام سنگ ایس 8 پلس 779 پاؤنڈ میں دستیاب ہوگا جو کہ پاکستان روپوں میں تقریباً ایک لاکھ 12 ہزار روپے بنتے ہیں۔ سام سنگ 8 پلس کی خاص بات یہ ہے کہ آنکھ کی پتلی کی مدد سے اپنے مالک کو پہچاننے کے لیے اس میں ’’آئرس اسکینر‘‘ کا فیچر بھی دستیاب ہے۔
ان تمام باتوں کے علاوہ سام سنگ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے نئے فلیگ شپ اسمارٹ فونز میں خاص طور پر خیال رکھا گیا ہے کہ بیٹریوں میں آگ نہ لگے۔

اب فیس بک میسنجر ہر فون پر نہیں چلے گا


فیس بک نے مارچ کے اختتام پر بعض فونز میں اپنا میسنجر بند کرنے کا اعلان کیا ہے، فوٹو؛ فائل
فیس بک نے مارچ کے اختتام پر بعض فونز میں اپنا میسنجر بند کرنے کا اعلان کیا ہے، فوٹو؛ فائل
واشنگٹن: فیس بک نے چند دن بعد اپنے میسنجر ایپ کو کئی اہم اسمارٹ فونز پر بند کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
فیس بک کےآفیشل بلاگ میں کہا گیا ہے کہ ونڈوز پر چلنے والے بعض اسمارٹ فونز، وی 55 اور اینڈروئیڈ وی 10 آلات استعمال کرنے والے فونز اور آلات کے لیے اس کی سپورٹ ختم ہورہی ہے۔ اس کے علاوہ 10 اکتوبر 2011 یا اس سے پہلے کے آئی او ایس کے لیے بھی آئی پیڈ وی 26 اور میسنجر وی 8 کی سپورٹ بھی ختم کی جارہی ہے۔
کمپنی نے کہا ہے کہ ونڈوز فون 8 اور8.1  اور انہی ورژن کی ڈیسک ٹاپ ایپ بھی اب نہیں چل سکیں گی۔ فیس بک نے اپنے تمام صارفین سے کہا ہے کہ وہ یکم اپریل سے ہونے والی ان تبدیلیوں کو نوٹ کرلیں۔ اپنے ایک پیغام میں فیس بک نے میسنجر استعمال کرنے والے تمام صارفین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ مارچ کے اختتام کے بعد ان آئی او ایس سے بذریعہ میسنجر پیغام بھیج اور وصول نہیں کرسکیں گے۔
اس عمل کا دفاع کرتے ہوئے فیس بک نے اپنے بلاگ میں مزید کہا ہے کہ ہماری ٹیم نے دوستوں اور اہلِ خانہ سے رابطے کی سہولیات بہتر سے بہتر بنائی ہیں، ہم نے میسنجر پر وائس، ویڈیو کالنگ، گیمز اور بوٹس کے فیچرز کو بہتر سے بہتر بنایا ہے، اس لیے ایپ کے پرانے ورژن کے ساتھ یا تو یہ سہولیات پوری طرح نہیں چل پائیں گی یا بالکل ہی بند ہوسکتی ہیں۔
فیس بک نے ایسے تمام ہارڈویئرز استعمال کرنے والے صارفین سے کہا ہے کہ وہ اپنے آپریٹنگ سسٹم کو اپ ڈیٹ کرلیں تاکہ فیس بک اور میسنجر ایپ کے جدید ورژن کو استعمال کرسکیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل واٹس ایپ اور اسکائپ بھی ایسے ہی اقدامات کرچکے ہیں۔ گزشتہ برس 31 دسمبر کو واٹس ایپ نے اپ ڈیٹ ورژن متعارف کرایا تھا جس سے پرانے آپریٹنگ سسٹمز پر چلنے والے کروڑوں آلات پر واٹس ایپ چلانا ناممکن ہوگیا تھا۔