جمعہ، 24 مارچ، 2017

لچک دار سینسر کی تخلیق


  تہ کرکے جیب میں رکھے جانے والے اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ حقیقت بننے کے قریب
فوٹو : فائل
 تہ کرکے جیب میں رکھے جانے والے اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ حقیقت بننے کے قریب فوٹو : فائل
ٹچ اسکرین موبائل فون اور ٹیبلٹ کمپیوٹر کئی برسوں سے زیراستعمال ہیں۔ ان مفید آلات سے جُڑی ایک خامی ان کی نسبتاً  بڑی جسامت ہے جس کے باعث انھیں ساتھ رکھنا دشوار محسوس ہوتا ہے۔  بعض اوقات آپ جھنجلا بھی جاتے ہوں گے۔ ذرا تصور کیجیے کہ اگر ٹیبلٹ آپ کی مختصر سی جیب میں سمانے کے قابل ہوجائے تو کتنی آسانی ہوجائے گی۔ جب ضرورت پڑی باہر نکالا اور استعمال کرنے کے بعد تہ کرکے واپس جیب میں ڈال لیا۔ تہ ہوجانے والے اسمارٹ فون اور ٹیلبٹ کو ہمہ وقت ساتھ رکھنا کتنا آسان ہوجائے گا۔
تہ ہوجانے والے برقیاتی آلات کا تصور چند برس قبل پیش کیا گیا تھا جوحقیقت بننے کے مزید قریب آگیا ہے۔ ایسا سینسر تخلیق کرلیا گیا ہے جو کاغذ کی طرح تہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ کارنامہ برٹش کولمبیا یونی ورسٹی کے ماہرین نے انجام دیا ہے۔ یہ سینسر سلیکیون کی دو باریک پرتوں پر مشتمل ہے جن کے درمیان ایک جیلی نما مادّہ بھرا گیا ہے۔ یہ مادّہ برقی رَو کا بہت اچھا موصل ہے۔ یعنی اس میں سے بجلی بہ آسانی گزر سکتی ہے۔ سینسر انگلیوں کی پوروں کے دباؤ میں کمی بیشی کو محسوس کرسکتا ہے۔ یعنی چُھونے اور انگلی کے گھسیٹے جانے میں  فرق کرسکتا ہے، چاہے اسے تہ کیا گیا ہو، موڑا گیا ہو یا عام حالت میں ہو۔ ہر تین صورتوں میں اسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بہ الفاظ دیگر  اس سینسر کی مدد سے بنے ہوئے اسمارٹ فون، ٹیبلٹ اور اسی نوع کے دوسرے آلات کو مذکورہ بالا حالتوں میں رکھتے ہوئے استعمال کیا جاسکے گا۔
دباؤ کو محسوس کرنے والے سینسرز مختلف آلات میں  زیراستعمال ہیںجیسے آئی فون کا ’ تھری ڈی ٹچ ‘۔ اسی طرح رگڑ یا گھسیٹے جانے کی حرکت کو محسوس کرلینے والے سینسر کا استعمال بھی کیا جارہا ہے، جیسے سام سنگ کا ’ ایئرویو ‘۔ پھر اس سینسر میں خاص بات کیا ہے؟ اس بارے میں یونی ورسٹی میں ڈاکٹریٹ کے طالب علم اور تحقیقی ٹیم کے رکن مرزا ثاقب سرور کہتے ہیں کہ ہماری تخلیق کردہ ڈیوائس ( سینسر) میں یہ دونوں خوبیاں یکجا ہوگئی ہیں۔
مرزا ثاقب اور ان کے ساتھیوں کی تیارکردہ ڈیوائس پانچ سینٹی میٹر لمبی اور اتنی ہی چوڑی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ سینسر کی  تیاری میں کم قیمت  میٹریل استعمال کیے گئے ہیں۔ یہ میٹیریل کتنے ارزاں ہیں؟ اس بارے میں محقق نے ایک عالمی جریدے میں شائع شدہ تحقیق میں لکھا ہے،’’ اگر اس سینسر سے ایک کمرہ بنا لیا جائے تو اس پر خرچ ہونے والی رقم چند ڈالر فی مربع میٹر سے زیادہ نہیں ہوگی۔‘‘ یوں اس سینسرز سے بنے آلات کا دہرا فائدہ ہوگا۔ ایک تو انھیں تہ کرکے جیب میں رکھا جاسکے گا،  دوسرے یہ موجودہ ڈیوائسز کی نسبت کم قیمت ہوں گے۔

اب گوگل کے ذریعے اپنے دوستوں کی موجودگی کا مقام جانیے


گوگل میپس کی ایپ کے ذریعے آپ روزانہ اور حقیقی وقت پر خود اپنے اور اپنے دوستوں کا مقام معلوم کرسکتے ہیں،
فوٹو: بشکریہ گوگل میپس
گوگل میپس کی ایپ کے ذریعے آپ روزانہ اور حقیقی وقت پر خود اپنے اور اپنے دوستوں کا مقام معلوم کرسکتے ہیں، فوٹو: بشکریہ گوگل میپس
سان فرانسسكو: گوگل میپس نے اپنی ایپ میں ایک نئے فیچر کا اضافہ کیا ہے جس کے ذریعے صارف اپنی موجودگی کے مقام کو دوسروں کے ساتھ حقیقی وقت ( رئیل ٹائم) میں شیئر کرسکتے ہیں اور اس طرح آپ اپنے دوستوں کو اپنی سمت اور مقام بتا کر ان کی رہنمائی بھی کرسکتے ہیں۔
اس سے قبل گوگل میپس نے 2013 میں گوگل پلس پر اسے ’’لیٹی چیوڈ‘‘ کا نام دیا تھا اور اب کی طرح اس میں بھی گوگل نقشہ استعمال ہوتا تھا جب کہ اب بھی یہ سہولت گوگل مپیس کے ساتھ بہتر انداز میں کام کرتی ہے اور اسی پر تنقید کی جارہی ہے کیونکہ ایسی بہت سی تھرڈ پارٹی ایپس اور آئی میسج کے ذریعے بھی لوگ ایک دوسرے کا مقام جان سکتے ہیں بلکہ بعض ایپس ایسی بھی ہیں جن کے ذریعے کئی گاڑیاں ایک طویل سفر پر ایک دوسرے سے رابطے میں رہتی ہیں۔
یہ فیچر اب دستیاب ہے لیکن اسے انفرادی استعمال کرنے کے لیے تھوڑی سی مشقت کرنا ہوگی اس کے لیے گوگل میپ ایپس کھول کر آن لائن رہتے ہوئے اس ’’ نیلے نقطے‘‘ پر ٹیپ کریں جو آپ کا مقام ظاہر کررہا ہے۔ ٹیپ کرتے ہی ایپ میں ایک سائیڈ مینو کھل جائے گا۔ اس میں سے ’’گیٹ اسٹارٹڈ‘‘ کا انتخاب کریں اور ’’شیئرلوکیشن‘‘‘ کا انتخاب کرکے ان لوگوں کے نمبر شامل کریں جنہیں آپ اپنی لوکیشن بتانا چاہتے ہیں۔ اسی طرح چند منٹ، چند گھنٹوں، مہینوں اور روزانہ کی بنیاد پر شیئرنگ کی جاسکتی ہے۔
جن لوگوں کے پاس گوگل میپس دیکھنے کی سہولت نہ ہو وہ ایس ایم ایس کے ذریعے آپ کے مقام سے آگاہ ہوسکیں گے تاہم آپ کی درست ترین موجودگی سے بعض مسائل بھی پیدا ہوسکتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ فیس بک نے گوگل جیسے ہی ایک نقشے پر اسے دکھانے والی ایپ بنائی تھی جس میں درست ترین مقام کا آپشن ختم کردیا گیا ہے اور اب صرف اس سے قریبی دوستوں کو دیکھا جاسکتا ہے۔
اس کے علاوہ آپ کے مقام کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹ دینے والی ایک ایپ فوراسکوائر بہت مشہور ہے جو پاکستان میں ہمارے کئی دوست کئی برس سے استعمال کررہے ہیں۔

الیکٹرانک چپس کو بجلی دینے اور ٹھنڈا کرنے والی بیٹری


ریڈوکس فلو بیٹریوں سے مائیکروچپس کو ٹھنڈا کرنے کے اضافی نظام کی ضرورت نہیں رہے گی
فوٹو: بشکریہ ای ٹی ایچ زیورخ یونیورسٹی
ریڈوکس فلو بیٹریوں سے مائیکروچپس کو ٹھنڈا کرنے کے اضافی نظام کی ضرورت نہیں رہے گی فوٹو: بشکریہ ای ٹی ایچ زیورخ یونیورسٹی
زیورخ: کمپیوٹرہویا موبائل فون ان کی مائیکروچپس اور پروسیسر کوٹھنڈا کرنے کے لیے اضافی پنکھوں اور وینٹی لیشن کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اب ایک نئی مائع بیٹری کی ایجاد سے یہ مسئلہ بہت حد تک حل ہوسکتا ہے جو بجلی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک چپس کو ٹھنڈا بھی رکھے گی۔
آئی بی ایم اور ای ٹی ایچ زیورخ یونیورسٹی کے ماہرین نے ایک چھوٹی ’’فلو‘‘ بیٹری بنائی ہے جو ایک ہی وقت میں مائیکروچپس کو بجلی دیتی ہے تو انہیں ٹھنڈا بھی رکھتی ہے۔ اسے ’’ریڈوکس فلو‘‘ کہتے ہیں جو مائع الیکٹرولائٹس استعمال کرتی ہے۔ یہ الیکٹرولائٹس بڑے پیمانے پر توانائی جمع کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ حال ہی میں ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایسی ہی ایک مائع الیکٹرولائٹ بیٹری بنائی ہے جو 10 سال تک توانائی جمع کرسکتی ہے اور خراب نہیں ہوتی۔ اس طرح یہ بیٹریاں سولر اور ہوائی قوت کی توانائی کو طویل عرصے تک جمع کرسکتی ہیں۔
لیکن ایسی بیٹریوں کو چھوٹا کرکے کسی چپ پر لگانا ایک الگ طرح کا چیلنج ہے۔ اس بنا پر آئی بی ایم اور ای ٹی ایچ زیورخ نے 2 اقسام کے مائع دریافت کیے جو فلو بیٹری الیکٹرولائٹس اور ٹھنڈا کرنے کے ایجنٹ کے طور پر استعمال ہوسکتے ہیں۔ یوں ایک ہی سرکٹ کو بجلی دینے اور اس کی حرارت زائل کرنے کا کام کرسکتے ہیں۔
اس کی تیاری کے لیے تھری ڈی پرنٹنگ سے مدد لی گئی ہے۔ ایک سسٹم پر باریک باریک چینل کاڑھے گئے ہیں جن میں مختلف الیکٹرولائٹس مختلف رفتار سے پمپ کیے جاتے ہیں۔ یہ الیکٹرولائٹس مختلف آئن کو فلو کراتے ہیں اور اس سے بجلی پیدا ہوتی ہے۔ اس طرح ایک مربع سینٹی میٹر چپ یا ویفرپر 1.4 واٹ بجلی بنتی ہے جب کہ پمپنگ کے بعد کچھ توانائی بچ رہتی ہے اور ایک ہی وقت میں یہ گرمی کو دور بھی گرتی ہے۔
فی الحال یہ بیٹری اپنی پیداوار سے زیادہ بجلی استعمال کررہی ہیں جو پمپنگ عمل کے لیے درکار ہوتی ہے تاہم انجینیئروں کی ٹیم اسے مزید بہتر سے بہتر بناکر اس فرق کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ لیکن ماہرین پرامید ہیں کہ اسے لیزر نظاموں، سولر سیل تنصیبات اور کئی اقسام کی بیٹریوں پر آزمایا جاسکتا ہے۔

سال 2017 بھی گرم ترین سال ہوسکتا ہے، عالمی موسمیاتی ماہرین


گزشتہ 130 سال کے مقابلے میں 2017 زیادہ گرم ہوسکتا ہے جس کے آثار جنوری اور فروری ہی سے نمایاں ہوچکے ہیں، ماہرین، فوٹو؛ فائل
گزشتہ 130 سال کے مقابلے میں 2017 زیادہ گرم ہوسکتا ہے جس کے آثار جنوری اور فروری ہی سے نمایاں ہوچکے ہیں، ماہرین، فوٹو؛ فائل
جنیوا: موسمیات کی عالمی تنظیم (ڈبلیو ایم او) کے ماہرین نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ 2017 بھی انسانی تاریخ کا ایک اور گرم ترین سال ثابت ہوسکتا ہے۔
دنیا بھر سے جنوری اور فروری کے مہینوں میں درجہ حرارت سے متعلق اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد ڈبلیو ایم او کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر قطبین (پولز) کا درجہ حرارت ان دو مہینوں کے طویل مدتی اوسط سے بہت زیادہ رہا تو امریکا میں بھی مجموعی طور پر جنوری اور فروری میں معمول سے بہت کم ٹھنڈک رہی۔
جنوبی نصف کرے میں واقع آسٹریلیا جہاں جنوری اور فروری میں گرمی کا موسم ہوتا ہے، وہاں بھی یہ دو مہینے شدید گرم ثابت ہوئے ہیں۔ ان تمام اعداد و شمار کی روشنی میں ماہرین کو خدشہ ہے کہ گزشتہ 130 سال کے مقابلے میں 2017 زیادہ گرم ہوسکتا ہے جس کے آثار جنوری اور فروری ہی سے نمایاں ہوچکے ہیں۔
واضح رہے کہ زمینی ماحول کو نقصان پہنچانے والی انسانی سرگرمیاں بڑھتی جارہی ہیں جن میں جنگلات اور درختوں کی بے دریغ کٹائی، فضا کو گرمانے والی گیسوں کے اخراج میں مسلسل اضافہ اور قابو سے باہر ہوتی ہوئی آبی آلودگی وغیرہ شامل ہیں جن کی وجہ سے عالمی ماحولیاتی تبدیلی (کلائمیٹ چینج) کا عمل بھی تیز تر ہوگیا ہے جس کا اہم ترین اثر زمینی درجہ حرارت میں اضافے کی شکل میں ظاہر ہورہا ہے۔

بدھ، 22 مارچ، 2017

دنیا کی سب سے لچک دار اسمارٹ فون اسکرین تیار


یہ لچک دار تجرباتی ٹچ اسکرین 5 سینٹی میٹر لمبی اور 5 سینٹی میٹر چوڑی ہے
فوٹو: یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا)
یہ لچک دار تجرباتی ٹچ اسکرین 5 سینٹی میٹر لمبی اور 5 سینٹی میٹر چوڑی ہے فوٹو: یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا)
برٹش کولمبیا: یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کے انجینئروں نے ایک ایسی انتہائی لچک دار ٹچ اسکرین کا پروٹوٹائپ تیار کیا ہے جسے کھینچا اور لپیٹا جاسکتا ہے جب کہ یہ دباؤ کے علاوہ قدرے فاصلے سے ہاتھ کی حرکت تک کو محسوس کرسکتی ہے۔
اگرچہ لچک دار برقی آلات تیار کرنے کی کوششیں پچھلے کئی سال سے جاری ہیں اور ان میں متعدد کامیابیاں بھی حاصل ہوچکی ہیں لیکن مذکورہ ٹچ اسکرین کو اس سلسلے میں اہم ترین پیش رفت قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ اس میں جیلی دار سلیکون (silicone) کی باریک پرت میں مختلف اقسام کے نہایت مختصر برقی آلات سموئے گئے ہیں جن میں سے کچھ تو دباؤ اور روشنی میں تبدیلی کو محسوس کرتے ہوئے سینسر کا کام کرسکتے ہیں جب کہ دیگر اقسام کے آلات بجلی کی منتقلی کا کام کرتے ہیں۔ دلچسپی کی بات تو یہ ہے کہ اس لچک دار ٹچ اسکرین میں استعمال کیے گئے سارے مادے بہت کم خرچ بھی ہیں۔
یہ لچک دار تجرباتی ٹچ اسکرین 5 سینٹی میٹر لمبی اور 5 سینٹی میٹر چوڑی ہے جسے یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا، کینیڈا کے مرزا ثاقب سرور اور ان کے ساتھی انجینئروں نے تیار کیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو مزید ترقی دے کر زیادہ بڑی اور عملی نوعیت کی ٹچ اسکرینز تیار کی جاسکیں گی جو اپنی لچک اور پائیداری کی بناء پر نہ صرف جدید ترین اسمارٹ فونز کا حصہ بن سکیں گی بلکہ انہیں مستقبل کے روبوٹس کے لیے انسانوں جیسی کھال تیار کرنے میں بھی استعمال کیا جاسکے گا۔
علاوہ ازیں آنے والے برسوں میں یہی لچک دار ٹچ اسکرین بالکل کاغذ جیسے برقی اخبارات اور ایسی ٹی وی اسکرینز کی بنیاد بھی بن سکیں گی جنہیں دیوار پر چپکایا اور ضرورت پڑنے پر لپیٹا جاسکے گا۔ غرض ہر وہ شعبہ جہاں لچک دار برقی آلات کا اطلاق ممکن ہے، ہر اس میدان میں یہ ٹچ اسکرین استعمال کی جاسکے گی۔ اس پروٹوٹائپ کی تفصیلات ’’سائنس ایڈوانسز‘‘ میں شائع ہوئی ہیں۔

مائیکروسافٹ کا نابینا پروگرامر تیار کرنے کا منصوبہ


پروجیکٹ ٹورینو کے پہلے مرحلے میں طالبعلموں کو فزیکل کوڈنگ سکھائی جاتی ہے اور اس پر مہارت کے بعد ڈجیٹل کوڈنگ کی تدریس کی جاتی ہے۔ فوٹو: بشکریہ مائیکروسوفٹ
پروجیکٹ ٹورینو کے پہلے مرحلے میں طالبعلموں کو فزیکل کوڈنگ سکھائی جاتی ہے اور اس پر مہارت کے بعد ڈجیٹل کوڈنگ کی تدریس کی جاتی ہے۔ فوٹو: بشکریہ مائیکروسوفٹ
واشنگٹن: پروگرامنگ اور کمپیوٹنگ سیکھنے کے لیے اب تیز نظر کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ مائیکرو سافٹ کارپوریشن نے نابینا بچوں کو پروگرامنگ سکھانے کے اچھوتے منصوبے کا آغاز کر دیا ہے۔
مائیکروسافٹ کے ریسرچ ڈپارٹمنٹ نے ’پروجیکٹ ٹورینو‘ کا اجرا کیا ہے جس کے تحت بصارت میں خرابی کے شکار بچوں کو کوڈنگ سکھائی جاتی ہے۔ اس کے ذریعے 7 سے 11 سال کے بچے اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ کوڈنگ سیکھ سکتے ہیں۔
پروجیکٹ ٹورینو میں سادہ اصولوں کے ذریعے بچوں کو ڈریگ اینڈ ڈراپ کمانڈ کے ذریعے کوڈنگ سکھائی جاتی ہے۔ ان سادہ امور کے ذریعے طالبعلم چھوٹے اور سادہ پروگرام بناسکتے ہیں مثلاً بھول بھلیوں سے گزرنا یا خلا میں آگے بڑھنا وغیرہ۔
ٹورینو کے تحت پلاسٹک کے موتی عین اسی طرح ایک دوسرے جڑتے ہیں جس طرح پروگرامنگ ٹولز میں کمانڈز دی جاتی ہیں۔ تاہم اسے کمپیوٹر کی بجائے فزیکل پروگرامنگ کہا جاسکتا ہے جس میں بچے اشیا کو چھو کر محسوس کرکے ان کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں۔ مثلاً ایک بار جب اشیا درست جڑجائیں تو وہ موسیقی خارج کرتی ہیں۔ اس کے اگلے یعنی ایڈوانسڈ ورژن میں بچوں کو فزیکل سے ڈجیٹل کوڈنگ تک لے جایا جاتا ہے۔ اس طریقے سے بچے دھیرے دھیرے اصل پروگرامنگ سیکھنے لگ جاتے ہیں اور وہ پروگرامنگ پر مہارت حاصل کرنے لگتے ہیں۔
مائیکروسافٹ کا خیال ہے کہ اس طرح کوڈنگ کے اچھے ماہرین پیدا ہوں گے اور اداروں میں پروگرامنگ اور کوڈنگ کے ماہرین کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔ اسی طرح بصارت میں خرابی یا اندھے پن کے شکار افراد کو باعزت روزگار بھی میسر آسکے گا۔
پروجیکٹ ٹورینو کے مطابق دنیا بھر میں 28 کروڑ سے زائد افراد نابینا پن یا بصارت می کمی کے شکار ہیں۔ فی الحال اس پروجیکٹ کے بی ٹا ورژن میں 100 طالبعلم شامل کئے گئے ہیں اور ان کا نصاب بہت خاص انداز میں ترتیب دیا گیا ہے۔

ماضی کا مقبول گیم "سپرماریو رن" اب اینڈرائڈ صارفین کو دستیاب ہوگا


اسمارٹ فون رکھنے والے افراد اپنے موبائل میں یہ گیم بالکل مفت ڈاؤن لوڈ کرسکیں گے۔۔ فوٹو: فائل
اسمارٹ فون رکھنے والے افراد اپنے موبائل میں یہ گیم بالکل مفت ڈاؤن لوڈ کرسکیں گے۔۔ فوٹو: فائل
ٹوکیو: انتظار کی گھڑیاں ختم ہوگئیں اور اب ننٹنڈو نے ماضی کے مقبول گیم سپر ماریو رن کا موبائل ورژن تیار کرلیا جو اب اینڈرائڈ صارفین کو دستیاب ہوگا۔
جاپان کی مشہور گیمز کی کمپنی ننٹنڈو نے مشہور زمانہ گیم ” سپر ماریو رن” کا موبائل ورژن تیار کرلیا جسے باقاعدہ طور پر کل لانچ کیا جائے گا اور اسمارٹ فون رکھنے والے افراد کل سے اپنے موبائل میں یہ گیم بالکل مفت ڈاؤن لوڈ کرسکیں گے تاہم کمپنی نے کسی حد تک گیم کو محدود رکھا ہے۔ ایسے صارفین جو انٹرنیٹ کے بغیر گیم کھیلیں گے انہیں صرف 3 راؤنڈ تک رسائی ہوگی تاہم انٹرنیٹ کنکشن آن کرنے کے بعد صارفین مفت میں تمام راؤنڈز کھیل سکیں گے۔
اس سے قبل ننٹنڈو نے دسمبر 2016 میں سپر ماریو رن کی موبائل ایپلی کیشن صرف آئی فون صارفین کے لئے تیار کی تھی جس نے لانچ کے صرف 12 گھنٹے سے بھی کم وقت میں آئی فون میں ڈاؤن لوڈ کئے جانے والے کسی بھی گیم کا ریکارڈ توڑ دیا تھا۔
واضح رہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیز ماضی کے مشہور پروڈکٹس کو تجدیدی عمل سے گزار کر ایک مرتبہ پھر متعارف کرا رہے ہیں اور اسی طرح نوکیا نے بھی اپنا مقبول ترین موبائل 3310 حال ہی میں متعارف کرایا ہے جسے پاکستان میں جون میں لانچ کیا جائے گا۔