ہفتہ، 18 فروری، 2017

فیس بک اب دہشت گردوں کی شناخت میں مدد کرے گی



زکربرگ کا کہنا تھا کہ فیس بُک کےلیے الگورتھمز کو بہتر بنانے پر کام شروع کیا جاچکا ہے جو آئندہ پانچ سال میں مکمل ہوجائے گا۔ (فوٹو: فائل)
زکربرگ کا کہنا تھا کہ فیس بُک کےلیے الگورتھمز کو بہتر بنانے پر کام شروع کیا جاچکا ہے جو آئندہ پانچ سال میں مکمل ہوجائے گا۔ (فوٹو: فائل)
سلیکان ویلی: مشہور سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک کے بانی  مارک زکربرگ نے کہا ہے کہ ان کا ادارہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے دہشت گردی اور شدت پسندانہ رجحانات رکھنے والے افراد کی نشاندہی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کرے گا۔
کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی دنیا میں ’’مصنوعی ذہانت‘‘ (آرٹی فیشل انٹیلی جنس) کا استعمال کوئی نئی بات نہیں اور سرچ انجنز سے لے کر سوشل میڈیا ویب سائٹس تک کسی نہ کسی حد تک اس کا استعمال کررہے ہیں جس کے تحت کسی بھی صارف کی جانب سے بار بار استعمال کئے گئے الفاظ (کی ورڈز) کو مدنظر رکھتے ہوئے خودکار طور پر سرچ اور مطابقت رکھنے والی پوسٹیں دکھائی جاتی ہیں۔
اسی طرح اب تک انٹرنیٹ پر تصاویر/ گرافکس پہچاننے والے الگورتھمز اور ان پر مشتمل سافٹ ویئر بھی اتنے جدید ہوچکے ہیں کہ وہ کسی تصویر کے ساتھ دیئے گئے مخصوص الفاظ یعنی کی ورڈز کے علاوہ تصویر میں دکھائی جانے والی جزئیات تک کی مدد سے اس بارے میں بہت کچھ بتاسکتے ہیں۔
مارک زکربرگ کا منصوبہ ان ہی الگورتھمز کو جدید تر کرتے ہوئے اس قابل بنانا ہے کہ وہ ہر ایک منٹ میں کروڑوں کے حساب سے کی جانے والی فیس بُک پوسٹوں کا متن کھنگال کر ان میں ایسے الفاظ کی نشاندہی کرسکیں جو شدت پسندی اور دہشت گردی کے علمبردار ہوں۔ مزید یہ کہ ان الگورتھمز کو اس قابل بھی بنانا ضروری ہوگا کہ وہ تصویر کی شکل میں تحریری پوسٹوں میں دی گئی عبارت کو پہچان سکیں یعنی ان میں ’’او سی آر‘‘ کی صلاحیت بھی آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو۔ علاوہ ازیں انہیں صرف تصاویر کے ظاہری خد و خال دیکھ کر یہ بھی جاننے کے قابل ہونا چاہئے کہ کہیں ان میں شدت پسندی یا دہشت گردی سے تعلق رکھنے والا کوئی منظر تو موجود نہیں۔
اگرچہ یہ صلاحیتیں پہلے ہی مصنوعی ذہانت سے لیس الگورتھمز اور متعلقہ سافٹ ویئر میں موجود ہیں لیکن سب سے بڑا چیلنج انہیں بہت زیادہ ڈیٹا (بگ ڈیٹا) کو بہت ہی کم وقت میں کھنگالنے اور درست نتائج دینے  کے قابل بنانا ہے۔ زکربرگ کے بقول، سوشل میڈیا پر روزانہ اربوں تعداد میں پوسٹیں، تصویریں اور تبصرے شیئر کرائے جاتے ہیں جنہیں فی الفور کھنگالنے کےلیے فیس بُک کے موجودہ سافٹ ویئر اور الگورتھمز یکسر ناکافی ہیں۔ انہیں اتنے بڑے پیمانے کے ڈیٹا کو کھنگالنے کم سے کم وقت میں درست نتائج دینے کے قابل بنانے میں 5 سال کی محنت درکار ہوگی۔
زکربرگ کا کہنا تھا کہ ان کے ادارے فیس بُک میں ان سافٹ ویئر کے الگورتھمز بہتر بنانے کے منصوبے پر کام شروع کیا جاچکا ہے اور انہیں یقین ہے کہ مذکورہ تمام اہداف کو حاصل کرتے ہوئے یہ منصوبہ آئندہ پانچ سال کے اندر اندر مکمل کرلیا جائے گا۔
مستقبل کے اس الگورتھم/ سافٹ ویئر کی مدد سے آن لائن موجود معصوم اور مجرمانہ رجحانات رکھنے والے افراد میں تیزی سے فرق کیا جاسکے گا جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی بہت مدد ملے گی۔
واضح رہے کہ بھیجی اور وصول کی گئی ای میلز کو کھنگال کر مشکوک متن شناخت کرنے والے الگورتھمز پہلے ہی امریکی ایف بی آئی اور سی آئی اے وغیرہ جیسے اداروں کے استعمال میں ہیں لیکن سوشل میڈیا پر سرگرمیاں بڑھنے کے ساتھ ساتھ انہیں ایک نئی جہت میں ترقی دینے کی ضرورت ہے۔

مریخ پر پہلے اسلامی ملک کی جانب سے شہر بنانے کا منصوبہ


متحدہ عرب امارات نے آئندہ 100 سال میں مریخ پر پہلا انسانی شہر بسانے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔
(فوٹو: دبئی میڈیا آفس)
متحدہ عرب امارات نے آئندہ 100 سال میں مریخ پر پہلا انسانی شہر بسانے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ (فوٹو: دبئی میڈیا آفس)
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات کی خلائی ایجنسی نے ’’مارس 2117‘‘ کے نام سے ایک نئے منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت آئندہ 100 سال میں مریخ پر پہلا انسانی شہر آباد کیا جائے گا۔
اگرچہ مریخ پر انسانی بستیاں بسانے کے حوالے سے یہ کوئی پہلا منصوبہ ہرگز نہیں لیکن یہ پہلا موقع ضرور ہے جب کسی مسلم ملک کی جانب سے اس طرح کا کوئی اعلان سامنے آیا ہے ورنہ اب تک اس معاملے میں امریکی، روسی، چینی، بھارتی اور یورپی اداروں اور افراد کے نام ہی سامنے آتے رہے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی خلائی ایجنسی 2014 میں قائم کی گئی تھی اور اپنے ابتدائی 2 سال ہی میں خلائی تحقیق کے مختلف منصوبے پیش کرچکی ہے تاہم ’’مارس 2117‘‘ اس کا اب تک کا سب سے بڑا، طویل مدتی اور ممکنہ طور پر سب سے مہنگا منصوبہ ہے۔
منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں مریخ پر خودکار کھوجی (پروبز) بھیجے جائیں گے جب کہ دوسرے ملکوں کی تحقیقات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مریخ پر انسانی شہر کے لیے موزوں ترین مقام کا تعین کیا جائے گا۔ اس بارے میں ریاست ابوظہبی کے فرمانروا اور متحدہ عرب امارات کے صدر، شیخ خلیفہ بن زائد النہیان کا کہنا تھا کہ مریخی کھوجی، خلائی تحقیق کے عہد میں اسلامی دنیا کی آمد کے نمائندہ ہوں گے۔ ’’مارس 2117‘‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے لیے دوسرے ممالک سے بھرپور مشاورت اور رہنمائی حاصل کی جائے گی۔
فی الحال متحدہ عرب امارات کی نوزائیدہ خلائی ایجنسی کے پاس ایسی مقامی افرادی قوت موجود نہیں جو اتنے بڑے منصوبے کی ذمہ داریاں پوری کرسکے اس لیے قوی امکان ہے کہ اسے کم از کم آئندہ 50 سال تک غیرملکی ماہرین کی خدمات درکار ہوں گی جب کہ اسی دوران مقامی سطح پر تربیتی اور تحقیقی منصوبوں کے ذریعے ایسے مقامی افراد تیار کرنا ہوں گے جو ’’مارس 2117‘‘ کے علاوہ اس نوعیت کے کسی بھی دوسرے بڑے خلائی منصوبے کو کامیابی سے ہم کنار کرواسکیں۔
علاوہ ازیں اس وقت صرف مریخ تک پہنچنا ہی ایک بڑا مسئلہ ہے جب کہ وہاں انسانی بستیاں بسانا بہت دور کی بات ہے کیونکہ یہ ایک ایسی منزل ہے جو آج تک دنیا کے ترقی یافتہ ترین ممالک کی پہنچ سے بھی بہت دور ہے۔
اگرچہ متحدہ عرب امارات نے اپنے مجوزہ مریخی شہر کی خیالی تصاویر اور اینی میٹڈ ویڈیوز ضرور جاری کردی ہیں لیکن ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس منصوبے کو کس انداز میں آگے بڑھایا جائے گا اور مرحلہ وار پیش رفت کے ساتھ کیسے بروقت مکمل کیا جائے گا۔ متحدہ عرب امارات کی خلائی ایجنسی نے اس بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔

جمعرات، 16 فروری، 2017

اب اسمارٹ فون کی اسکرین سولر چارجر کا کام بھی کرے گی


یہ ایل ای ڈی نہ صرف روشنی کو خارج اور محسوس کرسکتی ہے بلکہ کسی سولر سیل کی طرح روشنی سے بجلی بھی بناسکتی ہے۔ فوٹو؛ فائل
یہ ایل ای ڈی نہ صرف روشنی کو خارج اور محسوس کرسکتی ہے بلکہ کسی سولر سیل کی طرح روشنی سے بجلی بھی بناسکتی ہے۔ فوٹو؛ فائل
الینوئے: امریکی اور کوریائی ماہرین کی مشترکہ تحقیقی ٹیم نے ایسی ایل ای ڈی ایجاد کرلی ہے جو نہ صرف روشنی کو خارج اور محسوس کرسکتی ہے بلکہ کسی سولر سیل کی طرح روشنی کی مدد سے بجلی بھی بناسکتی ہے۔
یونیورسٹی آف الینوئے اربانا شیمپین کے کوریائی نژاد تحقیق کار کی قیادت میں ایجاد کی گئی یہ ایل ای ڈی فی الحال صرف ایک ہی رنگ کی روشنی خارج اور جذب کرسکتی ہے تاہم ماہرین کی یہ ٹیم اگلے مرحلے پر اسے زیادہ رنگوں کے ساتھ کام کرنے کے قابل بنانے کی تیاریوں میں مصروف ہے تاکہ یہ مستقبل کی اسمارٹ فون اسکرین میں رنگین پکسل کا کام بھی کرسکے۔ اس ایجاد کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’سائنس‘‘ کے حالیہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔
یہ صحیح معنوں میں پہلی اور کامیاب ’’کثیرالمقاصد ایل ای ڈی‘‘ بھی قرار دی جاسکتی ہے کیونکہ اس نوعیت کی سابقہ کوششیں ناکام رہی ہیں۔ اس نئی ایل ای ڈی میں نینومیٹر جسامت والی خصوصی ساختیں استعمال کی گئی ہیں جنہیں ’’کوانٹم نینو راڈز‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان ساختوں پر مشتمل مادّہ کوانٹم اثرات سے استفادہ کرتے ہوئے روشنی کو محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اوپر پڑنے والی روشنی کو بجلی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے اور جب اس میں سے بجلی گزاری جاتی ہے تو یہ روشنی خارج کرنے لگتا ہے۔
امید ہے کہ اس ایل ای ڈی کی بدولت مستقبل میں ایسے اسمارٹ فونز تیار کیے جاسکیں گے جنہیں ارد گرد نظر رکھنے کے لیے کسی کیمرے کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ یہ کام ان کی اسکرین خود ہی کرلے گی۔ علاوہ ازیں انہیں ہدایت دینے کے لیے اسکرین پر صرف ہاتھ کا سایہ ڈالنا ہی کافی رہے گا جب کہ ایک دوسرے کے سامنے موجود ایسے 2 اسمارٹ فونز آپس میں رابطے کے لیے بلیو ٹوتھ یا وائی فائی کے محتاج نہیں ہوں گے بلکہ وہ روشنی کے باہمی تبادلے ’’لائی فائی‘‘ (Li-fi) سے آپس میں مربوط کیے جاسکیں گے۔
سب سے بڑھ کر، چارجنگ موڈ میں یہی ایل ای ڈی اسکرین اس قابل ہوگی کہ روشنی کو بجلی میں تبدیل کرسکے اور یوں چارجر کی ضرورت بھی تقریباً ختم ہوجائے گی۔

ہالینڈ میں تمام برقی ٹرینیں ہوا سے چلنے لگیں


یہ منصوبہ شروع ہونے سے پہلے ہی وہاں 50 فیصد برقی ٹرینوں میں ونڈٹربائنوں کی بنائی ہوئی بجلی استعمال کی جارہی تھی۔ فوٹو؛ فائل
یہ منصوبہ شروع ہونے سے پہلے ہی وہاں 50 فیصد برقی ٹرینوں میں ونڈٹربائنوں کی بنائی ہوئی بجلی استعمال کی جارہی تھی۔ فوٹو؛ فائل
ایمسٹریڈیم: ہالینڈ کی قومی ریلوے کمپنی ’’این ایس‘‘ نے اعلان کیا ہے کہ اب وہاں تمام برقی ٹرینیں ونڈ ٹربائنوں سے پیدا کی جانے والی بجلی سے چلائی جارہی ہیں۔
روایتی ایندھن کا استعمال اور ماحولیاتی آلودگی کم سے کم کرنے کے لیے ہالینڈ کی حکومت نے 2015 میں ایک منصوبہ شروع کیا تھا جس کا مقصد ہوائی طاقت سے اتنی بجلی پیدا کرنا تھا کہ جس سے وہاں کی تمام برقی ٹرینیں چلائی جاسکیں۔ منصوبے کی تکمیل کےلیے 2018 تک کا ہدف مقرر کیا گیا تھا جسے ایک سال پہلے ہی پورا کرلیا گیا ہے۔
ہالینڈ میں روزانہ 60 ہزار سے زائد افراد برقی ٹرینوں میں سفر کرتے ہیں جب کہ یہ منصوبہ شروع ہونے سے پہلے ہی وہاں 50 فیصد برقی ٹرینوں میں ونڈ ٹربائنوں کی بنائی ہوئی بجلی استعمال کی جارہی تھی۔
اس عرصے میں ہالینڈ کی حکومت نے ونڈ فارمنگ کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ یعنی ایسے منصوبوں پر خطیر سرمایہ لگایا جن میں وسیع رقبے پر بڑی تعداد میں ونڈ ٹربائنیں لگا کر زیادہ مقدار میں بجلی بنائی جاتی ہے۔ اس حکمتِ عملی کے مثبت نتائج برآمد ہوئے اور ہالینڈ نے اپنا ہدف مقررہ مدت سے ایک سال پہلے ہی حاصل کرلیا۔
ہالینڈ کے سرکاری ذرائع کے مطابق ایک گھنٹے تک چلنے والی ایک ونڈ ٹربائن سے اتنی بجلی پیدا ہوجاتی ہے جس سے ایک برقی ٹرین 200 کلومیٹر کا فاصلہ بہ آسانی طے کرلیتی ہے۔ اس وقت ایسی 2 ہزار سے زیادہ ونڈ ٹربائنز ہالینڈ میں نصب ہیں جن میں ہر سال 300 کے لگ بھگ ونڈ ٹربائنوں کا اضافہ ہوجاتا ہے۔

بدھ، 15 فروری، 2017

فضائی آلودگی سے اموات میں بھارت سرفہرست


بھارت میں فضائی آلودگی اتنی زیادہ ہے کہ وہاں ہر سال ہزاروں افراد اس سے ہلاک ہورہے ہیں، رپورٹ، فوٹو؛ فائل
بھارت میں فضائی آلودگی اتنی زیادہ ہے کہ وہاں ہر سال ہزاروں افراد اس سے ہلاک ہورہے ہیں، رپورٹ، فوٹو؛ فائل
دنئی دلی: بھارت میں اوزون کی فضائی آلودگی اتنی زیادہ ہے کہ اس کی وجہ سے وہاں ہر سال ہزاروں افراد ہلاک ہورہے ہیں اور یہ تعداد بڑھتی ہی جارہی ہے۔
اس بات کا انکشاف ’’اسٹیٹ آف گلوبل ایئر 2017‘‘ کی رپورٹ میں کیا گیا ہے جو گزشتہ روز بوسٹن، امریکا میں ماحول اور صحت پر تحقیق کرنے والے بین الاقوامی ادارے ’’ایچ ای آئی‘‘ نے جاری کی ہے۔ یہ رپورٹ 2000 سے زیادہ ماہرین کے عالمی اشتراک سے تیار کی گئی ہے جس میں 195 ممالک، درجنوں اقسام کی فضائی آلودگیوں اور 300 سے زائد بیماریوں کا 25 سالہ احاطہ کیا گیا ہے۔
اس رپورٹ میں دنیا بھر کے تمام ممالک میں فضائی آلودگی کی مختلف اقسام اور صحت پر ان کے مضر اثرات کا 25 سالہ جائزہ پیش کیا گیا ہے جو 1990 سے 2015 تک محیط ہے۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر ملک میں فضائی آلودگی بڑھتی جارہی ہے البتہ فضا میں موجود باریک ذرات (پارٹیکولیٹس) اور اوزون کے حوالے سے بھارت دنیا کا دوسرا خطرناک ترین ملک بھی قرار پایا ہے۔
2015 کے دوران ساری دنیا میں اوزون کی فضائی آلودگی اور نتیجتاً پیدا ہونے والے پھیپھڑوں کے امراض سے 2 لاکھ 54 ہزار اموات ہوئیں جن میں سے مجموعی طور پر تقریباً نصف کا تعلق بھارت اور چین سے تھا۔
اوزون کی آلودگی سے مرنے والے بھارتیوں کی تعداد اسی بناء پر پاکستان میں مرنے والوں سے 21 گنا زیادہ جب کہ بنگلا دیش کے مقابلے میں 13 گنا زیادہ رہی۔
تیز رفتار معاشی ترقی کے دعوے کرنے والا بھارت ہر طرح کی آلودگی کے حوالے سے سرِفہرست رہنے والے ملکوں میں شامل ہے۔ خدشہ ہے کہ اگر بھارت میں آلودگی کم کرنے پر سنجیدہ توجہ نہ دی گئی تو وہ جلد ہی اس میدان میں ساری دنیا کو پیچھے چھوڑ دے گا اور اپنی فضائی آلودگی سے پڑوسی ممالک کو بھی شدید طور پر متاثر کرتا رہے گا۔
نئی دلی میں سینٹر فار سائنس اینڈ اینوائرونمنٹ کی رکن انومیتا رائے چوہدری نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اب خود کو جھوٹی تسلیاں دے کر غافل نہیں رہ سکتا کیونکہ فضائی آلودگی کے باعث یہاں بہت سارے لوگ کم عمری میں مررہے ہیں اور بیماریاں بھی بڑھتی جارہی ہیں جب کہ یہ ایسے حالات ہیں جیسے پورے بھارت میں میڈیکل ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہو لیکن بھارت سرکار اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے۔

پاکستانی نژاد امریکی خاتون ناسا میں انتہائی اہم عہدے پر تعینات


حِبا رحمانی پاکستان میں پیدا ہوئیں اور اب وہ جدید ترین راکٹ اور خلائی پروازوں کی ابتدائی جانچ میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ فوٹو: بشکریہ ناسا کینڈی اسپیس سینٹر، فلوریڈا
حِبا رحمانی پاکستان میں پیدا ہوئیں اور اب وہ جدید ترین راکٹ اور خلائی پروازوں کی ابتدائی جانچ میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ فوٹو: بشکریہ ناسا کینڈی اسپیس سینٹر، فلوریڈا
فلوریڈا: پاکستان میں پیدا ہونی والی خاتون سائنسدان اب ناسا کے ایک اہم ترین عہدے پر تعینات ہیں اور بعض حالات میں راکٹ اور خلائی سواریاں ان کی اجازت کے بغیر اڑان نہیں بھرسکتیں۔
خاتون سائنسدان حِبا رحمانی پاکستان میں پیدا ہوئیں لیکن اوائل عمری میں وہ کویت منتقل ہوگئیں۔ اس کے بعد عراق جنگ میں انہیں اپنے والدین کے ساتھ اردن اور عراق کے درمیانی سرحد پر کچھ وقت پناہ گزین کے طور پر گزارنا پڑا۔ اس دوران انہیں لق و دق صحرا کی ریت پر سونا پڑا لیکن ریگستان کی اندھیری رات میں ٹمٹماتے ستارے دیکھ کر انہیں فلکیات کا شوق پیدا ہوگیا تاہم وہ دوبارہ پاکستان آگئیں۔
جب کویت عراق جنگ ختم ہوئیں تو حِبا اپنے والدین کے ساتھ کویت آگئیں اور ابتدائی تعلیم کو جاری رکھا۔ 1997 میں حِبا نے یونیورسٹی آف سینٹرل فلوریڈا میں داخلہ لیا اور وہ انجینیئر بننے کی خواہشمند تھیں۔ 2000 میں گریجویشن کے بعد حِبا رحمانی مشہور طیارہ ساز کمپنی بوئنگ سے وابستہ ہوئیں اور وہاں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے مختلف حصوں کی جانچ کا کام کیا۔
بعد ازاں انہیں خلانورد بننے کا شوق ہوا اور اس کے لیے انہوں نے جارجیا ٹیک سے ماسٹرز کی ڈگری لی۔ 2008 میں انہوں نے کینیڈی اسپیس سینٹر، فلوریڈا میں باقاعدہ ملازمت کی۔ وہ ایک انجینیئر کی حیثیت سے جدید ترین راکٹوں کا قبل ازوقت پرواز جائزہ لیتی ہیں اور اس سے وابستہ مشکلات کو حل کرتے ہوئے مفید مشورے بھی دیتی ہیں۔ مختصراً یوں کہا جاسکتا ہے کہ ان کی اجازت کے بغیر شاید ہی کوئی راکٹ پرواز کرسکتا ہے۔
حِبا رحمانی اب ناسا میں ایویانکس اینڈ فلائٹ کنٹرول انجینیئر کے عہدے پر تعینات ہیں۔ راکٹوں کے علاوہ حِبا پیگاسس، ایکس ایل اور فیلکن نائن جیسے جدید خلائی طیاروں کی ٹیسٹنگ اور جائزے کا کام کرچکی ہیں۔
حبا لوگوں اور خصوصاً خواتین کو سائنس و ٹیکنالوجی کی تعلیم دینے کی خواہاں ہیں جس کے لیے وہ کئی عملی پروگرامز کا حصہ بن چکی ہیں۔ ان کے نزدیک سخت محنت اور مستقل مزاجی ہی کامیابی کی کنجی ہے.

سمندرکے گہرے ترین مقام بھی انسانی گندگی سے غیر محفوظ


آلودگی ہمارے سمندروں کے فرش تک پہنچ کر وہاں حیات کو نقصان پہنچارہی ہے، تحقیقی رپورٹ، فوٹو؛ فائل
آلودگی ہمارے سمندروں کے فرش تک پہنچ کر وہاں حیات کو نقصان پہنچارہی ہے، تحقیقی رپورٹ، فوٹو؛ فائل
 لندن: سمندروں سے متعلق ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسانی آلودگی سمندر کے گہرے ترین مقامات تک پہنچ رہی ہے اور مضر اور پابندی کے حامل خطرناک کیمیکل سمندروں کی تہہ میں سرایت کرکے وہاں موجود جانداروں کو داغدار کررہے ہیں۔
ہفت روزہ سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق 11 کلومیٹر گہرائی میں انسولیٹنگ کیمیکلز اور ریفریجریشن میں استعمال ہونے والے مائعات وہاں موجود حساس جانداروں کو نقصان پہنچارہے ہیں اور خیال ہے کہ یہ پلاسٹک کے کچرے سے خارج ہوئے ہیں۔
اس سے قبل ماہرین سمجھ رہے تھے کہ سمندری آلودگی زیادہ گہرائی تک نہیں جاتی لیکن اب انسانی سرگرمیوں کے دوررس اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ ماہرین نے سمندروں میں قدرتی طور پر موجود گہری کھائیوں مثلاً ماریانا ٹرینچ اور کراماڈیک میں خاص آبی روبوٹ بھیجے اور وہاں موجود ایک  جانور ایمفی پوڈ پر تحقیق کی ہے۔ کئی ایمفی پوڈز میں پولی کلورینیٹڈ بائی فینائلز (پی سی بی) کے آثار دیکھے گئے جن پر 40 سال قبل کینسر اور دیگر بیماریوں کی بنا پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔
سائنسدانوں کی ٹیم اتنی گہرائی میں موجود انسانی آلودگی کو دیکھ کر حیران ہے۔ ماہرین نے ایک اور خطرناک کیمیکل پولی برومینیٹڈ ڈائی فینائل ایتھر (پی بی ڈی ای) کے آثار بھی بھی نوٹ کیے ہیں یہ کیمیکلز دونوں کھائیوں کے تمام جانوروں میں موجود ہیں۔
اس تحقیق سے ایک اہم انکشاف یہ بھی ہوا ہے کہ آلودگی ہمارے سمندروں کے فرش تک پہنچ کر وہاں حیات کو نقصان پہنچارہی ہے۔