منگل، 24 جنوری، 2017

نوکیا کا ایپل آئی پیڈ کے مدِمقابل ٹیبلٹ لانے کا فیصلہ


نوکیا نے اپنے اگلے ٹیبلٹ کمپیوٹر کو حتمی شکل دے دی ہے جس کی چوڑائی 18.4 انچ ہوگی  فوٹو؛فائل
نوکیا نے اپنے اگلے ٹیبلٹ کمپیوٹر کو حتمی شکل دے دی ہے جس کی چوڑائی 18.4 انچ ہوگی فوٹو؛فائل
سلیکان ویلی: نوکیا نے اسمارٹ فونز کے علاوہ ٹیبلٹ پیش کرنے کی بھی پوری تیاری کرلی ہے جو اپنی جسامت اور کارکردگی میں ’’ایپل آئی پیڈ پرو‘‘ کے ہم پلہ ہوگا۔
موبائل ٹیکنالوجی پر نظر رکھنے والے ایک معتبر ادارے ’’جی ایف ایکس بینچ‘‘ کے مطابق نوکیا نے اپنے اگلے ٹیبلٹ کمپیوٹر کو حتمی شکل دے دی ہے جس کی چوڑائی 18.4 انچ ہوگی یعنی وہ جسامت میں ایپل کارپوریشن کے ’’آئی پیڈ پرو‘‘ جتنا بڑا ہوگا؛ لیکن بات صرف یہیں پر ختم نہیں ہوجاتی۔
مذکورہ ادارے کا کہنا ہے کہ بظاہر اس نئے نوکیا ٹیبلٹ میں اوکٹاکور اسنیپ ڈریگن پروسیسر کے ساتھ آرڈینو 540 جی پی یو (گرافیکل پروسیسنگ یونٹ) بھی ہوگا۔ اس ٹیبلٹ کی دوسری ممکنہ خصوصیات میں 4 جی بی ریم، 64 میگابائٹ انٹرنل اسٹوریج اور 12 میگا پکسل والے فرنٹ اور بیک کیمروں کے علاوہ ہر وقت انٹرنیٹ سے مربوط رہنے کےلئے ’’سم‘‘ کا اضافی آپشن بھی شامل ہوگا۔
واضح رہے کہ نوکیا کا پچھلا ٹیبلٹ کمپیوٹر ’’نوکیا سی ون‘‘ 2015 میں پیش کیا گیا تھا لیکن اندازہ ہے کہ اگلا نوکیا ٹیبلٹ اس سے کہیں زیادہ مختلف اور جدید ہوگا جسے آئندہ ماہ (فروری 2017 میں) ’’موبائل ورلڈ کانفرنس‘‘ کے موقع پر عوامی نمائش کے لئے رکھا جائے گا۔
یہ تمام باتیں اسی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹس کی دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام واپس حاصل کرنے کے لئے نوکیا کس قدر شدت سے کوششوں میں مصروف ہے۔

پیر، 23 جنوری، 2017

پھیلتے شہر قیمتی زرعی زمین نگلنے لگے

ایشیا اور افریقا میں پھیلتے شہروں سے کھیتی باڑی ختم ہورہی ہے اور 2030 تک 3 کروڑ ہیکٹرزمین پر شہر ہوں گے۔
ایشیا اور افریقا میں پھیلتے شہروں سے کھیتی باڑی ختم ہورہی ہے اور 2030 تک 3 کروڑ ہیکٹرزمین پر شہر ہوں گے۔
نئی دہلی: پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں قیمتی زرعی اراضی پر بے ہنگم شہر پھیلنے سے زرخیز زرعی زمینیں تیزی سے ختم ہورہی ہیں۔
ایک نئے مطالعے سے ظاہر ہوا ہے کہ 2030 تک ایشیا اور افریقہ میں پھیلتے شہرکم ازکم 3 کروڑ ہیکٹر زرعی زمینوں کو نگل جائیں گے جو فلپائن کے برابر رقبہ ہے۔ اس تحقیق کی بنیاد سال 20000 سے اب تک کے سیٹلائٹ نقشوں کا مطالعہ ہے اور انہی کی بنیاد پر اگلے 13 برس کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ عمل ایشیا اور افریقہ میں سب سے زیادہ واقع ہورہا ہے اور چین، ویت نام اور پاکستان بھی ان ممالک میں سرِ فہرست ہیں۔ حیرت انگیز طور پر پاکستان اس عرصے میں 18 لاکھ ہیکٹر زرعی زمین سے محروم ہوجائے گا جو اس فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے۔
اس رپورٹ کی تیاری میں آسٹریا، جرمنی، سویڈن، نیوزی لینڈ اور امریکی ماہرین نے حصہ لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2000 میں دنیا جتنا اناج پیدا کررہی تھی 2030 میں زراعت تباہ ہونے سے اس کی 3 سے 4 فیصد مقدار کم ہوجائے گی۔ رپورٹ کے مطابق چین، بھارت، پاکستان اور دیگر ممالک میں چاول، گندم، مکئی اور سویابین کی فصلیں زیادہ متاثر ہوں گی۔ ان میں چین اور دیگر ایشیائی ممالک کی مشترکہ طور پر 25 فیصد زرعی زمین غائب ہوجائے گی۔ پاکستان میں چھوٹے کسان زیادہ متاثر ہوں گے اور جنگلات بھی تباہ ہوجائیں گے۔
اس مطالعے میں شریک جرمن ماہر کا کہنا ہے کہ ایک جانب تو قیمتی زرعی اراضی شہر پھیلنے سے ختم ہوگی تو مزید نئی جگہوں کی ضرورت ہوگی جس کا بوجھ کسی ملک میں موجود جنگلات پر ہوگا اور وہاں کا حیاتیاتی نظام تباہ ہونے لگے گا لیکن یہ سلسلہ یہیں نہیں رکے گا بلکہ جنگلات غائب ہونے سے مقامی آب وہوا پر برے اثرات مرتب ہوں گے جس کا نتیجہ عالمی پیمانے پر غذا کی فراہمی پر پڑے گا۔
دیگر ماہرین نے زور دیا ہے کہ فصلوں کو ضائع ہونے، کھانے کو پھینکنے اور غذائی رحجانات بدلنے سے بھی اس اثر کو کم کیا جاسکتا ہے۔ دیگر ماہرین فی ایکڑ پیداوار بڑھانے پر زور دے رہے ہیں تاکہ غذا کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔

آواز سے 10 گنا زیادہ تیز گولا داغنے والی توپ

توپ روس نے تیار کی ہے جس میں بجلی بھری گئی ہے اور یہ 3 کلو میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے ہدف کو نشانہ بناسکتی ہے۔
(فوٹو: سائنٹفک رشیا)
توپ روس نے تیار کی ہے جس میں بجلی بھری گئی ہے اور یہ 3 کلو میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے ہدف کو نشانہ بناسکتی ہے۔ (فوٹو: سائنٹفک رشیا)
ماسکو: روس نے دنیا کی ایسی خطرناک ترین توپ تیار کرلی ہے جو بجلی استعمال کرتے ہوئے آواز کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ رفتار سے گولا داغ کر مضبوط سے مضبوط ہدف کو بھی پلک جھپکتے میں راکھ کا ڈھیر بناسکتی ہے۔
روسی ویب سائٹ ’’سائنٹفک رشیا‘‘ کے مطابق گزشتہ دنوں اس ’’بجلی بھری توپ‘‘ (الیکٹرومیگنیٹک ریل گن) سے تجرباتی طور پر 3 کلومیٹر فی سیکنڈ کی زبردست رفتار سے پلاسٹک کے گولے داغے گئے جنہوں نے المونیم کی موٹی چادر کے پرخچے اُڑا دیئے۔ روسی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا میں کوئی بنکر یا فولادی بکتر ایسا نہیں جو 3 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے ٹکرانے والے گولے کے سامنے ٹھہر سکے۔
رپورٹ کے مطابق ممکنہ طور پر اس بجلی بھری توپ کو ابتداء میں روسی بحری بیڑے کا حصہ بنایا جائے گا البتہ اس کے زیادہ طاقتور ماڈلز کے ذریعے چھوٹی جسامت والے مصنوعی سیارچوں اور مختلف ساز و سامان کو بغیر راکٹ کے خلاء میں بھی پہنچایا جاسکے گا۔
گزشتہ 40 سال کے دوران فرانس اور امریکا میں بھی الیکٹرومیگنیٹک ریل گن کے منصوبوں پر بہت کام ہوچکا ہے جن سے کچھ اچھے نتائج بھی سامنے آئے ہیں لیکن اب تک ایسی کوئی بجلی بھری توپ نہیں بنائی جاسکی جو خلاء میں براہِ راست کوئی چیز پہنچا سکے۔ ان کے مقابلے میں روس کا منصوبہ ابھی بالکل ابتدائی مرحلے پر ہے کیونکہ اس کے ذریعے داغے گئے گولوں کا وزن خاصا کم ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ روسی ساختہ الیکٹرومیگنیٹک ریل گن کے منصوبے کو پختہ ہوکر قابلِ استعمال بننے میں ابھی مزید کئی سالہ تحقیق کی ضرورت ہے۔ البتہ کم فاصلے پر موجود اہداف کو تباہ کرنے کے لیے اس منصوبے کی تکمیل میں زیادہ وقت نہیں لگنا چاہیے۔

اتوار، 22 جنوری، 2017

کروڑوں کمپیوٹر سے زیادہ طاقور سپر کمپیوٹر

چین میں دنیا کا طاقتور ترین سپر کمپیوٹر مکمل ہونے والا ہے جو ایک سیکنڈ میں ایک ارب ارب حسابات لگانے کے قابل ہوگا۔
چین میں دنیا کا طاقتور ترین سپر کمپیوٹر مکمل ہونے والا ہے جو ایک سیکنڈ میں ایک ارب ارب حسابات لگانے کے قابل ہوگا۔
بیجنگ: چین میں اس سال دنیا کا ایک اور سب سے طاقتور سپر کمپیوٹر ’’تیانہے 3‘‘ مکمل ہوجائے گا جو ایک سیکنڈ میں ایک ارب ارب یعنی ایک کوئنٹیلیئن (One quintillion) حسابات لگانے کے قابل ہوگا۔
اس اعتبار سے یہ دنیا کا پہلا سپر کمپیوٹر بھی ہوگا جو ’’ایگزا اسکیل‘‘ (1000 پی ٹا فلوپس) کی طاقت حاصل کرے گا۔ آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ اگر 3 گیگاہرٹز پروسیسر اسپیڈ والے 33 کروڑ کمپیوٹروں کی طاقت یکجا کردی جائے تو یہ اکیلا سپر کمپیوٹر اس سے بھی زیادہ طاقتور ہوگا۔ اس پر چین کے ’’نیشنل سپرکمپیوٹر سینٹر‘‘ میں کام جاری ہے جو تیز رفتار ترین سپرکمپیوٹر بنانے کے حوالے سے خصوصی عالمی شہرت رکھتا ہے۔
اس وقت دنیا میں 2 سب سے تیز رفتار سپر کمپیوٹرز یعنی ’’سن وے تائیہو لائٹ‘‘ اور ’’تیانہے 2‘‘ اسی تجربہ گاہ میں بنائے گئے ہیں جن میں سے پہلا (سن وے تائیہو لائٹ) 125 پی ٹا فلوپس کی زیادہ سے زیادہ رفتار پر کام کرسکتا ہے جب کہ تیانہے 2 کی انتہائی رفتار تقریباً 55 پی ٹا فلوپس ہے۔
دنیا کے طاقتور ترین سپر کمپیوٹروں کی اس فہرست میں تیسرا نمبر امریکی ’’ٹائٹن‘‘ کا ہے جو ’’کرے انکارپوریٹڈ‘‘ کا تیار کردہ ہے جس کی انتہائی رفتار 27 پی ٹا فلوپس یعنی چینی سپر کمپیوٹروں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ دلچسپی کی بات تو یہ ہے کہ اسی فہرست میں دنیا کا دسواں طاقتور ترین سپرکمپیوٹر ’’شاہین-II‘‘ سعودی عرب سے تعلق رکھتا ہے لیکن اسے بھی کرے انکارپوریٹڈ ہی نے تیار کیا ہے۔
نیشنل سپرکمپیوٹر سینٹر کی پریس ریلیز کے مطابق ’’تیانہے 3‘‘ کی تکمیل کے لیے پہلے 2018 کا ہدف مقرر کیا گیا تھا لیکن سینٹر میں اس پر غیرمعمولی تیزی سے کام جاری ہے اور اب وہ 2017 کے اختتام سے قبل ہی مکمل کرلیا جائے گا۔
سپر کمپیوٹروں کی اس دوڑ میں امریکا بھی کسی سے پیچھے رہنا نہیں چاہتا، اسی لیے امریکی محکمہ توانائی میں ’’ایگزا اسکیل کمپیوٹنگ پروجیکٹ‘‘ کے تحت ایک ایسے سپرکمپیوٹر پر کام ہورہا ہے جو 1000 پی ٹا فلوپس (1 ایگزا فلوپس) کا ہدف حاصل کرے گا لیکن اس کی تکمیل کا متوقع سال 2023 مقرر کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سپر کمپیوٹروں کا تعلق صرف ٹیکنالوجی کی برتری ہی سے نہیں بلکہ ان سے بہت بڑے اور انتہائی پیچیدہ سائنسی ماڈلوں پر بھی تفصیلی تحقیق کی جاتی ہے جو کسی اور طرح کے کمپیوٹر سے ممکن نہیں۔

جراثیم سے مکڑی کا ’’اینٹی بایوٹک‘‘ جالا تیار

جراثیم کش خصوصیات والا مکڑی کا یہ ریشہ زخموں کی جلد بحالی میں استعمال کیا جاسکے گا۔ فوٹو؛ فائل
جراثیم کش خصوصیات والا مکڑی کا یہ ریشہ زخموں کی جلد بحالی میں استعمال کیا جاسکے گا۔ فوٹو؛ فائل
نوٹنگھم: برطانوی ماہرین نے عام بیکٹیریا میں مکڑی کا ایسا ریشہ بنانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے جو اینٹی بایوٹک یعنی جراثیم کش خصوصیات کا حامل ہے اور جسے مستقبل میں زخموں کی جلد بحالی میں استعمال کیا جاسکے گا۔
ریسرچ جرنل ’’ایڈوانسڈ مٹیریلز‘‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، نوٹنگھم یونیورسٹی کے ماہرین نے پانچ سالہ تحقیق کے بعد ’’ای کولائی‘‘ کہلانے والے بیکٹیریا میں مکڑی کا جالا (ریشہ) اور جراثیم کش پروٹین بنانے والے جین پیوند کرکے انہیں ایسا ریشہ تیار کرنے کے قابل بنالیا ہے جو مضبوط، پائیدار، کم وزن اور لچک دار ہونے کے علاوہ جراثیم کش دوا سے لیس بھی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئے اور منفرد مادے کے ذریعے مستقبل میں زخموں کو ڈھانکنے والی ایسی پٹیاں تیار کی جاسکیں گی جنہیں کسی اضافی مرہم یا دوا کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ وہ زخموں کو خراب کرنے والے بیکٹیریا کو خود ہی قابو میں رکھ سکیں گی اور اس طرح زخموں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ جلد بحالی بھی ممکن ہوجائے گی۔
اس تحقیق کے کلیدی مصنف اور نوٹنگھم یونیورسٹی کے سائنسدان کے مطابق قدیم یونان میں بھی فوجیوں کے زخموں کی حفاظت کے لیے شہد کے ساتھ ساتھ مکڑی کا جالا بھی استعمال کیا جاتا تھا اور جراثیم کش مکڑی کے ریشے کا خیال بھی انہوں نے وہیں سے اخذ کیا ہے۔
سائنسدان کا کہنا ہے کہ ابھی یہ پہلا مرحلہ ہے کیونکہ ای کولائی کے اندر بننے والے مکڑی کے ریشے میں صرف ایک جراثیم کش دوا شامل ہے۔ اب وہ اور ان کے ساتھی اسے مزید بہتر اور قابلِ عمل بنانے پر کام شروع کرچکے ہیں البتہ زخم کی تیز رفتار بحالی کے لیے جراثیم کش دواؤں سے مؤثر طور پر لیس پٹیوں کی تیاری میں 5 سے 10 سال تک لگ سکتے ہیں۔

مینار نما چھوٹا ایٹمی بجلی گھر


یہ ایٹمی بجلی گھر 50 میگاواٹ بجلی بناسکے گا لیکن اتنا چھوٹا ہوگا کہ ایک ٹرالر میں آسانی سے سما جائے۔
(فوٹو: نیواسکیل پاور)
یہ ایٹمی بجلی گھر 50 میگاواٹ بجلی بناسکے گا لیکن اتنا چھوٹا ہوگا کہ ایک ٹرالر میں آسانی سے سما جائے۔ (فوٹو: نیواسکیل پاور)
اوریگون: ’’نیواسکیل پاور‘‘ نامی ایک امریکی کمپنی نے ایٹمی بجلی گھر کا ایسا ڈیزائن تیار کرلیا ہے جو 50 میگاواٹ بجلی بناسکے گا لیکن اتنا چھوٹا ہوگا کہ ایک ٹرالر میں آسانی سے سما جائے گا البتہ اس کی اونچائی کسی 9 منزلہ مینار جتنی ہوگی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ کسی چھوٹے علاقے میں ایسے کئی ایٹمی بجلی گھر پہلو بہ پہلو نصب کیے جاسکیں گے اور یوں بہت کم جگہ استعمال کرتے ہوئے کہیں زیادہ بجلی بنائی جاسکے گی۔ اندازہ ہے کہ ایسے ایک ایٹمی بجلی گھر پر تقریباً 95 لاکھ ڈالر لاگت آئے گی اور ایک بار ایندھن بھرے جانے کے بعد کم از کم 3 سال تک مسلسل بجلی حاصل کی جاسکے گی۔
اس ایٹمی بجلی گھر کا ڈیزائن تکنیکی جائزے کے لیے امریکی محکمہ توانائی کے پاس جمع کروا دیا گیا ہے جہاں سے منظوری ملتے ہی ایسے پہلے ایٹمی بجلی گھر کی تیاری شروع کردی جائے گی۔
کمپنی کے مطابق اگرچہ اس ایٹمی بجلی گھر کی دیکھ بھال کے لیے عملے کی ضرورت ہوگی لیکن مروجہ ایٹمی بجلی گھروں کی نسبت یہ ضرورت بہت کم ہوگی۔ علاوہ ازیں ناگہانی حادثات سے بچنے کے لیے بھی اس میں کم درجے خالص یورینیم استعمال کی جائے گی جب کہ دیگر حفاظتی اقدامات اس کے علاوہ ہیں۔
محفوظ، کم خرچ اور چھوٹے بجلی گھروں کا یہ پہلا منصوبہ نہیں بلکہ Gen4Energy (سابقہ ’’ہائپریون‘‘) نامی ایک اور کمپنی اس سے پہلے ہی 255 میگاواٹ بجلی بنانے والی ’’نیوکلیئر بیٹریز‘‘ پر کام شروع کرچکی ہے۔
واضح رہے کہ اگرچہ ایٹمی توانائی کو دنیا میں کم آلودہ بجلی کا ذریعہ قرار دیا جاتا ہے لیکن یہ اب تک اس وجہ سے کم خرچ نہیں بن پائی ہے کیونکہ کسی بھی ایٹمی بجلی گھر میں تابکاری سے بچاؤ اور اسی نوعیت کے دوسرے حفاظتی اقدامات کے لیے بہت زیادہ اخراجات کرنے پڑجاتے ہیں جو اسے مہنگا اور غریب ممالک کے لیے ناقابلِ برداشت بنادیتے ہیں۔

ہفتہ، 21 جنوری، 2017

حضرت ابراہیم اور یوسف علیہما السلام کے مصر میں داخل ہونے کا مقام

الفرما.. مصر کے صوبے سیناء کے شمال میں واقع علاقہ ہے۔ یہ وہ ہی مقام ہے جہاں سے اللہ کے نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت یوسف علیہ السلام اور اُن کے بھائی اور صحابیِ رسول حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ مصر میں داخل ہوئے تھے۔
سیناء میں آثار قدیمہ کے معروف ماہر ڈاکٹر عبدالرحيم ريحان نے  بتایا کہ سیناء کے شمال میں واقع "الفرما" وہ ہی شہر ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں کیا گیا ہے.. جب اللہ کے نبی حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ مصر میں ایک دروازے سے نہیں بلکہ مختلف مقامات سے داخل ہوں۔ اللہ تعالی کی مشیت سے وہ مصر میں محفوظ طور پر داخل ہوئے۔ یہ وہ ہی شہر ہے جس کو حضرت ابراہیم اور حضرت یوسف علیہما السلام نے مصر آتے ہوئے عبور کیا تھا۔ اس کے علاوہ بی بی مریم اور ان کے بیٹے حضرت عیسی علیہما السلام بھی فلسطین سے مصر آنے کے سفر کے دوران اس شہر سے گزرے تھے۔
ڈاکٹر ریحان کے مطابق "الفرما" مصر کے شہر "القنطرہ شرق" سے 35 کلومیٹر مشرق میں بحیرہ روم کے ساحل پر بلوظہ گاؤں کے نزدیک واقع ہے۔ انگریزی زبان میں اس شہر کا نام Pelusium اور قِبطی زبان میںPeremoun ہے۔ قرون وسطی میں اس کو الفرما کا نام دیا گیا۔
ڈاکٹر ریحان نے مزید بتایا کہ الفرما کے شمرق میں معروف رومی سپہ سالار پامپے کی قبر واقع تھی جس نے مصر کے شہر اسکندریہ میں معروف پامپے ستون تعمیر کرایا۔ یہ معروف یونانی ماہرِ فلکیات ریاضی داں بطلیموس کا بھی وطن تھا۔ الفرما قلعہ بند شہر کی حیثیت رکھتا تھا۔ رومی دور اور مسلمانوں کے ہاتھوں مصر کی فتح کے زمانے میں ہونے والی جنگوں میں ہمیشہ اس کا ذکر کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر ریحان کے مطابق علاقے کی وسعت اس شہر کی عظمت اور اہمیت کا پتہ دیتی ہے۔ یہ مشرقی سمت سے مصر کی کنجی کی حیثیت رکھتا تھا۔ شہر کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ انتہائی قدیم ثقافت کا حامل رہا اور اس کے اصل باشندے درحقیقت ایک قدیم سامی تہذیب "فونیقی" سے تعلق رکھنے والے ماہی گیر تھے۔
ڈاکٹر ریحان نے مزید بتایا کہ صحابیِ رسول حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ 19 ہجری (640ء) میں مصر کو فتح کرنے کے لیے گئے تو پہلے العریش میں ٹھہرے اور پھر الفرما آئے۔ عباسی خلیفہ المتوکل علی اللہ نے اس شہر کے ساتھ ہی سمندر کے کنارے ایک قلعہ تعمیر کروایا تھا۔ تعمیر کی نگرانی 239 ہجری (853ء) میں مصر کے گورنر عنبسہ بن اسحق نے کی۔
آثار قدیمہ کے مصری ماہر کے مطابق الفرما میں متعدد رومی ، مسیحی اور اسلامی آثاریاتی مقامات ہیں۔
الفرما پہلی سے ساتویں صدی عیسوی تک مشرق اور مغرب کے درمیان تجارت کا اہم مرکز رہا۔ یہاں اہم بندرگاہ اور تجارتی قافلوں کی حفاظت کے واسطے عسکری چیک پوائنٹس اور بعض کسٹم کی چنگیاں بھی تھیں۔ یہاں مختلف صنعتیں بھی قائم تھیں جن میں کپڑوں کی بُنائی ، شیشہ سازی ، بحری جہاز سازی ، مچھلیوں کا شکار اور ان کی حفاظت شامل ہے۔
یہ فلسطین ، شمالی افریقہ ، قبرص ، یونان ، اٹلی کے ساتھ تجارت کے لیے نمایاں تجارتی مراکز رکھتا تھا۔
ڈاکٹر ریحان کا مطالبہ ہے کہ الفرما کے علاقے کو آثاریاتی مقام ہونے کی بنیاد پر ثقافتی اور مذہبی سیاحت کے لیے آنے والوں کے واسطے تیار کیا جائے۔ یہاں سیاحتی خدمات فراہم کی جائیں اور الفرما کے آثاریاتی مقامات میں داخلے کو آسان بنانے کے لیے یہاں اچھی شاہ راہیں تعمیر کی جائیں۔ ان کے علاوہ یہاں ایک بندرگاہ اور ہوائی اڈہ بھی بنایا جائے اور اندرونی اور بیرونی سطح پر اس کی تشہیر کی جائے تاکہ شمالی سیناء کا علاقہ سیاحوں کے لیے مزید پرکشش بن جائے۔ ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر سے یہاں تجارتی اور صنعتی مراکز قائم کیے جائیں۔