جمعرات، 1 جون، 2017

کیڑے کو جاسوس ڈرون میں تبدیل کرنے کا کامیاب تجربہ


ڈریپر کی جانب سے تیار کی گئی ڈریگن فلائی ۔ فوٹو: بشکریہ ڈریپر کمپنی
ڈریپر کی جانب سے تیار کی گئی ڈریگن فلائی ۔ فوٹو: بشکریہ ڈریپر کمپنی
میری لینڈ: مائیکرو الیکٹرانکس کی آمد سے اب چھوٹے کیڑے مکوڑوں پر الیکٹرانک آلات چسپاں کر کے ان سے نگرانی اور جاسوسی کا کام لیا جا رہا ہے اور اب ایک کمپنی چھوٹے سے ڈریگن فلائی (بھنبھیری) پر الیکٹرانک آلات لگا کر اسے خاص کاموں کے لیے تیار کیا ہے۔ 
امریکا میں ہارورڈ ہیوز میڈیکل انسٹی ٹیوٹ اور ڈریپر نامی کمپنی کے ماہرین نے برقی حشرات (سائبرنیٹک انسیکٹس) کے ضمن میں ایک نیا انقلابی قدم اُٹھایا ہے اور اس کے لیے بھنبھیری میں بعض جینیاتی تبدیلیاں کی گئی ہیں تاکہ وہ خاص سمت میں پرواز کرسکے۔
اس سے قبل بھنوروں اور ٹڈوں پر جو تحقیق کی گئی ہیں ان پر ایک سے ڈیڑھ گرام وزنی برقی سامان لے جانے کی گنجائش پیدا کی گئی تھی لیکن اُن میں نیوی گیشن سسٹم شامل نہیں تھا جس کی وجہ سے ان کیڑوں کو کسی خاص سمت میں اڑانا ایک مسئلہ ہوتا تھا اور انہیں وائرلیس کی مدد سے ہدایات دی جاتی تھیں۔
ڈریپر نے ایک نئی تکنیک استعمال کی ہے جسے اوپٹوجنیٹکس کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں کسی کیڑے میں اس طرح جینیاتی تبدیلیاں کی جاتی ہیں کہ وہ کسی سمت اڑ سکیں یا روشنی کی سمت پر ردعمل ظاہر کر سکیں اور اس طرح کیڑے پر مزید نیوی گیشن سامان ڈالنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
اوپٹوجنیٹک کے ذریعے ڈریگن فلائی کی پشت پر چھوٹے سولر پینلز لگائے گئے ہیں جو کیڑے کو ازخود اڑنے میں مدد دیتے ہیں، اس طرح بھنبھیری کو بہت آسانی سے ایک خاص سمت میں پرواز پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ ایک سال تک آزمائش کے بعد اب ماہرین اس قابل ہو گئے ہیں کہ برقی سامان کے ساتھ ڈریگن فلائی کو مخصوص بلندی اور سمت میں اڑاسکیں لیکن یہ پہلا قدم ہے، اگلے مرحلے میں اسے ڈیٹا جمع کرنے اور جاسوسی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

بدین کی 5 لاکھ ہیکٹر زرعی اراضی سمندر کا نوالہ بن گئی

انڈس ڈیلٹا میں بدین میں اب ماہی گیروں کی رسائی مچھلیوں تک کم سے کم ہوتی جارہی ہے۔ فوٹو: بشکریہ محمد عمر
انڈس ڈیلٹا میں بدین میں اب ماہی گیروں کی رسائی مچھلیوں تک کم سے کم ہوتی جارہی ہے۔ فوٹو: بشکریہ محمد عمر
کراچی:  سندھ ڈیلٹا کے علاقے میں دریائی بہاؤ کمزور ہونے کے باعث سمندر دریا کو کئی کلومیٹر پیچھے دھکیل چکا ہے اور اس سے زرخیز ڈیلٹا کی 55 لاکھ ہیکٹر اراضی مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے۔
غربت کے خاتمے اور انسانی فلاح کی بین الاقوامی تنظیم ’اوکسفام‘ پاکستان نے چند روز قبل اپنی ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سندھ ڈیلٹا کے علاقے میں دریائی بہاؤ کمزور ہونے کے بعد سمندر دریا کو کئی کلومیٹر پیچھے دھکیل چکا ہے بلکہ اس سے زرخیز ڈیلٹا کی 5 لاکھ ہیکٹر اراضی مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ دریا اور سمندری بہاؤ کے درمیان توازن اس وقت تک قائم رہتا ہے جب تک دریا سے پانی کی خاص مقدار سمندر میں گرتی رہتی ہے تاہم پانی کی شدید کمی کی وجہ سے سمندری پانی دریا کے راستے اوپر چڑھ گیا ہے اور گزشتہ 16 برس میں سمندری پانی سندھ ڈیلٹا میں 85 کلومیٹراندر تک گھس آیا ہے جس کی وجہ سے ایک جانب تو اطراف کے زرخیز کھیت ختم ہو گئے ہیں تو دوسری جانب خود سمندر نے بھی زرخیز زمین کو نگلنا شروع کردیا ہے۔
اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلیوں اور شدید موسمیاتی کیفیات سے ماہی گیری، پولٹری فارمنگ اور کھیتی باڑی متاثر ہوئی ہے۔ روز بروز کم ہوتے وسائل سے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ بدین کے علاقے میں 65 فیصد افراد اسی روزگار سے وابستہ رہے ہیں لیکن اب وہاں کے باسیوں پر زندگی تنگ ہوتی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2001 اور 2002 تک بدین ایک زرخیز علاقہ تھا جہاں 82,200 ہیکٹر علاقہ سرسبز تھا اور 2016 میں یہ زمین گھٹتے گھٹتے صرف 61,900 ہیکٹر رہ گئی جس کی وجہ سے خوراک اور زراعت کا نظام بری طرح متاثر ہوا، اب یہاں کے لوگ دیگر علاقوں سے چاول اور گندم خریدنے پر مجبور ہیں۔ دوسری جانب یہاں کے لوگ پینے کے صاف پانی سے بھی محروم ہو چکے ہیں جب کہ غریب افراد یا تو قرض لینے پر مجبور ہیں یا پھر اپنے عزیزو اقارب کے ہاں سکونت اختیار کر گئے ہیں۔
زراعت ختم ہونے سے یہاں کے لوگوں نے ’’مینگرووز‘‘ (تمر) درختوں کی بے دریغ کٹائی شروع کردی ہے اور انہیں کوئلے میں بدل کرمعمولی قیمت پر فروخت کیا جارہا ہے۔ اس طرح سمندری اتار چڑھاؤ اور طوفان کو روکنے والے مینگرووز تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ ماہی گیری ختم ہونے سے معاشی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں اور اب مچھلیاں پکڑنے کے لیے مچھیرے ڈیلٹا کے بجائے گہرے پانیوں کا رخ کر رہے ہیں۔

ٹویٹر نے 69 نئے اور دلچسپ ایموجی متعارف کرادیے


اس اضافے کے بعد ٹویٹر پر ایموجی کی مجموعی تعداد 239 ہو گئی ہے۔ فوٹو: بشکریہ ٹویٹر
اس اضافے کے بعد ٹویٹر پر ایموجی کی مجموعی تعداد 239 ہو گئی ہے۔ فوٹو: بشکریہ ٹویٹر
 لندن: ٹویٹر نے اپنے صارفین کے احساسات کو بہتر طور پر بیان کرنے کے لیے 69 نئے اور دلچسپ ایموجی متعارف کرا دیئے ہیں۔
ٹویٹر نے مختلف اشکال اور احساسات پر مبنی ان ایموجیز کو 5.0 ورژن کے تحت ریلیز کیا ہے، پہلے مرحلے میں یہ ٹویٹر کے براؤزر ورژن کے تحت ریلیز کئے گئے ہیں جب کہ اس کے بعد اسمارٹ فون پر بھی ریلیز کئے جائیں گے۔ ٹویٹر نے بعض عجیب وغریب ایموجیز بھی متعارف کرائے ہیں جن میں مردانہ پری، ذرافہ، مردانہ اور زنانہ جن، دعائیہ ہاتھ، دو طرح کے ڈائنوسار، کھوپرا، بروکولی، یوگا اور کئی ممالک کے پرچم شامل ہیں۔ اس اضافے کے بعد ٹویٹر پر ایموجی کی مجموعی تعداد 239 ہو گئی ہے۔
ٹویٹر کے ویب ورژن کے لیے یہ ایموجی فوری طور پر دستیاب ہیں جب کہ اسمارٹ فونز پر اینڈارئڈ اور آئی او ایس ورژنز استعمال کرنے والے صارفین کو ان نئے ایموجیز کے لئے تھوڑا انتظار کرنا ہو گا۔
ٹویٹر کے ڈیزائنر برائن ہیگرٹی کا کہنا ہے کہ ہم نے ٹویٹر ڈاٹ کام پر ٹویموجی شامل کئے ہیں جو اوپن سورس بھی ہے، اس پیغام میں ستارہ آنکھوں والا ایک ایموجی بھی شامل کیا گیا ہے جو بالکل نیا بھی ہے۔
یہ تمام آئکن ایموجی پیڈیا پر دستیاب ہیں جنہیں آپ ہی کے لیے بنایا گیا ہے، ان میں ڈریکولا، جل پری اور اس جیسے دیگر دیومالائی ایموجیز بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سینڈوچ اور کریم پائی کے ایموجی بھی موجود ہیں۔ ڈاڑھی والے شخص، سر ڈھانپی خواتین و مرد اور بچے کو دودھ پلانے والی خاتون کا ایموجی بھی موجود ہے۔ اس میں جانوروں میں کانٹوں والا سہہ، زرافہ، زیبرا، ٹڈا اور دو ڈائنوسار شامل کئے گئے ہیں جب کہ مختلف پروفیشنلز میں راک اسٹار سے سائنسدان تک 11 ایموجی موجود ہیں۔

ویڈیو سب ٹائٹل وائرس: موبائل اور کمپیوٹر کےلیے خطرے کی نئی گھنٹی

وی ایل سی، کوڈی، پاپ کورن اور اسٹریمیو کو استعمال کرنا خطرناک ہوسکتا ہے۔ فوٹو: فائل
وی ایل سی، کوڈی، پاپ کورن اور اسٹریمیو کو استعمال کرنا خطرناک ہوسکتا ہے۔ فوٹو: فائل
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے کمپیوٹر اور اسمارٹ فون صارفین کو خبردار کیا ہے کہ اب ہیکرز آن لائن ویڈیوز کے سب ٹائٹلز میں ایسا وائرس چھپا رہے ہیں جس سے سب ٹائٹل آن کرکے موویز دیکھنے پر آپ کا کمپیوٹر، اسمارٹ فون اور یہاں تک کہ انٹرنیٹ سے منسلک اسمارٹ ٹی وی بھی ہیک کیا جاسکتا ہے۔
کمپیوٹر سیکیورٹی کمپنی ’چیک پوائنٹ‘ کا کہنا ہے کہ ویڈیو سافٹ ویئر استعمال کرنے والے کروڑوں افراد جو آن لائن فلمیں اور ٹی وی شوز دیکھتے ہیں، ان کے اسمارٹ فونز اور کمپیوٹر خطرے میں ہیں۔ چیک پوائنٹ اب تک ایسے چار ویڈیو سافٹ ویئر کی نشاندہی کرچکی ہے جن کے ذریعے ہیکنگ کی جاسکتی ہے اور ان میں وی ایل سی، کوڈی، پاپ کارن اور اسٹریمیو شامل ہیں؛ تاہم اس ہیکنگ کے خطرے میں مبتلا ویڈیو سافٹ ویئر کی تعداد ممکنہ طور پر اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ ہیکرز انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کی جانے والی فلموں کے سب ٹائٹلز میں وائرس کی کوڈنگ شامل کررہے ہیں، خاص کر غیر قانونی طور پر ڈاؤن لوڈ کی گئی فلموں اور پروگراموں کے سب ٹائٹلز میں وائرس شامل کیا جاسکتا ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی مروجہ اینٹی وائرس سافٹ ویئر اس کا راستہ نہیں روک سکتا۔
واضح رہے کہ زیادہ تر ویڈیوز میں بائی ڈیفالٹ سب ٹائٹلز شامل نہیں ہوتے بلکہ کمپیوٹر میڈیا پلیئرز انٹرنیٹ سے رابطہ کرکے خود ہی متعلقہ ویب سائٹ سے خصوصی ٹیکسٹ فائلز ڈاؤن لوڈ کرلیتے ہیں۔ اور چونکہ یہ ٹیکسٹ فائلز ہوتی ہیں اس لیے عموماً اینٹی وائرس انہیں نہیں کھنگالتے۔
 چیک پوائنٹ سیکیورٹی نے مزید خبردار کیا ہے کہ اس طرح سب ٹائٹلز میں کسی بھی قسم کا وائرس کوڈ کیا جاسکتا ہے چاہے وہ کوئی ’’رینسم ویئر‘‘ ہی کیوں نہ ہو جو ایک بار سرگرم ہونے کے بعد سسٹم کا کوئی مخصوص حصہ یرغمال بنالیتا ہے اور اس ڈیٹا تک رسائی کےلیے صارف سے تاوان کی رقم طلب کی جاتی ہے۔

بجلی سے چلنے والا دنیا کا پہلا تجارتی بحری جہاز



ناروے کی ایک کمپنی ماحول دوست اور خاموش بحری جہاز بنارہی ہے جو 2020 تک انسان کے بغیر سفر کرے گا۔ فوٹو:فائل یارا کمپنی، ناروے
ناروے کی ایک کمپنی ماحول دوست اور خاموش بحری جہاز بنارہی ہے جو 2020 تک انسان کے بغیر سفر کرے گا۔ فوٹو:فائل یارا کمپنی، ناروے
ناروے: عالمی سمندروں میں اس وقت سیکڑوں بحری جہاز ایک سے دوسرے ملک جارہے ہیں اور ان کا شور، رسنے والا تیل اور دیگر آلودگیاں سمندروں کو متاثر کررہی ہیں اس کے لیے ناروے کی کمپنی یارا دنیا کا پہلا مکمل طور پر بجلی سے چلنے والا بحری جہاز بنارہی ہے جو کسی حد تک خودکار بھی ہے۔
یارا نے ایک اور ٹیکنالوجی کمپنی کانگسبرگ کے تعاون سے الیکٹریکل شپ یعنی برقی بحری جہاز پر کام شروع کردیا ہے جو اگلے سال کے آخر میں پانی میں اتارا جائے گا۔ اس جہاز کو یارا برکلینڈ کا نام دیا گیا ہے جو سمندر کے کنارے واقع دو شہروں بریوک سے لاروک تک کیمیائی مادے اور مصنوعی کھادیں (فرٹیلائزر) لے کر آئے گا۔ 2018 تک اسے نیم خودکار اور 2020 تک مکمل طور پر آٹومیٹک بنایا جاسکے گا۔ اس طرح اسے چلانے کے لیے کسی انسان کی ضرورت نہیں رہے گی۔ فی الحال ایک سے دوسری جگہ یہ سامان پہنچانے کے لیے 40 ہزار ٹرک استعمال ہورہے ہیں۔
بحری جہاز کے استعمال سے ایک جانب تو کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر زہریلی گیسوں کو کم کرنے میں مدد ملے گی تو دوسری جانب 40 ہزار ٹرکوں کی ضرورت نہیں رہے گی۔ بیٹری سے چلنے والا یہ جہاز کئی طرح سے ماحول دوست ثابت ہوگا۔
اگرچہ سمندروں میں خودکار بحری جہازچلانے میں کئی قانونی اور تکنیکی مشکلات حائل ہیں لیکن ناروے ایک عرصے سے اس پر غور کررہا ہے۔ حال ہی میں ناروے کی ساحلی انتظامیہ اور ناروے میری ٹائم اتھارٹی کے درمیان ایک معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت ایک مخصوص گوشے کو خودکار بحری جہازوں کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔

ناسا کا پلاٹینم اورسونے سے بنے سیارچے پرخلائی جہازبھیجنے کا اعلان

ناسا کے خلائی جہاز ڈسکوری کا ایک خیالی منظر جبکہ نچلے حصے میں سیارچے کی سطح دیکھی جاسکتی ہے۔ فوٹو: بشکریہ جے پی ایل ناسا
ناسا کے خلائی جہاز ڈسکوری کا ایک خیالی منظر جبکہ نچلے حصے میں سیارچے کی سطح دیکھی جاسکتی ہے۔ فوٹو: بشکریہ جے پی ایل ناسا
کیلیفورنیا: ناسا نے 2022 کے موسمِ گرما میں پلاٹینم اور سونے سے بنے سیارچے (ایسٹرائڈ) کی جانب ایک خلائی جہاز روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ناسا کے مطابق سیارچہ سونے اور پلاٹینم سے بنا ہے جس میں فولاد اور جست (نِکل) بھی شامل ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سیارچہ بہت دور نہیں بلکہ مریخ (مارس) اور مشتری ( جوپیٹر) کے درمیان ایک سیارچی پٹی میں گردش کررہا ہے، جو ہمارے سورج کی پیدائش کے ایک کروڑ سال سے بھی کم عرصے میں پیدا ہو گیا تھا۔ ناسا کے مطابق ایسٹرائڈ پر تحقیق سے خود نظامِ شمسی کی تاریخ جاننے میں مدد مل سکے گی۔
ناسا نے سیارچے پر بھیجے جانے والے خلائی جہاز کو ڈسکوری مشن کا نام دیا ہے جسے 2022 میں زمین سے بھیجا جائے گا اور وہ 4 سال بعد 2026 میں ایسٹرائڈ تک پہنچے گا، سیارچے کو ’ 16 سائیکے‘ کا نام دیا گیا ہے جو سونے، چاندی اور پلاٹینم سے مالا مال ہے۔ ماہرین اس کی مالیت کا اندازہ لگانے سے قاصر ہیں تاہم خیال ہے کہ یہ خلا میں تیرتا ہوا خزانہ ہے جس کی مالیت کا تخمینہ 10 ہزار کواڈریلیئن ڈالر لگایا گیا ہے جو 1,000,000,000,000,000,000,0 ڈالر کے برابر ہے۔
ماہرین کے مطابق 16 سائیکے قیمتی دھاتوں کا ایک مجموعہ ہے جو ہمارے پڑوس میں واقع قیمتی ترین شے بھی ہے۔ اسی بنا پر سرمایہ کار حضرات اسے حسرت سے دیکھ رہے ہیں لیکن اس سیارچے کو زمین تک لانا اتنا مہنگا ہو گا کہ خود زمین کا سارا معاشی نظام تباہ ہو کر رہ جائے گا۔
ناسا نے اس سیارچے پر کھدائی اور کان کنی کا تاحال کوئی منصوبہ نہیں بنایا ہے تاہم خلائی کان کنی اور سیارچوں سے سونا نکالنے والی دو کمپنیاں وجود میں آ چکی ہیں۔ ان میں سے ایک ڈیپ اسپیس انڈسٹری جب کہ دوسری پلانیٹری ریسورسز ہے جو 2011 UW158 پر نظر جمائے ہوئے ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا سونے کا سیارچہ ہے جو لندن ٹاور سے دوگنا بڑا ہے اور اس پر 5 ٹریلین ڈالر کا سونا موجود ہے۔

خون میں پلیٹلیٹس بنانے والا ’ماسٹر سوئچ‘ دریافت

اس دریافت کی بدولت مصنوعی ذرائع سے پلیلیٹس حاصل کرتے ہوئے لاکھوں مریضوں کا انحصار عطیہ کردہ خون پر کم کیا جاسکے گا۔ (فوٹو: فائل)
اس دریافت کی بدولت مصنوعی ذرائع سے پلیلیٹس حاصل کرتے ہوئے لاکھوں مریضوں کا انحصار عطیہ کردہ خون پر کم کیا جاسکے گا۔ (فوٹو: فائل)
ورجینیا: طبی ماہرین نے ایک ایسا ’’ماسٹر سوئچ‘‘ دریافت کرلیا ہے جو ضرورت پڑنے پر مختلف اقسام کے پلیٹلیٹس تیار کرسکتا ہے اور یوں خون میں پائے جانے والے ان اہم خلیات کی کمی پوری کرسکتا ہے۔
واضح رہے کہ ہمارے خون میں سرخ خلیات کے علاوہ ’’پلیلٹیٹس‘‘ (Platelets) کہلانے والے خلیات بھی پائے جاتے ہیں جو ضرورت پڑنے پر خون کے لوتھڑے بنا کر زخم سے خون کا بہاؤ روک کر ہماری جان بچاتے ہیں۔ نوزائیدہ بچوں کے خون میں پائے جانے والے پلیٹلیٹس کی جسامت کم ہوتی ہے جبکہ بڑی عمر کے لوگوں میں یہ نسبتاً زیادہ جسامت کے حامل ہوتے ہیں۔
خون کے سرخ خلیات کی طرح پلیٹلیٹس بھی ہڈی کے گودے میں بنتے ہیں لیکن سرخ خلیات کے مقابلے میں ان کی مقدار بہت کم ہوتی ہے جبکہ اب تک انہیں جسم سے باہر، مصنوعی ماحول میں تیار کرنے کی کوششیں بھی کسی خاص کامیابی سے ہم کنار نہیں ہوسکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک پلیٹلیٹس کی تمام ضرورت عطیہ کردہ خون سے ان خلیات کو علیحدہ کرکے پوری کی جارہی ہے۔
یونیورسٹی آف ورجینیا اسکول آف میڈیسن میں ماہرین کی ایک ٹیم نے اس مسئلے کا حل ایک ’’ماسٹر سوئچ‘‘ کی صورت میں دریافت کرلیا ہے جو نہ صرف پلیٹلیٹس کی پیداوار بڑھا سکتا ہے بلکہ ضرورت پڑنے پر نوزائیدہ بچوں یا بالغوں کےلیے جداگانہ اقسام کے پلیٹلیٹس بھی تیار کرسکتا ہے۔
یہ دریافت اس لحاظ سے اہم ہے کیونکہ خون کی بیماریوں میں مبتلا افراد کے علاوہ قبل از وقت پیدا ہوجانے والے بچوں کو بھی پلیٹلیٹس کی ضرورت پڑتی ہے جسے پورا کرنا اکثر اوقات بہت مشکل ثابت ہوتا ہے۔
ہڈی کے گودے میں موجود خلیات کا حیاتی کیمیائی ’’ماسٹر سوئچ‘‘ یہی کام کرتا ہے جو صحت مند جسم میں بہ وقتِ ضرورت پلیٹلیٹس کی زیادہ مقدار بنانے کا باعث بنتا ہے۔ اس دریافت کے بعد جب یہ سوئچ پیٹری ڈش میں رکھے گئے ہڈی کے گودے سے لیے گئے خلیات پر آزمایا گیا تو اس سے زیادہ مقدار میں پلیٹلیٹس بننے لگے جبکہ وقت بھی خاصا کم صرف ہوا۔ یہی نہیں بلکہ تھوڑے سے مختلف حالات میں اس سوئچ نے اپنی کارکردگی میں تبدیلی کرتے ہوئے ایسے پلیٹلیٹس بنانا شروع کردیئے جو نوزائیدہ بچوں کے خون میں پائے جاتے ہیں۔
ماہرین کو امید ہے کہ اس ماسٹر سوئچ کا طریقہ کار بہتر طور پر سمجھنے کے بعد خون کی مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد کا علاج بھی ہوسکے گا اور متبادل ذرائع سے پلیٹلیٹس کی زیادہ مقدار فراہم کرتے ہوئے عطیہ کردہ خون پر انحصار بھی کم سے کم کیا جاسکے گا۔
اس تحقیق اور دریافت کی تفصیلات ’’جرنل آف کلینیکل انویسٹی گیشن‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔