جمعرات، 4 مئی، 2017

صرف 2 منٹ میں دماغ کا آپریشن کرنے والا روبوٹ سرجن


روبوٹک ڈرل نامی یہ سرجن روبوٹ انسانی دماغ کا حساس آپریشن بھی صرف 2 منٹ میں کرتے ہوئے سرجری میں انقلاب برپا کرسکتا ہے۔
فوٹو: یونیورسٹی آف یوٹاہ
روبوٹک ڈرل نامی یہ سرجن روبوٹ انسانی دماغ کا حساس آپریشن بھی صرف 2 منٹ میں کرتے ہوئے سرجری میں انقلاب برپا کرسکتا ہے۔ فوٹو: یونیورسٹی آف یوٹاہ
یوٹاہ: کینیڈا کے ماہرین نے ایک ایسا روبوٹ سرجن ایجاد کیا ہے جو اپنے باریک برموں کی مدد سے دماغ کا آپریشن صرف 2 منٹ میں مکمل کرسکتا ہے اور اس طرح یہ دنیا بھر میں دماغ کے لاکھوں مریضوں کو ہر سال فائدہ پہنچا سکتا ہے۔
دماغ کی درست ترین عکس نگاری کے لیے یہ روبوٹ سی ٹی اسکین سے استفادہ کرتا ہے اور اپنے برموں کو نپے تلے انداز میں حرکت دیتے ہوئے دماغ کا حساس ترین آپریشن بھی صرف 2 منٹ میں کرسکتا ہے۔ اب تک یہ ایسے تجرباتی پتلوں پر آزمایا جاچکا ہے جو اندرونی اور بیرونی طور پر بالکل حقیقی انسانی کھوپڑی جیسے ہیں۔ البتہ کینیڈا کی وزارتِ صحت سے منظوری مل جانے کے بعد اس سے مریضوں کے آپریشن بھی تجرباتی طور پر کیے جائیں گے تاکہ اس کی کارکردگی درست طور پر سامنے آسکے۔
سرجری کے شعبے میں بہت زیادہ ترقی ہوجانے کے بعد بھی اب تک دماغ کا آپریشن مشکل ترین تصور کیا جاتا ہے کیونکہ دماغ انسانی جسم کا نازک ترین حصہ ہے اور آپریشن میں معمولی سی غلطی بھی مریض کی جان لے سکتی ہے یا پھر اسے ساری زندگی کےلیے معذور بھی بناسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دماغ کے چھوٹے سے چھوٹے آپریشن میں بھی کم سے کم 2 گھنٹے لگ جاتے ہیں جب کہ کامیابی کا اوسط امکان صرف 10 فیصد کے لگ بھگ رہتا ہے۔
لیکن یونیورسٹی آف یوٹاہ کینیڈا میں ایجاد کیے گئے اس روبوٹ کی بدولت یہ سارا منظرنامہ آنے والے برسوں میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ آپریشن کے دوران انسانی سرجن کے ہاتھ کانپ سکتے ہیں جب کہ انسانی آنکھ ایک خاص حد سے زیادہ باریک بینی کا مظاہرہ نہیں کرسکتی۔ اس کے مقابلے میں روبوٹ سرجن کی نظر بہت تیز ہے جب کہ اس سے آپریشن کو تیر بہدف بنانے کے لیے سی ٹی اسکین کی مدد سے مسلسل اور تیز رفتار عکس نگاری بھی کی جاتی رہتی ہے۔ اس طرح یہ دماغ کے ان چھوٹے اور اندرونی حصوں کو بھی پوری تفصیل سے دیکھ سکتا ہے جنہیں دیکھنا انسان کے بس سے باہر ہے۔
اپنے تجرباتی مرحلے میں یہ پوری طرح سے خودکار نہیں بلکہ انسانی آپریٹر کی نگرانی میں اپنا کام انجام دیتا ہے۔ البتہ انسانی تجربات کے دوران جانچ پڑتال مکمل ہوجانے کے بعد امید ہے کہ یہ مستقبل میں تقریباً مکمل خودمختار حیثیت سے دماغ کے آپریشن انجام دے رہا ہوگا۔ توقع ہے کہ ’’روبوٹک ڈرل‘‘ کہلانے والے اس دماغی سرجن روبوٹ کے انسانی تجربات کی اجازت اس سال کے اختتام تک مل جائے گی۔

فیس بک اور ٹویٹر کا اہم فیچر واٹس ایپ میں شامل


نئے فیچر کی بدولت واٹس ایپ میں صارفین اپنی تین پسندیدہ ترین چیٹس کو ہمیشہ سب سے اوپر رکھ سکیں گے۔ (فوٹو: فائل)
نئے فیچر کی بدولت واٹس ایپ میں صارفین اپنی تین پسندیدہ ترین چیٹس کو ہمیشہ سب سے اوپر رکھ سکیں گے۔ (فوٹو: فائل)
سلیکان ویلی: واٹس ایپ میں جلد ہی ایک نئے فیچر کا اضافہ ہونے والا ہے جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صارفین اپنی تین پسندیدہ ترین چیٹس کو سب سے اوپر رکھ سکیں گے۔
یہ فیچر بہت پہلے سے فیس بک اور ٹویٹر پر موجود ہے جس کے ذریعے کسی پوسٹ کو ہمیشہ سب سے اوپر (pin to top) رکھا جاسکتا ہے البتہ یہ سہولت صرف ایک پوسٹ کے لیے ہے۔
نئے واٹس ایپ فیچر کی بدولت صارفین کے لیے یہ ممکن ہوگا کہ اپنی تین پسندیدہ ترین چیٹس کو ہمیشہ سب سے اوپر رکھ سکیں گے تاکہ انہیں تلاش کرنے کے لیے اسکرول ڈاؤن نہ کرنا پڑے۔ سب سے اوپر رکھی جانے والی چیٹس کی نوعیت انفرادی بھی ہوسکتی ہے اور وہ گروپ چیٹس بھی ہوسکتی ہیں۔
فی الحال یہ نیا فیچر واٹس ایپ کے بی-ٹا ورژن 2.17.162 اور 2.17.163 میں دستیاب ہے جنہیں پلے اسٹور یا ’’اے پی کے مرر‘‘ سے بطور بی-ٹا ٹیسٹر رجسٹر ہونے کے بعد ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔
فیس بُک کی طرح واٹس ایپ میں بھی ’’سب سے اوپر‘‘ رکھی گئی چیٹس اس وقت بھی سب سے اوپر ہی رہیں گی کہ جب دوسری چیٹس میں نئے پیغامات موصول ہورہے ہوں۔ واٹس ایپ کی جانب سے فی الحال اس فیچر کو عوامی سطح پر پیش کرنے کےلیے کوئی تاریخ تو نہیں دی گئی ہے لیکن اندازہ ہے کہ یہ فیچر اسی ماہ کسی نئی واٹس ایپ اپ ڈیٹ کے ساتھ دستیاب ہوجائے گا۔

ایک سیکنڈ میں 5 ہزار ارب تصویریں کھینچنے والا کیمرا


اس سے تیز رفتار کیمیائی اور نیوکلیائی تعاملات وغیرہ کو زیادہ بہتر طور پر دیکھا اور سمجھا جاسکے گا جن کے دوران ایک سیکنڈ کے کھربویں حصے میں بھی واضح تبدیلیاں رونما ہوجاتی ہیں۔ (فوٹو: فائل)
اس سے تیز رفتار کیمیائی اور نیوکلیائی تعاملات وغیرہ کو زیادہ بہتر طور پر دیکھا اور سمجھا جاسکے گا جن کے دوران ایک سیکنڈ کے کھربویں حصے میں بھی واضح تبدیلیاں رونما ہوجاتی ہیں۔ (فوٹو: فائل)
اسٹاک ہوم: سویڈن کے سائنسدانوں نے ایسا کیمرا ایجاد کرلیا ہے جو ایک سیکنڈ میں 5 ٹریلین یعنی 5000 ارب تصویریں کھینچ سکتا ہے اور اس طرح یہ اب تک کا سب سے تیز رفتار کیمرا بھی ہے۔
اس کیمرے کی ٹیکنالوجی کو ’’فریم‘‘ (FRAME) یعنی ’’فریکوئنسی ریکگنیشن الگورتھم فار ملٹی پل ایکسپوژر‘‘ کا نام دیا گیا ہے جس کی مدد سے خاص طرح کی انکرپٹڈ روشنی (encrypted light) استعمال کرتے ہوئے ایک سیکنڈ کے 5000 ارب ویں حصے میں تصویر کھینچی جاسکتی ہے جبکہ یکے بعد دیگر ایسی اربوں کھربوں تصویروں کو ترتیب دے کر کسی منظر کی مختصر ترین جزئیات بھی بڑی تفصیل سے فلمائی اور دیکھی جاسکتی ہیں۔
بس یوں سمجھیے کہ ’’فریم‘‘ ٹیکنالوجی کی بدولت اگر صرف ایک سیکنڈ کی فلم بنائی جائے اور 60 فریمز فی سیکنڈ کی رفتار سے دیکھی جائے تو وہ 2642 سال سے بھی زیادہ عرصے میں مکمل ہوگی۔
فریم ٹیکنالوجی سے متعلق ایک ویڈیو بھی یو ٹیوب پر ڈالی گئی ہے:
جرمنی کی ایک کمپنی نے یہ ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے ایک پروٹوٹائپ کیمرا بھی بنالیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ آئندہ دو سال تک یہ مارکیٹ میں فروخت کےلیے دستیاب بھی ہوجائے گا۔ البتہ یہ زبردست ٹیکنالوجی سیلفی لینے یا عام فلم بنانے کےلیے نہیں ہوگی بلکہ اس کی مدد سے کیمیائی (کیمیکل) اور نیوکلیائی (نیوکلیئر) تعاملات وغیرہ کو زیادہ بہتر طور پر دیکھا اور سمجھا جاسکے گا جن میں ایک سیکنڈ کے کھربویں حصے میں واضح تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔
فلم بنانے والے عام کیمرے 30 فریمز فی سیکنڈ سے لے کر 60 فریمز فی سیکنڈ تک کی رفتار سے تصاویر لے سکتے ہیں جبکہ اس وقت بھی ایسے کیمرے موجود ہیں جو 100,000 فریمز فی سیکنڈ کی زبردست رفتار سے عکس بندی کرسکتے ہیں؛ لیکن ’’فریم‘‘ ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے والے کیمروں کے سامنے یہ بھی انتہائی سست رفتار محسوس ہوتے ہیں۔

فیس بک نے 50 نئے گیمز متعارف کرادیئے


فیس بک نے اپنے میسنجر استعمال کرنے والے صارفین کے لیے گیم متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، فوٹو؛ فائل
فیس بک نے اپنے میسنجر استعمال کرنے والے صارفین کے لیے گیم متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، فوٹو؛ فائل
سان فرانسسكو: فیس بک نے اپنے میسنجر استعمال کرنے والے صارفین کے لیے 50 مشہور گیمز کا اعلان کیا ہے جو ہر ماہ میسنجر استعمال کرنے والے ایک ارب 20 صارفین کھیل سکیں گے۔
اگرچہ میسنجر ایپ میں گیمز گزشتہ برس متعارف کرائے گئے تھے لیکن اب تک وہ بی ٹا ٹیسٹنگ کے مرحلے میں تھے یعنی لانچ سے پہلے آزمائشی مراحل سے گزررہے تھے۔ اب میسنجر استعمال کرنے والے اپنی ایپ کے ذریعے دوستوں کے ساتھ 50 گیم کھیل سکیں گے جن میں الفاظ والے گیمز، ایٹ بال پول، پیک مین، سولٹیئر، اسنیک، نوم کیٹ، کوکنگ ماما، کٹ دی روپ، مارس روور، ٹومب رنر، ٹاور میچ، برک پاپ، سلوپ سلائیڈر، ماسٹر آرچر، بنجو، سوڈوکو اور دیگر گیمز شامل ہیں۔ اب آپ یہ گیمز پوری دنیا کے دوستوں کے ساتھ کھیل سکیں گے۔
فیس بک کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ پرلطف، مسابقت اور سماجی انداز ہے جس کے ذریعے آپ اپنے دوستوں کو چیلنج اور خوش کرسکیں گے۔ اس کے لیے میسنجر ٹیکسٹ باکس کے پہلو میں ایک پلس سائن پر کلک کریں اور آپشن میں سے گیم پر جاکر کسی بھی گیم کا انتخاب کریں یا پھر صرف انگلی سے چھو کر بھی گیم شروع کیا جاسکتا ہے۔ ان میں 80 اور90 کے دہائی کے آرکیڈ گیم بھی شامل ہیں جن میں گیلگا اور اسپیس انویڈرز نمایاں ہیں۔ یہ گیم ان لوگوں کے لیے زیادہ متاثر کن ہوں گے جو آج سے 30 برس قبل آرکیڈ مشینوں پر گیمز کھیلا کرتے تھے۔
یہ گیمز فیس بک، میسنجر اور میسنجر کی ویب سائٹ پر یکساں طور پر کھیلے جاسکیں گے اور ان کا اجرا جلد ہی کیا جائے گا۔ فیس بک نے اعلان کیا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ مزید انسٹنٹ گیمز بھی متعارف کرائے جائیں گے۔

واٹس ایپ سروس کئی گھنٹوں تک معطل


کوئی نہیں جانتا کہ یہ ہیکرز کے حملے کی وجہ سے ہوا تھا یا پھر واقعتاً واٹس ایپ نیٹ ورک میں کوئی تکنیکی خرابی رونما ہوئی تھی۔ (فوٹو: فائل)
کوئی نہیں جانتا کہ یہ ہیکرز کے حملے کی وجہ سے ہوا تھا یا پھر واقعتاً واٹس ایپ نیٹ ورک میں کوئی تکنیکی خرابی رونما ہوئی تھی۔ (فوٹو: فائل)
سلیکان ویلی: گزشتہ رات دنیا بھر میں واٹس ایپ کی سروس کئی گھنٹوں تک معطل رہی جسے کچھ دیر پہلے بحال کردیا گیا ہے لیکن ماہرین اب تک یہ نہیں جان سکے ہیں کہ آخر یہ سروس معطل کیوں ہوئی تھی۔
واٹس ایپ ترجمان نے سروس کی معطلی پر دنیا بھر میں اپنے صارفین سے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک وقتی خلل تھا جسے دور کردیا گیا ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ اس کی وجہ کیا تھی۔
واضح رہے کہ 2014 میں واٹس ایپ کو فیس بُک نے خرید لیا تھا جبکہ اس وقت دنیا بھر میں اس کے صارفین کی تعداد ایک ارب 20 کروڑ پر پہنچ چکی ہے۔ واٹس ایپ کی تاریخ میں یہ پہلا موقعہ ہے جب پوری دنیا میں یہ سروس کئی گھنٹوں تک معطل رہی ہے۔ واٹس ایپ ترجمان کی جانب سے اس کی وجہ کے متعلق کچھ نہ کہنا بھی معاملے کو مزید پراسرار بنارہا ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ یہ ہیکرز کے حملے کی وجہ سے ہوا تھا یا پھر واقعتاً واٹس ایپ کے عالمی نیٹ ورک میں کوئی تکنیکی خرابی رونما ہوئی تھی۔
خبر رساں ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی ہندوستان، کینیڈا، امریکا اور برازیل کے کچھ علاقوں میں واٹس ایپ کی سروس ابھی تک معطل ہے۔

ناسا کا عظیم الجثہ پریشر بیلون کامیابی سے فضا میں روانہ


بیلون مشن کے دوران زمین کی سطح سے 34 کلو میٹر اوپر تک فضا میں تیرتا رہے گا۔ فوٹو: نیٹ
بیلون مشن کے دوران زمین کی سطح سے 34 کلو میٹر اوپر تک فضا میں تیرتا رہے گا۔ فوٹو: نیٹ
ولنگٹن: نیوزی لینڈ میں ناسا کا اسٹیڈیم کے سائز کا پریشر غبارہ کئی مرتبہ خراب موسمی صورتحال کے باعث ناکام کوشش کے بعد بدھ کو فضا میں چھوڑ دیا گیا۔
ناسا کے مطابق غبارے کا پہلا مشن 100دن پر مشتمل ہے جس دوران اس میں نصب آلات کہکشائوں سے زمین کی طرف آنیوالے ان’’ الٹرا ہائی انرجی کاسمک پارٹیکلز‘‘ کا مشاہدہ اور مطالعہ کرینگے جو زمین کی فضا میں پہنچنے کے بعد بکھر جاتے ہیں۔
اس منصوبے کے سائنسدانوں کے مطابق وہ ایک عرصہ سے ان پر اسرار ذرات کا اصل ماخذ اور مقصد جاننے کی جستجو کر رہے ہیں۔ بیلون مشن کے دوران زمین کی سطح سے 34 کلو میٹر اوپر تک فضا میں تیرتا رہے گا۔
واضح رہے کہ غبارے کو نیوزی لینڈ کے جنوبی سیاحتی مقام وناکا سے چھوڑا گیا۔

ہیکرز نے ہیکنگ کیلیے نیا طریقہ ڈھونڈ نکالا


ہیکرز نے گوگل ڈاکس کے ذریعے ہیکنگ کا طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے جس میں آپ کو واقف کار کی لنک کے ساتھ میل موصول ہوگی، فوٹو؛ فائل
ہیکرز نے گوگل ڈاکس کے ذریعے ہیکنگ کا طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے جس میں آپ کو واقف کار کی لنک کے ساتھ میل موصول ہوگی، فوٹو؛ فائل
کیلی فورنیا: گوگل کی ذیلی کمپنی ’’الفابیٹ انکارپوریٹڈ‘‘ نے خبردار کیا ہے کہ اگر آپ کو اپنے کسی واقف کار کی جانب سے ای میل موصول ہو جس میں کسی آن لائن گوگل ڈاکیومنٹ فائل (گوگل ڈاکس) کا لنک ہو اور آپ سے اس لنک پر کلک کرنے کےلیے کہا جائے تو اس ہدایت پر کبھی عمل نہ کریں کیونکہ ایسا کرنے پر پاس ورڈ اور یوزر نیم سمیت آپ کے ای میل اکاؤنٹ کی ساری تفصیلات کسی نامعلوم ہیکر تک پہنچ جائیں گی۔
الفابیٹ اِنکارپوریٹڈ کے مطابق اب ہیکروں نے انٹرنیٹ صارفین کو نشانہ بنانے اور ان کی حساس معلومات تک رسائی حاصل کرنے کے لیے نیا حربہ ایجاد کرلیا ہے جو دراصل ماضی میں کیے جانے والے ’’فشنگ حملوں‘‘ (phishing attacks) ہی کی جدید صورت ہے۔
’’فشنگ‘‘ کے حملے میں آپ کو ایک ایسی ای میل موصول ہوتی ہے جو بظاہر آپ کے کسی دوست یا واقف کار کی جانب سے ہوتی ہے جس میں عموماً کسی دوسرے ملک میں ہنگامی حالات کے تحت پھنسنے کا تذکرہ ہوتا ہے اور آپ سے فوری طور پر مالی مدد کی درخواست کی جاتی ہے۔ البتہ بعض اوقات رابطے کےلیے کوئی لنک بھی دیا گیا ہوتا ہے جس پر کلک کرتے ہی آپ کا اکاؤنٹ ہیک ہوجاتا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ صارفین بھی ہوشیار ہوچکے ہیں اور اب ایسے فشنگ حملوں کی زد میں نہیں آتے اس لیے ہیکروں نے فشنگ کا طریقہ واردات تبدیل کردیا ہے۔ نئے طریقے کے تحت وہ ایسی ای میلز ترتیب دیتے ہیں جن میں بظاہر کسی بے ضرر سی ’’گوگل ڈاکس‘‘ کا لنک موجود ہوتا ہے لیکن اس لنک پر کلک کرتے ہی ایک ایسا آن لائن پروگرام سرگرم ہوجاتا ہے جو آپ کے ای میل اکاؤنٹ کی ساری تفصیلات ہیکر کو بھیج دیتا ہے۔ ان معلومات کے ذریعے آپ کا ای میل اکاؤنٹ ہیک کرکے آپ کی حساس اور قیمتی معلومات تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے جب کہ بعض صورتوں میں آپ کو ناقابلِ تلافی نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔
اس حملے میں کوئی وائرس آپ کے کمپیوٹر کو متاثر نہیں کرتا اس لیے بیشتر اینٹی وائرس پروگرام بھی اس کے خلاف کچھ نہیں کر پاتے۔ سرِدست اس نئے فشنگ حملے سے بچنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ کسی بھی ای میل کے ساتھ دیئے گئے لنک پر کلک کرنے سے گریز کیا جائے اور لنک مشکوک محسوس ہو لیکن اس پر کلک کرنا بھی ضروری لگے تو بہتر ہے کہ ای میل بھیجنے والے سے کوئی دوسرا ذریعہ استعمال کرکے رابطہ کیا جائے اور تصدیق کی جائے کہ یہ پیغام واقعی اسی نے بھیجا ہے یا پھر یہ کسی ہیکر کی کارستانی ہے۔
سائبر سیکیورٹی کے ماہرین اگرچہ اس مسئلے کا حل جلد ہی ڈھونڈ لیں گے مگر پھر بھی ہمیں احتیاط کرنی چاہیے اور موصول ہونے والی ہر فائل اور ہر لنک پر کلک نہیں کرنا چاہیے؛ کیونکہ اسی میں ہماری بہتری ہے۔