جمعہ، 7 اپریل، 2017

سمندری پانی کو میٹھا بنانے والی ’نینو چھلنی‘ ایجاد کرلی گئی


اس میں سوراخوں کی چوڑائی بطور خاص ہے کہ ان میں سے پانی کے سالمات تو گزر سکتے ہیں لیکن نمک کے سالمات نہیں۔ (فوٹو: مانچسٹر یونیورسٹی)
اس میں سوراخوں کی چوڑائی بطور خاص ہے کہ ان میں سے پانی کے سالمات تو گزر سکتے ہیں لیکن نمک کے سالمات نہیں۔ (فوٹو: مانچسٹر یونیورسٹی)
مانچسٹر: برطانوی کیمیا دانوں کی ایک ٹیم نے ’’گریفین‘‘ نامی مادّہ استعمال کرتے ہوئے ایسی چھلنی ایجاد کرلی ہے جس کے سوراخ صرف ایک نینومیٹر جتنے چوڑے ہیں جب کہ وہ سمندر کے شدید نمکین پانی تک کو بڑی تیزی سے صاف کرکے میٹھا اور پینے کے قابل بناسکتی ہے۔
’’گریفین‘‘ دراصل کاربن کی ایک بہروپی شکل ہے جس میں کاربن کے ایٹم کسی بڑی سالماتی چادر (مالیکیولر شیٹ) کی شکل میں ایک دوسرے سے منسلک ہوتے ہیں۔ اپنی دریافت سے لے کر اب تک گریفین کو متعدد تحقیقی اور اطلاقی مقاصد میں استعمال کیا جاچکا ہے جب کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس سے وابستہ امکانات کی دنیا وسیع سے وسیع تر ہوتی جارہی ہے۔
اسی تسلسل میں یونیورسٹی آف مانچسٹر کے سائنسدانوں نے پانی کی صفائی میں گریفین آکسائیڈ استعمال کرتے ہوئے نینومیٹر پیمانے کے سوراخوں والی چھلنیاں بنانے کا فیصلہ کیا تاہم قباحت یہ تھی کہ جب گریفین آکسائیڈ کو پانی میں رکھا جاتا ہے تو اس کی سالماتی چادر پھول جاتی ہے جس کے نتیجے میں اس کے شگاف بھی زیادہ چوڑے ہوجاتے ہیں جن میں سے نمک کے سالمات بہ آسانی گزرتے چلے جاتے ہیں۔ یعنی یہ پانی کو نمک سے پاک کرنے میں بالکل بے کار ہوجاتی ہے۔
یہ مسئلہ حل کرنے کے لیے ماہرین نے گریفین پر ’’ایپوکسی ریزن‘‘ کہلانے والے ایک خاص مادّے کی بیرونی پرت چڑھادی جس نے اسے پانی پڑنے پر پھولنے سے باز رکھا۔ تجربات کے دوران اس ’’نینو چھلنی‘‘ نے نمکین پانی کو بڑی تیزی سے اور مکمل طور پر صاف کرکے پینے کے قابل بنایا۔
ماہرین کا کہنا ہےکہ پانی اور نمک کے سالمات (مالیکیولز) کی جسامت میں بہت معمولی سا فرق ہوتا ہے جسے مدنظر رکھتے ہوئے اس ’’گریفین نینو چھلنی‘‘ میں سوراخوں کی چوڑائی بطورِ خاص اتنی رکھی گئی کہ ان میں سے پانی کے سالمات تو گزر سکتے ہیں لیکن نمک کے سالمات نہیں۔ اس نینو چھلنی کا ایک اور بڑا فائدہ یہ ہے کہ اگر اس کے ایک طرف نمکین پانی کا دباؤ بڑھایا جائے تو دوسری طرف سے صاف پانی خارج ہونے کی رفتار بھی بڑھ جاتی ہے جب کہ اس پورے عمل کے دوران نینو چھلنی کے سوراخ بھی نمک کے سالمات سے بند نہیں ہوتے۔
یوں تو سمندر کے نمکین پانی کو صاف اور پینے کے قابل بنانے کے لیے ’’ریورس اوسموسس‘‘ اور اسی قسم کے دوسرے طریقے برسوں سے موجود ہیں لیکن وہ سب کے سب اوّل تو بہت مہنگے ہیں اور دوسرے وہ بہت پیچیدہ بھی ہیں۔ لیکن گریفین پر مشتمل نینو چھلنی ان سب سے کہیں بہتر، سادہ اور کم خرچ بھی ہے جو خاص طور پر غریب ممالک میں آلودہ پانی کو صاف کرنے میں بہت مدد کرسکتی ہے۔ اگلے مرحلے میں ماہرین اسے قابلِ عمل واٹر فلٹر میں بدلنے کی تیاریاں کررہے ہیں۔ اس ایجاد کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’نیچر نینوٹیکنالوجی‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

جمعرات، 6 اپریل، 2017

الاسکا کے گلیشیئر 900 سال کی کم ترین سطح تک جا پہنچے


الاسکا کے جنوب میں کولمبیا گلیشیئر سے وابستہ ایک برف کا ٹکڑا۔ فوٹو: بشکریہ وکی میڈیا کامنز
الاسکا کے جنوب میں کولمبیا گلیشیئر سے وابستہ ایک برف کا ٹکڑا۔ فوٹو: بشکریہ وکی میڈیا کامنز
اوریگن، امریکہ: گلوبل وارمنگ کی وجہ سے پوری دنیا کے گلیشیئر تیزی سے ختم ہورہے ہیں جنہیں گلیشیئر ریٹریٹ کہا جاتا ہے جب کہ ماحولیاتی تبدیلی سے الاسکا کے گلیشیئر 900 سال کی کم ترین سطح تک جا پہنچے ہیں۔
اس ڈرامائی صورتحال کا انکشاف  اوریگن اسٹیٹ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے کیا۔ 2004 میں سائنسدانوں کی ٹیم نے الاسکا کے جنوبی کنارے پر پرنس ولیم ساؤنڈ کے مقام پر کھدائی شروع کی تھی، یہ وہ جگہ ہے جہاں سے گلیشیئر کا پانی بہتا ہے، کھدائی کے بعد سائنسدانون  نے 1600 سال تک ہونے والے پانی کے بہاؤ کی درجہ بندی کی ہے۔
اب انکشاف ہوا کہ امریکی ریاست الاسکا کے مشہور گلیشیئر کم ہوتے ہوتے اس مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ یہ 900 سال کے مقابلے میں ایک ریکارڈ ہے۔ یعنی آج کے گلیشیئر گزشتہ 9 صدیوں کے مقابلے میں کم ترین سطح پر ہیں اور بری خبر یہ ہے کہ اس پگھلاؤ سے سمندری سطح میں خاطر خواہ اضافہ ہورہا ہے۔
اس کے علاوہ قدیم درختوں کے اندر بننے والے دائروں اور ان میں موجود موسمیاتی شواہد بھی نوٹ کیے گئے ہیں۔ اب اس کا موازنہ زمینی کھدائی سے ملنے والی مٹی سے کیا تو انکشاف ہوا کہ 1910 اور 1980 کے درمیان یہاں کا اوسط درجہ حرارت ایک درجے سینٹی گریڈ بڑھا اور یوں 1980 کے بعد سے کولمبیا گلیشیئر بہت تیزی سے پگھلا جس کی وجہ انسانی سرگرمیاں ہیں۔
دیگر ماہرین نے اس دریافت پر کہا ہے کہ اگر درجہ حرارت اوسط سے ایک یا دو درجے سینٹی گریڈ بڑھ جائے تو اس کے گلیشیئر پر تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

فیس بک ایپ پر’’راکٹ آئی کن‘‘ کیا ہے؟


راکٹ آئی کن کے تحت آپ ایسے لوگوں کی مشہور پوسٹ دیکھ سکیں گے جو آپ کے دوست نہیں اور نہ ہی پسند کردہ ہیں، فوٹو؛ فائل
راکٹ آئی کن کے تحت آپ ایسے لوگوں کی مشہور پوسٹ دیکھ سکیں گے جو آپ کے دوست نہیں اور نہ ہی پسند کردہ ہیں، فوٹو؛ فائل
 لندن: کچھ ہفتوں سے بعض فیس بک صارفین کے موبائل فون میں فیس بک کی ایپ پر ایک راکٹ آئی کن دکھائی دے رہا ہے اور صارفین اس کا مقصد جاننے کے خواہاں ہیں۔
ایک راکٹ کی شکل کا یہ آئی کن نیوز فیڈ آئی کن کے پہلو میں نمایاں ہے اور اس پر کلک کرکے آپ ایسے افراد اور اداروں کی مشہور ترین پوسٹ اور نیوزفیڈز دیکھ سکتے ہیں جنہیں آپ نے کبھی لائیک نہیں کیا اور نہ ہی کسی کو دوست بنایا۔ یہ آئی کن کبھی غائب اور کبھی نمایاں ہوجاتا ہے اور امریکا برطانیہ سمیت پاکستانی صارفین بھی اس کا مشاہدہ کررہے ہیں۔
راکٹ فیڈ میں مقامی پوسٹ دیکھی جاسکتی ہیں جو آپ کے اطراف یا خطے میں اس وقت مقبول ترین ہوتی ہیں یا ان پر بحث کی جارہی ہوتی ہے۔ راکٹ پوسٹس کی دوسری خاص بات یہ ہے کہ اس میں آپ کی دلچسپی کی پوسٹ نمودار ہوتی ہیں اور اس طرح یہ آپ کے لائیکس اور ہم خیال دوستوں کی رفاقت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نیوز فیڈ انسٹا گرام کی ایکسپلور ٹیب کی طرح ہیں اور کمپنی کے خاص الگورتھم آپ کو آپ کی پسند اور معیار کی پوسٹ دکھاتے ہیں۔
واضح رہے کہ فیس بک نے اپنے مخصوص لیکن بہت محدود صارفین کو پہلے بھی اس طرح کی پوسٹ آئکن سے متعارف کرایا تھا۔

سورج کی روشنی سے براہِ راست کھاد بنانے والا بایونک پتّا


ہارورڈ یونیورسٹی میں بنایا گیا مصنوعی نظام فصلوں کی زرخیزی بڑھا کر غربت اور بھوک کا خاتمہ کرسکتا ہے، فوٹو؛ فائل
ہارورڈ یونیورسٹی میں بنایا گیا مصنوعی نظام فصلوں کی زرخیزی بڑھا کر غربت اور بھوک کا خاتمہ کرسکتا ہے، فوٹو؛ فائل
میسا چیوسیٹس: دنیا کی معروف ترین ہارورڈ یونیورسٹی نے ایک ایسا ’’بایونک پتّا‘‘ بنانے کا اعلان کیا ہے جو سورج کی روشنی کو فرٹیلائزر میں تبدیل کرکے دنیا سے بھوک کا خاتمہ کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
اس ’بایونک لیف‘ میں ایک مصنوعی نظام موجود ہے جوعین ضیائی تالیف (فوٹو سنھتے سز) کی نقل کرتا ہے۔ اس عمل سے پودے سورج کی روشنی سے توانائی بناتے ہیں جب کہ یہ نظام اسی روشنی سے مصنوعی کھاد تیار کرتا ہے۔ مستقبل قریب میں اسے فصلوں کی پیداوار بڑھانے اور غریب ممالک میں بھوک اور غربت کے خاتمے میں استعمال کیا جاسکے گا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ان کی ایجاد بیکٹیریا، سورج کی روشنی، پانی اور ہوا سے عین اسی مٹی میں فرٹیلائزر بنا کر اگلے سبز انقلاب کی راہ ہموار کرے گی۔ مصنوعی پتّا بایوکیمسٹری کے ماہرین نے تیار کیا ہے۔ اس سے قبل وہ ایسا مصنوعی پتّا بناچکے ہیں جو اصل پتے سے زیادہ اور بہتر انداز میں ضیائی تالیف کے عمل کو ممکن بناتا ہے۔
اس پتے کو جانچنے کے لیے ماہرین نے اس مٹی میں امونیا کی مقدار کو نوٹ کیا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے صرف بیکٹیریا، سورج کی روشنی، پانی اور ہوا سے بنے فرٹیلائزر پر مولی اُگانے کا تجربہ کیا ۔ مصنوعی پتے سے بنے فرٹیلائزر سے مولیوں کے وزن میں 150 فیصد تک اضافہ نوٹ کیا گیا۔ اگلے مرحلے میں شاید بھارت، پاکستان اور افریقی ممالک کے کسان خود اپنی زرخیز کھاد تیار کرسکیں گے۔
اس تحقیق کی تفصیلات جلد ہی امریکن کیمیکل سوسائٹی کے سالانہ اجلاس میں پیش کی جائیں گی۔ یہ مشینی پتّا باغ میں لگے پتے کی طرح کام کرتا ہے اور سورج کی روشنی میں ہائیڈروجن اور آکسیجن خارج کرتا ہے۔ اس کے بعد بایونک پتے میں ایک قسم کا بیکٹیریا ’رالسٹونیا یوٹروفا‘ شامل کیا جاتا ہے جو ہائیڈروجن استعمال کرتے ہوئے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرکے مائع فرٹیلائزر تیار کرتا ہے۔ اب یہ ٹیم ایک اور بیکٹیریا استعمال کرتے ہوئے فضا سے نائٹروجن کشید کرکے فرٹیلائزر تیار کرنے پر کام کررہی ہے۔

واٹس ایپ کا نیا آن لائن منی ٹرانسفر فیچر متعارف کرانے پر غور


نئے فیچر کے تحت اسمارٹ فون کے زریعے رقم ایک بینک سے دوسرے بینک میں منتقل کی جاسکے گی۔  فوٹو؛ فائل
نئے فیچر کے تحت اسمارٹ فون کے زریعے رقم ایک بینک سے دوسرے بینک میں منتقل کی جاسکے گی۔ فوٹو؛ فائل
واٹس ایپ انتظامیہ نیا فیچر متعارف کرانے پر غور کررہی جس کے تحت آن لائن پیسے ٹرانسفر کیے جاسکیں گے۔
رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ انتظامیہ نیا فیچر متعارف کرانے پر غور کررہی جس کے تحت اب ایک بینک سے دوسرے بینک میں آن لائن پیسے ٹرانسفر کیے جاسکیں گے، نئے فیچر پر کام کے لیے بھارت میں ڈیجیٹل ٹرانزیکشن کے سربراہ کی تعیناتی پر بھی غور ہورہا ہے جو اسمارٹ فون کے ذریعے رقم ایک بینک سے دوسرے بینک میں منتقل کرسکیں گے۔
رپورٹ کے مطابق نئے فیچر کے حوالے سے خبریں اس وقت سامنے آئیں جب واٹس ایپ کے شریک بانی برین ایکٹن نے دورہ بھارت کے دوران بھارتی حکومت کے عہدیداروں سے ملاقات کی اور واٹس ایپ سروس کو ڈیجیٹل کامرس میں مربوط طریقے سے استعمال کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔
رپورٹس کے مطابق ابتدائی طور پر واٹس ایپ فیچر ترقی پزیر ممالک میں متعارف کرایا جائے گا جہاں لوگوں کی بڑی تعداد موبائل فون استعمال کرتی ہے جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔

پاکستانی نوجوانوں نے امریکا میں ایجادات کا مقابلہ جیت لیا


پاکستانی طالبعلم اول انعام جیتنے کے بعد سبز ہلالی پرچم کے ساتھ مسرور دکھائی دے رہے ہیں۔ نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ، اسلام آباد کے ہونہار طالبعلموں نے رعشہ اور کپکپاہٹ دور کرنے والا ایک دستی آلہ بنایا ہے۔ فوٹو: بشکریہ اسٹینفرڈ سینٹر ٹویٹ
پاکستانی طالبعلم اول انعام جیتنے کے بعد سبز ہلالی پرچم کے ساتھ مسرور دکھائی دے رہے ہیں۔ نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ، اسلام آباد کے ہونہار طالبعلموں نے رعشہ اور کپکپاہٹ دور کرنے والا ایک دستی آلہ بنایا ہے۔ فوٹو: بشکریہ اسٹینفرڈ سینٹر ٹویٹ
 کراچی: نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے طلبا نے کیلی فورنیا کی اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے ایک اختراعاتی چیلنج میں پہلا ایوارڈ اور انعام حاصل کرلیا ہے۔
اس مقابلے کو اسٹینفرڈ سینٹر آن لونگیوٹی ڈیزائن نے منعقد کیا تھا جس میں عمررسیدہ افراد کی سہولت اور امراض کی شدت کم  کرنے کے لیے ایجادات اور اختراعات کے آئیڈیا مانگے گئے تھے۔ اس ضمن میں نسٹ کے تین طالبعلموں نے ایک خاص آلہ تیار کیا ہے جسے ٹی اے ایم ای (ٹریمر ایکویزیشن اینڈ منی مائزیشن) کا نام دیا گیا ہے۔ 30 مارچ 2017 کو ہونے والے اس مقابلے میں اسے اپنی افادیت کی بنا پر پہلا انعام دیا گیا ہے۔
ٹی اے ایم ای کو نسٹ کے اسکول آف الیکٹریکل انجینئرنگ اینڈ کمپیوٹر سائنسز (ایس ای ای سی ایس) کے ارسلان جاوید، حوریہ انعم، اویس شفیق اور شیراز صدیقی نے ڈیزائن کیا ہے جبکہ اس کی آزمائش میں مختلف امراض کے ماہرین اور ڈاکٹر شامل ہیں۔ طلبا و طالبات نے ڈاکٹر سید محمد رضا کاظمی کی نگرانی اپنا یہ پروجیکٹ بنایا ہے جو اس سے قبل کئی بھی دنیا بھر سے کئی ایوارڈ حاصل کرچکا ہے۔
یہ ایک ہلکا پھلکا آلہ ہے جسے لباس کے اندر بازو پر لپیٹا جاسکتا ہے اور وہ باہر سے نظر نہیں آتا۔ ٹی اے ایم ای ماہرِ نفسیات اور اعصابی ڈاکٹروں کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ  رعشہ اور ہاتھوں کی غیر ارادی  کپکپاہٹ کو نوٹ کرکے الیکٹروڈ کے ذریعے ہلکی بجلی خارج کرکے ان سگنلوں کو کم  (یا کینسل) کرتا ہے۔ اس طرح مریض کسی شے کو تھامنے، کھانے پینے اور لکھتے ہوئے دقت محسوس نہیں کرتا۔
پاکستانی ٹیم کے سامنے میسا چیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی)، کورنیل یونیورسٹی، بیجنگ یونیورسٹی اور خود اسٹیفرڈ یونیورسٹی کے طلبہ اور طالبات شریک تھے جن کی ایجادات کے سامنے پاکستانی ماہرین کی اختراع انعام یافتہ قرار پائی۔
عام مشاہدہ ہے کہ یہ مرض عمررسیدہ افراد کو لاحق ہوتا ہے کیونکہ ان کا دماغ غیرضروری سگنل ہاتھوں کو بھیجتا ہے۔ اس کے علاوہ کسی دماغی چوٹ اور حادثے کے مریض بھی اس سے استفادہ کرسکتے ہیں۔
اس آلے کی کئی طبی آزمائشیں کی گئی ہیں جو اس ویب سائٹ پر دیکھی جاسکتی ہے اور اسی مناسبت سے یہ لونگیوٹی چیلنج میں پہلے انعام کی حقدار قرار پائی ہے جو نہ صرف نسٹ بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک قابلِ فخر بات ہے۔

اپنی مرمت آپ کرنے والی اسمارٹ فون اسکرین


اس پر خراشیں خود بخود ختم ہوجاتی ہیں اور اگر یہ اسکرین ٹوٹ بھی جائے تب بھی یہ 24 گھنٹوں میں خود کو دوبارہ جوڑ لیتی ہے، فوٹو؛ فائل
اس پر خراشیں خود بخود ختم ہوجاتی ہیں اور اگر یہ اسکرین ٹوٹ بھی جائے تب بھی یہ 24 گھنٹوں میں خود کو دوبارہ جوڑ لیتی ہے، فوٹو؛ فائل
کیلیفورنیا: امریکی انجینئروں نے ایک ایسی اسمارٹ فون اسکرین ایجاد کرلی ہے جو اپنی مرمت آپ کرسکتی ہے یعنی اس پر پڑنے والی خراشیں کچھ دیر بعد خود بخود ختم ہوجاتی ہیں اور اگر یہ اسکرین ٹوٹ بھی جائے تب بھی یہ 24 گھنٹوں کے اندر اندر خود کو دوبارہ جوڑ لیتی ہے۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے انجینئروں نے یہ اچھوتی اسمارٹ فون اسکرین ایجاد کی ہے جس کی تفصیلات انہوں نے امریکن کیمیکل سوسائٹی کے سالانہ اجلاس میں پیش کی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اپنی مرمت آپ کرنے والے (سیلف ہیلنگ) مادّے پہلے سے موجود ہیں لیکن نہ تو وہ شفاف ہیں اور نہ ہی اس قابل کہ ان میں سے بجلی گزر سکے اور اسی وجہ سے انہیں اسمارٹ فون اسکرینوں میں استعمال نہیں کیا جاسکتا، ان کی اختراع میں یہ دونوں خرابیاں دور کرتے ہوئے ایسا شفاف مادّہ تیار کیا گیا جو برقی موصل (کنڈکٹر) بھی ہے یعنی اس میں سے بجلی بھی گزر سکتی ہے۔
یہی مادّہ استعمال کرتے ہوئے انجینئرز نے تجرباتی طور پر ایسی ٹچ اسکرین تیار کرلی جس پر پڑنے والی خراشیں کچھ دیر بعد خود بخود غائب ہوجاتی ہیں اور اگر وہ ٹوٹ بھی جائے تو اس کے مختلف حصے 24 گھنٹوں کے اندر اندر ایک بار پھر سے آپس میں جڑ جاتے ہیں۔
اسے ایجاد کرنے والے ماہرین کو امید ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مزید بہتر ہونے کے بعد 2020 تک اسمارٹ فونز میں استعمال ہونے لگے گی اور یوں صارفین کو اسمارٹ فون اسکرین ٹوٹنے پر مرمت کروانے کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ یہ کام اسکرین خود ہی کرلے گی۔