ہفتہ، 4 مارچ، 2017

فیس بک اب خودکشی کرنے والوں کی نشاندہی کرے گا

مصنوعی انٹیلی جنس ٹیکنالوجی کے تحت خودکشی کرنے والے شخص کے دوستوں کے پاس صارف کی جگہ اور تمام تفصیلات آجائیں گی۔ فوٹو: فائل
مصنوعی انٹیلی جنس ٹیکنالوجی کے تحت خودکشی کرنے والے شخص کے دوستوں کے پاس صارف کی جگہ اور تمام تفصیلات آجائیں گی۔ فوٹو: فائل
نیویارک: فیس بک نے آن لائن خودکشی کے بڑھتے واقعات کے بعد اس کے تدارک کے لئے نئی ٹیکنالوجی متعارف کرا دی جسے ” آرٹی فیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی” کا نام دیا گیا ہے۔
فیس بک کی جانب سے آرٹی فیشل انٹیلی جنس سسٹم متعارف کرادیا گیا ہے جو ایسے افراد کی نشاندہی کرے گا جو خودکشی کرنا چاہتے ہوں گے، فیس بک اپنے خودکار نظام کے تحت ایسے شخص کے دوستوں کو وارننگ سائن بھیجے کا جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے دوست کو شدید ذہنی دباؤ کا سامنا ہے جس کی وجہ سے وہ انتہائی قدم اٹھا سکتے ہیں۔
آرٹی فیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی کے تحت خودکشی کرنے والے شخص کے دوستوں کے پاس صارف کی جگہ اور تمام تفصیلات آجائیں گی جس کے بعد دوستوں کو ایک آپشن میسر ہوگا کہ وہ خود کشی کرنے والے شخص کو تجاویز دے سکتے ہیں یا وہ اسے باتوں میں لگا کر فوری طور پر اس کی مدد کے لئے اس مقام پر پہنچ سکتے ہیں۔
فیس بک پر آرٹی فیشل انٹیلی جنس کا آپشن فی الحال امریکا میں آزمائشی طور پر دستیاب ہوگا جس کی کامیابی کے بعد اسے دنیا بھر میں فیس بک صارفین کو فراہم کیا جائے گا۔
حال ہی میں امریکا میں فیس بک لائیو کا آپشن استعمال کرتے ہوئے کئی افراد نے خودکشی کی اور خاص طور پر خودکشی کرنے والوں میں کم سن بچیاں بھی شامل ہیں جنہوں نے مسائل سے تنگ آکر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا اس لئے فیس بک کی جانب سے فیس بک لائیو کے ذریعے خودکشی کی روک تھام کے لئے بھی اقدامات کئے جارہے ہیں۔

عقابی نظروں والا انتہائی چھوٹا اسمارٹ کیمرا تیار

اس کیمرے کے تین عدسے منظر کا وسیع احاطہ کرتے ہیں جب کہ چوتھا عدسہ منظر کے خاص حصے کو نمایاں کرکے دکھاتا ہے، فوٹو؛ فائل
اس کیمرے کے تین عدسے منظر کا وسیع احاطہ کرتے ہیں جب کہ چوتھا عدسہ منظر کے خاص حصے کو نمایاں کرکے دکھاتا ہے، فوٹو؛ فائل
جرمنی: یونیورسٹی آف اسٹٹگارٹ، جرمنی کے انجینئروں نے ایک ایسا ننھا منا کیمرا ایجاد کیا ہے جو کسی بڑے منظر کو واضح طور پر دیکھتے ہوئے اس کے کسی مخصوص حصے کو زیادہ تفصیل اور جزئیات کے ساتھ دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس انداز سے دیکھنے کی صلاحیت عقابوں کی آنکھوں میں سب سے زیادہ ہوتی ہے جو ایک بڑے منظر پر نگاہیں مرکوز رکھتے ہوئے اپنے شکار کو زیادہ تفصیل سے دیکھ سکتے ہیں اور اسی بناء پر وہ شکاری پرندوں میں بہترین قرار دیئے جاتے ہیں۔ یہ صلاحیت انسانی آنکھ میں بھی ہوتی ہے لیکن کم فاصلے تک کے لیے۔
عقابی آنکھوں کی نقالی کرتے ہوئے جرمن ماہرین نے 4 چھوٹے چھوٹے عدسوں پر مشتمل ایک ایسا کیمرا ایجاد کیا ہے جس کے 3 عدسے سامنے موجود منظر کا وسیع تر احاطہ کرتے ہیں جب کہ چوتھا عدسہ اسی منظر کے ایک خاص حصے کو نمایاں اور واضح کرکے دکھاتا ہے۔ یہ چاروں عدسے تھری ڈی پرنٹنگ کی مدد سے تیار کیے گئے ہیں۔
اسے ایجاد کرنے والے انجینئروں کا کہنا ہے کہ یہ کیمرا سرجنز سے لے کر جاسوسی کرنے والے ڈرونز تک کے کام آسکتا ہے کیونکہ یہ جسامت میں اتنا چھوٹا ہے کہ اسے اینڈو اسکوپ کے روایتی کیمرے کی جگہ لگا کر جسم کا اندرونی جائزہ لینے میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ دوسری طرف کسی بلند پرواز خودکار طیارے (ڈرون) میں نصب یہی کیمرا نہ صرف ڈرون کو وسیع اور واضح منظر فراہم کرے گا بلکہ ساتھ ہی ساتھ ہدف کی بہتر نشاندہی کی صلاحیت سے بھی لیس کرے گا۔ اس ایجاد کی تفصیلات ہفت روزہ تحقیقی جریدے ’’سائنس‘‘ میں شائع ہوئی ہیں۔

سائنسدان ڈی این اے میں ڈیجیٹل ڈیٹا محفوظ کرنے میں کامیاب

یہ عمل تیز رفتار بنانے کے لیے ڈی این اے فاؤنٹین نامی تکنیک سے استفادہ کیا گیا ہے جو کوڈنگ تھیوری استعمال کرتی ہے، فوٹو؛ فائل
یہ عمل تیز رفتار بنانے کے لیے ڈی این اے فاؤنٹین نامی تکنیک سے استفادہ کیا گیا ہے جو کوڈنگ تھیوری استعمال کرتی ہے، فوٹو؛ فائل
نیویارک: امریکی ماہرین نے ڈی این اے میں ڈیجیٹل ڈیٹا ذخیرہ کرنے کا ایک نیا تجربہ کیا ہے جسے مستقبل میں ڈی این اے ہارڈ ڈرائیوز کی سمت ایک اہم عملی قدم بھی قرار دیا جارہا ہے۔
ریسرچ جرنل ’’سائنس‘‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق کولمبیا یونیورسٹی اور نیویارک جینوم سینٹر کے سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر ایک نظام وضع کرتے ہوئے اس میں ایک پرانی فرانسیسی فلم، ایک ایمیزون گفٹ کارڈ اور دوسری ڈیجیٹل فائلوں پر مشتمل ڈیٹا ڈی این اے میں نہ صرف کسی خامی کے بغیر محفوظ کیا ہے بلکہ اسے کامیابی سے پڑھ بھی لیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف پچھلے 2 سال میں جتنا ڈیجیٹل ڈیٹا تخلیق کیا گیا ہے اس کی مقدار کمپیوٹر کی پوری تاریخ میں تخلیق کردہ ڈیجیٹل ڈیٹا سے زیادہ ہے اور اگر ڈیجیٹل ڈیٹا میں اضافے کا یہی سلسلہ جاری رہا تو آئندہ چند سال ہی میں ساری دنیا کی ہارڈ ڈسک ڈرائیوز، فلیش ڈرائیوز اور ڈیٹا اسٹوریج کے دوسرے تمام ذرائع ناکافی پڑجائیں گے۔
اگرچہ ڈی این اے میں ڈیجیٹل ڈیٹا محفوظ کرنے کی کوششیں پچھلے 20 سال سے جاری ہیں لیکن وہ بہت ہی ابتدائی نوعیت کی رہی ہیں جن سے عملی میدان میں کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔ البتہ امریکی ماہرین کا بنایا ہوا مذکورہ نظام ان سب کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز رفتار اور عملی نوعیت کا ہے جسے مزید پختہ کرتے ہوئے مستقبل میں ’’ڈی این اے ہارڈ ڈرائیوز‘‘ کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔
اس طریقے کے تحت پہلے ڈیجیٹل ڈیٹا ایک ایک بِٹ کرکے ڈی این اے نیوکلیوٹائیڈز میں محفوظ کیا جاتا ہے جس کے بعد ان نیوکلیوٹائیڈز کو ترتیب وار یکجا کرکے ایک ٹیسٹ ٹیوب میں رکھ دیا جاتا ہے۔ نیوکلیوٹائیڈز میں محفوظ ڈیجیٹل ڈیٹا ’’پڑھنے‘‘ کےلیے ان سالمات کی سلسلہ بندی (سیکوینسنگ) کی گئی۔ اس سارے عمل کو تیز رفتار اور خامیوں سے پاک بنانے کے لیے ’’ڈی این اے فاؤنٹین‘‘ کہلانے والی ایک حکمتِ عملی سے استفادہ کیا گیا جس کا مرکزی جزو ریاضی کی ’’کوڈنگ تھیوری‘‘ ہے۔
اپنی تیز رفتاری کے باوجود یہ تکنیک یو ایس بی فلیش ڈرائیو اور ہارڈ ڈسک ڈرائیو کے مقابلے میں اب بھی خاصی سست رفتار ہے لیکن ماہرین کو اُمید ہے کہ ڈی این اے فاؤنٹین کی تکنیک کو مزید بہتر اور تیز رفتار بناکر اس کے عملی اطلاق کی راہیں ہموار کی جاسکتی ہیں۔
اگر مستقبل میں ایسا ممکن ہوگیا تو ڈیٹا اسٹوریج کی دنیا میں انقلاب آجائے گا کیونکہ صرف ایک انسانی ڈی این اے پر 1.5 گیگا بائٹس جتنا ڈیٹا محفوظ کیا جاسکتا ہے جب کہ صرف ایک گرام ڈی این اے میں 215000 ٹیرا بائٹس ڈیجیٹل معلومات ذخیرہ کی جاسکتی ہیں جو بلاشبہ موجودہ دور کی کسی بھی سالڈ اسٹیٹ ہارڈ ڈسک کے مقابلے میں لاکھوں گنا زیادہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈی این اے پر مبنی ڈیٹا اسٹوریج کو حقیقت کا روپ دھارنے میں 10 سال سے بھی زیادہ کا عرصہ لگ جائے گا لیکن ایک بار یہ ٹیکنالوجی پختہ ہوگئی تو پھر آج کی ایک ٹیرا بائٹ والی ہارڈ ڈسک بھی 1970 کے عشرے میں صرف چند میگابائٹ گنجائش والی ہارڈ ڈسک جیسی بن کر رہ جائے گی۔

تھری ڈی پرنٹر سے 24 گھنٹے میں مکمل گھر تیار

روسی کمپنی کے ایک موبائل پرنٹر سے 20 فٹ طویل مکان بنایا گیا ہے جس پر 10 لاکھ روپے  لاگت آئی
فوٹو: بشکریہ مینٹل فلوس
روسی کمپنی کے ایک موبائل پرنٹر سے 20 فٹ طویل مکان بنایا گیا ہے جس پر 10 لاکھ روپے لاگت آئی فوٹو: بشکریہ مینٹل فلوس
ماسکو: روسی کمپنی کی جانب سے صرف 24 گھنٹے میں ایک مکمل مکان تعمیر کیا گیا ہے جس کی خاص بات یہ ہے کہ اسے ایک موبائل تھری ڈی پرنٹر سے بنایا گیا ہے۔
اب تھری ڈی پرنٹروں سے چھوٹے کھلونوں سے لے کر بہت بڑی اشیا اور مکانات تک بنائے جارہے ہیں۔ ایک سال قبل دبئی میں پہلا تھری ڈی پرنٹ شدہ آفس بنایا گیا تھا جب کہ بیجنگ میں پرنٹر سے ایک مکان بنایا گیا تھا جو 2014 کے 8 شدت کے زلزلے میں کے بعد بھی اپنی جگہ برقرار رہا تھا۔ پھر شنگھائی کی ایک کمپنی نے تھری ڈی پرنٹر سے ایک دن میں 10 مکانات تعمیر کرکے ایک ریکارڈ قائم کیا تھا۔
اب روسی کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ان کا پہلا پروجیکٹ ہے جو ایک موبائل پرنٹر سے بنایا گیا ہے۔ کمپنی کے انجینئروں نے کرین کی شکل کا ایک جدید ترین پرنٹر بنایا ہے جو اندر سے رہتے ہوئے اپنے اردگرد ایک پورا مکان تعمیر کرلیتا ہے۔ پرنٹر کا وزن ایک ایس یو وی گاڑی جیسا اور لمبائی 20 فٹ ہے لیکن اس لحاظ سے یہ اب بھی بہت چھوٹی مشین ہے۔ اسے بہت آسانی سے ایک سے دوسری جگہ پہنچایا جاسکتا ہے۔
اس تھری ڈی پرنٹر سے 410 مربع فٹ کا ایک مکان بنایا گیا ہے جس کی مکمل تیاری میں صرف 24 گھنٹے لگے ہیں جن میں اندرونی وائرنگ اور ایئرکنڈیشن انسولیشن بھی شامل ہے۔ اس پر 10 لاکھ روپے لاگت آئی ہے جو اس سائز کے گھروں پر اٹھنے والے اخراجات سے بہت کم ہے تاہم اس گھر کی ویڈیو دیکھیں جو بہت دلچسپ ہے۔

گانے سنانے والا پوسٹراور بات کرنے والی ٹی شرٹ تیار

اس ٹیکنالوجی میں ریڈیو ٹاور سے آنے والی نشریات کو ٹی شرٹ اور پوسٹر کے ذریعے آگے بڑھایا  جاتا ہے
اس ٹیکنالوجی میں ریڈیو ٹاور سے آنے والی نشریات کو ٹی شرٹ اور پوسٹر کے ذریعے آگے بڑھایا جاتا ہے
واشنگٹن: اب یہ ممکن ہے کہ اپنی راہ پر جاتے ہوئے آپ کی نظر کسی گلوکار کے کنسرٹ کے پوسٹر پر جاتی ہے اور اپنی گاڑی میں ریڈیو لگاتے ہی اس گلوکار کے نغمے سننے لگتے ہیں یا صبح جاگنگ کے دوران آپ کی ٹی شرٹ پسینے کا تجزیہ کرکے آپ کے اسمارٹ فون پر اس کی طبی رپورٹ بھیج دیتی ہے۔
یونیورسٹی آف واشنگٹن کے ماہرین نے اسمارٹ پوسٹر اور ٹی شرٹ بنالی ہے جو آپ کی کار کے ریڈیو اور اسمارٹ فون سے براہِ راست رابطہ کرتی ہے۔ اسی طرح کسی جگہ یا مقام کا اشتہار اس کی تفصیلات اور راستہ وغیرہ بھی نشر کرنے کا اہل بن سکتا ہے۔ اس سے ان پڑھ اور اسپیشل افراد کو یقیناً بہت فائدہ ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب لباس میں لگے سینسر دن بھر آپ کی کیفیات نوٹ کرکے اسے اسمارٹ فون پر بھیج سکتے ہیں۔
یونیورسٹی آف واشنگٹن میں کمپیوٹر سائنس کے نائب پروفیسر نے بتایا کہ ہر شے کو آپ سے بات کرنے والا بناکر پورے شہر کو اسمارٹ اور ہوشیار بنایا جاسکتا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ یہ نظام بہت کم بجلی خرچ کرتے ہیں۔ ماہرین کی ٹیم نے اس نئی ٹیکنالوجی کو ’’بیک اسکیٹرنگ‘‘ کہا ہے جس میں باہر کے ماحول میں ایف ایم ریڈیو سگنلز خارج کیا جاتا ہے۔ یہ نظام آڈیو اور ڈیٹا کو کچھ اس طرح شہری ماحول میں خارج کرتے ہیں کہ اس سے معمول کی ریڈیو نشریات متاثر نہیں ہوتی۔
گنگناتے پوسٹر اور بات کرتے لباس:
انجینئروں کے مطابق کسی بھی بس اسٹاپ یا عوامی مقام پر تین مختلف طریقوں سے کسی پوسٹر کے ذریعے نہ صرف بینڈ اور گلوکار کی موسیقی نشر کی جاسکتی ہے بلکہ اسے اسمارٹ فون کے ذریعے 12 فٹ کی دوری اور کار میں 60 فٹ کی دوری سے بھی سنا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ مقامی ریڈیو اسٹیشن کی نشریات کو پوسٹر کے ذریعے اسمارٹ فون اور گاڑی تک پہنچاسکتے ہیں۔
ٹیم کے مطابق اشتہاراتی پوسٹر کو ایک چھوٹا ایف ایم ریڈیو اسٹیشن بنانا بہت آسان ہے جو بہت کم بجلی خرچ کرتے ہیں۔ اسی طرح انسانی کپڑوں میں بھی اسے استعمال کرکے مختلف سینسر سے دل کی دھڑکن، نبض اور سانس کی بحالی کو نوٹ کیا جاسکتا ہے اور ایک چھوٹے سے اینٹینا کے ذریعے یہ معلومات اسمارٹ فون تک پہنچائی جاسکتی ہے جس میں ڈیٹا ٹرانسفر کی شرح 3.2 کلوبٹس فی سیکنڈ ہوگی۔
اس ٹیکنالوجی میں ریڈیو ٹاور سے آنے والی نشریات کو ٹی شرٹ اور پوسٹر کے ذریعے آگے بڑھایا  جاتا ہے جب کہ پوسٹر اور کپڑے استعمال نہ ہونے والی ایف ایم فری کوئنسی کو استعمال کرتا ہے اور صرف مخصوص معلومات اور گانے ہی آگے بڑھاتا ہے۔

جمعرات، 2 مارچ، 2017

یونیورسٹی طالبات نے لال بیگوں سے آٹا تیار کر لیا

گندم کے آٹے میں صرف 10 فیصد اور لال بیگ سے تیار کردہ آٹے میں 49.16 فیصد پروٹین ہوتے ہیں، ریسرچر۔ فوٹو: فائل
گندم کے آٹے میں صرف 10 فیصد اور لال بیگ سے تیار کردہ آٹے میں 49.16 فیصد پروٹین ہوتے ہیں، ریسرچر۔ فوٹو: فائل
نیویارک: آئندہ چند سال کے دوران غذائی قلت دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ بننے کا امکان ہے لیکن برازیل کی طالبات نے اس کا حل نکالنے کی کوشش کی ہے۔
برازیل کی فیڈرل یونیورسٹی آف ریو گرینڈ کی طالبات آندریسا لوکاس اور لارین مینگون نے مستقبل میں دنیا بھر میں غذائی قلت کو بھانپتے ہوئے لال بیگوں سے آٹا بنایا ہے جس سے نہ صرف روٹیاں بنائی جاسکیں گی بلکہ ڈبل روٹی، بسکٹ سمیت ہر قسم کے بیکری آئٹم بنائے جاسکتے ہیں۔
لال بیگوں سے تیار کردہ  آٹے میں گندم کے آٹے کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ پروٹین ہوتے ہیں جب کہ  لال بیگوں پر ریسرچ کرنے والی طالبات کا کہنا ہے کہ لال بیگوں سے تیارہ کردہ آٹے میں بہت زیادہ مقدار میں امائنو ایسڈ اوراعلیٰ معیار کے فیٹی ایسڈ ہوتے ہیں جیسا کے اومیگا 3 اور اومیگا 9۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ کیڑے مکوڑے بھی آئندہ آنے والے وقتوں میں انسانی خوراک کا اہم ذریعہ ہوں گے کیوں کہ ان میں بڑی مقدار میں پروٹین موجود ہوتے ہیں اور خاص طور پر غذائی قلت کے شکار افراد کیڑوں مکوڑوں کو اپنی خوراک کا حصہ بنا کر غذائی کمی دور کرسکتے ہیں ۔
تحقیق کے دوران لوکاس اور مینگون اس نتیجے پر پہنچیں کہ گندم کے آٹے میں صرف 10 فیصد اور لال بیگ سے تیار کردہ آٹے میں 49.16 فیصد پروٹین ہوتے ہیں تاہم دونوں طالبات نے اس بات کو واضح نہیں کیا کہ انہوں نے لال بیگوں سے کس طرح آٹا تیار کیا۔ طالبات نے اپنی ریسرچ میں اس بات پر زور دیا کہ مستقبل قریب میں دنیا کو غذائی کمی کا سامنا پڑ سکتا ہے اس لئے کیڑے مکوڑوں کو بھی خوراک کا حصہ بنا کر غذائی کمی پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

بدھ، 1 مارچ، 2017

پودے سے جیٹ جہازکا ایندھن تیار


جیٹروفا تیل کو بایوفیول بنانے کے لیے اس کی کثافت اور جلنے کا درجہ تبدیل کرنا پڑتا ہے: فوٹو: فائل
جیٹروفا تیل کو بایوفیول بنانے کے لیے اس کی کثافت اور جلنے کا درجہ تبدیل کرنا پڑتا ہے: فوٹو: فائل
قایرہ: مصری سائنسدانوں نےعام پائے جانے والےایک ادویاتی پودے سے ایسا بایوفیول تیار کیا ہے جو جیٹ جہازوں میں بطور ایندھن استعمال کیا جاسکتا ہے۔
مصر میں  قومی تحقیقی مرکز کے تیار کردہ اس پودے پر کامیاب ابتدائی تجربات بھی کئے گئے ہیں۔ اس مرکز کو مصری ادارہ برائے ہوابازی کی جانب سے مقامی طور پر بایوفیول تیار کرنے کا کام سونپا گیا تھا تاکہ ان سے مسافر طیارے اڑائے جاسکیں۔ اس منصوبے کو بین الاقوامی فضائی ایجنسی ( آئی اے ٹی اے) کی تائید بھی حاصل ہے ۔ آئی اے ٹی اے کی خواہش ہے کہ 2050 تک فضائی سفرسے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج نصف کیا جاسکے ۔
یہ کام غزین الدیوانی نے کیا ہے اور ان کے مطابق انہوں نے گاڑیوں کے لیے بایوفیول کی تیاری شروع کردی ہے۔ سائنسدانوں نے جیٹروفا پودے کےبیج سے یہ بایوفیول نکالا ہے جس میں 20 سے 25 فیصد تیل موجود ہوتا ہے۔ الدیوانی کے مطابق یہ تیل ایک محلل ( سولوینٹ) کے ذریعے باآسانی نکالا جاسکتا ہے جن میں ہیکزین بھی شامل ہے۔ لیکن واضح رہے کہ دنیا میں کم سے کم معیار کا بایوفیول بھی روایتی ایندھن سے دوگنا مہنگا پڑتا ہے کیونکہ اسے بنانے پر اخراجات اٹھتے ہیں۔
جیٹروفا تیل کو بایوفیول بنانے کے لیے اس کی کثافت اور جلنے کا درجہ تبدیل کرنا پڑتا ہے ۔ تاہم اسے کئی کیمیائی طریقوں سے گزارا جاتا ہے جن میں سے اکثر بہت سادہ طریقے ہوتے ہیں۔ اس مقام پر یہ ایندھن کاروں کے لیے بہت موزوں ہے۔ بایوفیول کو ہوائی جہازوں میں استعمال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ بلندی پر منفی 45 درجے ٹھنڈک پر بھی جمنے سے محفوظ رہے اور اب مصری ماہرین کے نزدیک یہی سب سے بڑا چیلنج ہے، لیکن اس ضمن میں بھی مصری ماہرین نے غیرمعمولی کامیابی حاصل کرلی ہے۔
الدیوانی کے مطابق تھرمل کریکنگ کے ذریعے انہوں نے منفی 40 درجے سینٹی گریڈ پر تیل کو جمنے سے بچانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے اور وہ جلد ہی منفی 45 کا ہدف حاصل کرلیں گے۔ اس تجربے کے ساتھ ہی مصری حکومت نے کم از کم ایک ہزار ایکڑ پر جیٹروفا درخت اگانے کا کام شروع کردیا ہے اور اب مزید ماہرین اس مشن پرکام کررہے ہیں۔