اتوار، 5 فروری، 2017

انسانی ہاتھ کی طرح کاغذ پر تصویر بنانے والا مصور روبوٹ


روبوٹ کا وزن صرف 160 گرام ہے جو اسمارٹ فون اور یوایس بی سے چلتا ہے۔
فوٹو: بشکریہ لائن اس کراؤڈ فنڈنگ ویب سائٹ
روبوٹ کا وزن صرف 160 گرام ہے جو اسمارٹ فون اور یوایس بی سے چلتا ہے۔ فوٹو: بشکریہ لائن اس کراؤڈ فنڈنگ ویب سائٹ
 لندن: برطانوی سائنسدان نے انسانی ہاتھ سے مشابہہ ایک ایسا روبوٹ تیار کیا ہے جو موبائل فون پر بنائی گئی کوئی سی بھی تصویر کو کاغذ پر ثبت کردیتا ہے۔
روبوٹ کو ’’لائن‘‘ کا نام دیا گیا ہے جس کا وزن 160 گرام ہے، یہ کسی انسانی ہاتھ کی طرح کام کرتے ہوئے پیچیدہ اور دلچسپ خاکے کاغذ پر اتارتا ہے۔ یہ ننھا مصور روبوٹ لیپ ٹاپ، اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ سے منسلک ہوکر کام کرتا ہے اور یوایس بی پورٹ سے ہی ہدایات اور بجلی حاصل کرتا ہے۔
روبوٹ کے ذریعے آپ ماؤس، انگلی یا کسی ایپل پینسل سے خاکہ بناسکتے ہیں اور یہ روبوٹ اسے فوری طور پر کاغذ پر نقش کردیتا ہے۔
روبوٹ دھیرے دھیرے کسی انسان کی طرح لکیریں کھینچ کر مشکل ترین تصاویر اور اشکال کو کاغذ پر اتارتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ روبوٹ فریکؤج اور شیشے پر بھی لکھ سکتا ہے۔ اسی طرح ڈرائنگ کو دوستوں کو بھی بھیجا جاسکتا ہے۔
کک اسٹارٹر منصوبے کے تحت پہلے ایسے 1000 روبوٹس تیار کئے جائیں گے جس کی قیمت  سے 9  سے 12 ہزار روپے رکھی گئی ہے۔ اس سال اکتوبر میں اولین روبوٹ کی فروخت شروع ہوجائے گی۔

ہفتہ، 4 فروری، 2017

سامان اٹھا کرآپ کے پیچھے چلنے والا روبوٹ تیار


بڑی گیند کی طرح چلنے والا روبوٹ 18 کلوگرام وزن اٹھا کر 35 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے سفر کرسکتا ہے۔
فوٹو: بشکریہ پیاجیو کمپنی
بڑی گیند کی طرح چلنے والا روبوٹ 18 کلوگرام وزن اٹھا کر 35 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے سفر کرسکتا ہے۔ فوٹو: بشکریہ پیاجیو کمپنی
روم: اٹلی کی ایک کمپنی نے بڑے ڈرم کی صورت والا مشقتی روبوٹ بنایا ہے جو 18 کلوگرام وزن کے ساتھ آپ کے پیچھے دوڑا چلا آتا ہے اور 35 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرسکتا ہے۔
اس روبوٹ کو ’’جیٹا‘‘ کا نام دیا گیا ہے جو وزن اٹھا کر، دیئے گئے نقشے کی مدد سے ازخود سفر کرتا ہے۔ نیلی گیند کی مانند یہ روبوٹ 26 انچ اونچا ہے اور ایک سائیکل کی طرح آگے بڑھتا ہے۔
روبوٹ کو سفر کے دوران آپ کا سامان اٹھانےکے لیے بنایا گیا ہے جو آپ کے تعاقب میں رہتا ہے خواہ آپ  چل رہے ہوں، جاگنگ کررہے ہوں یا پھر سائیکل پر سوار اپنے گھر جارہے ہوں۔ روبوٹ میں خاص قسم کے سرکٹ اسے بہ آسانی آگے دوڑنے میں مدد دیتے ہیں اور یہ اپنا توازن برقرار رکھتے ہوئے ہموار انداز میں چلتا جاتا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ روبوٹ انسانی برتاؤ اور خود اپنے سافٹ ویئر سے سیکھتا رہتا ہے اور اسی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے۔ روبوٹ کے اوپر کا ڈھکن کھولیں اور اس میں اپنا ضروری سامان رکھتے رہیں، روبوٹ میں کیمرہ نصب ہے جو تھری ڈی انداز میں اطراف کا نقشہ نوٹ کرتا رہتا ہے اور خود سے آگے چلنے والے شخص کے لحاظ سے اپنا راستہ متعین کرتا ہے۔
روبوٹ اپنے راستے میں آنے والی رکاوٹوں سے بچتے ہوئے آگے بڑھنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے جب کہ ایک مرتبہ چارج ہونے پر یہ 8 گھنٹے تک دوڑ سکتا ہے۔

جمعہ، 3 فروری، 2017

بھارت سے سعودی ریال اسمگل کرنے کی دلچسپ کوشش


دونوں ملزمان نے سعودی کرنسی کیلوں کے درمیان بڑی مہارت سے چھپا رکھی تھی۔ فوٹو: انڈین ایکسپریس
دونوں ملزمان نے سعودی کرنسی کیلوں کے درمیان بڑی مہارت سے چھپا رکھی تھی۔ فوٹو: انڈین ایکسپریس
نئی دلی: بھارتی ریاست کیرالہ کے ایئرپورٹ سے کیلوں کی آڑ میں لاکھوں سعودی ریال اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈائریکٹوریٹ آف ریوینیو انٹیلی جنس نے کیرالہ ایئرپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے دبئی جانے والے 2 مسافروں کو گرفتار کر کے 45 لاکھ سے زائد مالیت کی سعودی کرنسی برآمد کرلی۔
حکام کے مطابق دونوں مسافروں نے سعودی کرنسی کیلوں کے درمیان بڑی مہارت سے چھپا رکھی تھی۔ دونوں ملزمان کو حراست میں لے کر تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

پکانے کا تیل فولاد سے 200 گنا مضبوط مادے میں تبدیل


اس ٹیکنالوجی کو ’’گراف ایئر‘‘ کا نام دیا گیا ہے جس میں سویابین کے تیل سے گریفین تیار کی جاتی ہے۔ (فوٹو: فائل)
اس ٹیکنالوجی کو ’’گراف ایئر‘‘ کا نام دیا گیا ہے جس میں سویابین کے تیل سے گریفین تیار کی جاتی ہے۔ (فوٹو: فائل)
سڈنی: آسٹریلوی سائنسدانوں نے کھانا پکانے کے تیل کو گریفین میں تبدیل کرلیا جو فولاد سے 200 گنا زیادہ مضبوط اور انتہائی لچک دار ٹھوس مادّہ ہے۔
ریسرچ جرنل ’’نیچر کمیونی کیشنز‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ کارنامہ ’’کامن ویلتھ سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ آرگنائزیشن‘‘ (سی ایس آئی آر او) آسٹریلیا میں نینو ٹیکنالوجی کے ماہرین نے انجام دیا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کو ’’گراف ایئر‘‘ (GraphAir) کا نام دیا گیا ہے جس کے تحت سویابین کے تیل کو نلکی نما بھٹی (ٹیوب فرنیس) میں 30 منٹ تک گرم کیا جاتا ہے جس دوران اس کے سالمات ٹوٹتے ہیں اور ان میں موجود کاربن ایٹم الگ ہوجاتے ہیں۔ اب اسے نکل کی سرد اور باریک پنّی (فوائل) پر پھیلا کر تیزی سے ٹھنڈا ہونے دیا جاتا ہے جہاں یہ انسانی بال سے بھی 80 ہزار گنا باریک (یعنی صرف ایک نینومیٹر موٹی) کاربن چادروں یعنی گریفین میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
اگرچہ ان تجربات میں حاصل کی گئی گریفین کے نمونے صرف 5 سینٹی میٹر لمبے اور 2 سینٹی میٹر چوڑے ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ اس طریقے کو مزید بہتر کرتے ہوئے زیادہ رقبے والی گریفین بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ البتہ اس کے لیے انہیں تحقیق کی مد میں خاصی رقم بھی درکار ہوگی۔
گریفین پہلی بار 2004 میں حاصل کی گئی جس کے بعد سے آج تک اس کی اچھوتی خصوصیات دریافت ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرونکس سے لے کر طب تک، سائنس و ٹیکنالوجی کے کم و بیش ہر میدان میں گریفین سے انقلاب برپا ہوسکتا ہے لیکن اسے تیار کرنے کے لیے ہوا سے خالی اور خصوصی مہارت سے تشکیل دیا گیا ماحول درکار ہوتا ہے جس کی وجہ سے گریفین کا حصول نہایت مہنگا اور بہت مشکل کام بن جاتا ہے جو صنعتی شعبے میں اس کے استعمال کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی ہے۔
آسٹریلوی سائنسدانوں کی مذکورہ ٹیکنالوجی اس اعتبار سے خصوصی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس کے ذریعے گریفین کی تیاری نہ صرف سادہ بلکہ کم خرچ اور تیز رفتار بھی بنادی گئی ہے کیونکہ اسے کسی خصوصی ماحول کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اس سے پہلے کنساس اسٹیٹ یونیورسٹی کی ایک ریسرچ ٹیم بھی ایک ایسا کم خرچ طریقہ پیٹنٹ کراچکی ہے جس میں ہائیڈروکاربن گیس، آکسیجن اور اسپارک پلگ استعمال کرتے ہوئے گریفین تیار کی جاتی ہے۔ البتہ اس طریقے سے بھی گریفین کے چھوٹے نمونے ہی تیار کیے جاسکے ہیں۔
دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی اور آسٹریلوی سائنسدانوں کی کامیابیاں اپنی جگہ لیکن ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا کوئی ایسا طریقہ بھی ایجاد ہوسکے گا جس کے ذریعے گریفین کی زیادہ چوڑی چادریں بھی کم خرچ انداز میں تیار کی جاسکیں کیونکہ گریفین کو صنعتی اطلاق کی منزل تک پہنچانے کے لیے ضروری ہوگا کہ اس کے زیادہ چوڑے نمونے، مناسب لاگت پر تیار کیے جائیں۔

جمعرات، 2 فروری، 2017

ایشیائی باشندے سب سے زیادہ فیس بک استعمال کرتے ہیں


گزشتہ 2 سال میں ایشیاء میں فیس بک کے صارفین میں 57 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ فوٹو؛ فائل
گزشتہ 2 سال میں ایشیاء میں فیس بک کے صارفین میں 57 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ فوٹو؛ فائل
کیلی فورنیا: ایشیا فیس بک استعمال کرنے والا دنیا کا بڑا خطہ بن گیا اور یہ فیس بک کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔
فیس بک کی جانب سے جاری کردہ نئے اعدادو شمار کے مطابق فیس بک کے صارف سب سے زیادہ ایشیاء میں پائے جاتے ہیں جہاں روزانہ 39 کروڑ 60 لاکھ افراد فیس بک استعمال کرتے ہیں۔ گزشتہ 2 سال میں ایشیا میں فیس بک کے صارفین میں 57 فیصد اضافہ ہوا ہے جو کہ کسی بھی خطے میں موجود فیس بک کے صارفین کی تعداد میں تیز ترین اضافہ ہے جب کہ ایشیاء میں فیس بک کی آمدن میں بھی 15 مہینوں میں دُگنا اضافہ ہوا ہے۔

بدھ، 1 فروری، 2017

ڈائنوسارکا 8 کروڑ سال قدیم پروٹین دریافت


سبزہ خور ڈائنوسار کی باقیات چین سے دریافت ہوئی ہیں اور ان کے اندر خون کے آثار اور پروٹین موجود ہیں۔ فوٹو: بشکریہ میری شوائٹزر نارتھ کیرولائنا اسٹیٹ یونیورسٹی
سبزہ خور ڈائنوسار کی باقیات چین سے دریافت ہوئی ہیں اور ان کے اندر خون کے آثار اور پروٹین موجود ہیں۔ فوٹو: بشکریہ میری شوائٹزر نارتھ کیرولائنا اسٹیٹ یونیورسٹی
نارتھ کیرولینا: ختم ہوجانے والے قدیم جانداروں پر کام کرنے والی ایک سائنسداں نے ڈائنوسار کا 8 کروڑ سال قدیم پروٹین دریافت کیا ہے جو اس کی ہڈیوں میں موجود تھا۔
اس دریافت کو غیرمعمولی قرار دیا جارہا ہے جس میں لمبی گردن والے ایک سبزہ خور ڈائنوسار کا پروٹین حاصل کیا گیا ہے۔ سائنسدانوں نے ابتدائی جراسک عہد کے اس ڈائنوسار میں ایک اہم معدن بھی دریافت کی ہے جو غالباً اس کےخون کی وجہ سے تشکیل پذیر ہوئی ہے۔
ابتدائی تجزیے کے مطابق یہ پروٹین 8 کروڑ سال قدیم ہے جبکہ شاید یہ اس سے بھی پرانا ہوسکتا ہے یعنی 19 کروڑ سال قدیم۔ ماہرین کے مطابق یہ ڈائنوسار 30 فٹ بلند تھا ۔ یہ نارتھ کیرولائنا اسٹیٹ یونیورسٹی کی ڈاکٹر میری شوائٹزر کی دریافت ہے جو کئی دہائیوں سے ڈائنوسار کی کھال، خون اور پروٹین کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔
ڈائنوسار کا تعلق لیوفینگوسارس کی نسل سے ہے اور اس کے خون کا تجزیہ تائیوان کی تجربہ گاہوں میں گیا ہے۔ ڈائنوسار کی پسلیوں کے اندر ہڈیوں سے جڑا نرم ریشہ (کولاجن) اورفولاد سے بھرپور پروٹین دیکھا گیا ہے جو پسلیوں کی دیواروں پر چپکا ہوا تھا۔
دنیا کے دیگر ماہرین نے اس دریافت کو حیرت انگیز قرار دیا ہے۔ ان میں یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے اسٹیفن بروسیٹ بھی ہیں جن کے مطابق یہ تحقیق ہوش اڑادینے والی ہے ۔ لیوفینگوسارس کا ڈھانچہ جنوب مغربی چین سے ملا ہے اور اس جگہ سے مزید درجنوں ڈائنوسار کے ڈھانچے بھی ملے ہیں۔ اسی ٹیم نے ڈائنوسار کا قدیم ترین بیضہ بھی دریافت کیا تھا۔

اب واٹس ایپ صارفین بھی اپنے دوستوں کا مقام معلوم کرسکیں گے


یہ فیچر ڈیفالٹ کے طور پر غیرسرگرم ہے اور اسے ایپ کے سیٹنگ مینو میں جاکر ایکٹو کرنا پڑتا ہے، فوٹو؛ فائل
یہ فیچر ڈیفالٹ کے طور پر غیرسرگرم ہے اور اسے ایپ کے سیٹنگ مینو میں جاکر ایکٹو کرنا پڑتا ہے، فوٹو؛ فائل
واشنگٹن: واٹس ایپ کی جانب سے صارفین کے لیے نئے آپشن کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے ذریعے اب آپ فیس بک کی طرح اپنے دوستوں کا مقام معلوم کرسکیں گے۔
میسیجنگ اور کال کی مشہور ایپ واٹس ایپ کے نئے بی ٹا ورژن میں ایک نیا فیچر متعارف کرایا گیا ہےجسے’’لائیو لوکیشن ٹریکنگ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ اینڈروئیڈ ورژن 2.16.399  اور آئی او ایس ورژن 2.17.3.28 میں موجود ہے۔ اس آپشن کے ذریعے 2 دوست یا گروپ میں شامل افراد حقیقی وقت میں اپنی موجودگی اور مقام کو ظاہر کرسکیں گے۔
یہ فیچر ڈیفالٹ کے طور پر غیرسرگرم ہے اور اسے ایپ کے سیٹنگ مینو میں جاکر ایکٹو کرنا پڑتا ہے۔ فی الحال ایک سے 5 منٹ تک ہی آپ کسی کی لوکیشن لائیو دیکھ سکتے ہیں۔ اگرچہ بہت عرصے سے واٹس ایپ کے اس فیچر پر قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں لیکن اب یہ منظرِ عام پر آگیا ہے۔ کمپنی نے اس کے بارے میں کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا اور اب بھی یہ آزمائش کے مرحلے میں ہے۔