منگل، 3 جنوری، 2017

2017 میں اُڑان بھرنے والی پرواز کی 2016 میں لینڈنگ


یہ پرواز مستقبل کے بجائے ماضی میں پہنچ گئی لیکن یہ سب کچھ صرف ٹائم زون میں فرق کی وجہ سے ہوا۔ (فوٹو: فائل)
یہ پرواز مستقبل کے بجائے ماضی میں پہنچ گئی لیکن یہ سب کچھ صرف ٹائم زون میں فرق کی وجہ سے ہوا۔ (فوٹو: فائل)
ابوظہبی: امارات ایئرلائنز کی شنگھائی سے 2017 میں اُڑنے والی پرواز جب سان فرانسسکو پہنچی تو 2016 کا سال تھا۔
البتہ اس پرواز نے وقت میں سفر نہیں کیا تھا بلکہ یہ ساری گڑبڑ دونوں شہروں میں وقت کے فرق کی وجہ سے ہوئی کیونکہ جب امارات ایئرلائنز کی پرواز شنگھائی سے روانہ ہوئی تو وہاں مقامی وقت کے مطابق یکم جنوری 2017 کی تاریخ شروع ہوئی تھی۔ واضح رہے کہ چین کا معیاری وقت، عالمی معیاری وقت سے 8 گھنٹے آگے ہے۔
تقریباً 13 گھنٹے بعد جب اس پرواز نے سان فرانسسکو میں لینڈنگ کی تو وہاں پر مقامی معیاری وقت کے مطابق 31 دسمبر 2016 کی رات تھی کیونکہ سان فرانسسکو کا وقت ’’پیسفک ٹائم زون‘‘ میں آتا ہے جو عالمی معیاری وقت سے آٹھ گھنٹے پیچھے ہے؛ یعنی شنگھائی کے معیاری وقت سے 16 گھنٹے پیچھے۔
اس طرح یہ پرواز مستقبل کے بجائے ماضی میں پہنچ گئی لیکن یہ سب کچھ صرف ٹائم زون میں فرق کی وجہ سے ہوا۔

نابینا افراد کے لیے بریل سسٹم سے لیس ٹیبلٹ تیار

اس میں آواز کے ذریعے احکامات لینے کے علاوہ آواز کو تحریر اور تحریر کو آواز میں بدلنے کی اضافی سہولت بھی موجود ہے۔ فوٹو؛ فائل
اس میں آواز کے ذریعے احکامات لینے کے علاوہ آواز کو تحریر اور تحریر کو آواز میں بدلنے کی اضافی سہولت بھی موجود ہے۔ فوٹو؛ فائل
کنساس سٹی: بلیٹیب (BLITAB) نامی ایک کمپنی نے اسی نام سے ایک ٹیبلٹ کمپیوٹر تیار کیا ہے جو بریل سسٹم سے لیس ہے جسے نابینا افراد کا ’’آئی پیڈ‘‘ بھی کہا جارہا ہے۔
بلیٹیب کو پہلے مرحلے میں 3 ہزار افراد پر کامیابی سے آزمایا گیا۔ اس کے بعد اس کی بڑے پیمانے پر جلد از جلد پیداوار شروع کرنے کے لیے امریکا کا رخ کیا اور اب کمپنی کنساس سٹی میں قائم ہے۔ یہ ٹیبلٹ کمپیوٹر ایک مخصوص نظام کے ذریعے اپنی اسکرین پر موجود عام تحریر کو بریل کوڈ میں تبدیل کردیتا ہے جو اسکرین سے منسلک ’’بریل بورڈ‘‘ پر ابھاروں کی شکل میں نمودار ہوجاتی ہے اور نابینا افراد ہاتھ سے چھو کر اسے پڑھ سکتے ہیں۔
یہی بریل بورڈ استعمال کرتے ہوئے نابینا صارفین لکھ بھی سکتے ہیں جو ٹیبلٹ اسکرین پر عام حروف کی شکل میں نمودار ہوتا ہے یعنی بینائی والے افراد اس تحریر کو دیکھ کر پڑھ سکتے ہیں۔
بلیٹیب میں آواز کے ذریعے احکامات لینے کے علاوہ آواز کو تحریر اور تحریر کو آواز میں بدلنے کی اضافی سہولت بھی موجود ہے جس کی بدولت اسے استعمال کرنے میں نابینا لوگوں کو مختلف سافٹ ویئر/ ایپس سے استفادہ کرنے اور انٹرنیٹ سرفنگ تک میں بڑی آسانی رہتی ہے۔
عام تحریر کو بریل کوڈ اور بریل کوڈ کو عام تحریر میں تبدیل کرنے کا راز خاص طرح کے ’’ذہین سیال‘‘ (Smart Fluid) میں پوشیدہ ہے جسے چند سال پہلے سلاویو نے تیار کیا تھا۔ یہ مائع (سیال) اپنے اندر سے گزرنے والی بجلی یا مقناطیسی میدان میں تبدیلی پر ردِعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹھوس شکل اختیار کرتے ہوئے بریل کوڈ نقطوں میں ترتیب وار تبدیل ہوجاتا ہے جب کہ یہی مائع اپنے اوپر پڑنے والے دباؤ میں تبدیلی پر مخصوص انداز سے بجلی پیدا کرتا ہے جو بریل کوڈ کو عام ترتیب میں تبدیل کرنے کی وجہ بنتی ہے۔
کمپنی حکام کا کہنا ہے کہ بلیٹیب کا فائدہ پوری دنیا میں نابینا افراد کو پہنچے گا۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں کم از کم 3 کروڑ 90 لاکھ مکمل طور نابینا ہیں یعنی اس ایجاد کی کامیابی کے لیے امکانات کی دنیا بھی بہت وسیع ہے۔

60 پیسے فی کلومیٹر کے حساب سے چلنے والی سی این جی موٹرسائیکل

ھارت میں مقامی طور پر تیار کی جانے والی اس موٹر سائیکل سی این جی کٹ کی قیمت تقریباً 60 ہزار روپے ہے۔ (فوٹو: پریس ٹرسٹ آف انڈیا)
ھارت میں مقامی طور پر تیار کی جانے والی اس موٹر سائیکل سی این جی کٹ کی قیمت تقریباً 60 ہزار روپے ہے۔ (فوٹو: پریس ٹرسٹ آف انڈیا)
نئی دہلی: بھارتی دارالحکومت دہلی کے بعد اب پونا میں بھی موٹر سائیکلوں کےلئے سی این جی کٹ پیش کردی گئی ہے جو 2 سی این جی سلنڈروں پر مشتمل ہے جبکہ ہر سلنڈر کی گنجائش 1.2 کلوگرام ہے۔
موٹر سائیکل میں سی این جی کٹ نصب ہونے کے بعد وہ 1 کلوگرام سی این جی میں 120 سے 130 کلومیٹر تک جاسکے گی جبکہ سی این جی کا خرچ صرف 60 پیسے فی کلومیٹر ہوگا۔ بھارت میں مقامی طور پر تیار کی جانے والی اس موٹر سائیکل سی این جی کٹ کی قیمت تقریباً 60 ہزار روپے ہے۔
بھارت وہ پہلا ملک نہیں جس نے موٹرسائیکلوں کےلئے سی این جی کٹ تیار کی ہے، اس سے قبل مصر اور لاطینی امریکا کے ممالک بھی موٹر سائیکلوں کےلئے سی این جی کٹس تیار کرچکے ہیں جو وہاں کامیابی سے استعمال ہورہی ہیں۔
واضح رہے کہ بھارت میں آلودگی کا مسئلہ قابو سے باہر ہوتا جارہا ہے جسے حل کرنے کےلئے وہاں کی وزارت برائے ماحولیات مختلف کوششوں میں مصروف ہے۔ موٹر سائیکلوں میں سی این جی کٹ کی تنصیب بھی ان ہی کوششوں کا حصہ ہے جس کا آغاز جولائی 2016 میں دہلی سے کیا گیا تھا جب کہ اب پونا وہ دوسرا بھارتی شہر بن گیا ہے جہاں سی این جی والی موٹر سائیکلیں چلائی جارہی ہیں۔

دنیا بھر کے ایئرپورٹس پر وائی فائی پاس ورڈ ڈھونڈنے کا طریقہ


برطانوی کمپیوٹر سیکیورٹی انجینیئر نے دنیا کے اہم ہوائی اڈوں پر مفت وائی فائی کی تفصیل نقشے کی صورت میں شائع کی ہے۔ فوٹو؛ فائل
برطانوی کمپیوٹر سیکیورٹی انجینیئر نے دنیا کے اہم ہوائی اڈوں پر مفت وائی فائی کی تفصیل نقشے کی صورت میں شائع کی ہے۔ فوٹو؛ فائل
 لندن: فضائی سفر کے لیے گھنٹوں ایئرپورٹ پر بیٹھے رہنا بہت مشکل کام ہوتا ہے اور اگر وائی فائی نہ ہو تو اس وقت کو کاٹنا مزید مشکل ہوجاتا ہے لیکن اب ایک کمپیوٹر سیکیورٹی انجینئر نے دنیا کے اہم ہوائی اڈوں پر مفت وائی فائی کی تفصیل نقشے کی صورت میں شائع کی ہے۔
برطانوی سیکیورٹی انجینئر انیل پولاٹ نے جو نقشہ تیار کیا ہے اس میں ایئرپورٹس پر موجود مفت وائی فائی کی تازہ ترین معلومات موجود ہیں اور اس کے لیے ایک ایپ بھی تیار کرلی گئی ہے جس کی قیمت صرف دو ڈالر ہے۔ انیل کے مطابق اگرچہ دنیا بھر  کے متعدد ایئرپورٹس پر مفت وائی فائی موجود ہے لیکن ان تک رسائی آسان نہیں کیونکہ پاس ورڈ ضروری ہوتا ہے۔
اس کے لیے پولاٹ نے دنیا بھر کے لوگوں سے کہا کہ وہ زیادہ سے زیادہ ایئرپورٹس کی حدود میں وائی فائی پاس ورڈز شیئر کریں۔ اس کے بعد ان کی فہرست بنائی گئی اور اسے گوگل میپ کے ساتھ ملادیا گیا۔

نقشے کو بہت آسان انداز میں سمجھا جاسکتا ہے اور اس میں نئی معلومات اور پاس ورڈ تبدیل کرنے کے عمل کو بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح استعمال کرنے والے افراد کی تازہ معلومات کے تحت معلومات تبدیل ہوتی رہتی ہے اور ایپ اپ ڈییشن کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ انیل پولاٹ کا مشورہ ہے کہ اپنے فون کے ساتھ ایک یو ایس بی وائرلیس اینٹینا بھی ساتھ رکھیں تاکہ وائرلیس رینج کو بڑھایا جاسکے۔

پیر، 2 جنوری، 2017

سال نو کی آمد پر دلچسپ رسومات


سال نو کی آمد پر دلچسپ رسومات
دنیا بھر میں نئے سال کی آمد پر جہاں لوگ اپنے نئے اہداف اور منصوبہ بندی ترتیب دیتے ہیں وہی دنیا بھر میں ایسے بھی ممالک ہیں جہاں نئے سال کی آمد سے جڑی رسومات ادا کی جاتی ہیں تاہم دلچسپ بات یہ رسمیں ترقی یافتہ ممالک میں بھی ادا کی جاتی ہیں۔
چین
نئے سال کو چین میں ’’جشن بہاراں‘‘ بھی کہا جاتا ہے جو شمسی اور قمری کلینڈر کے حساب سے ہوتا ہے، نئے سال شروع ہوتے ہی چین میں خصوصی تقاریب منعقد کی جاتی ہیں جو جنوری کے آخر اور فروری کے وسط میں اچانک شروع ہوتی ہیں۔ خصوصی تقاریب شروع ہوتے ہی چین کے لوگ اپنے گھروں کی دیواروں کو صاف کرنے کا اہتمام کرتے ہیں تاہم جمع ہونے والی گرد کو خاص طور پر گھر کے پچھلے دروازے سے ہی باہر پھینکتے ہیں۔
ایکواڈور
نیا سال شروع ہوتے ہی لوگ رات کے درمیانی پہر اپنے گھروں سے باہر نکلتے ہیں اور ایک پتلے کو نذآتش کرتے ہیں۔ جس کا مقصد پرانی سال کی تلخ یادوں کا خاتمہ اور نئے سال میں مصیبتوں سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوتا ہے۔
لاطینی امریکا
لاطینی امریکا کے کئی ممالک میں نئے سال کی آمد ہوتے ہی لوگ رات کو خالی سوٹ کیس گھر کے کونے میں رکھ دیتے ہیں جبکہ بعض افراد خالی سوٹ کیس کو گھروں میں گھماتے بھی ہیں جس کا مقصد نئے سال میں رزق اور سفر کی بہترین مواقع حاصل کرنا ہوتا ہے۔
اسپین
اسپین اور لاطینی امریکا میں 31 دسمبر کی رات کو انگور کھانے کا سلسلہ شروع کیا جاتا ہے اور جیسے ہی یکم جنوری کی تاریخ شروع ہوتی ہے اس کام کو ختم کردیا جاتا ہے۔ ایسا کرنے والے لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ عمل کرنے سے پورے سال خوراک کے حصول میں مدد ملتی ہے۔
بیلا روس
نیا سال شروع ہوتے ہی کنواری لڑکیاں ایک میدان میں دائرے کی صورت میں اپنے سامنے مکئی کے دانے رکھ کر بیٹھ جاتی ہیں پھر اس کے درمیان ایک مرغا چھوڑا جاتا ہے اور وہ جس لڑکی کے سامنے جاکر مکئی چگتا ہے اُسے نئے سال میں دلہن بننے کی ایڈوانس مبارک باد دی جاتی ہے۔
ڈنمارک
ڈنمارک میں نیا سال شروع ہوتے ہی لوگ اپنے گھر کے برتن (پلیٹیں) توڑ کر پڑوسی کے گھر پر پھینکتے ہیں اس کام میں دونوں پڑوسیوں کی رضا مندی بھی شامل ہوتی ہے۔ اس عمل کا مقصد بھی پورے سال مسائل سے بچنا ہوتا ہے۔
رومانیہ
رومانیہ میں کرسمس اور نئے سال کی آمد کے درمیان کسی بھی وقت ریچھ کی کھال پہن کر رقص کرنے کی رسم ادا کی جاتی ہے، جس کا مقصد پورے سال نحوست سے محفوظ رہنا ہے۔
جنوبی افریقا
جنوبی افریقا میں نئے سال کی آمد ہوتے ہی لوگ پرانے فرنیچر کو گھروں کی کھڑکیوں سے باہر پھینکتے ہیں ، خاص طور پر جوہانسبرگ میں بلند و بالا عمارتوں میں رہائش پذیر گھرانے بھی یہی عمل کرتے ہیں جس کے باعث نیو ائیر کے موقع پر ہر سال سینکٹروں افراد زخمی بھی ہوتے ہیں اور ہرسال پولیس و امدادی اداروں کو طلب کرنا پڑتا ہے۔
برازیل

برازیل میں نئے سال کی پہلی صبح سمندر میں سفید پھول چھوڑے جاتے ہیں، جس کا مقصد فرضی دیوی ’’یمانجہ‘‘ کو نئے سال کا تحفہ پیش کرنا ہوتا ہے،ایسا کرنے والوں کا ماننا ہے کہ نئے سال پر دیوی کو یاد رکھنے سے پورا سال مسائل اور مصیبتوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

برمودا ٹرائی اینگل کی حقیقت سامنے آگئی


جنگ عظیم دوئم کے زمانے سے برمودا ٹرائی اینگل ساری دنیا کی توجہ کا خصوصی مرکز رہا ہے اور اس کے بارے میں مافوق البشر یا غیر ماورائی معاملات مشہور ہیں لیکن اب وہ تمام مفروضات اپنی موت آپ مرنے والے ہیں۔
بحر اوقیانوس (اٹلانٹک ) کے ایک مثلث کی طرح کے علاقے کو برمودا ٹرائی اینگل کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس علاقے کا ایک کونا برمودا میں، دوسرا پورٹوریکو میں اور تیسرا کونا میلبورن، فلوریڈا کے قریب ایک مقام میں واقع ہے۔ برمودا ٹرائی اینگل انہی تین کونوں کے درمیانی علاقے کو کہا جاتا ہے۔
اس مقام سے وابستہ چند داستانیں ایسی ہیں کہ جن کے باعث اس کو شیطانی مثلث بھی کہا گیا ہے۔ ان داستانوں میں انسانوں کا غائب ہوجانا اور بحری اور فضائی جہازوں کا کھو جانا جیسے غیر معمولی اور مافوق الفطرت واقعات شامل ہیں۔
ان ماوراء طبیعی داستانوں (یا واقعات) کی اصلیت جاننے کے لیے جو تفاسیر کی گئی ہیں ان میں بھی اکثر غیر معمولی اور مسلمہ سائنسی اصولوں سے ہٹ کر ایسی ہیں کہ جن کے لیے کم از کم موجودہ سائنس میں کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملتا۔
ان تفاسیر میں طبیعیات کے قوانین کا معلق و غیر موثر ہوجانا اور ان واقعات میں بیرون ارضی حیات (extraterrestrial life) کا ملوث ہونا جیسے خیالات اور تفکرات بھی پائے جاتے ہیں۔ ان گمشدگی کے واقعات میں سے خاصے یا تقریباً تمام ہی ایسے ہیں کہ جن کے ساتھ ایک معمہ کی خصوصیت وابستہ ہو چکی ہے اور ان کو انسانی عمل دخل سے بالا پیش آنے والے حوادث کی حیثیت دی جاتی ہے۔
بہت سی دستاویزات ایسی ہیں کہ جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ برمودا ٹرائی اینگل کو تاریخی اعتبار سے ملاحوں کے لیے ایک اسطورہ یا افسانوی مقام کی سی حیثیت حاصل رہی ہے۔ بعد میں آہستہ آہستہ مختلف مصنفین اور ناول نگاروں نے بھی اس مقام کے بیان کو الفاظ کے بامہارت انتخاب اور انداز و بیان کی آرائش و زیبائش سے مزید پراسرار بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔
عوامی حلقوں میں مشہور قصے اپنی جگہ لیکن برمودا کے بارے میں بعض مفکرین کا خیال یہ ہے کہ اصل میں یہاں اٹھارویں اور انیسویں صدی میں برطانوی فوجی اڈے اور کچھ امریکی فوجی اڈے تھے۔ لوگوں کو ان سے دور رکھنے کے لیے برمودا کی مثلث کے افسانے مشہور کیے گئے جن کو قصص یا فکشن (بطور خاص سائنسی قصص) لکھنے والوں نے اپنے ناولوں میں استعمال کیا۔ اب چونکہ اڈوں والا مسئلہ اتنا اہم نہیں رہا اس لیے عرصے سے سمندر کے اس حصے میں ہونے والے پراسرار واقعات بھی نہیں ہوئے۔ مواصلات کے اس جدید دور میں اب بھی کوئی ایسا علاقہ نہیں ملا جہاں قطب نما کی سوئی کام نہ کرتی ہو یا اس طرح کے واقعات ہوتے ہوں جو برمودا کی مثلث کے سلسلے میں بیان کیے جاتے ہیں۔
برمودہ ٹرائی اینگل کا معمہ سائنسی بنیادوں پہ حل ہو چکا ہے بلکہ کئی معمے ایسے تھے ہی نہیں لیکن مشہور ہو گئے تھے۔ وہ ہوائی جہاز جو کہ پانی میں گر کر تباہ ہوئے تھے۔ ان کو، انہی پانیوں کی گہرائیوں سے جا کر نکال لیا گیا ہے کہ جو خود اس بات کو رد کرتا ہے کہ برمودہ تکون کے پانیوں میں نہیں جایا جا سکتا۔
برمودہ مثلث کے بارے میں تب پتہ چلا کہ جب جنگ عظیم کے دوران ٹریننگ پر گئے ہوائی جہازوں کا ایک پورا فلیٹ غائب ہو گیا۔ اس فلیٹ کے لیڈر کے جہاز کی جایئروسکوپ خراب ہو گئی تھی اور وہ ہوائی اور بحری جہاز کی دنیا کا ایک سب سے خوفناک مسئلے کا شکار ہوا کہ جسے پائلٹ ڈس اورینٹیشن
pilot Disorientation کہتے ہیں۔ اس دوران پائلٹ کا اپنے کنٹرول ٹاور سے مکمل رابطہ رہا اور اس فلیٹ کو نیویگیٹ کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اور کنٹرول ٹاور میں بھی موجود افراد کو یہ اندازہ ہو رہا تھا کہ اگر یہ مسئلہ درپیش رہا تو فیول ختم ہونے کے بعد سب جہاز گر جائیں گے۔ پهر ہوا بھی یہی ۔ کنٹرول ٹاور اور جہازوں کے مابین ہونے والی آخری وقت تک کی گفتگو بھی موجود ھے۔ لہذا ایسا نہیں ہوا تھا کہ یک دم چلتے جہاز کو کوئی حادثہ پیش آگیا۔
دراصل وہ خطہ ایسا تھا کہ جب نیوی گیشن کا مسئلہ آیا توجہاز میں بیٹھے ہوئے لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ غلطی سے بحر الکاہل میں چلے گئے ہیں، جبکہ وہ بحر اوقیانوس میں ہی تین جزیروں کے بیچ میں گھومتے رہے۔اور ا سی طرح کے مسائل کی وجہ کچھ واقعات پیش آئےتو اس تکون کے بارے میں وہ سب مشہور ہوا جس پر یقین کیا جاتا ہے۔
جہاں تک بحری جہازوں کے ڈوبنے کا تعلق ہے تو وہ معمہ اس طرح کھلا کہ جب ایک آئل رِگ سمندر کی گہرائی میں موجود میتھین گیس کی لیکیج کی وجہ سے ڈوب گئی۔ اور اس وقت یہ اندازہ ھوا کہ کہ سمندر میں اگر گیس کا اخراج ہو جائے، تو وہ گیس اپنے اخراج کی جگہ سے لے کر سمندر سے باہر نکلنے تک پانی کو کافی حد تک اپنی جگہ سے ہٹا دیتی ہے ۔ اسی سبب اس جگہ پرموجود پانی اور گیس کا ایک ایسا میکسچر بنتا ہے کہ وہاں بایوسنی خطرناک حد تک کم ہو جاتی ہے کہ جس میں بحری جہاز تو کیا ایک آئل رگ بھی ڈوب جائے۔ اور یہی اس خطے میں ہوا تھا۔
جنگ عظیم کے زمانے میں جنگوں کے دوراں ہونے والے ایسے واقعات کہ جن کی گہرائی تک عوام کی رسائی نہ تھی، تو ان کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔ مثلا نیواڈا کے علاقے میں فضائی اور ہوائی تجربات کی وجہ سے لوگوں نے یو۔ایف۔او کی تھیوری تشکیل دی اور یہ کہا کہ کوئی غیر زمینی مخلوق زمین پر آتی ہے۔ مگر جب کئی عرصے بعد امریکہ کی ایئر فورس نے خود اس حقیقت سے پردہ اٹھایا۔ اسی طرح جنگ عظیم کے دوران کئی واقعات منظر عام پہ نہیں آسکے اور مختلف ازہان نے اپنی اپنی تھیوریاں بنائیں۔
مافوق الفطرت صورتحال پہ یقین کرنے والوں نے اپنی تهیوری بنائی، اور سائنسی اذہان نے کچھ مستند سامنے آنے تک اپنے وثوق کو موخر کیا۔
مگر یہ معمہ اب حل شدہ ہے، کیونکہ انہی سمندروں پہ جہاز چلتے ہیں، انہی فضاؤں میں جہاز اڑتے ہیں، اور انہی پانیوں کی گہرائیوں میں لوگ جاتے ہیں اوروہی جہاز ڈھونڈھ کر لاتے ہیں، کہ جنہیں کسی مافوق الفطرت واقعہے کے کھاتے میں ڈال کر ڈوبنے کا بتایا جاتا ہے کہ وہ ایسے جگہ ڈوبے کہ جہاں کوئی نہیں جا سکتا۔
برمودا ٹرائی اینگل کی شہرت کا باعث وہ کہانیاں ہیں جو اس کے ساتھ وابستہ کی جاتی رہی ہیں۔ ان کہانیوں کے مطابق کئی بحری جہاز اور کئی ہوائی جہاز اس علاقے سے گزرتے ہوئے لاپتہ ہوگئے اور ان کا کوئی نشان بھی نہیں ملا۔ انہی حادثات کے باعث اس علاقے کو شیطان کی مثلث (Devils Triangle) بھی کہتے ہیں۔ جغرافیائی اعتبار سے یہ تندوتیز طوفانوں کا علاقہ ہے۔ لیکن ماس میڈیا میں اسے ایک ماورائی یا پیرانارمل جگہ کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے جہاں طبیعات کے تسلیم شدہ قوانین یا تو غلط ثابت ہوجاتے ہیں، بدل جاتے ہیں یا ان کے ساتھ بیک وقت دونوں صورتیں پیش آجاتی ہیں۔
اسی لئے یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس علاقے میں کئی ہوائی جہاز اور کئی بحری جہاز انتہائی غیرعمومی حالات میں غائب ہوگئے۔ امریکی کوسٹ گارڈ اور دوسرے لوگ اس بات سے متفق نہیں ہیں۔ حادثات کے بارے میں جمع کئے جانے والے اعدادوشمار سے کہیں بھی یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ اس علاقے میں پیش آنے والے حادثات دنیا کی دیگر مصروف ترین گزرگاہوں سے زیادہ رہے ہوں اور باریک بینی سے جائزہ لینے پر اس علاقے کے بارے میں پھیلائی جانے والی کسی بھی کہانی میں کوئی غیرمعمولی عوامل دکھائی نہیں دئیے۔
اس علاقے میں جہازوں کے غائب ہونے کی بات پہلے پہل 1950ء میں کی گئی۔ یہ کہانی ایسوسی ایٹڈ پریس کے ذریعے سامنے آئی اور اس کے لکھنے والے کا نام ای وی ڈبلیو جونز تھا۔ جونز نے جہاں اپنے آرٹیکل میں ان حادثات کو ہوائی جہازوں، بحری جہازوں اور چھوٹی کشتیوں کی ’’پراسرار گمشدگی‘‘ سے تعبیر کیا وہیں اس علاقے کو ’’ڈیولز ٹرائی اینگل‘‘ کا نام بھی دیا۔ دوسری بار اس کا ذکر 1952 میں ’’فیٹ میگزین‘‘ کے ایک آرٹیکل میں ہوا جسے جارج ایکس سینڈ نے تحریر کیا اور اس میں کئی پراسرار بحری گمشدگیوں کا ذکر کیا گیا۔ ’’برمودا ٹرائی اینگل‘‘ کی اصطلاح 1964ء میں ونسینٹ گیڈیز کے Argosy فیچر کے ذریعے مقبول ہوئی۔ جو مقبولیت اس علاقے کو آج حاصل ہے وہ چارلس برلٹیز کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ’’برمودا ٹرائی اینگل‘‘ کے نام سے چارلس برلیٹز کی کتاب 1974ء میں شائع ہوئی اور بعد میں اس پر فلم بھی بنائی گئی۔
کتاب میں ان ہوائی جہازوں اور بحری جہازوں کے بارے میں طویل اور پراسرار کہانیاں لکھی گئی ہیں جو اس سمندری علاقے میں لاپتہ ہوگئے تھے۔ اس میں خصوصی طور پر امریکی بحریہ کے پانچ تارپیڈو بمبار طیاروں کا ذکر کیا گیا ہے جو دسمبر 1945ء میں اس علاقے میں لاپتہ ہوئے۔ اسے فلائٹ 19 کا حادثہ کہاجاتا ہے۔ یہ کتاب ریکارڈ تعداد میں فروخت ہوئی اور اس میں گمشدگیوں کی کئی وجوہات کا ذکر ملتا ہے۔ مثلاً حادثوں کی ایک وجہ اس علاقے میں بھاری آمدورفت بھی ہو سکتی ہے، سمندری طوفان بھی ان حادثوں کا باعث ہو سکتے ہیں۔
ان دو سمجھ میں آنے والی وجوہات کے علاوہ کئی ایسے اسباب کا ذکر بھی کیا گیا ہے جو ماورائے عقل ہیں۔ مثال کے طور پر کتاب کے مصنف کا کہنا ہے کہ ان گمشدگیوں کا باعث ٹمپرل ہولز (temporal holes) بھی ہو سکتے ہیں۔ سمندر میں غرق ہوجانے والی افسانوی سلطنت ’’اٹلانٹس‘‘ جس کا ذکر سب سے پہلے افلاطون نے کیا تھا، بھی ان حادثوں کا سبب ہو سکتی ہے اور کسی دوسرے سیارے کی ٹرانسپورٹیشن ٹیکنالوجی بھی ان حادثوں کی وجہ ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی سپر نیچرل وجوہات کے ذکر اس کتاب کے اندر ملتا ہے۔ فلائٹ 19 کے حادثے کے وقت ہی ایریزونا سٹیٹ یونیورسٹی کے ریفرنس لائبریرین لارنس کوشے نے برمودا ٹرائی اینگل کے بارے میں طلباء کی بے پناہ دلچسپی اور سوالات سے تحریک پاکر اصلی رپورٹوں کی چھان بین کا تھکا دینے والا کام شروع کردیا اور ان رپورٹوں سے حاصل ہونے والے نتائج 1975ء میں The Bermuda Triangle Mystery: Solved کے نام سے ایک کتاب میں شائع ہوئے۔ کوشے نے بڑی جابک دستی سے برلیٹز کی کہانیوں اور عینی شاہدین کے بیانات میں پائے جانے والے نقائص کو سامنے لاکر ان کا پردہ فاش کردیا۔ آج تک کی جانے والی کھوج بین سے کسی غیرعمومی مظہر کے ان حادثات میں ملوث ہونے کی کوئی سائنسی شہادت نہیں مل سکی۔


ہیرے کی مدد سے دنیا کا باریک ترین تار تیار

دنیا کے اس باریک ترین تار کو آپٹو الیکٹرونکس اور برقی کپڑوں جیسے درجنوں کاموں میں استعمال کیا جاسکے گا،فوٹو:فائل
دنیا کے اس باریک ترین تار کو آپٹو الیکٹرونکس اور برقی کپڑوں جیسے درجنوں کاموں میں استعمال کیا جاسکے گا،فوٹو:فائل
نیویارک: امریکی سائنسدانوں نے ہیروں کو استعمال کرتے ہوئے دنیا کا سب سے باریک برقی تار بنایا ہے جو صرف تین ایٹموں کے برابر چوڑا ہے۔
امریکا کی اسٹینفرڈ یونیورسٹی میں ’’سلیک‘‘ (SLAC) نیشنل ایکسلریٹر لیبارٹری کے ماہرین نے بہت سے عناصر کے ایٹموں کو بچوں کے کھلونوں ’’لیگو‘‘ کے انداز میں جوڑا ہے۔ دنیا کے اس باریک ترین تار کو آپٹو الیکٹرونکس اور برقی کپڑوں جیسے درجنوں کاموں میں استعمال کیا جاسکے گا۔ اسی طرح بجلی کے زیاں کے بغیر سپر کنڈکٹر آلات بنانے کی راہ بھی ہموار ہوسکے گی۔
نیچر مٹیریلز میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مرکزی مصنف اور سائنسداں ہاؤ یان نے بتایا کہ ہم نے دنیا کا باریک ترین تار بنایا ہے جس سے بجلی گزر سکتی ہے۔ اسے بنانا بہت آسان ہے اور نصف گھنٹے میں مختلف عناصر کے ملاپ سے نتائج ظاہر ہوجاتے ہیں۔ اس عمل کو ’’سیلف اسمبلی‘‘ کہا جاتا ہے جس کے تحت ٹھوس قلمی قلب (کور) کے ساتھ ایک نینوتار بنایا گیا ہے جو بہترین برقی خصوصیات بھی رکھتا ہے۔ سوئی سے بھی کروڑوں گنا باریک تار میں سلفر اور تانبے (کاپر) کے ایٹم شامل کئے گئے ہیں اور ہیروں کو بیرونی سطح پر جمع کیا گیا ہے جو انسولیشن کا کام کرتے ہیں۔
اس باریک تاروں کو درست ترین آلات اور دیگر شعبوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اتنی باریکی پر تار حیرت انگیز خواص ظاہر کرتے ہیں جن کا مفید استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ان سے الیکٹرون مائیکروسکوپی میں بہتری اور چھوٹے برقی آلات بنانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
اس سے قبل اسٹینفرڈ یونیورسٹی کی اسی ٹیم نے ایک جہتی (ون ڈائمینشنل) نینو تار بنایا تھا جسے زنک، کیڈمیم، چاندی اور فولاد کے ایٹموں سے تیار کیا گیا تھا۔ ایسے تاروں کو آپٹو الیکٹرونکس میں استعمال کیا جاسکتا ہے اور باریک ترین ایل ای ڈیز بنانے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔