جمعرات، 8 دسمبر، 2016

چہرے کوشناخت کرنے والی ایپ تیار



پلبر ایپ دو سے تین ہفتے میں لانچ کردی جائے گی۔ فوٹو: بشکریہ بلپر
پلبر ایپ دو سے تین ہفتے میں لانچ کردی جائے گی۔ فوٹو: بشکریہ بلپر
لندن: بہت جلد اسمارٹ فون میں ایک ایپ کے ذریعے آپ کسی بھی ویڈیو یا تصویر کو دیکھ کراسے شناخت کرسکیں گے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ انٹرنیٹ پرموجود ہو۔
لندن کی ایک فرم نے ’’پلِبرایپ‘‘ بنائی ہے جو فوراً ہی کسی تصویرکو انٹرنیٹ پرموجود اکاؤنٹس اور ڈیٹا بیس سے ملاتی ہے اور اس کی تفصیل سامنے لے آتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ ایپ ’’آگمینٹڈ ریئلٹی‘‘ کے ذریعے کسی چلتی ہوئی ویڈیو اور اخبار کی تصویر کو بھی شناخت کرلیتی ہے۔
تصویر شناخت کرتے دوران یہ ایپ سوشل میڈیا پروفائل کو بھی ظاہر کرتی ہے ۔ اس لحاظ سے کھلاڑیوں، فنکاروں اور سیاستدانوں وغیرہ کو فوری طورپرپہچان لیتی ہے لیکن صارف خود اپنے چہرے کی شناخت بھی کرسکتے ہیں۔ پلِبر ایپ کے بانی  امبریش مترا کہتے ہیں کہ آگمینٹڈ ریئلٹی سے اشیاء اور چہرے شناخت کرنے کا نظام رابطوں کو انقلابی طور پر تبدیل کردے گا۔  وجہ یہ ہے کہ ہمارا چہرہ ہی سب سے بڑی شناخت ہے اوریہ ایپ اسے ہی استعمال کرتی ہے۔
مترا کے بقول اس طرح لوگ ایک دوسرے سے بہت تفریحی انداز میں رابطہ کرسکیں گے اوردوسروں کی پسند اور ناپسند کی بنا پردوستیاں قائم ہوسکیں گی۔ اسی طرح کوئی اخبار، کسی برانڈ کا فاسٹ فوڈ یا کسی گاڑی کے ماڈل کی تصویرپراس سے وابستہ تمام معلومات پاپ اپ ہوکرسامنے ظاہرہوجائیں گی۔
تصویرپرمعلومات میں ’معلوماتی گراف‘ بھی سامنے آجاتا ہے جس سے آپ پسندیدہ اشیا نکال کر اسے اپنے پروفائل میں شامل کرسکیں گے۔ ایپ کی لانچ کے ساتھ ہی اس سے 70 ہزار سے زائد موسیقاروں، فنکاروں، مصنفین، سائنسداں اور کھلاڑی حضرات کی معلومات اور دیگر تصاویر کو شناخت کرکے پیش کیا گیا ۔ اس طرح شخصیات بالکل فیس بک پروفائل کی طرح اپنی آگمینٹڈ ریئلٹی پروفائل بھی بناسکتے ہیں۔
اس ایپ پر مزید کام جاری ہے اور توقع ہے کہ اگلے دو ہفتوں میں اسے منظرِ عام پر پیش کردیا جائے گا۔

بدھ، 7 دسمبر، 2016

ہزاروں سال تک چارج رہنے والی ہیرے سے بنی تابکاری بیٹری

اس ایجاد نے ماہرین کو لاکھوں ٹن تابکار فضلہ ٹھکانے کا ایک نیا، مفید اور مؤثر راستہ دکھایا ہے۔ فوٹو؛ فائل

اس ایجاد نے ماہرین کو لاکھوں ٹن تابکار فضلہ ٹھکانے کا ایک نیا، مفید اور مؤثر راستہ دکھایا ہے۔ فوٹو؛ فائل
لندن: یونیورسٹی آف برسٹل، برطانیہ کے سائنسدانوں نے ایٹمی فضلے کو مصنوعی ہیرے میں بند کرکے 100 سال تک چارج رہنے والی بیٹری کے طور پر استعمال کرنے کا انوکھا عملی مظاہرہ کیا ہے۔
یہ ایجاد اس لحاظ سے منفرد ہے کیونکہ تابکار ایٹمی فضلے کی تلفی ایک بڑا دردِ سر بنی ہوئی ہے۔ اس وقت بھی دنیا بھر میں ہزاروں ٹن تابکار فضلہ موجود ہے جسے تلف کرنے کا کوئی کم خرچ طریقہ فی الحال ہمارے پاس نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسے زمین کی بہت زیادہ گہرائی میں انتہائی محفوظ جگہوں پر دفن کرنا پڑتا ہے جس پر بہت زیادہ اخراجات آتے ہیں مگر یہ لاگت برداشت کرنا امیر اور ترقی یافتہ ممالک کے لیے بھی بہت مشکل ہے۔
موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ دنیا کے 30 ممالک میں 444 ایٹمی بجلی گھر (نیوکلیئر ری ایکٹرز) کام کررہے ہیں جب کہ 15 ملکوں میں مزید 63 نئے ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر جاری ہے یعنی تابکار فضلہ نہ صرف بڑھ رہا ہے بلکہ اس میں اضافے کی رفتار مزید بڑھنے کا بھرپور امکان بھی ہے۔
سائنسندانوں کی تیار کردہ تابکار بیٹری (جس کے پروٹوٹائپ میں تابکار ’’نکل 63‘‘ پر مشتمل مصنوعی ہیرا استعمال کیا گیا ہے) اس ضمن میں دُہرے فائدے کی حامل ہوسکتی ہے۔ اوّل یہ تابکار فضلے کو ٹھکانے لگانے کا محفوظ طریقہ ہے اور دوم اس سے توانائی کی بڑھتی ہوئی ضرورت پوری کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ البتہ تابکار نکل کے ہیرے والی اس بیٹری میں توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت ’’صرف‘‘ 100 سال بعد نصف رہ جائے گی۔
100 سال تک چارج رہنے کا راز:
تابکار ایٹموں کے مرکزے (نیوکلیائی) غیر قیام پذیر ہوتے ہیں اور اسی لیے ان میں مسلسل ٹوٹ پھوٹ کا عمل بھی جاری رہتا ہے جس کی بدولت وہ خود کو قیام پذیر اور غیر تابکار عناصر میں تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ اسی لیے کسی تابکارعنصر کے ایٹموں کی تعداد بتدریج کم ہوتی رہتی ہے اور ایک خاص مدت کے بعد اس عنصر کے نمونے میں تابکار ایٹموں کی تعداد نصف رہ جاتی ہے جسے اس عنصر کی ’’نصف عمر‘‘ (ہاف لائف) بھی کہا جاتا ہے، نکل 63 کی نصف عمر 100 سال ہے۔
البتہ اسی دوران وہ حرارت کی شکل میں بھی توانائی خارج کرتے ہیں جسے ’’انحطاطی حرارت‘‘ (decay heat) کہا جاتا ہے اور جیسے جیسے کسی عنصر کے نمونے میں تابکار ایٹموں کی تعداد کم ہوتی جاتی ہے ویسے ویسے خارج ہونے والی یہ حرارت بھی کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اس عنصر کی نصف عمر پوری ہونے پر وہ حرارت آدھی رہ جاتی ہے۔
سو سال تک ’’چارج‘‘ رہنے والی بیٹری کا راز بھی یہی ہے۔
ہیروں کے قیدی:
انحطاطی حرارت سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ تابکاری کے مضر اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے اسکاٹ اور سائنسدانوں  نے فیصلہ کیا کہ تابکار مادّوں کی معمولی مقداروں کو کاربن پر مشتمل مصنوعی ہیروں میں بند کردیا جائے۔ اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ کم مقدار والے تابکار مادّے سے خارج ہونے والی خطرناک شعاعیں ہیرے کے اندر ہی دوبارہ جذب ہوجائیں گی جب کہ صرف حرارت ہی باہر نکل سکے گی۔ یعنی ایسے ہیروں کو توانائی حاصل کرنے میں بہ آسانی استعمال کیا جاسکے گا۔
اس تصور کی حقیقت اور افادیت ثابت کرنے کے لیے ماہرین کی اس ٹیم نے ابتدائی طور پر تابکار ’’نکل 63‘‘ کا انتخاب کیا جسے مصنوعی ہیرے میں بند کرنے کے بعد پروٹوٹائپ بیٹری کے طور پر اس کا کامیاب تجربہ بھی کرلیا گیا۔ لیکن یہ تو صرف ابتدائی تجربہ تھا ورنہ ان کا اصل ہدف تو اس سے بھی کہیں زیادہ عرصے تک چارج رہنے والی بیٹریاں تیار کرنا ہے اور ان کی آئندہ کوششیں اسی بارے میں ہوں گی۔
ہزاروں سال تک چارج رہنے والی بیٹری:
بات عجیب لگتی ہے لیکن حقیقت ہے کہ تابکار ’’کاربن 14‘‘ کی نصف عمر 5730 سال ہے۔ (یہ وہی کاربن ہے جس سے ’’ریڈیو کاربن ڈیٹنگ‘‘ نامی تکنیک میں آثارِ قدیمہ کی عمر معلوم کی جاتی ہے۔) یعنی اگر اسی اصول پر عمل کرتے ہوئے، تابکار کاربن استعمال کرنے والی بیٹری تیار کرلی جائے تو اس کی چارجنگ 5730 سال کے بعد آدھی ہوگی۔
ایٹمی بجلی گھروں کے تابکار فضلے میں ’’کاربن 14‘‘ کی بھی کوئی کمی نہیں کیونکہ آج سے تقریباً 40 سال پہلے تک ایٹمی بجلی گھروں میں گریفائٹ (کاربن کی بہروپی شکل) کی سلاخیں نیوٹرون جذب کرنے کے لیے (موڈیریٹر کے طور پر) استعمال کی جاتی تھیں۔ نیوٹرون جذب کرنے سے پہلے یہ عام اور غیر تابکار ’’کاربن 12‘‘ پر مشتمل ہوتی تھیں لیکن نیوٹرون جذب کرنے کے نتیجے میں وہ کاربن 14 میں تبدیل ہوجایا کرتی تھیں۔
دنیا کے کئی ملکوں میں اس وقت ایٹمی بجلی گھروں کے تابکار فضلے میں لاکھوں ٹن کاربن 14 کی دیوقامت سلاخیں بھی شامل ہیں۔ اگر صرف برطانیہ کی بات کریں تو وہاں کاربن 14 والے بلاکوں کا مجموعی وزن 95000 ٹن سے زیادہ ہے جو آج تک اپنی محفوظ تلفی کے منتظر ہیں۔
دلچسپی کی بات یہ ہے کہ عام بیٹریوں سے 700 جول فی گرام کے حساب سے توانائی خارج ہوتی ہے اور چھوٹی ٹارچ میں عام استعمال ہونے والی ڈبل اے (AA) بیٹری اس شرح پر صرف 24 گھنٹے میں مکمل ڈسچارج ہوجاتی ہے۔ اس کے برعکس کاربن 14 سے نکلنے والی انحطاطی حرارت صرف 15 جول فی گرام ضرور ہوتی ہے لیکن تابکار ہونے باعث یہ اسی شرح پر آہستہ آہستہ کرکے مسلسل ہزاروں سال تک خارج ہوتی رہتی ہے۔ کاربن 14 کا صرف ایک گرام اپنی نصف عمر کے دوران مجموعی طور پر 1500 ارب جول کے لگ بھگ توانائی خارج کرتا ہے جس کا مقابلہ دنیا کی کوئی روایتی بیٹری نہیں کرسکتی۔
یعنی اگر کاربن 14 کی انحطاطی حرارت سے استفادہ کرنے والی کوئی بیٹری تیار کرلی جائے تو وہ کم از کم چھوٹے اور کم توانائی استعمال کرنے والے آلات کو ہزاروں سال تک مسلسل توانائی فراہم کرتی رہے گی۔
سائنسدانوں کی ٹیم کا اگلا ہدف ایسی ہی ایک بیٹری کی تیاری ہے اور انہیں امید ہے کہ یہ نکل کے مقابلے میں زیادہ آسان ہوگی کیونکہ مصنوعی ہیرا اور تابکار گریفائٹ (کاربن 14) دونوں کاربن ہی کی دو مختلف شکلیں ہیں۔ توقع ہے کہ اس منصوبے پر بھی وہ جلد ہی کام شروع کردیں گے اور شاید آنے والے چند سال میں ایسی کوئی ’’ہیرا بند تابکار بیٹری‘‘ تجارتی پیداوار کےلئے تیار بھی ہوگی… ایک ایسی  بیٹری جسے عملاً کبھی ری چارج کرنے کی کوئی ضرورت نہیں پڑے گی۔

امریکی سائنسدان مصنوعی خون بنانے میں کامیاب ہو گئے


واشنگٹن  امریکی سائنسدان ایسا مصنوعی خون بنانے میں کامیاب ہوگئے ہیں جو پاؤڈر کی شکل میں بھی محفوظ کیا جاسکے گا جبکہ یہ خون ایمرجنسی کی صورت میں انسانی جان بچانے کیلئے پھیپھڑوں سے خلیے کو آکسیجن مہیا کرنے میں مدد گار ثابت ہوگا۔ واشنگٹن یونیورسٹی سکول آف میڈیسن کے ڈاکٹرایلن کے مطابق ان کی ٹیم انسانی ہیموگلوبن پروٹین کے نچوڑ سے مصنوعی خون بنانے میں کامیاب ہوگئی ، یہ مصنوعی ریڈبلڈ سیلز ہیں جو پھیپھڑوں سے جسم بھر میں خلیوں کو آکسیجن فراہم کرسکیں گے ۔ انکے مطابق مصنوعی سرخ خلیے پاؤڈر کی شکل میں ہیں وہ پپریکا پاؤڈر کی طرح دکھائی دیتا ہے اس کو آئی وی پلاسٹک تھیلوں میں محفوظ کیا جاسکتا ہے اور ضرورت کے وقت اس کو سٹرائل پانی میں حل کرکے جسم کو لگایا جاسکے گا۔ یہ مصنوعی بلڈ سیل اصلی ریڈبلڈ سیل کی جسامت سے پانچ گنا چھوٹے ہیں انہوں نے بتایا اس خون کے اب بندروں اور خرگوشوں پر لیبارٹری ٹیسٹ ہوں گے اس لئے اس کو انسانوں کے لئے استعمال میں لانے میں 10 سال سے زائد کا عرصہ لگ جائیگا۔ 

موبائل فون سمیت چھوٹے آلات چارج کرنے والا کوٹ تیار

کوٹ کی قیمت پاکستانی 25 ہزار روپے کے برابر ہے۔  فوٹو: فائل

کوٹ کی قیمت پاکستانی 25 ہزار روپے کے برابر ہے۔ فوٹو: فائل
ٹوکیو: جاپان کے ایک ڈیزائنر نے شمسی توانائی سے بجلی بناکر موبائل اور ٹیبلٹ جارچ کرنے والا ایک کوٹ تیار کیا ہے جو آپ کے فون کو کبھی بند نہیں ہونے دیتا۔ تاہم اس کی قیمت بہت زیادہ ہے جو پاکستانی 25 ہزار روپے کے برابر ہے۔
کوٹ کی پشت پر چار اور آگے دو عدد سولر سیلز لگائے گئے ہیں جو سورج کی روشنی جذب کرکے اس کی مدد سے کوٹ میں نصب ایک پاور پیک کو چارج کرتے رہتے ہیں۔ اسے جونیا وٹنابے نے ڈیزائن اور تیار کیا ہے جو غیرمعمولی اور اچھوتے لباس ڈیزائن کرنے کی شہرت رکھتےہیں۔ اس کوٹ کو ایف ڈبلیو 16 کا نام دیا گیا ہے۔ کوٹ میں ایک مائیکرو یوایس بی پورٹ بھی ہے جس سے جڑ کر موبائل فون چارج کیا جاسکتا ہے۔

مشین گن فائر کرنے والا چھوٹا جدید ٹینک

ٹینک کی اونچائی 3 فٹ ہے جو اپنے اوپر 3 فوجیوں کو بھی بٹھا سکتا ہے۔
 فوٹوبشکریہ ملریم کمپنی
ٹینک کی اونچائی 3 فٹ ہے جو اپنے اوپر 3 فوجیوں کو بھی بٹھا سکتا ہے۔ فوٹوبشکریہ ملریم کمپنی

ٹلن: ایسٹونیا کی کمپنی نے ایک چھوٹا، پھرتیلا لیکن خطرناک ٹینک بنایا ہے جو نہ صرف 3 فوجیوں کو بٹھا کر 24 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرسکتا ہے بلکہ دوبدو لڑائی میں فوجیوں سے آگے رہتے ہوئے اپنی مشین گن سے فائرنگ کرکے 2 کلومیٹر دور اپنے ہدف کو بھی نشانہ بناسکتا ہے۔
ایڈر نامی مشین گن نما یہ ٹینک وقت پڑنے پر اپنی ساخت بھی تبدیل کرسکتا ہے۔ یہ ٹینک قریبی لڑائی میں سپاہیوں کو لے جانے اور ان کی مدد کرنے کے لیے خاص طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے جسے ایک ریموٹ کنٹرول سے بھی قابو کیا جاسکتا ہے یعنی یہ مکمل طور پر خودکار انداز میں بھی کام کرسکتا ہے۔
کمپنی کے مطابق اگلے 10 برسوں میں جنگ میں سپاہیوں کا ساتھ دینے کے لیے خودکار جنگی مشینوں کی تعداد بھی بڑھ جائے گی۔ کمپنی نے سنگاپور ٹیکنالوجی کائنٹیکس کے اشتراک سے اس جنگی مشین کو تیار کیا ہے جس میں ریموٹ ویپن سسٹم لگایا گیا ہے۔ دونوں کمپنیوں کا خیال ہے کہ یہ اچھوتا ٹینک مصروف فوجیوں کو میدانِ جنگ میں ٹرانسپورٹ کی سہولت کے ساتھ ساتھ ان کا مددگار بھی ثابت ہوگا۔

اس چھوٹے ٹینک کی لمبائی 8 فٹ اور اونچائی 3 فٹ ہے؛ جبکہ یہ 1653 سے 2205 پونڈ وزن کے ساتھ 24 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتا ہے۔ اس کی مشین گن پورے ایک دائرے میں گھوم کر دشمن پر وار کرسکتی ہے جب کہ ضرورت کے تحت چھوٹی اور بڑی گن بھی لگائی جاسکتی ہے۔

اینڈروئیڈ فونز کے لئے واٹس ایپ میں دو نئے فیچرز کا اضافہ

ویڈیو اسٹریمنگ اور گف کے فیچرز کا اضافہ ہونے کے بعد واٹس ایپ بھی اپنی مدمقابل ایپس جیسا جاندار ہوجائے گا۔ (فوٹو: فائل)
ویڈیو اسٹریمنگ اور گف کے فیچرز کا اضافہ ہونے کے بعد واٹس ایپ بھی اپنی مدمقابل ایپس جیسا جاندار ہوجائے گا۔ (فوٹو: فائل)
سلیکان ویلی: واٹس ایپ نے اپنی اینڈروئیڈ ایپ میں صارفین کے لئے دو نئے فیچرز یعنی ویڈیو اسٹریمنگ اور گف (GIFs) پیش کردیئے ہیں البتہ یہ اینڈروئیڈ 4.1 یا اس سے جدید آپریٹنگ سسٹم پر چلنے والے اسمارٹ فونز ہی کےلئے کارآمد ہوں گے جبکہ صارفین کو ان دونوں فیچرز سے استفادہ کرنے کےلئے واٹس ایپ کا نیا ورژن نئے سرے سے ڈاؤن لوڈ یا موجودہ ایپ کو اپ ڈیٹ کرنا ہوگا۔
اس وقت دنیا بھر میں واٹس ایپ کے صارفین کی تعداد ایک ارب سے زیادہ ہوچکی ہے اور گزشتہ چند سال سے فیس بک کی ملکیت میں آجانے کے بعد سے اس میں وقفے وقفے سے نئے فیچرز متعارف کروانے کا سلسلہ جاری ہے۔ کچھ عرصہ پہلے یہ دونوں فیچرز واٹس ایپ کے نئے بی ٹا ورژن میں شامل کردیئے کئے گئے تھے لیکن اب یہ فائنل ریلیز کی صورت میں فی الحال صرف اینڈروئیڈ اسمارٹ فون صارفین کےلئے دستیاب ہیں۔
ویڈیو اسٹریمنگ اور گف کی سہولت گوگل ڈو اور فیس بک میسنجر میں پہلے سے موجود تھی اور واٹس ایپ صارفین بڑی شدت سے اس کے منتظر تھے۔ ان دونوں فیچرز کے ساتھ ہی اب فیس بک اور یوٹیوب کی طرح واٹس ایپ پر بھی ویڈیو بغیر ڈاؤن لوڈ کئے دیکھی جاسکتی ہیں۔ گف والے فیچر کے اضافے سے واٹس ایپ گروپس بھی زیادہ جاندار اور زندگی سے بھرپور بنائے جاسکیں گے۔
واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ سہولت فی الحال صرف اینڈروئیڈ اسمارٹ فونز کےلئے ہے لیکن جلد ہی یہ ایپل آئی او ایس اور ونڈوز فونز کے لئے بھی پیش کردی جائے گی۔

جعلی خبروں کے خلاف فیس بک میں سروے فیچر کا اضافہ

سلیکان ویلی: 
دنیا کی سب سے بڑی سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک نے جعلی خبروں، بے بنیاد معلومات اور گمراہ کن زبان استعمال کرنے والی پوسٹوں سے جان چھڑانے کے لیے اپنے صارفین سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے اور ’’فیس بک سروے‘‘فیچر لانچ کردیا ہے۔

اس فیچر کے تحت فیس بک کسی پوسٹ، نوٹ، اسٹیٹس اپ ڈیٹ یا شیئر کے نیچے اپنی جانب سے ایک سروے آپشن کا اضافہ کرسکتا ہے جس میں صارفین سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ اس تحریر کی سرخی کو کس حد تک گمراہ کن سمجھتے ہیں اور جواب میں 5 آپشنز دے دیتا ہے جو ’’بالکل نہیں‘‘ سے لے کر ’’بالکل‘‘ تک پر محیط ہیں۔
یہ تو واضح نہیں کہ فیس بک سروے کا نظام کس طرح کام کرتا ہے لیکن بظاہر ایسا ہی لگتا ہے کہ اس سروے میں صارفین کے جوابات مدنظر رکھتے ہوئے فیس بک کسی فرد، پیج یا گروپ کے قابلِ بھروسہ ہونے یا نہ ہونے سے متعلق کوئی فیصلہ کرے گا۔ تاہم یہ سوال ابھی تک جواب طلب ہے کہ آیا یہ کام کوئی خودکار سافٹ ویئر کرے گا یا اس میں انسانی مداخلت بھی ہوگی۔ علاوہ ازیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ان معلومات کی بنیاد پر کسی پیج، گروپ یا فرد کی درجہ بندی سے عوام کو آگاہ کیا جائے گا یا پھر یہ سارا ڈیٹا پوشیدہ طور پر استعمال کیا جائے گا۔
دنیا بھر میں مختلف ویب سائٹس اپنے مضامین کی سنسنی خیز اور گمراہ کن سرخیاں فیس بک پر شیئر کراتی ہیں تاکہ انہیں زیادہ سے زیادہ ٹریفک ملے اور ان کی رینکنگ میں بھی اضافہ ہو۔ رینکنگ کی یہ دوڑ دنیا کے کم و بیش ہر ملک اور ہر زبان میں ایک بیماری کی طرح پھیل چکی ہے جو صارفین کو گمراہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کا وقت بھی برباد کرنے کا باعث بن رہی ہے۔
سوشل میڈیا ناقدین نے فیس بک کی جانب سے اس قدم کو خوش آئند قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ دوسری سوشل میڈیا ویب سائٹس اور نیٹ ورکس بھی اس کی تقلید کریں گے۔