اتوار، 2 جولائی، 2017

فیس بک صارفین کی تعداد 2 ارب تک جاپہنچی

فیس بک صارفین کی تعداد 2 ارب تک پہنچ گئی ہے۔ فوٹو فائل
فیس بک صارفین کی تعداد 2 ارب تک پہنچ گئی ہے۔ فوٹو فائل
 واشنگٹن: سوشل میڈیا کی سب سے بڑی ویب سروس فیس بک نے اعلان کیا ہے کہ اس کے صارفین کی تعداد 2 ارب سے تجاوز کرچکی ہے اور اب دنیا کی 25 فیصد آبادی اس نیٹ ورک سے جڑی ہے۔
فیس بک کے بانی اور چیف ایگزیکٹیو مارک زکربرگ نے اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ اب باضابطہ طور پر دو ارب افراد فیس بک سے وابستہ ہوگئے ہیں۔ واضح رہے کہ 13 برس قبل مارک زکربرگ نے فیس بک کی بنیاد رکھی تھی۔
اکتوبر 2012 میں فیس بک پر ایک ارب صارفین تھے اور اب ان کی تعداد 2 ارب تک پہنچ گئی ہے۔ واضح رہے کہ صرف پانچ سال فیس بک استعمال کرنے والوں کی تعداد دوگنی ہوچکی ہے۔ اس سے قبل ٹیکنالوجی ماہرین نے پیش گوئی کی تھی کہ اسنیپ چیٹ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے بعد فیس بک کی تیز رفتار ترقی متاثر ہوسکتی ہے لیکن ایسا نہیں ہوا اور اب اس کے صارفین میں برق رفتاری سے اضافہ ہورہا ہے۔
اس موقع پر مارک زکربرگ نے کہا کہ وہ ہر فرد کو ایک دوسرے سے جوڑنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے وہ بلند عزائم رکھتے ہیں۔
تاہم فیس بک انتظامیہ کو کئی ممالک اور تنظیموں کی جانب سے اس بات پر شدید تنقید کا سامنا ہے کہ وہ اپنے نیٹ ورک سے غیرقانونی اور پرتشدد مواد ہٹانے میں ناکام رہی ہے۔ اس کے لیے فیس بک کے گزشتہ ماہ سے مزید 3000 افراد کو بھرتی کیا ہے تاکہ فیس بک پر موجود نامناسب، غیرقانونی اور تشدد بھرے مواد کو ہٹایا جاسکے۔
دوسری جانب ڈیجیٹل ماہرین نے فیس بک کو جعلی خبروں کے پھیلاؤ اور عوام کی تنہائی سے بھی خبردار کیا ہے۔

بجلی کی بچت کرنے والا غیرروایتی نظام تیار

مصری ماہر نے جو نظام بنایا ہے اس میں 220 وولٹ کو 14 وولٹ پر کرلیا جاتا ہے جس سے 85 فیصد بجلی کی بچت ہوسکتی ہے۔ فوٹو: فائل
مصری ماہر نے جو نظام بنایا ہے اس میں 220 وولٹ کو 14 وولٹ پر کرلیا جاتا ہے جس سے 85 فیصد بجلی کی بچت ہوسکتی ہے۔ فوٹو: فائل
پیرس: مصری انجینئر نے عمارتوں میں بجلی کی بچت کم کرنے والا ایسا غیر روایتی طریقہ وضع کرلیا ہے جو پوری دنیا میں آسانی سے رائج ہوسکتا ہے۔
فرانس میں رہنے والے مصری ماہر طارق شعبان نے چار منزلہ گھر پر اس کی کامیاب آزمائش کی ہے جو ایک محفوظ اور آسان طریقہ بھی ہے۔ مصری عسکری پیداوار سے وابستہ ایک کمپنی بینہا گروپ اب اس طریقے کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔ طارق کو عمارتوں کے لیے محفوظ برقی سسٹم کی پیٹنٹ (حقِ ملکیت) بھی مل چکا ہے، اپریل 2017 میں اس ایجاد کو سوئٹزرلینڈ میں گولڈ میڈل سے بھی نوازا گیا ہے۔
طارق شعبان کا کہنا ہے کہ یہ نظام بجلی کی بچت کے ساتھ ساتھ آتشزدگی اور کرنٹ لگنے سے بھی محفوظ رکھتا ہے خواہ برقی تار پانی میں گرجائے یا اس کے ننگے تاروں کو براہ راست چھوا جائے تب بھی جسم کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ ان کا کہنا تھا کہ  یہ سسٹم 220 وولٹ کو 14 وولٹ میں تبدیل کردے گا اور روشنیوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
سسٹم برقی مقناطیسی سرکٹ پر انحصار کرتے ہوئے برقی کرنٹ کی مزاحمت  کو کم ترین درجے پر لے آتا ہے لیکن اس سے روشنی پر کوئی فرق نہیں پڑتا ۔
وولٹیج کم ہونے سے اگر کوئی تاروں کو چھولے تو کوئی نقصان نہیں ہوتا اور نہ ہی آگ لگتی ہے۔ اس نظام کو جب ایک چار منزلہ گھر پر آزمایا گیا تو اس کے 100 فیصد نتائج برآمد ہوئے جو بجلی کی قلت کے شکار ممالک کے لیے ایک زبردست ایجاد ثابت ہوسکتی ہے۔
صرف عرب خطے میں 2010 سے 2030 تک بجلی کی سالانہ کھپت میں 6 فیصد اضافے کے پیش گوئی کی گئی ہے۔ ابھی یہ صرف لائٹوں کے لیے کارآمد ہے جب کہ ایئرکنڈیشنڈ اور واٹر ہیٹر کے لیے بھی نظام تیار کیا جارہا ہے۔

فیس بُک ویڈیو چیٹ کے لیے نئے اینی میٹڈ ری ایکشن فیچرز

فیس بک نے نئے ویڈیو ری ایکشن اور فلٹر پیش کیے ہیں۔ فوٹو: بشکریہ فیس بک
فیس بک نے نئے ویڈیو ری ایکشن اور فلٹر پیش کیے ہیں۔ فوٹو: بشکریہ فیس بک
 واشنگٹن: اگر آپ فیس بک پر ویڈیو چیٹ کرتے ہوئے فوری طور پر کوئی ردِ عمل ظاہر کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے فیس بک نے نئے ری ایکشن فیچر تیار کئے ہیں جو فوری طور پر آپ کی ویڈیو کا حصہ بن جاتے ہیں۔
اب آپ گفتگوکے دوران اینی میٹڈ ری ایکشنز، فلٹر، ماسک، اور ایفیکٹس شامل کرکے ویڈیو کال کے یادگار لمحات کو مزید دلچسپ بناسکتے ہیں اور فیس بک کے تمام صارفین ان کا استعمال کرسکتے ہیں۔
ان ری ایکشنز میں محبت، ہنسی یا قہقہہ، حیرت، اداسی اور غصے کے تاثرات شامل ہیں۔ چیٹ کے دوران بس اسکرین کے نیچے کی جانب ٹیپ کیجئے اور ان پانچ ری ایکشنز میں سے کسی ایک کا انتخاب کیجئے جو چند سیکنڈ میں اسکرین پر نمودار ہوجائیں گے۔ مثلاً اداسی کا آپشن ظاہر ہوتے ہی آپ کی آنکھوں سے کارٹون آنسو جاری ہونا شروع ہوجائیں گے۔
فیس بک کی پراڈکٹ مینیجر نورا میشیوا نے بتایا کہ فیس بک نے ویڈیو کالز میں تفریح کو بحال رکھا ہوا ہے تاکہ چہرے سے ظاہر یا ظاہر نہ ہونے کی صورت میں آپ اپنے لحاظ سے ری ایکشن کا انتخاب کرسکیں لیکن ری ایکشن منتخب کرتے وقت کیمرے کو اپنے چہرے کی جانب رکھئے۔
اسی طرح  بہت سے فلٹر بھی شامل کئے گئے ہیں جن میں رنگ، دل، اور چمکتے ستارے شامل ہیں۔

فیس بک پروفائل تصویر چرانا اب آسان نہیں

بھارتی کمپنی کی جانب سے جاری کردہ فوٹو شیلڈ آپشن کی ایک تصویر۔ فوٹو: فائل
بھارتی کمپنی کی جانب سے جاری کردہ فوٹو شیلڈ آپشن کی ایک تصویر۔ فوٹو: فائل
نئی دہلی: فیس بک انڈیا نے پروفائل تصویر کی سیکیورٹی کیلیے ایک حل نکالا ہے جس کے تحت آپکی فیس بک پروفائل تصویر چوری کرنا ناممکن ہوجائے گا۔
فیس بک صارفین کی اکثریت اس بات کی شکایت کرتی نظر آتی ہے کہ ان کی پروفائل تصویر سوشل میڈیا پر کئی جگہ غلط ناموں سے نقل ہورہی ہے۔ اس کا سب سے ذیادہ شکار خواتین ہورہی ہیں جن کی تصاویر کئی جگہوں پر نقل کی جارہی ہے لیکن اب فیس بک نے صارفین کی پروفائل تصویر کی سیکیورٹی کے لیے ایک حل نکالا ہے۔
فیس بک انڈیا کی جانب سے نکالے گئے حل کے تحت بہت جلد صارفین کی پروفائل تصویر کے اطراف نیلا حاشیہ (بارڈر) کا اضافہ کیا جائے گا اور اس پر کئی شیلڈ بھی موجود ہوں گی جس سے تصویر کو ڈاؤن لوڈ، کاپی اور ٹیگ کرنا ناممکن ہوجائے گا۔ اس ضمن میں بھارت میں تحقیق بھی کی گئی اور صارفین اپنی پروفائل تصویر محفوظ بنانے کے لیے اس پر 6 پرتیں (لیئرز) لگاسکیں گے۔ 
فیس بک کے پراجیکٹ مینیجر آراتی سامون کہتے ہیں کہ نئے ٹول سے بھارت کے لوگ اپنی تصاویر کنٹرول کرسکیں گے اور کوئی انہیں ڈاؤن لوڈ نہیں کرسکے گا۔ اس کے علاوہ تصویر پر ڈیزائن والی بارڈر اور پرتیں بھی لگائی جاسکیں گی جب کہ ہمارا تجربہ بتاتا ہےکہ بارڈر والی تصاویر ذیادہ ڈاؤن لوڈ اور شیئر نہیں ہوتیں اور اس آزمائش کے بعد یہ سہولت بقیہ دنیا کے لیے بھی پیش کردی جائے گی۔
فیس بک نے بھارتی اداروں کے ساتھ ملکر دو نئے ٹولز بنائے ہیں جو آپ کی پروفائل تصاویر کو محفوظ بناسکیں گے۔ ان میں سے ایک ’پروفائل پکچر گارڈ‘ ہے جو فون ٹیپنگ سے ایکٹو ہوجاتا ہے اور آپشن فراہم کرتا ہے جب کہ یہ فیچر ڈاؤن لوڈنگ اور شیئرنگ کو ناممکن بناتا ہے، اسی طرح یہ تصویر کسی میسج میں بھی نہیں بھیجی جاسکتی اور یہ اینڈروئڈ آلات پر اسکرین شاٹ لینے کو بھی ناممکن بناتا ہے۔
دوسرے آپشن میں آپ تصاویر پر کئی طرح کی پرتیں یا لیئرز لگاسکتے ہیں ان میں بھارتی ٹیکسٹائل کے پرنٹ اور آرٹ وغیرہ کے نمونے ہیں اور لوگ اس طرح کی تصاویر کو عموماً شیئر نہیں کرتے جب کہ یہ فیچر ابھی بھارت میں آزمایا جارہا ہے اور جلد بقیہ دنیا کے لیے پیش کیا جائے گا۔
واضح رہے بھارت اور پاکستان سمیت کئی ممالک میں اکثر خواتین اپنی تصاویر لگاتے ہوئے خوفزدہ ہوتی ہیں کہ کہیں ان کی تصویر کاغلط استعمال نہ ہوجائے۔

گوگل کی جانب سے بچوں کے لیے تحفہ


کڈل سرچ انجن کو بطورِ خاص بچوں کےلیے مثبت اور تعلیمی مواد کی تلاش کےلیے تیار کیا گیا ہے۔ (فوٹو: اسکرین شاٹ)
کڈل سرچ انجن کو بطورِ خاص بچوں کےلیے مثبت اور تعلیمی مواد کی تلاش کےلیے تیار کیا گیا ہے۔ (فوٹو: اسکرین شاٹ)
کراچی: گوگل نے خاص طور پر بچوں کےلیے ’کڈل‘ کے نام سے  نیا سرچ انجن اور یوٹیوب ایپ لانچ کردیا ہے جن کا مقصد بچوں کو تعلیم و تدریس کے علاوہ مثبت تفریح میں مدد اور رہنمائی فراہم کرنا ہے۔
انٹرنیٹ پر مواد میں مسلسل اور تیز رفتار اضافے کے نتیجے میں بچوں کےلیے مخصوص معلومات تلاش کرنے میں دشواریاں بھی بڑھتی جارہی ہیں۔ اکثر اوقات بچوں کےلیے کی ورڈ سرچ کے نتیجے میں ایسا مواد بھی سامنے آجاتا ہے جو کسی طور پر بھی چھوٹی عمر والے بچوں کےلیے موزوں نہیں ہوتا بلکہ جسے دیکھ کر ان کی سوچ پر منفی اثرات ہی پڑسکتے ہیں۔
اسی مسئلے کو پیش نظر رکھتے ہوئے گوگل نے بچوں کےلیے ایک بالکل الگ سرچ انجن بنادیا ہے جس کا نام ’کڈل‘ رکھا گیا ہے جبکہ اس کا ویب ایڈریس www.kiddle.co ہے۔ (واضح رہے کہ اس ایڈریس کے اختتام پر co ہے جو روایتی com سے تھوڑا سا مختلف ہے۔ اس کا خیال رکھنا ضروری ہے۔)
سرچ انجن کے ہوم پیج پر ویب، امیج (تصویر)، نیوز (خبریں) اور ویڈیوز کے علاوہ ’’انسائیکلوپیڈیا‘‘ کا ایک لنک بھی دیا گیا ہے جس پر کلک کرتے ہی ’کڈل‘ آپ کو بچوں کےلیے گوگل انسائیکلوپیڈیا کے پیج پر پہنچا دیتا ہے جہاں سرچ باکس کے علاوہ مختلف عنوانات کی ایک طویل فہرست بھی موجود ہے۔
گوگل کا دعوی ہے کہ اس کے انسائیکلوپیڈیا میں سات لاکھ (700,000) سے زائد معلوماتی تحریریں رکھی گئی ہیں جو بہت ہی آسان اور سادہ انگریزی زبان میں ہیں۔ اگر آپ اپنی مطلوبہ اینٹری سے واقف ہیں تو فہرست میں اس پر کلک کرسکتے ہیں اور اگر دشواری محسوس کررہے ہیں تو سرچ باکس میں مطلوبہ نام ٹائپ کرکے متعلقہ لفظ (کی ورڈ) کے بارے میں مضامین تلاش کرسکتے ہیں۔
اس کے علاوہ اسمارٹ فون یا ٹیبلٹ صارفین گوگل پلے اسٹور یا ایپل کے ایپ اسٹور سے ’’یوٹیوب کڈز‘‘ کی ایپ بھی ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں جو انہیں اس قابل بناتی ہے کہ وہ خاص بچوں کےلیے ہی بنائی گئی ویڈیوز تلاش کرسکیں اور ان سے ہوم ورک کرنے کے علاوہ مثبت تفریح میں بھی مدد لے سکیں۔

پیشاب سے بجلی بنانے اور جراثیم ہلاک کرنے والا نظام

اس نظام میں شامل بیکٹیریا ایک طرف یوریا سے بجلی بناتے ہیں تو دوسری جانب ہائیڈروجن پرآکسائیڈ بھی خارج کرتے ہیں جو جراثیم کش خصوصیات کا حامل ہوتا ہے۔ (فوٹو: فائل)
اس نظام میں شامل بیکٹیریا ایک طرف یوریا سے بجلی بناتے ہیں تو دوسری جانب ہائیڈروجن پرآکسائیڈ بھی خارج کرتے ہیں جو جراثیم کش خصوصیات کا حامل ہوتا ہے۔ (فوٹو: فائل)
لندن: برطانیہ کی یونیورسٹی آف ویسٹ انگلینڈ میں پروفیسر یانِس ایروپولوس کی سربراہی میں ماہرین کی ایک ٹیم نے اچھوتا نظام ایجاد کیا ہے جو انسانی پیشاب کے ذریعے نہ صرف بجلی بناتا ہے بلکہ نکاسی کے گندے پانی میں موجود خطرناک جرثوموں کو ہلاک بھی کرتا ہے؛ یعنی یہ صحیح معنوں میں ’’ایک پنتھ دو کاج‘‘ والی ایجاد ہے۔
یہ بات صدیوں سے معلوم ہے کہ پیشاب میں تیزاب کے علاوہ مختلف نامیاتی مرکبات، خاص طور پر یوریا کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔ کیمیائی عمل کے ذریعے ان مادّوں سے بجلی بنانے اور جراثیم ہلاک کرنے کے امکانات بھی برسوں سے موجود تھے لیکن ایسا کوئی قابلِ عمل طریقہ وضع نہیں کیا جاسکا تھا جس کی مدد سے یہ سارے کام تیز رفتاری اور سہولت کے ساتھ کم خرچ پر انجام دیئے جاسکتے۔
یونیورسٹی آف ویسٹ انگلینڈ کے ماہرین نے 2015 میں بین الاقوامی تنظیم ’’آکسفیم‘‘ کے تعاون سے ایسا ہی ایک تجرباتی فیول سیل ایجاد کرلیا تھا جس میں موجود جراثیم، یوریا کے سالمات توڑتے ہیں اور معمولی مقدار میں بجلی بھی بناتے ہیں۔ البتہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ یہ بیکٹیریا اسی کارروائی کے دوران ہائیڈروجن پرآکسائیڈ بھی بناتے ہیں جس سے انہیں تو کوئی نقصان نہیں پہنچتا لیکن یہ نکاسی کے گندے پانی میں موجود دوسرے جرثوموں کو ہلاک کرنے کی زبردست صلاحیت رکھتا ہے۔
اس کم خرچ اور مفید نظام کے پروٹوٹائپ کی دو سالہ آزمائش مکمل ہونے کے بعد برطانوی ماہرین نے اپنی تفصیلی رپورٹ ریسرچ جرنل ’’پبلک لائبریری آف سائنس ون‘‘ (PLoS ONE) کے تازہ شمارے میں شائع کروادی ہے۔
چند ہفتے پہلے موسیقی کے ایک میلے میں بھی اس نظام کا ایک نمائشی نمونہ رکھا گیا تھا جو پیشاب سے اپنے لیے ساری بجلی خود بنایا کرتا تھا جبکہ پانی کو جراثیم سے پاک بھی کرتا تھا۔
پروفیسر یانِس کہتے ہیں کہ آنے والے برسوں میں یہ نظام غریب اور پسماندہ ممالک میں طہارت کی سہولت فراہم کرتے ہوئے انتہائی کم خرچ پر بجلی بنانے کا کام بھی کیا کرے گا جبکہ نکاسی کے پانی میں شامل خطرناک اور ہلاکت خیز بیکٹیریا ہلاک کرتے ہوئے ماحول دوستی کا حق بھی ادا کرے گا۔

بغیربیٹری موبائل فون ایجاد

اس فون کے فیچر میں ابھی صرف ایل ای ڈی لائٹ اور سرکٹ بورڈ پر بٹنز شامل ہیں: فوٹو : فائل
اس فون کے فیچر میں ابھی صرف ایل ای ڈی لائٹ اور سرکٹ بورڈ پر بٹنز شامل ہیں: فوٹو : فائل
 کراچی:  امریکی سائنسدانوں نے بغیربیٹری موبائل فون ایجاد کرلیا جو ہوا یا ریڈیائی لہروں سے توانائی حاصل کرتاہے۔
اس منفردموبائل میں بیکس کیٹر کمیونی کیشن ٹیکنالوجی استعمال کی گئی، بیکس کیٹر ٹیکنالوجی سگنلز کے انعکاس کا استعمال کرتی ہے، اس فون کے ذریعے ابھی صرف کال اور ایس ایم ایس کیے جاسکتے ہیں،امریکا کی یونیورسٹی آف واشنگٹن کے محقیقین کی ٹیم نے مذکورہ موبائل فون تیار کیا ہے جس میں کال یا ایس ایم ایس کرنے کے لیے بیٹری کی ضرورت نہیں ہوتی، بیٹری کے بجائے یہ توانائی ہوا یا ریڈیو سگنلز سے حاصل کرتا ہے۔
اس فون کے فیچر میں ابھی صرف ایل ای ڈی لائٹ اور سرکٹ بورڈ پر بٹنز شامل ہیں تاہم زیادہ بہتر معیار اور ای لنک ڈسپلے کے ساتھ اس کا جدید ورژن جلد مارکیٹ میں آئے گا جس پر کام جاری ہے۔

مسلمان انجینئرزنے عدسے کے بغیر کیمرا ایجاد کرلیا

اس کیمرے کا سرکٹ بہت ہی باریک ہے اور اسے اپنا کام کرنے کےلیے کسی عدسے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ (فوٹو: کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی)
اس کیمرے کا سرکٹ بہت ہی باریک ہے اور اسے اپنا کام کرنے کےلیے کسی عدسے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ (فوٹو: کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی)
کیلیفورنیا: کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (کیلٹیک) میں ایرانی نژاد سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے دنیا کا سب سے پتلا کیمرا ایجاد کرلیا ہے جس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں کوئی عدسہ موجود ہی نہیں۔
ریسرچ جرنل ’’آپٹیکل سوسائٹی آف امریکا ٹیکنیکل ڈائجسٹ‘‘ (او ایس اے ٹیکنیکل ڈائجسٹ) میں شائع تحقیق کے مطابق اس ڈیجیٹل کیمرے کو عدسے کی ضرورت سے آزاد کرنے کے لیے انتہائی باریک ’آپٹیکل فیزڈ ایرے‘ (او پی اے) پر مشتمل ٹیکنالوجی وضع کی گئی ہے جس کا ننھا منا سرکٹ بہت کم جگہ استعمال کرتے ہوئے عین وہی کام کرتا ہے جو دوسرے کیمروں میں عدسے کے ذمے ہوتا ہے؛ یعنی روشنی کو حسبِ ضرورت کسی خاص مقام پر اور کسی خاص انداز سے مرکوز کرنا، تاکہ عکس حاصل کیا جا سکے۔
اسے کیلٹیک کے تحقیقی انجینئروں رضا فاطمی اور بہروز ابریزی نے پروفیسر علی حاجی میری کی نگرانی میں مشترکہ طور پر ایجاد کیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اس کیمرے کا فوکس (ارتکاز) قریب سے دور کی چیز تک ایک سیکنڈ کے صرف ارب ارب ویں حصے یعنی محض ایک فیمٹو سیکنڈ میں منتقل کیا جا سکتا ہے اور یہ ایک ایسی صلاحیت ہے جو اس وقت دنیا کے کسی دوسرے کیمرے میں اتنی تیز رفتاری کے ساتھ وجود نہیں رکھتی۔
پروفیسر حاجی میری کہتے ہیں عدسے کی ضرورت نہ ہونے کی وجہ سے اس کیمرے کو اتنا زیادہ مختصر کیا جا سکتا ہے کہ جتنا اختصار کسی اور قسم کے کیمرے کے لیے فی الحال ممکن ہی نہیں۔ علاوہ ازیں جب یہ ٹیکنالوجی پختہ ہو کر تجارتی پیمانے پر پہنچ جائے گی تو امید ہے کہ یہ کیمرے بہت ہی کم خرچ پر تیار کیے جا سکیں گے۔ طبّی شعبے سے لے کر عسکری میدان تک ’’او پی اے‘‘ ٹیکنالوجی والے کیمرے کے لیے اطلاق کی ایک وسیع دنیا موجود ہے۔
یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ جس طرح 1980 کے عشرے میں سی سی ڈی (چارج کپلڈ ڈیوائس) کی ایجاد نے آج کے جدید ترین ڈیجیٹل کیمروں کی بنیاد رکھی تھی اسی طرح آنے والے برسوں میں عدسے کی ضرورت سے آزاد ’’او پی اے‘‘ کیمرا ٹیکنالوجی بھی ڈیجیٹل عکس نگاری کو ایک نئے انقلاب سے ہم کنار کرے گی۔

ہیلتھ کیئر اور مصنوعی ذہانت

ٹیکنالوجی نے صحت کی دیکھ بھال میں انقلاب کی بنیاد رکھ دی ہے۔ فوٹو : فائل
ٹیکنالوجی نے صحت کی دیکھ بھال میں انقلاب کی بنیاد رکھ دی ہے۔ فوٹو : فائل
ٹیکنالوجی میں ہونے والی مسلسل پیش رفتوں نے موبائل فون، لیپ ٹاپ ایپس سمیت اس صنعت کی تمام مصنوعات کی قیمتیں آسمان سے زمین پر لاپٹخی ہیں، مگر صحت کے شعبے میں صورت حال مختلف نظر آتی ہے۔
ٹیکنالوجی نے اس شعبے میں آلات سے لے کر خدمات تک ہر شے کو منہ گا کردیا ہے۔ اس کا ازالہ کرنے کے لیے اب مختلف کمپنیاں مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس ( اے آئی) اور ڈیٹا اور آلات کو باہم مربوط کرکے اس انداز سے استعمال کرنے کے طریقے وضع کررہی ہیں جن سے صحت کی دیکھ بھال اور علاج معالجے پر ہونے والے اخراجات میں نمایاں کمی آئے اور صحت کی سہولیات کے معیار میں اضافہ ہو۔
اگر پانچ سے دس سال کے عرصے میں اس رجحان کے مثبت نتائج سامنے آجاتے ہیں تو پھر کانگریس کو طبی سہولیات اور بیمے کے بڑھتے ہوئے اخراجات پر تشویش ظاہر کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ پھر غالباً اس کے بجائے اخراجات میں نمایاں کمی اس کے لیے باعث تشویش امر ثابت ہوگا۔ پھر اوباما دور میں نافذ کیے گئے صحت کے منصوبے کی منسوخی پر بحث معمولی معلوم ہوگی۔
اس منظرنامے پر یقین کرنا مشکل لگ رہا ہوگا؟ تاہم بہت جلد یہ حقیقت بن جائے گا۔ اس کا ایک ثبوت ذیابیطس کے گرد گھومتی سرگرمیاں ہیں، جو دنیا کی سب سے منہگی بیماری ہے۔ امریکا کی دس فی صد آبادی یعنی تین کروڑ افراد کو یہ مرض لاحق ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ایک عشرے کے بعد چین میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد امریکا کی کُل آبادی سے بڑھ جائے گی۔ اس مرض کا شکار افراد علاج معالجے پر سالانہ پانچ سے دس ہزار ڈالر خرچ کرتے ہیں۔
علاوہ ازیں ذیابیطس کی پیچیدگیوں کے باعث ہونے والے دیگر امراض کے علاج پر اس سے کہیں زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے۔ سینٹرفارڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق صرف امریکا میں ذیابیطس پر سالانہ 245 ارب ڈالرخرچ ہوتے ہیں۔ اس منہگی بیماری کا سستا علاج تلاش کرنے کی کوشش متعدد افراد کررہے ہیں۔ انھی میں سے ایک سیمی لنکینن ہے۔ وہ ایتھلیٹ رہ چکا ہے۔ 2011ء میں اسے ٹائپ ٹو ذیابیطس تشخیص ہوئی۔ کئی لوگوں کی طرح سیمی نے بھی اپنی بیماری کو سمجھنے کے لیے ہر ممکن سعی کی۔
آگہی کی جستجو کے اس سفر میں اس کی ملاقات کیلے فورنیا یونی ورسٹی کے طبی محقق ڈاکٹر اسٹیفن فنی اور جیف وولیک سے ہوئی۔ دونوں محققین کم نشاستے کی حامل خوراک پر دو کتابیں تحریر کرچکے ہیں، نیز اس موضوع پر ان کی کئی تحقیق شایع ہوچکی ہیں کہ کیسے خوراک اور طرز زندگی میں مستقل بنیادوں پر کیا جانے والا تغیرو تبدل کئی مریضوں کو اس مرض سے نجات دلا سکتا ہے۔ تاہم انتہائی مشکل ہونے کے باعث ان کی پیش کردہ تجاویز یا منصوبے پر عمل درآمد بیشتر لوگوں کے لیے آسان نہیں۔ خواہش مند مریض کو قریب قریب ایک ڈاکٹر ہمہ وقت اپنے ساتھ رکھنا ہوگا، جو کہ ہر کسی کے لیے ممکن نہیں۔
لنکینن پیہم کوششوں کے بعد فنی اور وولیک کو بالآخر یہ باور کرانے میں کام یاب ہوگیا کہ ٹیکنالوجی ایک اسمارٹ فون میں ڈاکٹر اور نگراں کو ’ قید‘ کرسکتی ہے جو ہمہ وقت مریض کے ساتھ رہے گا۔ یوں تینوں افراد نے مل کر 2014ء میں Virta Health نامی کمپنی کی بنیاد ڈالی۔ ورٹا ہیلتھ دراصل ایک سوفٹ ویئر ہے۔
ذیابیطس کا مریض اپنے اسمارٹ فون میں موجود اس ایپ میں باقاعدگی سے ڈیٹا یعنی گلوکوز لیول، وزن، بلڈپریشر وغیرہ داخل کرتا ہے۔ اس دوران ایپ مختلف سوالات بھی پوچھتی ہے۔ مصنوعی ذہانت سے لیس یہ ایپ یا سوفٹ ویئر داخل کردہ ڈیٹا کی بنیاد پر مریض میں ذیابیطس کی صورت حال کا ٹھیک ٹھیک اندازہ کرکے ورٹا کے ڈاکٹروں کی ٹیم کی راہنمائی کرتی ہے۔
ڈاکٹر موصول ہونے والے ڈیٹا کی بنیاد پر اسی وقت، اسی ایپ کے ذریعے مریض کو دوا یا خوراک تبدیل کرنے کی ہدایت کرتے یا پھر کوئی اور مشورہ جیسے کوئی مخصوص ورزش وغیرہ، دیتے ہیں۔ سیمی کے مطابق تمام طبی فیصلے ڈاکٹر ہی کرتے ہیں مگر اس سوفٹ ویئر کی وجہ سے ان فیصلوں کی افادیت دس گنا بڑھ جاتی ہے۔
ڈیٹا بروقت داخل کرتے رہنے اور اس کی روشنی میں ملنے والے مشوروں اور ہدایات پر عمل کرنے کی وجہ سے ذیابیطس پر قابو پانے میں حیران کُن مدد ملتی دیکھی گئی ہے۔ ورٹا ہیلتھ سے مستفید ہونے والے 87 مریضوں نے یا تو انسولین کی خوراک کم کردی یا پھر انھیں اس کے استعمال سے مکمل نجات مل گئی۔
ورٹا نے اے آئی سوفٹ ویئر، اسمارٹ فونز اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کو باہم مربوط کرکے اپنے ڈاکٹروں کو اس قابل کردیا کہ وہ کلینک یا اسپتال کی نسبت کئی گنا زیادہ مریضوں سے مستقل رابطے میں رہتے ہیں۔ اس نظام کا نتیجہ ذیابیطس کے مؤثر علاج کی صورت میں ظاہر ہورہا ہے جو مریضوں کو ادویہ، ڈاکٹروں کے دفاتر اور اسپتال کے ہنگامی امداد کے کمروں سے دور رکھنے میں معاون ہوسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ذیابیطس کے علاج پر ہونے والے مجموعی اخراجات نمایاں طور پر کم ہوجائیں گے۔
ذیابیطس سے تنہا ورٹا ہیلتھ برسرپیکار نہیں ہے۔ Livongo، ورٹا کے سوفٹ ویئر سے ملتا جُلتا پروگرام ہے مگر اس کا ڈاکٹروں پر انحصار اول الذکر سے کم ہے۔ سوا پانچ کروڑ ڈالر کے سرمائے سے رواں سال مارچ میں قائم ہونے والی کمپنی نے خون میں شکر کی سطح جانچنے والا لاسلکی آلہ بنایا ہے جو ذیابیطس کے مریض کا ڈیٹا اپ لوٹ کرتا ہے۔ اس ڈیٹا کی بنیاد پر اے آئی سوفٹ ویئر مریض کی حالت کا اندازہ کرتے ہوئے اسے مفید مشورے اور معلومات بھیج دیتا ہے۔
ایک اور کمپنی Fractyl نے وسیع تر طبی طریقہ اختیار کیا ہے۔ اس نے ایک قسم کی مثانے میں سے پیشاب نکالنے کی نلکی (کیتھیٹر) ایجاد کی ہے جو آنتوں میں تغیر لاکر خون میں شکر کی زیادتی کا سبب بننے والے عمل کو اُلٹا دیتی ہے۔ یوں ذیابیطس پر قابو پانے مدد ملتی ہے۔
امریکا میں اس وقت 130 نئی کمپنیاں کسی نہ کسی پہلو سے ذیابیطس پر قابو پانے کی جنگ میں شامل ہیں۔ ان کی کام یابی یا ناکامی سے قطع نظر اس جنگ میں ان کی کوششیں بہت اہمیت کی حامل ہیں کیوں کہ صحت کی دیکھ بھال کے وسائل پر ذیابیطس بے انتہا بھاری بوجھ ہے۔ Livongo کے بانی ہمنت تنیجا کہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی ذیابیطس کی مد میں ہونے والے اخراجات میں کم از کم ایک کھرب ڈالر کی بچت کرسکتی ہے۔ اتنی بڑی رقم کی بچت سے امریکی حکومت متعدد نئے منصوبے شروع کرسکتی ہے۔
اگر ذیابیطس کے صرف 20 فی صد مریضوں کو علاج معالجے اور ڈاکٹروں کے کلینکوں کے چکر لگانے سے نجات مل جائے تو اس مد میں بچنے والی کثیر رقم دوسرے امراض میں مبتلا مریضوں کے کام آسکے گی۔ لنکینن کا کہنا ہے کہ اگر ہم صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات محدود کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ذیابیطس جیسے صحت کے تحولی مسائل (میٹابولک ہیلتھ ایشوز) کو جڑ سے ختم کرنا ہوگا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ پندرہ سال کے دوران ہیلتھ کیئر کمپنیاں نہ صرف امراض کا علاج کررہی ہوں گی بلکہ آغاز ہی میں ان کی شناخت کرکے اسی مرحلے پر انھیں ختم کردینے کے بھی قابل ہوچکی ہوں گی۔
پچھلے ایک عشرے کے دوران، امریکا میں تمام میڈیکل ریکارڈز ڈیجیٹل ہوکر ایک سوفٹ ویئر میں محفوظ ہوچکے ہیں جو پہلے کاغذات پر ڈاکٹروں کی خوف ناک تحریروں کی صورت میں تھے۔ تاہم ڈیجٹائزیشن کے اس عمل سے ہیلتھ کیئر کے اخراجات کم کرنے میں مدد نہیں ملی بلکہ ان میں اضافہ ہوا ہے، کیوں کہ اس مقصد کے لیے بڑے بڑے کمپیوٹر سسٹمز نصب کیے گئے اور ڈاکٹروں اور طبی ماہرین کو سوفٹ ویئر استعمال کرنے کی تربیت بھی دی گئی۔ امریکا میں 54 فی صد سے زائد مریضوں کا طبی ریکارڈ Epic Systems نامی کمپنی کے پاس محفوظ ہے، مگر اس کمپنی نے طبی ریکارڈ تک رسائی دینے کے لیے جو لائحہ عمل بنایا ہے اس میں ڈاکٹروں اور نرسوں کا وقت بہت ضایع ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے کمپنی کا تنقید ہوتی رہتی ہے۔
مریضوں کی تعداد بڑھنے کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل میڈیکل ریکارڈز کا حجم بھی تیزی سے وسیع ہورہا ہے۔ ورٹا اور لیونگو جیسی سہولیات کا استعمال بھی ڈیٹا میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ علاوہ ازیں انٹرنیٹ سی جُڑے آلات چاہے وہ Fitbits ہو یا پھر اس سے منسلک گلوکوز میٹر یا پھر ایپل کے ایئرپوڈز جیسی بایومیٹرک ریڈنگز لینے والی ڈیوائسز ، یہ تمام بھی ڈیٹا یعنی میڈیکل ریکارڈز کے حجم میں اضافہ کررہی ہیں۔ اس میڈیکل ریکارڈ کی بنیاد پر اے آئی سوفٹ ویئر عمومی طور پر امراض اور انفرادی مریضوں کے بارے میں جان کاری حاصل کرکے ٹیکنالوجی کے اطلاق کی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔ اے آئی کے نئے اطلاقات ہیلتھ کیئر انڈسٹری کی کایا پلٹ سکتے ہیں۔
Qventus ایک اور نئی کمپنی ہے جو اے آئی کی مدد سے اسپتال میں آن لائن جاری سرگرمیوں کو کھنگالتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کررہی ہے کہ ڈاکٹروں اور نرسوںکے وقت کی بچت کیسے کی جائے تاکہ وہ زیادہ مریضوں کو خدمات فراہم کرسکیں۔ کئی اسپتال اس کمپنی کے سوفٹ ویئر سسٹم سے استفادہ کررہے ہیں۔ ان میں سے فورٹ اسمتھ، آرکنساس میں قائم مرسی ہاسپٹل ہے۔
Qventus کی خدمات حاصل کرنے کے بعد اسپتال نے انھی وسائل میں رہتے ہوئے ایک سال کے دوران تین ہزار زیادہ مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کیں۔ اس طرح مریضوں کی تعداد 18 فی صد بڑھ گئی۔ یہاں ٹیکنالوجی نے طبی خدمات کی رسد بڑھانے میں کردار ادا کیا اور ہیلتھ کیئر پر آنے والے اخراجات گھٹانے میں بھی معاون ہوئی۔
اے آئی ڈاکٹروں کے کام کو بھی کسی حد تک خودکار بنانے لگی ہے۔ آئی بی ایم کا سوال و جواب کا کمپیوٹر نظام ’واٹسن‘ دنیا کا بہترین تشخیص کار بننے کی راہ پر گام زن ہے۔ اس کا سوفٹ ویئر مریضوں کی معلومات اور ہر سال شایع ہونے والی ہزاروں لاکھوں طبی تحقیق کا موازنہ کرتے ہوئے تشخیصی عمل انجام دیتا ہے۔ واٹسن اپنی یادداشت میں تازہ ترین خبریں بھی محفوظ کرتا ہے، مثلاً کس خطے میں کون سی وبا پھیلی ہوئی ہے۔ یہ معلومات حالیہ دنوں میں اس خطے کا سفر کرنے والے افراد میں مرض کی تشخیص کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔
واٹسن مریض سے مختلف سوالات پوچھتے ہوئے مرض کا تعین کرتا ہے۔ آئی بی ایم کے اس نظام کی آزمائش کئی بڑے اسپتالوں میں کی جارہی ہے۔ تاہم ٹیکنالوجی میں ہونے والی روزافزوں پیش رفت کی بنیاد پر امید کی جارہی ہے کہ ایک روز واٹسن یا اس سے ملتا جلتا سسٹم ہر فرد اسمارٹ فون وغیرہ کے ذریعے استعمال کرسکے گا۔ واٹسن کے طرز پر امیزون نے ’ ڈاکٹر اے آئی‘ لانچ کیا ہے۔ اس سے اپنا طبی مسئلہ بیان کیا جائے تو یہ سوالات پوچھنا شروع کردیتا ہے، اور کچھ دیر کے بعد ممکنہ مرض یا کیفیت کا تعین کردیتا ہے۔
شعبۂ طب میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار کے ساتھ مختلف کمپنیاں اب جینیات پر مبنی نئی اقسام کی ادویہ تیار کررہی ہیں۔ سولہ سال پہلے ہیومن جینوم پروجیکٹ اور ماہر جینیات کریگ وینٹر کی قائم کردہ کمپنی سیلیرا جینومیکس نے انسانی جینوم کا نقشہ ترتیب دینے میں کام یابی حاصل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ وینٹر کا کہنا تھا کہ اس کا پروجیکٹ سپرکمپیوٹر پر بیس ہزار گھنٹے صرف کرنے کے بعد مکمل ہوا تھا۔
رواں برس ایک کمپنی کلر جینومکس ڈھائی سو ڈالر میں ایک ٹیسٹ کررہی ہے جس میں انسانی جسم کے تمام جینز کی سیکونسنگ یا سلسلہ بندی کی جاسکتی ہے۔ اس کمپنی کا مقصد جینیاتی سلسلہ بندی کو اتنا ارزاں کردینا ہے کہ پیدا ہونے والے ہر بچے کا یہ ٹیسٹ ممکن ہوجائے اور پیدائش کے ساتھ ہی یہ معلوم ہوجائے کہ زندگی میں اسے کون کون سی بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں۔
مندرجہ بالا کے علاوہ بھی کئی کمپنیاں ہیلتھ کیئر کے مختلف پہلوؤں کو ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ کررہی ہیں۔ چناں چہ یہ بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ بہت جلد ہیلتھ کیئر ٹیکنالوجی کی وسعت کے ساتھ صحت کی دیکھ بھال سہل تر اور ارزاں ہوجائے گی۔

پرانے موبائل فونز کا فائدہ


پرانے فون دس گنا کمزور سگنلز پر بھی کال یا ایس ایم ایس کرنے میں اسمارٹ فون سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ فوٹو : فائل
پرانے فون دس گنا کمزور سگنلز پر بھی کال یا ایس ایم ایس کرنے میں اسمارٹ فون سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ فوٹو : فائل
ٹیکنالوجی میں تیزی سے جدت آنے کے باعث روزمرہ استعمال کی الیکٹرانک اشیاء کی جسامت بھی چھوٹی ہورہی ہے۔
آپ کو چند سال قبل کے موبائل فونز تو یاد ہوں گے جو خاصے بھاری بھرکم تھے۔ جس جیب میں تب کا ایک موبائل فون مشکل سے سماتا تھا، آج اسی میں دو تین سمارٹ فون سما جاتے ہیں۔لیکن ماہرین نے بڑے سائز کے پرانے موبائل فونز کا ایک ایسا فائدہ بتایا ہے جسے جان کر آپ کا دل چاہے گا کہ انھیں دوبارہ استعمال کرنے لگیں۔
برطانوی سرکاری ادارے،آف کام (Ofcom) کے ماہرین نے لیبارٹری میں پرانے موبائل فونز اور آج کے اسمارٹ فونز کا تقابلی جائزہ لیا۔اس جائزے سے پتا چلا کہ کال اور ٹیکسٹ میسیج کرنے کے لیے پرانے فون آج کے سمارٹ فونز سے کہیں بہتر تھے۔
وجہ یہ ہے کہ ان پرانے فونز میں کمزور سگنل پکڑنے کی بھرپور صلاحیت تھی۔ اسمارٹ فونز اس صلاحیت سے محروم ہیں۔ ذرا سے سگنل کمزور ہوں تو سمارٹ فون انہیں پکڑ نہیں پاتے۔ نتیجتاً کال میں آواز صاف سنائی نہیں دیتی۔ حتیٰ کہ کبھی کبھی توصارفین ایس ایم ایس بھی نہیں کر پاتے۔
ماہرین نے تحقیق سے دریافت کیا کہ پرانے موبائل فون کی نسبت اسمارٹ فونز دس گنا مضبوط سگنلوں پر بھی ان جیسی کارکردگی نہیں دکھاتے جبکہ پرانے فون دس گنا کمزور سگنلز پر بھی کال یا ایس ایم ایس کرنے میں اسمارٹ فون سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
آف کام کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہمارے ماہرین نے محدود تعداد میں موبائل فونز پر تجربات کیے۔ ہم تحقیق میں موبائل فونز کی درجہ بندی نہیں کرنا چاہتے تھے، ہمارا مقصد یہ جاننا تھا کہ مختلف جگہوں پر پرانے فون اور آج کے اسمارٹ فون کیسی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ کسی بھی جدید اسمارٹ فون نے دوسرے جدید اسمارٹ فون سے بہتر کارکردگی نہیں دکھائی۔

عالمی درجہ حرارت میں اضافہ سے زرعی پیداوار کو خطرات لاحق

موسمیاتی تبدیلی کے باعث ملک میں غذائی قلت جیسے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے، تجزیاتی تحقیق۔ فوٹو : فائل
موسمیاتی تبدیلی کے باعث ملک میں غذائی قلت جیسے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے، تجزیاتی تحقیق۔ فوٹو : فائل
اسلام آباد: گلوبل وارمنگ کے باعث عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا پاکستان کی زرعی پیداوار کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں جس سے پائیدار غذائی خود کفالت یا فوڈ سکیورٹی کے حصول کیلیے ملکی سطح پر کیے جانے والے اقدامات کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
فاقی وزارت موسمیاتی تبدیلی کے ترجمان محمد سلیم شیخ کی جانب سے جاری بیان میں کہا ہے کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی کے ذیلی ادارے گلوبل چیینج امپیکٹ اسٹڈی سنٹر نے اپنی تحقیقی تجزیئے میں خبردارکیا ہے کہ آنے والی دہائیوں میں موسمیاتی تبدیلی کی ملکی زراعت اور پانی پر شدید منفی اثرات کے نتیجے میں ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات خوراک کو پورا کرنا مشکل ہوسکتا ہے، بھوک اور لوگوںکو درپیش غذائی قلت جیسے مسائل میں شدت آسکتی ہے۔

کس ملک میں ہے انٹرنیٹ سب سے تیزرفتار؟

آپ یہ جان کر حیران ہوں گے تیزرفتار انٹرنیٹ کی دوڑ میں امریکا بہت پیچھے ہے۔ فوٹو : فائل
آپ یہ جان کر حیران ہوں گے تیزرفتار انٹرنیٹ کی دوڑ میں امریکا بہت پیچھے ہے۔ فوٹو : فائل
اسمارٹ موبائل فون کی ایجاد کے بعد دنیا بھر میں اس کا استعمال برق رفتاری سے بڑھا۔ اس کی بنیادی وجہ انٹرنیٹ کی سہولت تھی۔
آج دنیا کے کونے کونے میں اسمارٹ فون کے ذریعے انٹرنیٹ سے استفادہ کیا جارہا ہے۔ فور جی ٹیکنالوجی متعارف ہونے کے بعد موبائل انٹرنیٹ کی رفتار پہلے کی نسبت خاصی بہتر ہوگئی ہے۔ پھر بھی بعض خطوں میں انٹرنیٹ دوسرے علاقوں کی نسبت سست رفتار ہے۔ ذرا بتائیے تو انٹرنیٹ سب سے زیادہ تیز کس ملک میں چلتا ہے؟
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ امریکا کیوں کہ ٹیکنالوجی میں وہ سب سے آگے ہے۔ مگر نہیں جناب امریکی شہری سب سے تیز رفتار انٹرنیٹ سے مستفید ہوتے۔ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے تیزرفتار انٹرنیٹ کی دوڑ میں امریکا بہت پیچھے ہے۔
ایک ٹیکنالوجی کمپنی کی جانب سے کی گئی اسٹڈی میں بتایا گیا ہے کہ تیزرفتار انٹرنیٹ کی فہرست میں امریکا اٹھائیسویں نمبر پر ہے۔ اس تحقیقی مطالعے میں باسٹھ ممالک کو شامل کیا گیا تھا۔ دوران تحقیق ترقی یافتہ کے علاوہ ترقی پذیر ممالک میں بھی موبائل انٹرنیٹ کی رفتار کا جائزہ لیا گیا۔ جب رفتار کے لحاظ سے فہرست ترتیب دی گئی تو برطانیہ 26 میگابٹ فی سیکنڈ کے ساتھ پہلے نمبر پر تھا۔ برطانویوں کے بعد جرمن شہری تیزترین موبائل انٹرنیٹ سے مستفید ہورہے ہیں۔ وہاں انٹرنیٹ کی رفتار 24.1  میگابٹ فی سیکنڈ ہے۔ تیسرے نمبر پر فن لینڈ ہے، جہاں انٹرنیٹ 21.6 میگا بٹ فی سیکنڈ کی رفتار سے دوڑ رہا ہے۔
آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ امریکا کے مقابلے میں کینیا جیسے پس ماندہ ملک میں موبائل انٹرنیٹ کی رفتار زیادہ ہے۔13.7 میگابٹ فی سیکنڈ کی رفتار کے ساتھ کینیا چودھویں نمبر پر رہا۔ امریکا میں نہ صرف انٹرنیٹ کی رفتار کم ہے بلکہ ڈاؤن لوڈنگ کے لحاظ سے بھی یہ کئی ممالک سے پیچھے ہے۔ تیزترین ڈاؤن لوڈنگ کی سہولت مہیا کرنے والے ممالک میں امریکا دسویں نمبر پر ہے۔ یہاں ڈاؤن لوڈنگ کی اوسط رفتار 18 میگا بٹ فی سیکنڈ ہے۔
اسٹڈی کے مطابق انٹرنیٹ کنیکشن کی اوسط عالمی رفتار، ہر سال پندرہ فی صد اضافے کے ساتھ 7.2 میگا بٹ فی سیکنڈ کی سطح پر پہنچ چکی ہے۔

اگرمیت کو خلا میں چھوڑ دیا جائے تو کیا ہوگا؟

خلا کا ماحول ہماری زمین کے مقابلے میں بالکل مختلف ہے اس لیے وہاں مُردہ جسم کے ساتھ عجیب و غریب واقعات ہوسکتے ہیں۔ (فوٹو: فائل)
خلا کا ماحول ہماری زمین کے مقابلے میں بالکل مختلف ہے اس لیے وہاں مُردہ جسم کے ساتھ عجیب و غریب واقعات ہوسکتے ہیں۔ (فوٹو: فائل)
کراچی: اگر کسی شخص کے جسم کو مرنے کے بعد زمین میں دفنانے کے بجائے خلا میں چھوڑ دیا جائے تو کیا ہوگا؟ بظاہر یہ سوال احمقانہ لگتا ہے لیکن ایسا ہونا کچھ ناممکن بھی نہیں اور ایسی صورت میں بہت ہی دلچسپ جوابات ہمارے سامنے آتے ہیں۔
ویسے تو آج کل خلا میں جانا بہت مہنگا سودا ہے لیکن شاید آنے والے عشروں میں خلا کا سفر بہت کم خرچ ہو جائے گا اور کوئی بعید نہیں کہ اکیسویں صدی کے اختتام تک خلا میں پہنچنا اتنا ہی آسان اور کم خرچ ہوجائے جتنا آج ایک سے دوسرے ملک کا سفر ہے۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ زمین پر تنگ پڑتی ہوئی جگہ کے پیشِ نظر مستقبل میں ’’خلائی قبرستان‘‘ کا رواج پڑ جائے۔ یہ اس لیے بھی ممکن محسوس ہوتا ہے کیونکہ خلا بہت ہی بڑی جگہ ہے، اتنی بڑی کہ ہمارا سیارہ زمین اس پورے نظامِ شمسی میں ایک نقطے جیسی حیثیت رکھتا ہے۔
اب فرض کیجیے کہ اگر کسی شخص کے مرنے کے بعد اس کے جسدِ خاکی کو خلا میں چھوڑ دیا جائے جبکہ وہ کسی حفاظتی خول وغیرہ میں بند بھی نہ ہو تو چند گھنٹوں، چند دنوں، چند مہینوں اور یہاں تک کہ کئی برسوں کے بعد اس کے جسم پر کیا بیتے گی؟
اب تک اس بارے میں کوئی تجربہ تو نہیں کیا گیا لیکن کچھ سائنسی اندازے ضرور لگائے  گئے ہیں جو بڑی حد تک مناسب بھی معلوم ہوتے ہیں۔ وہ اندازے کیا ہیں؟ ملاحظہ کیجیے:
خلا میں نہ تو ہوا ہوتی ہے اور نہ ہی نمی، یعنی اگر کسی مردہ جسم کو خلا میں چھوڑ دیا جائے تو اس میں موجود نمی بڑی تیزی سے ختم ہو گی۔ چونکہ انسانی جسم کا 80 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے ماہرین کا اندازہ ہے کہ مُردہ جسم کے خلا میں چھوڑے جانے کے ایک گھنٹے کے اندر اندر ہی اس کی کمیت صرف 20 فیصد رہ جائے گی۔
زمین پر زندہ حالت میں تن و مند دکھائی دینے والا 100 کلوگرام وزنی انسان جب مرنے کے بعد خلا میں پہنچے گا تو کچھ ہی دیر میں وہ صرف 20 کلوگرام وزنی رہ جائے گا۔ وہ ہڈیوں کا ایک ایسا ڈھانچہ بن چکا ہوگا جس پر کھال منڈھی ہوگی۔ یعنی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ صرف ایک گھنٹے میں وہ شخص ایک ’’خشک ممی‘‘ میں تبدیل ہوچکا ہوگا۔
یہ بھی یاد رہے کہ پانی وہ مادّہ ہے جو زندگی کی اہم ترین ضرورت بھی ہے اس لیے پانی کی عدم دستیابی پر انسانی جسم میں موجود تمام جراثیم بھی بڑی تیزی سے ختم ہوجائیں گے یعنی خلا میں مُردہ انسانی جسم گلنے سڑنے سے بھی محفوظ رہے گا۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر خلا میں مُردہ جسم کو جراثیم مرجانے کے بعد گلنے سڑنے کا سامنا نہیں ہوگا تو کیا وہ ہمیشہ اسی حالت میں رہے گا؟ اس سوال کے مختلف جوابات ہیں۔
اگر مُردہ جسم زمین کے گرد نچلے مدار میں گردش کر رہا ہو گا تو اس کا مدار بتدریج مختصر ہوتا چلا جائے گا اور چند گھنٹوں سے لے کر چند دنوں کے اندر اندر ہی وہ زبردست رفتار کے ساتھ زمینی کرہ ہوائی میں داخل ہوجائے گا۔ یہاں ہوا کے ذرّات سے شدید رگڑ اور زبردست درجہ حرارت کی وجہ سے وہ صرف چند لمحوں میں جل کر راکھ ہوجائے گا اور بالائی کرہ ہوائی میں بکھر جائے گا۔ زمین سے دیکھنے پر یہ منظر شہابِ ثاقب کی طرح دکھائی دے گا۔
اس سے کچھ زیادہ بلندی پر وہ مدار ہے جہاں ’’خلائی ملبے‘‘ (space debris) کی بڑی مقدار زمین کے گرد چکر لگا رہی ہے۔ صرف چند ملی میٹر باریک ذرّات سے لے کر چند سینٹی میٹر جتنے بڑے ٹکڑوں پر مشتمل اس خلائی ملبے کا بڑا حصہ پرانے مصنوعی سیارچوں اور خلائی راکٹوں کی باقیات پر مشتمل ہے اور اس کی رفتار کئی کلومیٹر فی سیکنڈ ہوتی ہے۔
اگر کوئی میت اس مدار میں ہوگی تو قوی امکان ہے کہ خلائی ملبے کے ٹکڑے اس سے بھی ٹکرائیں گے اور اپنی غیرمعمولی تیز رفتار کی وجہ سے لاش پر گڑھے ڈال سکتے ہیں اور اگر ٹکرانے والے ملبے کی جسامت زیادہ ہوئی تو ایسا ایک ہی ٹکڑا میت کے پرخچے اُڑا دینے کے لیے کافی ہو گا۔
اس سے بھی اوپر تقریباً 36 ہزار کلومیٹر کی بلندی پر وہ مدار ہے جس میں مواصلاتی سیارچے زمین کے گرد چکر لگاتے ہیں اور جسے ’’ارض ساکن مدار‘‘ (جیو اسٹیشنری آربٹ) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ مدار قدرے پر سکون ہے اور یہاں پہنچنے والی میت کے لیے خلائی ملبے سے ٹکرانے کے امکانات خاصے کم ہیں۔
البتہ، مدار چاہے کوئی بھی ہو لیکن اتنا ضرور طے ہے کہ خلا میں بھیجی جانے والی کسی بھی میت کو (خصوصی حفاظتی انتظامات کے بغیر) سورج سے آنے والی خطرناک شمسی ہواؤں اور کائناتی شعاعوں کی بڑی مقدار کا سامنا کرنا پڑے گا جو اسے کچھ ہی عرصے میں جھلسا کر کوئلے جیسا سیاہ کردیں گی۔ تب یہ خلائی لاش کسی بے ہنگم پتھر کی طرح دکھائی دے گی۔
یہ تو ہوئی زمینی مدار میں میت پہنچانے کی بات لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کوئی لاش زمین کے بجائے سورج کے گرد مدار میں پہنچا دی جائے۔ تب کیا ہو گا؟
اگر سورج کے گرد ایسی کسی لاش کا مدار چھوٹا ہوا یعنی اس کا فاصلہ سورج سے کم ہوا تو اس کا حشر بھی کم و بیش وہی ہوگا جو زمینی مدار میں چکر لگانے والی کسی لاش کا ہو سکتا ہے، اور جس کا تذکرہ اوپر کی سطور میں کیا جاچکا ہے۔
تاہم اگر وہ میت کسی بہت بڑے مدار میں پہنچا دی جائے جہاں وہ سورج سے بہت فاصلے پر رہتے ہوئے اس کے گرد چکر لگا رہی ہو تو اس تک پہنچنے والی شمسی ہواؤں کی شدت بھی بہت کم رہ جائے گی یعنی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسے انتہائی سرد اور قدرے محفوظ ماحول کا سامنا ہو گا جہاں وہ ہزاروں لاکھوں سال تک اسی حالت میں رہتے ہوئے چکر لگاتی رہے گی۔
دور دراز خلا کا ماحول انتہائی سرد بھی ہوتا ہے جس کا اوسط درجہ حرارت صرف 2.73 ڈگری کیلون یعنی منفی 270 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی کم ہوتا ہے۔ خلا کے اس تاریک اور شدید سرد ماحول میں کوئی بھی لاش برف سے بھی زیادہ ٹھنڈی رہے گی اور اگر اسے کسی ناگہانی آفت کا سامنا کرنا نہیں پڑا تو وہ کروڑوں اربوں سال تک تقریباً اسی حالت میں رہے گی۔