جمعرات، 8 جون، 2017

اضافی بازوؤں کی سہولت فراہم کرنے والا روبوٹک نظام

میٹالمبس کو پیر اور ہاتھوں کے سینسر سے بھی قابو کیا جاسکتا ہے۔ فوٹو: فائل
میٹالمبس کو پیر اور ہاتھوں کے سینسر سے بھی قابو کیا جاسکتا ہے۔ فوٹو: فائل
ٹوکیو: جاپانی ماہرین نے ایسے روبوٹک بازو تیار کر لئے ہیں جو کمر پر بھی پہنے جا سکتے ہیں اور ان سے معذور افراد کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں جنہیں ایک وقت میں کئی کام کرنے پڑتے ہیں۔
روبوٹک بازووں کو میٹا لِمبس کا نام دیا گیا ہے جنہیں پاؤں کے ٹخنوں اور ہاتھوں کی کہنیوں کو موڑ کر حرکت دی جاتی ہے اور یہ عمل جوڑوں اور پیروں پر موجود سینسر کی مدد سے انجام دیا جاتا ہے۔ ماہرین نے اس ایجاد کو ’ملٹی پل آرمز انٹرایکشن میٹا مورفزم‘ کا نام دیا ہے جس میں مصنوعی بازو آپ کے جسم کا حصہ بن جاتے ہیں۔
روبوٹ بازو جسم اور دھڑ کے لحاظ سے عین اس طرح حرکت کرتے ہیں جس طرح ہمارے بازو ہمارے بدن کے ساتھ ساتھ گھومتے اور حرکت کرتے ہیں۔ بازؤں کو پیروں کے انگوٹھوں کے مدد سے حرکت دی جاتی ہے کیونکہ انگوٹھے موڑتے ہی سینسر مشینی بازو کو گھماتے اور آگے کی جانب حرکت دیتے ہیں۔
مصنوعی ہاتھوں کے ذریعے آپ کسی بھی شے کو گرفت کر سکتے ہیں اور معمولی پینٹ برش سے لے کر چھوٹا گلاس بھی اٹھا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ روبوٹک بازووں کی جگہ کوئی پنجہ اور ویلڈنگ آلہ بھی لگایا جا سکتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اسے ہر جگہ صورتحال کے مطابق استعمال کر سکتے ہیں۔
میٹالمِبس کے ساتھ خاص جرابیں (موزے) بھی دی گئی ہیں جس پر بازو کو حرکت دینے والے سینسر لگائے گئے ہیں۔ ان کی حرکت کے لحاظ سے بازو گھومتے اور اپنی پوزیشن بدلتے ہیں۔ جوں ہی کو پاؤں کا انگوٹھا مڑتا ہے تو اسی لحاظ سے روبوٹ کی انگلیاں بند ہو جاتی ہیں۔ اس طرح کسی شے کو گرفت کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔
انجینیئروں کے مطابق روبوٹ بازو کے آپشنز کو سہولت کے لحاظ سے تبدیل کیا جاسکتا ہے اس کے علاوہ اپنے اصل بازوؤں سے بھی روبوٹ کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جس طرح سائنس فکشن فلموں میں ایک آدمی کےچار ہاتھ ہوتے ہیں میٹالمبس بھی آپ کو اس طرح مزید دو بازؤں کی قوت فراہم کرتا ہے۔

سڑک پردوڑتا اورفضا میں اڑنے والا ہیلی کاپٹر

ہیلی کاپٹر کو پرواز کے لیے صرف 100 میٹر کا رن وے درکار ہوتا ہے اوریہ 180 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرتا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
ہیلی کاپٹر کو پرواز کے لیے صرف 100 میٹر کا رن وے درکار ہوتا ہے اوریہ 180 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرتا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
جمہوریہ چیک: دنیا بھر میں اڑنے والی گاڑیوں اور ہیلی کاپٹروں کی تیاری جاری ہے جنہیں عام لوگ بھی خرید سکیں لیکن اس ضمن میں سابقہ چیکوسلواکیہ اور موجودہ جمہوریہ چیک کے ایک پائلٹ نے ’’جائرو ڈرائیو‘‘ نامی چھوٹا ہیلی کاپٹر بنایا ہے جس میں دو آدمی بیٹھ سکتے ہیں۔ اچھی خبر یہ ہے کہ اسے سڑک پر دوڑنے اور اڑان بھرنے کا لائسنس مل گیا ہے۔
جائرو ڈرائیو ہیلی کاپٹر کی قیمت 50 ہزار برطانوی پاؤنڈ یا پاکستانی 70 لاکھ روپے ہے اور اسے پرواز کے لیے صرف 100 میٹر کا رن وے درکار ہوتا ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتارِ پرواز 180 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے اور سڑک پر دوڑنے کی رفتار صرف 40 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے جبکہ ایک وقت میں یہ 600 کلومیٹر کا طویل فاصلہ طے کرسکتا ہے۔
چیک پائلٹ کے مطابق یہ دنیا کی پہلی سواری ہے جو زمین اور فضا دونوں کےلیے موزوں ہے۔ جائروڈرائیو سڑک پر الیکٹرک بیٹری سے چلتا ہے اور فضا میں ایندھن سے پرواز کرتا ہے جبکہ مارچ میں اسے پرواز کا لائسنس بھی مل چکا ہے۔

چین میں دنیا کی تیز ترین لفٹ جس کی رفتار 75 کلومیٹر فی گھنٹہ

ہٹاچی نے دنیا کی برق رفتار لفٹ کو سی ٹی ایف ٹاور میں نصب کیا ہے جو تصویر میں دائیں جانب نمایاں ہے۔ فوٹو: بشکریہ ڈیلی میل
ہٹاچی نے دنیا کی برق رفتار لفٹ کو سی ٹی ایف ٹاور میں نصب کیا ہے جو تصویر میں دائیں جانب نمایاں ہے۔ فوٹو: بشکریہ ڈیلی میل
بیجنگ: چین میں دنیا کی سب سے تیز رفتار لفٹ کو آزمایا گیا ہے جو ایک گھنٹے میں 75 کلومیٹر کی رفتار سے سفر کرتی ہے۔ ریکارڈ قائم کرنے والی لفٹ کا گوانگ زُو کی ایک تجارتی بلڈنگ سی ٹی ایف فائنانس سینٹر میں تجربہ کیا گیا ہے۔
سی ٹی ایف سینٹر 530 میٹر بلند ہے جس پر ہٹاچی کمپنی کی تیار کردہ برق رفتار لفٹ کو آزمایا جاچکا ہے۔ کمپنی کے مطابق وہ اس سے بھی زیادہ رفتار سے لفٹ چلاسکتی ہے لیکن اس کے لیے کنٹرول یونٹس اور موٹروں میں کچھ تبدیلیاں کرنا ہوں گی تاہم چین میں لفٹوں کا جائزہ لینے والے قومی ادارے نے اس لفٹ کو تیز ترین قرار دیا ہے۔
ہٹاچی کمپنی کے مطابق کئی لوگوں کو بٹھا کر اس لفٹ کی آزمائش کی گئی ہے اور اس دوران اسے 72 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلایا گیا ہے۔  اس رفتار پر ارتعاش اور شور سے محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی طور پر ڈیزائن کردہ رولرز چاروں کونوں پر لگائے گئے ہیں۔ یہ رولر زوردار ارتعاش کو جذب کرتے ہیں اور لفٹ میں بیٹھے لوگوں کو اس کا احساس نہیں ہوتا۔

ادائیگی کرنے کے لیے سیلفی سے شناخت کروائیے

 ہم شکل جڑواں افراد تک اس شناختی نظام کو بے وقوف نہیں بنا سکتے، بینک کا دعویٰ۔ فوٹو: فائل
ہم شکل جڑواں افراد تک اس شناختی نظام کو بے وقوف نہیں بنا سکتے، بینک کا دعویٰ۔ فوٹو: فائل
ساؤ پالو: برازیل میں ایک ڈیجیٹل بینک نے اکاؤنٹ ہولڈرز کی جانب سے ادائیگی کے وقت سیلفی کے ذریعے تصدیق کا انوکھا طریقہ اختیار کر لیا ہے جس کے بارے میں بینک کا دعویٰ ہے کہ یہ طریقہ روایتی پاس ورڈ اور فنگر پرنٹس کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر طور پر شناخت کے قابل ہے۔
بینک کا کہنا ہے کہ ابھی یہ طریقہ ابتدائی مرحلے پر متعارف کروایا گیا ہے اور اسے صارفین کی جانب سے بڑے پیمانے پر اعتماد حاصل ہوجانے کے بعد ہر قسم کی چھوٹی بڑی ادائیگی میں شناخت کے لیے اختیار کیا جائے گا۔
جب اس بینک کے کسی اکاؤنٹ ہولڈر کی جانب سے ادا کی جانے والی رقم ایک خاص حد سے زیادہ ہو تو اسمارٹ فون پر موجود بینکنگ ایپ فوراً ایکٹیو ہو جاتی ہے اور صارف کو سیلفی کھینچنے کا پیغام دیتی ہے۔ یہ سیلفی فوری طور پر بینک کے سرور پر بھیج دی جاتی ہے جہاں بینک کا انتہائی جدید شناختی سافٹ ویئر (سیلفی میں نظر آنے والے) چہرے کے خد و خال کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے اور تصدیق ہو جانے کے بعد وہ رقم منتقل کردیتا ہے۔
خاص بات یہ ہے کہ اس پورے عمل میں صرف چند سیکنڈ لگتے ہیں جبکہ اس دوران صارف کی سیلفی میں چہرے پر موجود درجن بھر سے زائد نقوش کا تجزیہ کیا جاتا ہے اور انہیں بینک کے ڈیٹابیس میں متعلقہ صارف کی تصویروں سے ملاتے ہوئے تصدیق کی جاتی ہے کہ سیلفی بھیجنے والا شخص اس بینک کا صارف ہی ہے یا کوئی اور۔
برازیلی ڈیجیٹل بینک کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کریڈٹ کارڈ، ڈیبٹ کارڈ، پاس ورڈ اور فنگر پرنٹس سے بھی زیادہ مؤثر اور محفوظ ہے کیونکہ بینک کا سافٹ ویئر انہیں 100 فیصد درست معلومات فراہم کرتا ہے۔
بینک کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ ہم شکل جڑواں افراد تک اس شناختی نظام کو بے وقوف نہیں بنا سکتے کیونکہ بظاہر بالکل ایک جیسے نظر آنے والے دو چہروں میں بھی کچھ نہ کچھ فرق ضرور ہوتا ہے لیکن وہ صرف انتہائی باریک بینی سے دیکھنے پر ہی واضح ہوتا ہے اور یہ شناختی سافٹ ویئر اس معمولی ترین فرق تک کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انفارمیشن سیکیوریٹی کے ماہرین پہلے ہی سے یہ امید ظاہر کرتے آ رہے ہیں کہ چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی ترقی کرتے کرتے بالآخر 100 فیصد درستگی کے مرحلے پر پہنچ جائے گی جس میں مصنوعی ذہانت کا بہت دخل ہو گا۔ تب اسے زندگی کے ہر شعبے میں بلا خوف و خطر استعمال کیا جاسکے گا۔ یوں لگتا ہے جیسے اب وہ زمانہ بہت قریب آن پہنچا ہے۔

باریک ترین ٹرانسسٹر سرکٹ والی کمپیوٹر چپ

تصویر میں آئی بی ایم کا ایک ماہر سلیکن ویفر کے ساتھ ہے جس سے 5 نینومیٹر چپ تیار کی گئی ہے۔ فوٹو: بشکریہ آئی بی ایم
تصویر میں آئی بی ایم کا ایک ماہر سلیکن ویفر کے ساتھ ہے جس سے 5 نینومیٹر چپ تیار کی گئی ہے۔ فوٹو: بشکریہ آئی بی ایم
 واشنگٹن: ٓآئی بی ایم، سام سنگ اور گلوبل فاؤنڈریز نے دنیا کی پہلی 5 نینومیٹر سرکٹ والی مائیکروچپ تیار کرلی ہے جو مصنوعی ذہانت، ورچوئل ریئلٹی اور دیگر شعبوں میں انقلاب برپا کرسکتی ہے اور موبائل بیٹریوں کی کارکردگی میں تین گنا تک اضافہ بھی کرسکتی ہے۔
واضح رہے کہ اس وقت اسمارٹ فون سے لے کر طاقتور ترین کمپیوٹرز تک میں جو مائیکروپروسیسر استعمال ہورہے ہیں ان میں ٹرانسسٹر کی جسامت 10 نینومیٹر ہوتی ہے یعنی اس نئی چپ میں ٹرانسسٹر کا سائز روایتی مائیکروچپ کے مقابلے میں آدھا ہے۔
اس درجے کی مائیکروچپ سے بجلی کم خرچ ہوگی اور موبائل آلات کو تین گنا زائد وقفے کے لیے چلانا ممکن ہوگا۔ دنیا میں اب تک باریک ترین سرکٹ والی اس چپ میں سرکٹ کے ایک جزو کی موٹائی صرف چند ایٹموں جتنی یعنی ڈی این اے کے دو حلقوں کے برابر ہے۔
اس کارنامے کے بعد پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ انگلی کے ناخن جتنی جگہ پر 30 ارب ٹرانسسٹر (جو برقی آلات میں آن اور آف سوئچز کا کام کرتے ہیں) سرکٹ کی شکل میں سموئے جاسکیں۔ اگلا مرحلہ اس ٹیکنالوجی کو تجارتی پیمانے تک پہنچانا ہے جس میں مزید چند سال لگ جائیں گے۔ آئی بی ایم نے جاپان کے شہر کیوٹو میں ہونے والی ایک نمائش میں اس چپ کی تفصیلات پیش کی ہیں۔
اس چپ کو بنانے کےلیے سلیکان نینو شیٹ کو ایک کے اوپر ایک کرکے لگایا گیا ہے جو چپ سازی کے مروجہ طریقوں سے قدرے مختلف ہے۔ مارکیٹ میں موجود 10 نینومیٹر ٹیکنالوجی والے مائیکروپروسیسرز کے مقابلے میں 5 نینومیٹر مائیکروپروسیسرز کی کارکردگی 40 فیصد زیادہ متوقع ہے۔
بتاتے چلیں کہ مائیکروچپ کی عالمی صنعت کی ترقی جاری رہنے کےلیے جہاں زیادہ سے زیادہ رفتار والے مائیکروپروسیسرز کا تیار ہونا ضروری ہے وہیں مائیکرو چپ میں سرکٹ کا باریک سے باریک تر ہوتے رہنا بھی لازمی ہے۔ اسی مقصد کے تحت مختلف صنعتی اور تحقیقی اداروں میں منصوبے جاری ہیں تاکہ آنے والے برسوں میں مائیکروچپ سرکٹ کو ہر ممکن حد تک باریک کیا جاسکے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے تکنیکی طور پر ہم 3 نینومیٹر جتنے سرکٹ سائز والی مختصر مائیکروچپ بناسکتے ہیں لیکن جسامت اس سے کم کرنے پر ہمیں براہِ راست قوانینِ قدرت کا سامنا ہوگا اور تب ہمیں مزید مختصر و مؤثر مائیکروچپس بنانے کےلیے ایک بالکل مختلف ٹیکنالوجی درکار ہوگی۔

اتوار، 4 جون، 2017

ایپل کا توڑ اینڈرائیڈ اسمارٹ فون

فون کی قیمت 70 ہزار روپے پاکستانی رکھی گئی ہے جو 699 ڈالر بنتی ہے۔ فوٹو: بشکریہ ڈیلی میل
فون کی قیمت 70 ہزار روپے پاکستانی رکھی گئی ہے جو 699 ڈالر بنتی ہے۔ فوٹو: بشکریہ ڈیلی میل
 واشنگٹن: اینڈرائڈ سسٹم کے موجد اینڈی روبنس نے ایک نیا اسمارٹ فون متعارف کرایا ہے جو ان کے بقول آئی فون کو شکست دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
اینڈی ربنسن نے اس اسمارٹ فون کو ’ایسنشل فون پی ایچ ون ‘ کا نام دیا ہے جس میں ان کے مطابق دنیا کا سب سے بہترین کیمرہ فون ہونے کے ساتھ کوالکوم کا اسنیپ ڈریگن 835 پروسیسر بھی نصب ہے۔ اسمارٹ فون کی باڈی روایتی المونیم کی بجائے ٹیٹانیئم پر مشتمل ہے جو اچانک گرجانے کی صورت میں ٹوٹ پھوٹ سے محفوظ رہتا ہے۔ اس پر علیحدہ سے ایک 360 ڈگری کیمرہ بھی نصب کیا جا سکتا ہے۔
کیمرے کی ایک اور خاص بات اس کا ہلکا پھلکا ہونا ہے یعنی اس کا وزن صرف 35 گرام ہے اور اس میں ڈویئل 12 میگا پکسل فِش آئی سینسر نصب ہے جو 30 فریم فی سیکنڈ کی شرح سے فورکے 360 ڈگری ویڈیو بنا سکتا ہے۔ سینسر کی وجہ سے یہ کم روشنی میں بھی تصویر اور ویڈیو بنا سکتا ہے۔
دیگر اشیا میں مقناطیسی کنیکٹر، 128 جی بی کی اندرونی اسٹوریج (بلٹن میموری)، فنگر پرنٹ سینسر، یو ایس بی ٹائپ سی پورٹ اور 3040 ایم اے ایچ بیٹری نصب کی گئی ہے۔ اسکرین پر گوریلا گلاس 5 لگایا گیا ہے لیکن اس کے باوجود وہ 500 این آی ٹی ایس کی روشنی فراہم کرتا ہے جب کہ اوسط ایل سی ڈی 200 سے 300 این آئی ٹی ایس روشنی خارج کرتا ہے۔
اس نئے فون پر ہیڈفون جیک کی گنجائش نہیں لیکن کمپنی کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فون پیک میں اس کا ڈونگل ضرور شامل کیا جائے گا۔ فون کی قیمت 70 ہزار روپے پاکستانی رکھی گئی ہے جو 699 ڈالر بنتی ہے۔ روبِن کا خیال ہے کہ یہ آئی فون کے لیے ایک سخت حریف ثابت ہو گا اور اسے تین رنگوں میں پیش کیا جا رہا ہے۔

دنیا کا سب سے بڑا ہوائی جہاز اُڑان بھرنے کو تیار


یہ صرف ہوائی جہاز نہیں بلکہ خلائی سفر کو مستقبل میں انتہائی کم خرچ بنادے گا۔ (فوٹو: فائل)
یہ صرف ہوائی جہاز نہیں بلکہ خلائی سفر کو مستقبل میں انتہائی کم خرچ بنادے گا۔ (فوٹو: فائل)
نیو میکسیکو: دنیا کا سب سے بڑا ہوائی جہاز ’’اسٹریٹو لانچ‘‘ اُڑان بھرنے کی تیاریاں کر رہا ہے اور یہ طیارہ آنے والے برسوں میں نہایت کم خرچ پر راکٹوں کو خلاء میں بھیجنے کا کام بھی کر سکے گا۔
اسٹریٹو لانچ کا منصوبہ مائیکرو سافٹ کے شریک بانی پال ایلن نے شروع کیا ہے جب کہ اِس منصوبے کو آگے بڑھانے میں انہیں مشہور ایئرواسپیس کمپنی ’’اسکیلڈ کمپوزٹس‘‘ کے علاوہ ایلون مسک کی ’’اسپیس ایکس‘‘ کی تکنیکی معاونت بھی حاصل ہے۔
چند روز قبل اسٹریٹو لانچ کا پہلا پروٹوٹائپ کیلیفورنیا کے موہاوی صحرا میں بنے ایک وسیع ہینگر سے پہلی مرتبہ باہر لایا گیا جہاں جلد ہی اس کے انجن اور دیگر اہم نظاموں کی آزمائش کی جائے گی جس کے مکمل ہو جانے کے بعد یہ 2019 کی ابتدائی تاریخوں میں اپنی پہلی تجرباتی اُڑان بھرے گا۔
اسٹریٹو لانچ کو بطورِ خاص سیارچہ بردار راکٹوں کو انتہائی  بلندی پر پہنچا کر خلا کی سمت چھوڑنے کے لیے تیار کیا گیا ہے جس سے خلائی سفر کے اخراجات بہت کم کیے جا سکیں گے۔
اسٹریٹو لانچ کے بازوؤں کا پھیلاؤ 385 فٹ اور اونچائی 50 فٹ ہے جب کہ اس میں 28 دیوقامت پہئے (وہیل) لگے ہیں اور ہر پہیہ کسی ٹرک جتنی جسامت کا ہے۔ علاوہ ازیں اس میں بوئنگ 747 مسافر بردار طیارے میں نصب ہونے والے 6 عدد طاقتور جیٹ انجن بھی لگائے گئے ہیں جو مجموعی طور پر 500,000 پونڈ سے بھی زیادہ پے لوڈ کو ہزاروں فٹ کی بلندی تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
آئندہ 18 ماہ تک اس کی زمینی آزمائشیں جاری رکھی جائیں گی اور مختلف پہلوؤں سے اس کے تحفظ کی یقین دہانی حاصل کی جائے گی جس کے بعد توقع ہے کہ یہ 2019 کے ابتدائی مہینوں میں اپنی پہلی پرواز کرے گا۔ البتہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ یہ تجارتی طور پر کب سے استعمال میں آنا شروع ہو جائے گا۔ تاہم اتنا ضرور ہے کہ اسٹیریو لانچ اور ایسی دوسری ٹیکنالوجیز کی بدولت خلائی سفر کے اخراجات مستقبل میں بہت ہی کم رہ جائیں گے۔

کریڈٹ کارڈ جتنا مکمل کمپیوٹر

مائیکرو پروسیسر، ریم، ڈیٹا اسٹوریج اور بلیو ٹوتھ سمیت ’’کمپیوٹ کارڈ‘‘ کو بجا طور پر ایک مکمل پی سی قرار دیا جاسکتا ہے۔ (فوٹو: فائل)
مائیکرو پروسیسر، ریم، ڈیٹا اسٹوریج اور بلیو ٹوتھ سمیت ’’کمپیوٹ کارڈ‘‘ کو بجا طور پر ایک مکمل پی سی قرار دیا جاسکتا ہے۔ (فوٹو: فائل)
تائی پے: مائیکروپروسیسر بنانے والی مشہورِ زمانہ کمپنی انٹیل کارپوریشن نے ’کمپیوٹ کارڈ‘ کے نام سے ایک دستی آلہ پیش کیا ہے جس کی لمبائی اور چوڑائی ایک عام کریڈٹ کارڈ جتنی ہے جبکہ اسے دنیا کا سب سے مختصر پرسنل کمپیوٹر بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
انٹیل کارپوریشن نے پہلی بار اسے لاس ویگاس میں منعقدہ ’’کنزیومر الیکٹرونکس شو 2017‘‘ کے موقع پر پیش کیا تھا لیکن چند روز پہلے تائی پے، تائیوان میں ہونے والی ’’کمپیوٹیکس‘‘ نمائش میں یہ ایک بار پھر رکھا گیا ہے جبکہ اس سے متعلق پہلے سے زیادہ معلومات بھی دستیاب ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ اس کی باضابطہ فروخت اگست 2017 سے شروع کردی جائے گی۔ کام  کرنے کے لیے اسے صرف کی بورڈ اور مانیٹر سے جوڑنا کافی ہوگا۔
کمپیوٹ کارڈ کی ریم 4 گیگابائٹ اور میموری 64 سے 128 گیگابائٹ تک ہے جبکہ اس کے سب سے طاقتور ماڈل میں ساتویں نسل والا ’’کور آئی فائیو‘‘ (Core i5) پروسیسر نصب ہے۔ مطلب یہ کہ صرف چار کریڈٹ کارڈز جتنی موٹائی میں وہ سارے لوازمات سمو دیئے گئے ہیں جو کسی پرسنل کمپیوٹر کو حقیقی معنوں میں کمپیوٹر بناتے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ جدید بلیو ٹوتھ کے ذریعے بھی آس پاس موجود آلات سے رابطے میں آنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اسے ڈیسک ٹاپ اور لیپ ٹاپ کمپیوٹر میں بنے کسی مخصوص کھانچے میں نصب کیا جاسکے گا جبکہ ضرورت پڑنے پر اسے بذریعہ یو ایس بی کسی دوسرے کمپیوٹر سے منسلک کرکے اس کی طاقت میں اضافہ بھی کیا جاسکے گا۔ متوقع طور پر کمپیوٹ کارڈ ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے والوں میں آئی بی ایم اور ایپل کمپیوٹرز جیسے بڑے نام بھی شامل ہوں گے۔ آنے والے برسوں میں کمپیوٹ کارڈ کو اسمارٹ اسکرین سے منسلک کرکے اسے بھی کمپیوٹر میں تبدیل کیا جاسکے گا۔

واٹس ایپ کے ذریعے فراڈ اور ہیکنگ کی نئی لہر

ہیکروں کا گروپ واٹس ایپ پر جعلی پیغامات کے ذریعے صارفین کو خوفزہ کرکے ان سے رقم اینٹھنے اور ان کے اکاؤنٹس ہیک کرنے میں مصروف ہے۔ (فوٹو: فائل)
ہیکروں کا گروپ واٹس ایپ پر جعلی پیغامات کے ذریعے صارفین کو خوفزہ کرکے ان سے رقم اینٹھنے اور ان کے اکاؤنٹس ہیک کرنے میں مصروف ہے۔ (فوٹو: فائل)
لندن: واٹس ایپ پر فراڈیوں اور ہیکرز کا ایک نیا گروپ سرگرم ہوگیا ہے جس نے جعلی پیغامات کے ذریعے عام صارفین کو بے وقوف بناتے ہوئے ان کی ذاتی معلومات اینٹھنا شروع کردی ہیں جبکہ ممکنہ طور پر آئندہ مہینوں میں یہ گروپ کسی بڑے نقصان کی وجہ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ واٹس ایپ ایک مفت میسجنگ اور کالنگ سروس ہے جس کے ذریعے آپ دنیا بھر میں کہیں بھی بہ آسانی رابطہ کرسکتے ہیں اور ویڈیو کال تک کرسکتے ہیں لیکن اب نامعلوم ہیکرز نے جعلی پیغامات بھیجنا شروع کر دیئے ہیں جن میں صارفین سے کہا جاتا ہے کہ ان کی واٹس ایپ سبسکرپشن ختم ہو چکی ہے جسے 0.99 پاؤنڈ میں تاحیات دوبارہ جاری کرنے کے لیے اسی پیغام میں ایک لنک بھی دیا جاتا ہے۔ جونہی اس لنک پر کلک کیا جاتا ہے تو اسمارٹ فون میں محفوظ، صارف کی تمام معلومات نامعلوم ہیکر تک پہنچ جاتی ہیں۔
لاعلمی میں بعض صارفین اس لنک پر پہنچنے کے بعد جلد از جلد یہ رقم ادا کرتے ہیں تاکہ ان کا واٹس ایپ اکاؤنٹ بند نہ ہو لیکن اسی چکر میں وہ ہیکرز کو اپنے کریڈٹ کارڈ اور انٹرنیٹ بینکنگ کی ساری تفصیلات فراہم کرتے ہوئے خود کو اور بھی زیادہ غیرمحفوظ کرلیتے ہیں۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر آپ کے اسمارٹ فون پر بھی ایسا ہی کوئی پیغام موصول ہو تو اسے فوراً ڈیلیٹ کردیجیے اور اگر آپ نے غلطی سے اس لنک پر کلک کردیا ہے تو جتنی جلدی ہوسکے کسی اچھے اینٹی وائرس سے اپنے اسمارٹ فون کو صاف کرلیجیے تاکہ وائرس کے کسی بھی ممکنہ حملے سے بھی محفوظ رہ سکیں۔
اب تک یہ تو معلوم نہیں ہوا ہے کہ اس کارروائی کے پیچھے ہیکرز کا کونسا گروپ ملوث ہے اور کس ملک (یا پھر کن ممالک) سے اس کا تعلق لیکن ابتدائی مرحلے پر تھوڑی سی احتیاط کرکے اس سے بہ آسانی بچا جاسکتا ہے۔

جمعرات، 1 جون، 2017

چھتوں پرسفید رنگ شہروں کو ٹھنڈا رکھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے،ماہرین

 عمارتوں پر سفید رنگ کرنے سے گلوبل وارمنگ کے اثرات کم کئے جاسکتے ہیں،برطانوی ماہرین فوٹو: ہ گارجیئن
عمارتوں پر سفید رنگ کرنے سے گلوبل وارمنگ کے اثرات کم کئے جاسکتے ہیں،برطانوی ماہرین فوٹو: ہ گارجیئن
 لندن: عالمی تپش یا گلوبل وارمنگ سے شہری آبادی سب سے ذیادہ متاثر ہوسکتی ہے کیونکہ اس سے گنجان آباد شہر کا درجہ حرارت غیر معمولی طور پر بڑھ سکتا ہے اب ماہرین کا خیال ہے کہ اگر عمارتوں کی چھتوں پر سفید رنگ کردیا جائے تو اس کیفیت کو کم کیا جاسکتا ہے جسے ’شہری گرمی‘ یا اربن ہیٹنگ کہا جاتا ہے اور اس سے عمارتیں بھی ٹھنڈی رہ سکتی ہیں۔
شہروں میں کنکریٹ اور اسفالٹ کی تعمیرات ذیادہ حرارت جذب کرتی ہیں اور گرمیوں میں قریب قریب موجود عمارت میں گرمی گویا پھنس کر رہ جاتی ہے اور اس کے علاوہ ایئرکنڈیشنڈ اور گاڑیوں سے نکالنے والی حرارت بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسی طرح سیاہ فرش حرارت جذب کرکے ماحول مزید گرم کردیتےہیں۔
سسیکس یونیورسٹی میں اکنامکس کے پروفیسر رچرڈ ٹول نے نیچر کلائمٹ چینج میں ایک رپورٹ پیش کی ہے جن کا خیال ہے کہ شہروں میں گرمی ذیادہ ہوتی جائے گی اور اس سے گنجان شہر گویا حرارتی جزیرے ’ ہیٹ آئی لینڈ‘ بن رہے ہیں۔ عمارتوں کو سفید رنگ دے کر یا ان کی چھتوں پر سفیدی پھیر کر اس کیفیت کو کم کیا جاسکتا ہے۔ توقع ہے کہ اس سے شہروں میں  0.8 درجے سینٹی گریڈ گرمی کم کی جاسکتی ہے۔
لندن کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گرمیوں میں اس شہر کا درجہ حرارت اطراف کے علاقوں سے 4 درجے سینٹی گریڈ ذیادہ ہوتا ہے۔ عمارتوں کی چھتوں کو سفید کرنے سے درجہ حرارت 2 درجے سینٹی گریڈ تک کم ہوسکتا ہے۔
ڈاکٹر رچرڈ کا اصرار ہے کہ دنیا کی تمام حکومتیں بڑے شہروں کی عمارتوں پر سفید رنگ دینے کی حوصلہ افزائی کریں جس کا خرچ اس فائدے سےکہیں ذیادہ ہے جو اس عمل کے بعد حاصل ہوسکے گا۔

کیڑے کو جاسوس ڈرون میں تبدیل کرنے کا کامیاب تجربہ


ڈریپر کی جانب سے تیار کی گئی ڈریگن فلائی ۔ فوٹو: بشکریہ ڈریپر کمپنی
ڈریپر کی جانب سے تیار کی گئی ڈریگن فلائی ۔ فوٹو: بشکریہ ڈریپر کمپنی
میری لینڈ: مائیکرو الیکٹرانکس کی آمد سے اب چھوٹے کیڑے مکوڑوں پر الیکٹرانک آلات چسپاں کر کے ان سے نگرانی اور جاسوسی کا کام لیا جا رہا ہے اور اب ایک کمپنی چھوٹے سے ڈریگن فلائی (بھنبھیری) پر الیکٹرانک آلات لگا کر اسے خاص کاموں کے لیے تیار کیا ہے۔ 
امریکا میں ہارورڈ ہیوز میڈیکل انسٹی ٹیوٹ اور ڈریپر نامی کمپنی کے ماہرین نے برقی حشرات (سائبرنیٹک انسیکٹس) کے ضمن میں ایک نیا انقلابی قدم اُٹھایا ہے اور اس کے لیے بھنبھیری میں بعض جینیاتی تبدیلیاں کی گئی ہیں تاکہ وہ خاص سمت میں پرواز کرسکے۔
اس سے قبل بھنوروں اور ٹڈوں پر جو تحقیق کی گئی ہیں ان پر ایک سے ڈیڑھ گرام وزنی برقی سامان لے جانے کی گنجائش پیدا کی گئی تھی لیکن اُن میں نیوی گیشن سسٹم شامل نہیں تھا جس کی وجہ سے ان کیڑوں کو کسی خاص سمت میں اڑانا ایک مسئلہ ہوتا تھا اور انہیں وائرلیس کی مدد سے ہدایات دی جاتی تھیں۔
ڈریپر نے ایک نئی تکنیک استعمال کی ہے جسے اوپٹوجنیٹکس کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں کسی کیڑے میں اس طرح جینیاتی تبدیلیاں کی جاتی ہیں کہ وہ کسی سمت اڑ سکیں یا روشنی کی سمت پر ردعمل ظاہر کر سکیں اور اس طرح کیڑے پر مزید نیوی گیشن سامان ڈالنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
اوپٹوجنیٹک کے ذریعے ڈریگن فلائی کی پشت پر چھوٹے سولر پینلز لگائے گئے ہیں جو کیڑے کو ازخود اڑنے میں مدد دیتے ہیں، اس طرح بھنبھیری کو بہت آسانی سے ایک خاص سمت میں پرواز پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ ایک سال تک آزمائش کے بعد اب ماہرین اس قابل ہو گئے ہیں کہ برقی سامان کے ساتھ ڈریگن فلائی کو مخصوص بلندی اور سمت میں اڑاسکیں لیکن یہ پہلا قدم ہے، اگلے مرحلے میں اسے ڈیٹا جمع کرنے اور جاسوسی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

بدین کی 5 لاکھ ہیکٹر زرعی اراضی سمندر کا نوالہ بن گئی

انڈس ڈیلٹا میں بدین میں اب ماہی گیروں کی رسائی مچھلیوں تک کم سے کم ہوتی جارہی ہے۔ فوٹو: بشکریہ محمد عمر
انڈس ڈیلٹا میں بدین میں اب ماہی گیروں کی رسائی مچھلیوں تک کم سے کم ہوتی جارہی ہے۔ فوٹو: بشکریہ محمد عمر
کراچی:  سندھ ڈیلٹا کے علاقے میں دریائی بہاؤ کمزور ہونے کے باعث سمندر دریا کو کئی کلومیٹر پیچھے دھکیل چکا ہے اور اس سے زرخیز ڈیلٹا کی 55 لاکھ ہیکٹر اراضی مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے۔
غربت کے خاتمے اور انسانی فلاح کی بین الاقوامی تنظیم ’اوکسفام‘ پاکستان نے چند روز قبل اپنی ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سندھ ڈیلٹا کے علاقے میں دریائی بہاؤ کمزور ہونے کے بعد سمندر دریا کو کئی کلومیٹر پیچھے دھکیل چکا ہے بلکہ اس سے زرخیز ڈیلٹا کی 5 لاکھ ہیکٹر اراضی مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ دریا اور سمندری بہاؤ کے درمیان توازن اس وقت تک قائم رہتا ہے جب تک دریا سے پانی کی خاص مقدار سمندر میں گرتی رہتی ہے تاہم پانی کی شدید کمی کی وجہ سے سمندری پانی دریا کے راستے اوپر چڑھ گیا ہے اور گزشتہ 16 برس میں سمندری پانی سندھ ڈیلٹا میں 85 کلومیٹراندر تک گھس آیا ہے جس کی وجہ سے ایک جانب تو اطراف کے زرخیز کھیت ختم ہو گئے ہیں تو دوسری جانب خود سمندر نے بھی زرخیز زمین کو نگلنا شروع کردیا ہے۔
اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلیوں اور شدید موسمیاتی کیفیات سے ماہی گیری، پولٹری فارمنگ اور کھیتی باڑی متاثر ہوئی ہے۔ روز بروز کم ہوتے وسائل سے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ بدین کے علاقے میں 65 فیصد افراد اسی روزگار سے وابستہ رہے ہیں لیکن اب وہاں کے باسیوں پر زندگی تنگ ہوتی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2001 اور 2002 تک بدین ایک زرخیز علاقہ تھا جہاں 82,200 ہیکٹر علاقہ سرسبز تھا اور 2016 میں یہ زمین گھٹتے گھٹتے صرف 61,900 ہیکٹر رہ گئی جس کی وجہ سے خوراک اور زراعت کا نظام بری طرح متاثر ہوا، اب یہاں کے لوگ دیگر علاقوں سے چاول اور گندم خریدنے پر مجبور ہیں۔ دوسری جانب یہاں کے لوگ پینے کے صاف پانی سے بھی محروم ہو چکے ہیں جب کہ غریب افراد یا تو قرض لینے پر مجبور ہیں یا پھر اپنے عزیزو اقارب کے ہاں سکونت اختیار کر گئے ہیں۔
زراعت ختم ہونے سے یہاں کے لوگوں نے ’’مینگرووز‘‘ (تمر) درختوں کی بے دریغ کٹائی شروع کردی ہے اور انہیں کوئلے میں بدل کرمعمولی قیمت پر فروخت کیا جارہا ہے۔ اس طرح سمندری اتار چڑھاؤ اور طوفان کو روکنے والے مینگرووز تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ ماہی گیری ختم ہونے سے معاشی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں اور اب مچھلیاں پکڑنے کے لیے مچھیرے ڈیلٹا کے بجائے گہرے پانیوں کا رخ کر رہے ہیں۔

ٹویٹر نے 69 نئے اور دلچسپ ایموجی متعارف کرادیے


اس اضافے کے بعد ٹویٹر پر ایموجی کی مجموعی تعداد 239 ہو گئی ہے۔ فوٹو: بشکریہ ٹویٹر
اس اضافے کے بعد ٹویٹر پر ایموجی کی مجموعی تعداد 239 ہو گئی ہے۔ فوٹو: بشکریہ ٹویٹر
 لندن: ٹویٹر نے اپنے صارفین کے احساسات کو بہتر طور پر بیان کرنے کے لیے 69 نئے اور دلچسپ ایموجی متعارف کرا دیئے ہیں۔
ٹویٹر نے مختلف اشکال اور احساسات پر مبنی ان ایموجیز کو 5.0 ورژن کے تحت ریلیز کیا ہے، پہلے مرحلے میں یہ ٹویٹر کے براؤزر ورژن کے تحت ریلیز کئے گئے ہیں جب کہ اس کے بعد اسمارٹ فون پر بھی ریلیز کئے جائیں گے۔ ٹویٹر نے بعض عجیب وغریب ایموجیز بھی متعارف کرائے ہیں جن میں مردانہ پری، ذرافہ، مردانہ اور زنانہ جن، دعائیہ ہاتھ، دو طرح کے ڈائنوسار، کھوپرا، بروکولی، یوگا اور کئی ممالک کے پرچم شامل ہیں۔ اس اضافے کے بعد ٹویٹر پر ایموجی کی مجموعی تعداد 239 ہو گئی ہے۔
ٹویٹر کے ویب ورژن کے لیے یہ ایموجی فوری طور پر دستیاب ہیں جب کہ اسمارٹ فونز پر اینڈارئڈ اور آئی او ایس ورژنز استعمال کرنے والے صارفین کو ان نئے ایموجیز کے لئے تھوڑا انتظار کرنا ہو گا۔
ٹویٹر کے ڈیزائنر برائن ہیگرٹی کا کہنا ہے کہ ہم نے ٹویٹر ڈاٹ کام پر ٹویموجی شامل کئے ہیں جو اوپن سورس بھی ہے، اس پیغام میں ستارہ آنکھوں والا ایک ایموجی بھی شامل کیا گیا ہے جو بالکل نیا بھی ہے۔
یہ تمام آئکن ایموجی پیڈیا پر دستیاب ہیں جنہیں آپ ہی کے لیے بنایا گیا ہے، ان میں ڈریکولا، جل پری اور اس جیسے دیگر دیومالائی ایموجیز بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سینڈوچ اور کریم پائی کے ایموجی بھی موجود ہیں۔ ڈاڑھی والے شخص، سر ڈھانپی خواتین و مرد اور بچے کو دودھ پلانے والی خاتون کا ایموجی بھی موجود ہے۔ اس میں جانوروں میں کانٹوں والا سہہ، زرافہ، زیبرا، ٹڈا اور دو ڈائنوسار شامل کئے گئے ہیں جب کہ مختلف پروفیشنلز میں راک اسٹار سے سائنسدان تک 11 ایموجی موجود ہیں۔

ویڈیو سب ٹائٹل وائرس: موبائل اور کمپیوٹر کےلیے خطرے کی نئی گھنٹی

وی ایل سی، کوڈی، پاپ کورن اور اسٹریمیو کو استعمال کرنا خطرناک ہوسکتا ہے۔ فوٹو: فائل
وی ایل سی، کوڈی، پاپ کورن اور اسٹریمیو کو استعمال کرنا خطرناک ہوسکتا ہے۔ فوٹو: فائل
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے کمپیوٹر اور اسمارٹ فون صارفین کو خبردار کیا ہے کہ اب ہیکرز آن لائن ویڈیوز کے سب ٹائٹلز میں ایسا وائرس چھپا رہے ہیں جس سے سب ٹائٹل آن کرکے موویز دیکھنے پر آپ کا کمپیوٹر، اسمارٹ فون اور یہاں تک کہ انٹرنیٹ سے منسلک اسمارٹ ٹی وی بھی ہیک کیا جاسکتا ہے۔
کمپیوٹر سیکیورٹی کمپنی ’چیک پوائنٹ‘ کا کہنا ہے کہ ویڈیو سافٹ ویئر استعمال کرنے والے کروڑوں افراد جو آن لائن فلمیں اور ٹی وی شوز دیکھتے ہیں، ان کے اسمارٹ فونز اور کمپیوٹر خطرے میں ہیں۔ چیک پوائنٹ اب تک ایسے چار ویڈیو سافٹ ویئر کی نشاندہی کرچکی ہے جن کے ذریعے ہیکنگ کی جاسکتی ہے اور ان میں وی ایل سی، کوڈی، پاپ کارن اور اسٹریمیو شامل ہیں؛ تاہم اس ہیکنگ کے خطرے میں مبتلا ویڈیو سافٹ ویئر کی تعداد ممکنہ طور پر اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ ہیکرز انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کی جانے والی فلموں کے سب ٹائٹلز میں وائرس کی کوڈنگ شامل کررہے ہیں، خاص کر غیر قانونی طور پر ڈاؤن لوڈ کی گئی فلموں اور پروگراموں کے سب ٹائٹلز میں وائرس شامل کیا جاسکتا ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی مروجہ اینٹی وائرس سافٹ ویئر اس کا راستہ نہیں روک سکتا۔
واضح رہے کہ زیادہ تر ویڈیوز میں بائی ڈیفالٹ سب ٹائٹلز شامل نہیں ہوتے بلکہ کمپیوٹر میڈیا پلیئرز انٹرنیٹ سے رابطہ کرکے خود ہی متعلقہ ویب سائٹ سے خصوصی ٹیکسٹ فائلز ڈاؤن لوڈ کرلیتے ہیں۔ اور چونکہ یہ ٹیکسٹ فائلز ہوتی ہیں اس لیے عموماً اینٹی وائرس انہیں نہیں کھنگالتے۔
 چیک پوائنٹ سیکیورٹی نے مزید خبردار کیا ہے کہ اس طرح سب ٹائٹلز میں کسی بھی قسم کا وائرس کوڈ کیا جاسکتا ہے چاہے وہ کوئی ’’رینسم ویئر‘‘ ہی کیوں نہ ہو جو ایک بار سرگرم ہونے کے بعد سسٹم کا کوئی مخصوص حصہ یرغمال بنالیتا ہے اور اس ڈیٹا تک رسائی کےلیے صارف سے تاوان کی رقم طلب کی جاتی ہے۔

بجلی سے چلنے والا دنیا کا پہلا تجارتی بحری جہاز



ناروے کی ایک کمپنی ماحول دوست اور خاموش بحری جہاز بنارہی ہے جو 2020 تک انسان کے بغیر سفر کرے گا۔ فوٹو:فائل یارا کمپنی، ناروے
ناروے کی ایک کمپنی ماحول دوست اور خاموش بحری جہاز بنارہی ہے جو 2020 تک انسان کے بغیر سفر کرے گا۔ فوٹو:فائل یارا کمپنی، ناروے
ناروے: عالمی سمندروں میں اس وقت سیکڑوں بحری جہاز ایک سے دوسرے ملک جارہے ہیں اور ان کا شور، رسنے والا تیل اور دیگر آلودگیاں سمندروں کو متاثر کررہی ہیں اس کے لیے ناروے کی کمپنی یارا دنیا کا پہلا مکمل طور پر بجلی سے چلنے والا بحری جہاز بنارہی ہے جو کسی حد تک خودکار بھی ہے۔
یارا نے ایک اور ٹیکنالوجی کمپنی کانگسبرگ کے تعاون سے الیکٹریکل شپ یعنی برقی بحری جہاز پر کام شروع کردیا ہے جو اگلے سال کے آخر میں پانی میں اتارا جائے گا۔ اس جہاز کو یارا برکلینڈ کا نام دیا گیا ہے جو سمندر کے کنارے واقع دو شہروں بریوک سے لاروک تک کیمیائی مادے اور مصنوعی کھادیں (فرٹیلائزر) لے کر آئے گا۔ 2018 تک اسے نیم خودکار اور 2020 تک مکمل طور پر آٹومیٹک بنایا جاسکے گا۔ اس طرح اسے چلانے کے لیے کسی انسان کی ضرورت نہیں رہے گی۔ فی الحال ایک سے دوسری جگہ یہ سامان پہنچانے کے لیے 40 ہزار ٹرک استعمال ہورہے ہیں۔
بحری جہاز کے استعمال سے ایک جانب تو کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر زہریلی گیسوں کو کم کرنے میں مدد ملے گی تو دوسری جانب 40 ہزار ٹرکوں کی ضرورت نہیں رہے گی۔ بیٹری سے چلنے والا یہ جہاز کئی طرح سے ماحول دوست ثابت ہوگا۔
اگرچہ سمندروں میں خودکار بحری جہازچلانے میں کئی قانونی اور تکنیکی مشکلات حائل ہیں لیکن ناروے ایک عرصے سے اس پر غور کررہا ہے۔ حال ہی میں ناروے کی ساحلی انتظامیہ اور ناروے میری ٹائم اتھارٹی کے درمیان ایک معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت ایک مخصوص گوشے کو خودکار بحری جہازوں کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔

ناسا کا پلاٹینم اورسونے سے بنے سیارچے پرخلائی جہازبھیجنے کا اعلان

ناسا کے خلائی جہاز ڈسکوری کا ایک خیالی منظر جبکہ نچلے حصے میں سیارچے کی سطح دیکھی جاسکتی ہے۔ فوٹو: بشکریہ جے پی ایل ناسا
ناسا کے خلائی جہاز ڈسکوری کا ایک خیالی منظر جبکہ نچلے حصے میں سیارچے کی سطح دیکھی جاسکتی ہے۔ فوٹو: بشکریہ جے پی ایل ناسا
کیلیفورنیا: ناسا نے 2022 کے موسمِ گرما میں پلاٹینم اور سونے سے بنے سیارچے (ایسٹرائڈ) کی جانب ایک خلائی جہاز روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ناسا کے مطابق سیارچہ سونے اور پلاٹینم سے بنا ہے جس میں فولاد اور جست (نِکل) بھی شامل ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سیارچہ بہت دور نہیں بلکہ مریخ (مارس) اور مشتری ( جوپیٹر) کے درمیان ایک سیارچی پٹی میں گردش کررہا ہے، جو ہمارے سورج کی پیدائش کے ایک کروڑ سال سے بھی کم عرصے میں پیدا ہو گیا تھا۔ ناسا کے مطابق ایسٹرائڈ پر تحقیق سے خود نظامِ شمسی کی تاریخ جاننے میں مدد مل سکے گی۔
ناسا نے سیارچے پر بھیجے جانے والے خلائی جہاز کو ڈسکوری مشن کا نام دیا ہے جسے 2022 میں زمین سے بھیجا جائے گا اور وہ 4 سال بعد 2026 میں ایسٹرائڈ تک پہنچے گا، سیارچے کو ’ 16 سائیکے‘ کا نام دیا گیا ہے جو سونے، چاندی اور پلاٹینم سے مالا مال ہے۔ ماہرین اس کی مالیت کا اندازہ لگانے سے قاصر ہیں تاہم خیال ہے کہ یہ خلا میں تیرتا ہوا خزانہ ہے جس کی مالیت کا تخمینہ 10 ہزار کواڈریلیئن ڈالر لگایا گیا ہے جو 1,000,000,000,000,000,000,0 ڈالر کے برابر ہے۔
ماہرین کے مطابق 16 سائیکے قیمتی دھاتوں کا ایک مجموعہ ہے جو ہمارے پڑوس میں واقع قیمتی ترین شے بھی ہے۔ اسی بنا پر سرمایہ کار حضرات اسے حسرت سے دیکھ رہے ہیں لیکن اس سیارچے کو زمین تک لانا اتنا مہنگا ہو گا کہ خود زمین کا سارا معاشی نظام تباہ ہو کر رہ جائے گا۔
ناسا نے اس سیارچے پر کھدائی اور کان کنی کا تاحال کوئی منصوبہ نہیں بنایا ہے تاہم خلائی کان کنی اور سیارچوں سے سونا نکالنے والی دو کمپنیاں وجود میں آ چکی ہیں۔ ان میں سے ایک ڈیپ اسپیس انڈسٹری جب کہ دوسری پلانیٹری ریسورسز ہے جو 2011 UW158 پر نظر جمائے ہوئے ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا سونے کا سیارچہ ہے جو لندن ٹاور سے دوگنا بڑا ہے اور اس پر 5 ٹریلین ڈالر کا سونا موجود ہے۔

خون میں پلیٹلیٹس بنانے والا ’ماسٹر سوئچ‘ دریافت

اس دریافت کی بدولت مصنوعی ذرائع سے پلیلیٹس حاصل کرتے ہوئے لاکھوں مریضوں کا انحصار عطیہ کردہ خون پر کم کیا جاسکے گا۔ (فوٹو: فائل)
اس دریافت کی بدولت مصنوعی ذرائع سے پلیلیٹس حاصل کرتے ہوئے لاکھوں مریضوں کا انحصار عطیہ کردہ خون پر کم کیا جاسکے گا۔ (فوٹو: فائل)
ورجینیا: طبی ماہرین نے ایک ایسا ’’ماسٹر سوئچ‘‘ دریافت کرلیا ہے جو ضرورت پڑنے پر مختلف اقسام کے پلیٹلیٹس تیار کرسکتا ہے اور یوں خون میں پائے جانے والے ان اہم خلیات کی کمی پوری کرسکتا ہے۔
واضح رہے کہ ہمارے خون میں سرخ خلیات کے علاوہ ’’پلیلٹیٹس‘‘ (Platelets) کہلانے والے خلیات بھی پائے جاتے ہیں جو ضرورت پڑنے پر خون کے لوتھڑے بنا کر زخم سے خون کا بہاؤ روک کر ہماری جان بچاتے ہیں۔ نوزائیدہ بچوں کے خون میں پائے جانے والے پلیٹلیٹس کی جسامت کم ہوتی ہے جبکہ بڑی عمر کے لوگوں میں یہ نسبتاً زیادہ جسامت کے حامل ہوتے ہیں۔
خون کے سرخ خلیات کی طرح پلیٹلیٹس بھی ہڈی کے گودے میں بنتے ہیں لیکن سرخ خلیات کے مقابلے میں ان کی مقدار بہت کم ہوتی ہے جبکہ اب تک انہیں جسم سے باہر، مصنوعی ماحول میں تیار کرنے کی کوششیں بھی کسی خاص کامیابی سے ہم کنار نہیں ہوسکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک پلیٹلیٹس کی تمام ضرورت عطیہ کردہ خون سے ان خلیات کو علیحدہ کرکے پوری کی جارہی ہے۔
یونیورسٹی آف ورجینیا اسکول آف میڈیسن میں ماہرین کی ایک ٹیم نے اس مسئلے کا حل ایک ’’ماسٹر سوئچ‘‘ کی صورت میں دریافت کرلیا ہے جو نہ صرف پلیٹلیٹس کی پیداوار بڑھا سکتا ہے بلکہ ضرورت پڑنے پر نوزائیدہ بچوں یا بالغوں کےلیے جداگانہ اقسام کے پلیٹلیٹس بھی تیار کرسکتا ہے۔
یہ دریافت اس لحاظ سے اہم ہے کیونکہ خون کی بیماریوں میں مبتلا افراد کے علاوہ قبل از وقت پیدا ہوجانے والے بچوں کو بھی پلیٹلیٹس کی ضرورت پڑتی ہے جسے پورا کرنا اکثر اوقات بہت مشکل ثابت ہوتا ہے۔
ہڈی کے گودے میں موجود خلیات کا حیاتی کیمیائی ’’ماسٹر سوئچ‘‘ یہی کام کرتا ہے جو صحت مند جسم میں بہ وقتِ ضرورت پلیٹلیٹس کی زیادہ مقدار بنانے کا باعث بنتا ہے۔ اس دریافت کے بعد جب یہ سوئچ پیٹری ڈش میں رکھے گئے ہڈی کے گودے سے لیے گئے خلیات پر آزمایا گیا تو اس سے زیادہ مقدار میں پلیٹلیٹس بننے لگے جبکہ وقت بھی خاصا کم صرف ہوا۔ یہی نہیں بلکہ تھوڑے سے مختلف حالات میں اس سوئچ نے اپنی کارکردگی میں تبدیلی کرتے ہوئے ایسے پلیٹلیٹس بنانا شروع کردیئے جو نوزائیدہ بچوں کے خون میں پائے جاتے ہیں۔
ماہرین کو امید ہے کہ اس ماسٹر سوئچ کا طریقہ کار بہتر طور پر سمجھنے کے بعد خون کی مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد کا علاج بھی ہوسکے گا اور متبادل ذرائع سے پلیٹلیٹس کی زیادہ مقدار فراہم کرتے ہوئے عطیہ کردہ خون پر انحصار بھی کم سے کم کیا جاسکے گا۔
اس تحقیق اور دریافت کی تفصیلات ’’جرنل آف کلینیکل انویسٹی گیشن‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔