پیر، 10 اپریل، 2017

خراب دودھ کی نشاندہی کرنے والا ’’نینو اسٹیکر‘‘ تیار


اس اسٹیکر کو دودھ کے ڈبوں کے اندر لگا کر اس کی افادیت معلوم کی جاسکے گی، ماہرین،
فوٹو: بشکریہ ٹرینٹی کالج ، ڈبلن
اس اسٹیکر کو دودھ کے ڈبوں کے اندر لگا کر اس کی افادیت معلوم کی جاسکے گی، ماہرین، فوٹو: بشکریہ ٹرینٹی کالج ، ڈبلن
ڈبلن: ہمیں اس وقت بہت غصہ آتا ہے جب چائے اور کافی میں دودھ ڈالنے کے بعد اس کا پہلا گھونٹ بھرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ خراب دودھ نے مشروب برباد کردیا لیکن اب ماہرین نے اس کا بھی حل تلاش کرلیا ہے۔
ماہرین نے ایک ایسا نینو اسٹیکر بنایا ہے جو فوری طور پر دودھ کے خراب معیار سے آگاہ کرسکتا ہے اور اس سے چائے اور کافی خراب ہونے سے بچ جائے گی بلکہ خصوصاً چھوٹے بچے خراب دودھ پینے سے محفوظ رہیں گے۔
ٹرینٹی کالج ڈبلن کے ماہرین نے اسے تیار کیا ہے اور اسے دودھ کے ڈبوں کے اندر لگا کر اس کی افادیت معلوم کی جاسکے گی۔ نینو اسٹیکر اتنا باریک ہے کہ اسے دو جہتی (ٹو ڈائمینشن) میں بنایا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق گریفین، فاسفورین اور مولبڈینائٹ نامی مادوں سے باریک سرکٹ کاڑھے جاسکتے ہیں، ان کی مدد سے اشیائے خوردونوش کے اسمارٹ پیکٹ، کرنسی نوٹ اور ای پاسپورٹ بھی بنائے جاسکتے ہیں۔
اسے بنانے والے ماہرین نے بتایا کہ ان کی ایجاد معمولی تبدیلی سے کسی کارٹن کی معلومات اسمارٹ فون کو بھیج سکتی ہے۔ ماہرین نے انک جیٹ پرنٹر کے ذریعے ٹرانسسٹر چھاپے جو سرکٹ میں کسی سوئچ کی طرح کام کرسکتے ہیں۔ ماہرین پرامید ہیں کہ اس طرح کی باریک نینوپرتوں کو کئی اہم کاموں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

پاکستانی طالب علموں نے 3 گھنٹے میں مکان تیارکرڈالا


پاکستانی طالبعلموں کا بنایا ہوا گھر جسے صرف تین گھنٹے میں ڈھائی لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جا سکتا ہے۔
فوٹو: بشکریہ ٹیم ماڈیولس ٹیک
پاکستانی طالبعلموں کا بنایا ہوا گھر جسے صرف تین گھنٹے میں ڈھائی لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جا سکتا ہے۔ فوٹو: بشکریہ ٹیم ماڈیولس ٹیک
 کراچی: پاکستان کے تین طالبعلموں نے بے گھر افراد کی مدد کے جذبے کے تحت دن رات محنت کر کے ایسا قابل رہائش مکان تیار کر لیا ہے جس کی قیمت صرف ڈھائی لاکھ روپے ہے اور اسے چند گھنٹوں میں تعمیر کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں گھر بنانا انتہائی کٹھن مرحلہ ہوتا ہے اور اس میں لاکھوں روپے مالیت کے ساتھ کئی مہینے بھی صرف ہو جاتے ہیں جب کہ غریب افراد کے لئے تو مکان کی تعمیر میں سال یا اس سے بھی کچھ زیادہ عرصہ لگ جاتا ہے لیکن این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں سوِل انجینئرنگ سے وابستہ تین طالبعلموں نبیل صدیقی، یاسین خالد اور محمد ثاقب نے اس کا ایک دلچسپ اور انتہائی آسان حل تلاش کر لیا ہے۔
این ای ڈی کے تینوں طالبعلم پاکستان میں دہشتگردی سے متاثرہ افراد اور جنگ زدہ شام میں مہاجرین کے لیے فکرمند رہتے تھے اور اسی جذبے کے تحت اپنے فائنل ایئر پروجیکٹ کے طور پر انہوں نے کم خرچ اور فوری مکان تیار ہونے والا ایسا مکان تیار کیا جسے عام گھروں کی طرح بنایا اور توڑا جا سکتا ہے اور اسے با آسانی ایک سے دوسری جگہ پر منتقل بھی کیا جا سکتا ہے۔ ان نوجوانوں کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک مکمل گھر ہے جو 10 برس تک قائم رہ سکتا ہے۔
پروجیکٹ کے ایک رکن نبیل صدیقی نے ایکپریس ٹریبیون کو بتایا کہ ’ہم ایسی شے بنانا چاہتے تھے جس کے ذریعے حقیقی دنیا میں لوگوں کے مسائل حل کئے جاسکیں لیکن اسے عملی جامہ پہنانا اتنا ہی مشکل ثابت ہوا یہاں تک کے این ای ڈی یونیورسٹی کے اساتذہ نے بھی اسے ایک دیوانے کی بڑ قرار دیا۔
یاسین خالد نے بتایا کہ ’جب ہم نے گھر کا ڈیزائن جامعہ کے پروفیسروں کے سامنے رکھا تو ہر ایک نے اسے ناقابلِ عمل سمجھا کیونکہ قلیل وقت میں تحقیق، ڈیزائن اور تعمیراتی مٹیریل پر کام کرنا ممکن نہ تھا تاہم ایک استاد نے ہمارے حوصلہ افزائی کی اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لئے ہماری مدد کی۔
پروجیکٹ میں شامل تیسرے طالب علم ثاقب کا کہنا تھا کہ اس مکان کی تعمیر کے لئے اچھی خاصی رقم درکار تھی اورہمارا خیال تھا کہ ہمیں اسٹیل اور سیمنٹ کمپنیوں سے اپنے اس منصوبے کے لیے مدد مل جائے گی۔ ہم خوشی اور جوش سے ان کے پاس گئے لیکن نیک خواہشات لیے خالی ہاتھ گھر لوٹے، کوئی بھی طالبعلموں کو رقم نہیں دینا چاہتا تھا لیکن اس کے باوجود ہم نے ہمت نہ ہاری اور پروجیکٹ پر کام کا فیصلہ کیا۔
خالد کے مطابق ہم نے والدین سے پیسے لیے، اپنی اشیا فروخت کیں اور جیب خرچ کے پیسے بچا کر پروجیکٹ کا تعمیراتی سامان خریدا، اس کے بعد ایک دوست کے گھر کے عقبی (بیک یارڈ) لان میں کام شروع کر دیا، ابتدا میں خطیر رقم سے غلط مٹیریل آ گیا لیکن باہمت ٹیم نے اپنی غلطیوں سے سیکھا اور اس پر کام کرنے والے مزدوربھی نہیں جانتے تھے کہ آخر کیا بنانا ہے۔
اس کے بعد یہ منصوبہ کراچی میں واقع ایک ٹیکنالوجی انکیوبیٹر ادارے کو پیش کیا گیا جہاں خوش قسمتی سے اس پروجیکٹ کو منظور کرلیا گیا جس کے نتیجے میں طالبعلموں نے موڈیولس ٹیک نامی کمپنی قائم کی اور مختلف اداروں سے رابطے شروع کر دیئے۔
نیسٹ انکیوبیٹر پر رہنمائی سے معلوم ہوا کہ فوری طور پر تیار ہونے والے اس گھر کو مزدور کالونی، سیاحتی لاجز، فوجی کیمپ، کلینک، اسکول اور لوگوں کو فوری پناہ دینے کے لیے تیار کیا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک مکمل گھر ہے نہ کہ کوئی عارضی پناہ گاہ ہے۔

شہد کی مکھیوں کی نظر انسانی سوچ سے کئی گنا زیادہ تیز ہوتی ہے


اپنی اسی تیز نظر کی بدولت شہد کی مکھیوں کو حملہ آور پرندوں اور جانوروں سے بچنے کا بہتر موقعہ ملتا ہے، ماہرین، فوٹو؛ فائل
اپنی اسی تیز نظر کی بدولت شہد کی مکھیوں کو حملہ آور پرندوں اور جانوروں سے بچنے کا بہتر موقعہ ملتا ہے، ماہرین، فوٹو؛ فائل
ایڈیلیڈ: آسٹریلوی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ شہد کی مکھی کی نظر ہمارے سابقہ تصورات سے کہیں زیادہ تیز ہوتی ہے جس کی مدد سے وہ حملہ آور کو شناخت کر کے تیزی سے فرار ہوجاتی ہیں۔
ایڈیلیڈ یونیورسٹی میں ماہرینِ حیاتیات نے مقامی طور پر پائی جانے والی شہد کی مکھیوں کا باریک بینی سے مطالعہ کیا اور مختلف نوعیت کے مصنوعی حالات کے تحت یہ جاننے کی کوشش کی کہ شہد کی مکھیاں اپنے ارد گرد کی اشیاء کو کس حد تک واضح دیکھ سکتی ہیں۔
کئی مہینوں تک جاری رہنے والے اس مطالعے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ شہد کی مکھیوں کی نظر ہماری سابقہ معلومات کے مقابلے میں کم از کم 30 فیصد زیادہ تیز ہوتی ہے اور وہ اپنے سامنے تقریباً 2 فٹ کی دوری پر موجود کسی چیز کو بالکل صاف صاف دیکھ سکتی ہیں۔ اگرچہ دائیں بائیں اور اوپر نیچے موجود چیزیں انہیں قدرے دھندلی نظر آتی ہیں لیکن پھر بھی وہ اتنی واضح ضرور ہوتی ہیں کہ ان میں حرکت پر شہد کی مکھیاں اپنے بچاؤ کے لیے فوری طور پر اُڑ جاتی ہیں۔
شہد کی مکھیوں میں یہ تیز نظر اس قدرتی صلاحیت کے علاوہ ہے جس کے تحت وہ ہوا میں انتہائی معمولی ارتعاش (تھرتھراہٹ) تک کو محسوس کرسکتی ہیں اور اپنی طرف بڑھنے والی کسی چیز کو دیکھے بغیر ہی اس سے ہوشیار ہوجاتی ہیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اپنی اسی تیز نظر کی بدولت شہد کی مکھیوں کو حملہ آور پرندوں اور جانوروں سے بچنے کا بہتر موقع ملتا ہے اور وہ جان بچا کر فرار ہونے میں آسانی سے کامیاب ہوجاتی ہیں۔ اس تحقیق کی رپورٹ ’نیچر‘ پبلشنگ گروپ کے ریسرچ جرنل ’’سائنٹفک رپورٹس‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ تمام اقسام کی مکھیوں اور بیشتر کیڑے مکوڑوں کی آنکھ ہزاروں باریک باریک عدسوں پر مشتمل ہوتی ہے جسے ’’مرکب آنکھ‘‘ (کمپاؤنڈ آئی) بھی کہا جاتا ہے۔ اپنی مرکب آنکھ کی مدد سے کیڑے ایک وسیع منظر پر آسانی سے نظر رکھ سکتے ہیں جب کہ کسی حملہ آور یا شکاری سے بچ کر تیزی سے فرار بھی ہوسکتے ہیں۔

آپ یوٹیوب سے پیسہ کما سکتے ہیں مگر...


اب کسی بھی نئے چینل پر بطورِ خاص نظر رکھی جائے گی کہ وہ اوریجنل ویڈیوز ہی شیئر کرارہا ہے یا نہیں۔ (فوٹو: فائل)
اب کسی بھی نئے چینل پر بطورِ خاص نظر رکھی جائے گی کہ وہ اوریجنل ویڈیوز ہی شیئر کرارہا ہے یا نہیں۔ (فوٹو: فائل)
سلیکان ویلی: مشہور ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یوٹیوب نے شرط لگادی ہے کہ کسی بھی یوٹیوب چینل کا تخلیق کار اپنے چینل سے صرف اسی وقت آن لائن اشتہارات کے ذریعے پیسے کماسکے گا کہ جب اس کے ویوز کی تعداد 10 ہزار یا اس سے زیادہ ہوجائے گی۔
اس شرط کا مقصد ان لوگوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے جو ’’یوٹیوب مونیٹائزیشن پروگرام‘‘ سے غلط طور پر فائدہ اٹھاتے ہوئے مال بنانے میں مصروف ہیں۔ واضح رہے کہ اس پروگرام کے تحت کسی یو ٹیوب ویڈیو پر وقفے وقفے سے (کونے میں) ’ایڈسینس‘ اشتہارات ظاہر ہوتے ہیں اور جو ویڈیو جتنی زیادہ مرتبہ دیکھی جاتی ہے، اس کا تخلیق کار بھی ان اشتہارات کے ذریعے اتنی ہی زیادہ رقم کماسکتا ہے۔
اگرچہ اس پروگرام کے ذریعے پیسہ کمانے کےلیے ویڈیو کے ’اوریجنل‘ ہونے کی شرط پہلے دن سے موجود ہے لیکن لالچی افراد اور اداروں نے نہ صرف چھوٹی چھوٹی ویڈیو کلپس چوری کرکے جعلی ’اوریجنل ویڈیوز‘ بنانا شروع کردیں بلکہ مختلف جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے نت نئے یوٹیوب چینل بناکر ویسی ہی ویڈیوز ان پر ڈالنا شروع کردیں تاکہ کم وقت میں زیادہ سے زیادہ پیسہ کماسکیں۔
اس رجحان کی حوصلہ شکنی کرنے اور اصل ویڈیوز کے تخلیق کاروں کو جائز طور پر معاوضہ دینے کےلیے یوٹیوب نے فیصلہ کیا ہے کہ اب صرف اسی یوٹیوب چینل کو مونیٹائزیشن پروگرام میں شمولیت کا اہل قرار دیا جائے گا جس پر ویوز کی مجموعی تعداد 10 ہزار یا اس سے زیادہ ہوگی۔
اس بارے میں یوٹیوب وائس پریزیڈینٹ پروڈکٹ مینجمنٹ ایریئل بیرڈین نے اپنے ایک تازہ بلاگ میں لکھا ہے کہ اب کسی بھی نئے چینل پر بطورِ خاص نظر رکھی جائے گی کہ وہ اوریجنل ویڈیوز ہی شیئر کرارہا ہے یا نہیں؛ اور اگر وہ چینل 10 ہزار ویوز ہوجانے تک یوٹیوب کے قواعد و ضوابط کی پابندی کرتا رہے گا تو پھر اس کی ویڈیوز پر اشتہارات بھی دکھائے جائیں گے اور ان ویوز پر چینل کے مالک/ تخلیق کار کو معاوضہ بھی دیا جائے گا۔

جمعہ، 7 اپریل، 2017

گوگل نے انٹرنیٹ پر چلنے والی ’’جعلی خبروں‘‘ کا توڑ نکال لیا


گُوگل نے جعلی خبروں کو جانچنے کا ایک ٹیگ متعارف کرایا ہے تاکہ مستند خبروں کو افواہوں سے الگ کیا جاسکے، فوٹو؛ فائل
گُوگل نے جعلی خبروں کو جانچنے کا ایک ٹیگ متعارف کرایا ہے تاکہ مستند خبروں کو افواہوں سے الگ کیا جاسکے، فوٹو؛ فائل
سان فرانسسكو: انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے فروغ سے پوری دنیا میں افواہوں، فوٹو شاپ سے تبدیل شدہ تصاویر اور گمراہ کن خبروں کا بازار گرم ہے جن پر پڑھے لکھے لوگ بھی اعتبار کرلیتے ہیں لیکن اب گوگل نے اس کا حل پیش کردیا ہے۔
دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گُوگل نے جعلی خبروں کو جانچنے کا ایک ٹیگ متعارف کرایا ہے تاکہ مستند خبروں کو افواہوں سے الگ کیا جاسکے۔ اس سروس میں گُوگل پولیٹیفیکٹ اور اسنوپ نامی تھرڈ پارٹی کمپنیوں سے مل کر کام کرے گا اور اس کے لیے ایک کروم (گُوگل ویب براؤزر) ایکسٹینشن پہلے ہی متعارف کرایا جاچکا ہے۔ اس کے ذریعے گُوگل اور دیگر کمپنیاں صحافت کے معیار کو جانچیں گی اور مختلف خبری ذرائع کی صداقت معلوم کریں گی۔
دلچسپ امریہ ہے کہ اس طرح خبروں کی ادارت (ایڈینٹگ) بھی کی جاسکے گی لیکن یہ کام فردِ واحد کی بجائے پوری برادری انجام دے گی۔ اس میں ایک آپشن اور بھی ہے جس کے تحت کئی صحافی اور لکھاری کسی متن کے مندرجات پر نظر رکھ سکیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ رپورٹر حضرات وکی پیڈیا کی طرح لکھے جانے والے مندرجات تک رسائی حاصل کرکے اسے بہتر بناسکیں گے۔
فیکٹ چیک ٹیگ ہر جگہ دکھائی دینے کی بجائے صرف بریکنگ نیوز اور براؤزنگ کے وقت ظاہر ہوں گے۔ لیکن گُوگل حقائق کی تصدیق خود کرنے کی بجائے اس پر ماہرین کی رائے شامل کرے گا اور اس سے لوگوں میں خبر کی صداقت اور سچائی جاننے میں مدد ملے گی۔
اگرچہ گُوگل نے گزشتہ برس اکتوبر میں یہ فیچر پیش کیا تھا لیکن اس وقت یہ صرف امریکا اور برطانیہ کے لیے تھا اور اب پوری دنیا اس سے استفادہ کرسکتی ہے۔ اس سال فروری میں فرانس اور دیگر ممالک کے 37 صحافتی اداروں نے گُوگل کے تعاون سے ’’کراس چیک‘‘ نامی ایک سروس شروع کی تھی جس کا مقصد فرانسیسی صدارتی انتخابات میں غلط رپورٹنگ اور افواہوں پر نظر رکھنا تھا۔
اس کے علاوہ فیس بک نے بھی جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے آن لائن مہم اور کام شروع کردیا ہے۔ فیس بک نے اپنے پلیٹ فارم پر ’’جعلی خبروں کی نشاندہی‘‘ کا طریقہ بیان کردیا ہے۔

سمندری پانی کو میٹھا بنانے والی ’نینو چھلنی‘ ایجاد کرلی گئی


اس میں سوراخوں کی چوڑائی بطور خاص ہے کہ ان میں سے پانی کے سالمات تو گزر سکتے ہیں لیکن نمک کے سالمات نہیں۔ (فوٹو: مانچسٹر یونیورسٹی)
اس میں سوراخوں کی چوڑائی بطور خاص ہے کہ ان میں سے پانی کے سالمات تو گزر سکتے ہیں لیکن نمک کے سالمات نہیں۔ (فوٹو: مانچسٹر یونیورسٹی)
مانچسٹر: برطانوی کیمیا دانوں کی ایک ٹیم نے ’’گریفین‘‘ نامی مادّہ استعمال کرتے ہوئے ایسی چھلنی ایجاد کرلی ہے جس کے سوراخ صرف ایک نینومیٹر جتنے چوڑے ہیں جب کہ وہ سمندر کے شدید نمکین پانی تک کو بڑی تیزی سے صاف کرکے میٹھا اور پینے کے قابل بناسکتی ہے۔
’’گریفین‘‘ دراصل کاربن کی ایک بہروپی شکل ہے جس میں کاربن کے ایٹم کسی بڑی سالماتی چادر (مالیکیولر شیٹ) کی شکل میں ایک دوسرے سے منسلک ہوتے ہیں۔ اپنی دریافت سے لے کر اب تک گریفین کو متعدد تحقیقی اور اطلاقی مقاصد میں استعمال کیا جاچکا ہے جب کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس سے وابستہ امکانات کی دنیا وسیع سے وسیع تر ہوتی جارہی ہے۔
اسی تسلسل میں یونیورسٹی آف مانچسٹر کے سائنسدانوں نے پانی کی صفائی میں گریفین آکسائیڈ استعمال کرتے ہوئے نینومیٹر پیمانے کے سوراخوں والی چھلنیاں بنانے کا فیصلہ کیا تاہم قباحت یہ تھی کہ جب گریفین آکسائیڈ کو پانی میں رکھا جاتا ہے تو اس کی سالماتی چادر پھول جاتی ہے جس کے نتیجے میں اس کے شگاف بھی زیادہ چوڑے ہوجاتے ہیں جن میں سے نمک کے سالمات بہ آسانی گزرتے چلے جاتے ہیں۔ یعنی یہ پانی کو نمک سے پاک کرنے میں بالکل بے کار ہوجاتی ہے۔
یہ مسئلہ حل کرنے کے لیے ماہرین نے گریفین پر ’’ایپوکسی ریزن‘‘ کہلانے والے ایک خاص مادّے کی بیرونی پرت چڑھادی جس نے اسے پانی پڑنے پر پھولنے سے باز رکھا۔ تجربات کے دوران اس ’’نینو چھلنی‘‘ نے نمکین پانی کو بڑی تیزی سے اور مکمل طور پر صاف کرکے پینے کے قابل بنایا۔
ماہرین کا کہنا ہےکہ پانی اور نمک کے سالمات (مالیکیولز) کی جسامت میں بہت معمولی سا فرق ہوتا ہے جسے مدنظر رکھتے ہوئے اس ’’گریفین نینو چھلنی‘‘ میں سوراخوں کی چوڑائی بطورِ خاص اتنی رکھی گئی کہ ان میں سے پانی کے سالمات تو گزر سکتے ہیں لیکن نمک کے سالمات نہیں۔ اس نینو چھلنی کا ایک اور بڑا فائدہ یہ ہے کہ اگر اس کے ایک طرف نمکین پانی کا دباؤ بڑھایا جائے تو دوسری طرف سے صاف پانی خارج ہونے کی رفتار بھی بڑھ جاتی ہے جب کہ اس پورے عمل کے دوران نینو چھلنی کے سوراخ بھی نمک کے سالمات سے بند نہیں ہوتے۔
یوں تو سمندر کے نمکین پانی کو صاف اور پینے کے قابل بنانے کے لیے ’’ریورس اوسموسس‘‘ اور اسی قسم کے دوسرے طریقے برسوں سے موجود ہیں لیکن وہ سب کے سب اوّل تو بہت مہنگے ہیں اور دوسرے وہ بہت پیچیدہ بھی ہیں۔ لیکن گریفین پر مشتمل نینو چھلنی ان سب سے کہیں بہتر، سادہ اور کم خرچ بھی ہے جو خاص طور پر غریب ممالک میں آلودہ پانی کو صاف کرنے میں بہت مدد کرسکتی ہے۔ اگلے مرحلے میں ماہرین اسے قابلِ عمل واٹر فلٹر میں بدلنے کی تیاریاں کررہے ہیں۔ اس ایجاد کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’نیچر نینوٹیکنالوجی‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

جمعرات، 6 اپریل، 2017

الاسکا کے گلیشیئر 900 سال کی کم ترین سطح تک جا پہنچے


الاسکا کے جنوب میں کولمبیا گلیشیئر سے وابستہ ایک برف کا ٹکڑا۔ فوٹو: بشکریہ وکی میڈیا کامنز
الاسکا کے جنوب میں کولمبیا گلیشیئر سے وابستہ ایک برف کا ٹکڑا۔ فوٹو: بشکریہ وکی میڈیا کامنز
اوریگن، امریکہ: گلوبل وارمنگ کی وجہ سے پوری دنیا کے گلیشیئر تیزی سے ختم ہورہے ہیں جنہیں گلیشیئر ریٹریٹ کہا جاتا ہے جب کہ ماحولیاتی تبدیلی سے الاسکا کے گلیشیئر 900 سال کی کم ترین سطح تک جا پہنچے ہیں۔
اس ڈرامائی صورتحال کا انکشاف  اوریگن اسٹیٹ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے کیا۔ 2004 میں سائنسدانوں کی ٹیم نے الاسکا کے جنوبی کنارے پر پرنس ولیم ساؤنڈ کے مقام پر کھدائی شروع کی تھی، یہ وہ جگہ ہے جہاں سے گلیشیئر کا پانی بہتا ہے، کھدائی کے بعد سائنسدانون  نے 1600 سال تک ہونے والے پانی کے بہاؤ کی درجہ بندی کی ہے۔
اب انکشاف ہوا کہ امریکی ریاست الاسکا کے مشہور گلیشیئر کم ہوتے ہوتے اس مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ یہ 900 سال کے مقابلے میں ایک ریکارڈ ہے۔ یعنی آج کے گلیشیئر گزشتہ 9 صدیوں کے مقابلے میں کم ترین سطح پر ہیں اور بری خبر یہ ہے کہ اس پگھلاؤ سے سمندری سطح میں خاطر خواہ اضافہ ہورہا ہے۔
اس کے علاوہ قدیم درختوں کے اندر بننے والے دائروں اور ان میں موجود موسمیاتی شواہد بھی نوٹ کیے گئے ہیں۔ اب اس کا موازنہ زمینی کھدائی سے ملنے والی مٹی سے کیا تو انکشاف ہوا کہ 1910 اور 1980 کے درمیان یہاں کا اوسط درجہ حرارت ایک درجے سینٹی گریڈ بڑھا اور یوں 1980 کے بعد سے کولمبیا گلیشیئر بہت تیزی سے پگھلا جس کی وجہ انسانی سرگرمیاں ہیں۔
دیگر ماہرین نے اس دریافت پر کہا ہے کہ اگر درجہ حرارت اوسط سے ایک یا دو درجے سینٹی گریڈ بڑھ جائے تو اس کے گلیشیئر پر تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

فیس بک ایپ پر’’راکٹ آئی کن‘‘ کیا ہے؟


راکٹ آئی کن کے تحت آپ ایسے لوگوں کی مشہور پوسٹ دیکھ سکیں گے جو آپ کے دوست نہیں اور نہ ہی پسند کردہ ہیں، فوٹو؛ فائل
راکٹ آئی کن کے تحت آپ ایسے لوگوں کی مشہور پوسٹ دیکھ سکیں گے جو آپ کے دوست نہیں اور نہ ہی پسند کردہ ہیں، فوٹو؛ فائل
 لندن: کچھ ہفتوں سے بعض فیس بک صارفین کے موبائل فون میں فیس بک کی ایپ پر ایک راکٹ آئی کن دکھائی دے رہا ہے اور صارفین اس کا مقصد جاننے کے خواہاں ہیں۔
ایک راکٹ کی شکل کا یہ آئی کن نیوز فیڈ آئی کن کے پہلو میں نمایاں ہے اور اس پر کلک کرکے آپ ایسے افراد اور اداروں کی مشہور ترین پوسٹ اور نیوزفیڈز دیکھ سکتے ہیں جنہیں آپ نے کبھی لائیک نہیں کیا اور نہ ہی کسی کو دوست بنایا۔ یہ آئی کن کبھی غائب اور کبھی نمایاں ہوجاتا ہے اور امریکا برطانیہ سمیت پاکستانی صارفین بھی اس کا مشاہدہ کررہے ہیں۔
راکٹ فیڈ میں مقامی پوسٹ دیکھی جاسکتی ہیں جو آپ کے اطراف یا خطے میں اس وقت مقبول ترین ہوتی ہیں یا ان پر بحث کی جارہی ہوتی ہے۔ راکٹ پوسٹس کی دوسری خاص بات یہ ہے کہ اس میں آپ کی دلچسپی کی پوسٹ نمودار ہوتی ہیں اور اس طرح یہ آپ کے لائیکس اور ہم خیال دوستوں کی رفاقت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نیوز فیڈ انسٹا گرام کی ایکسپلور ٹیب کی طرح ہیں اور کمپنی کے خاص الگورتھم آپ کو آپ کی پسند اور معیار کی پوسٹ دکھاتے ہیں۔
واضح رہے کہ فیس بک نے اپنے مخصوص لیکن بہت محدود صارفین کو پہلے بھی اس طرح کی پوسٹ آئکن سے متعارف کرایا تھا۔

سورج کی روشنی سے براہِ راست کھاد بنانے والا بایونک پتّا


ہارورڈ یونیورسٹی میں بنایا گیا مصنوعی نظام فصلوں کی زرخیزی بڑھا کر غربت اور بھوک کا خاتمہ کرسکتا ہے، فوٹو؛ فائل
ہارورڈ یونیورسٹی میں بنایا گیا مصنوعی نظام فصلوں کی زرخیزی بڑھا کر غربت اور بھوک کا خاتمہ کرسکتا ہے، فوٹو؛ فائل
میسا چیوسیٹس: دنیا کی معروف ترین ہارورڈ یونیورسٹی نے ایک ایسا ’’بایونک پتّا‘‘ بنانے کا اعلان کیا ہے جو سورج کی روشنی کو فرٹیلائزر میں تبدیل کرکے دنیا سے بھوک کا خاتمہ کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
اس ’بایونک لیف‘ میں ایک مصنوعی نظام موجود ہے جوعین ضیائی تالیف (فوٹو سنھتے سز) کی نقل کرتا ہے۔ اس عمل سے پودے سورج کی روشنی سے توانائی بناتے ہیں جب کہ یہ نظام اسی روشنی سے مصنوعی کھاد تیار کرتا ہے۔ مستقبل قریب میں اسے فصلوں کی پیداوار بڑھانے اور غریب ممالک میں بھوک اور غربت کے خاتمے میں استعمال کیا جاسکے گا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ان کی ایجاد بیکٹیریا، سورج کی روشنی، پانی اور ہوا سے عین اسی مٹی میں فرٹیلائزر بنا کر اگلے سبز انقلاب کی راہ ہموار کرے گی۔ مصنوعی پتّا بایوکیمسٹری کے ماہرین نے تیار کیا ہے۔ اس سے قبل وہ ایسا مصنوعی پتّا بناچکے ہیں جو اصل پتے سے زیادہ اور بہتر انداز میں ضیائی تالیف کے عمل کو ممکن بناتا ہے۔
اس پتے کو جانچنے کے لیے ماہرین نے اس مٹی میں امونیا کی مقدار کو نوٹ کیا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے صرف بیکٹیریا، سورج کی روشنی، پانی اور ہوا سے بنے فرٹیلائزر پر مولی اُگانے کا تجربہ کیا ۔ مصنوعی پتے سے بنے فرٹیلائزر سے مولیوں کے وزن میں 150 فیصد تک اضافہ نوٹ کیا گیا۔ اگلے مرحلے میں شاید بھارت، پاکستان اور افریقی ممالک کے کسان خود اپنی زرخیز کھاد تیار کرسکیں گے۔
اس تحقیق کی تفصیلات جلد ہی امریکن کیمیکل سوسائٹی کے سالانہ اجلاس میں پیش کی جائیں گی۔ یہ مشینی پتّا باغ میں لگے پتے کی طرح کام کرتا ہے اور سورج کی روشنی میں ہائیڈروجن اور آکسیجن خارج کرتا ہے۔ اس کے بعد بایونک پتے میں ایک قسم کا بیکٹیریا ’رالسٹونیا یوٹروفا‘ شامل کیا جاتا ہے جو ہائیڈروجن استعمال کرتے ہوئے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرکے مائع فرٹیلائزر تیار کرتا ہے۔ اب یہ ٹیم ایک اور بیکٹیریا استعمال کرتے ہوئے فضا سے نائٹروجن کشید کرکے فرٹیلائزر تیار کرنے پر کام کررہی ہے۔

واٹس ایپ کا نیا آن لائن منی ٹرانسفر فیچر متعارف کرانے پر غور


نئے فیچر کے تحت اسمارٹ فون کے زریعے رقم ایک بینک سے دوسرے بینک میں منتقل کی جاسکے گی۔  فوٹو؛ فائل
نئے فیچر کے تحت اسمارٹ فون کے زریعے رقم ایک بینک سے دوسرے بینک میں منتقل کی جاسکے گی۔ فوٹو؛ فائل
واٹس ایپ انتظامیہ نیا فیچر متعارف کرانے پر غور کررہی جس کے تحت آن لائن پیسے ٹرانسفر کیے جاسکیں گے۔
رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ انتظامیہ نیا فیچر متعارف کرانے پر غور کررہی جس کے تحت اب ایک بینک سے دوسرے بینک میں آن لائن پیسے ٹرانسفر کیے جاسکیں گے، نئے فیچر پر کام کے لیے بھارت میں ڈیجیٹل ٹرانزیکشن کے سربراہ کی تعیناتی پر بھی غور ہورہا ہے جو اسمارٹ فون کے ذریعے رقم ایک بینک سے دوسرے بینک میں منتقل کرسکیں گے۔
رپورٹ کے مطابق نئے فیچر کے حوالے سے خبریں اس وقت سامنے آئیں جب واٹس ایپ کے شریک بانی برین ایکٹن نے دورہ بھارت کے دوران بھارتی حکومت کے عہدیداروں سے ملاقات کی اور واٹس ایپ سروس کو ڈیجیٹل کامرس میں مربوط طریقے سے استعمال کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔
رپورٹس کے مطابق ابتدائی طور پر واٹس ایپ فیچر ترقی پزیر ممالک میں متعارف کرایا جائے گا جہاں لوگوں کی بڑی تعداد موبائل فون استعمال کرتی ہے جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔

پاکستانی نوجوانوں نے امریکا میں ایجادات کا مقابلہ جیت لیا


پاکستانی طالبعلم اول انعام جیتنے کے بعد سبز ہلالی پرچم کے ساتھ مسرور دکھائی دے رہے ہیں۔ نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ، اسلام آباد کے ہونہار طالبعلموں نے رعشہ اور کپکپاہٹ دور کرنے والا ایک دستی آلہ بنایا ہے۔ فوٹو: بشکریہ اسٹینفرڈ سینٹر ٹویٹ
پاکستانی طالبعلم اول انعام جیتنے کے بعد سبز ہلالی پرچم کے ساتھ مسرور دکھائی دے رہے ہیں۔ نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ، اسلام آباد کے ہونہار طالبعلموں نے رعشہ اور کپکپاہٹ دور کرنے والا ایک دستی آلہ بنایا ہے۔ فوٹو: بشکریہ اسٹینفرڈ سینٹر ٹویٹ
 کراچی: نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے طلبا نے کیلی فورنیا کی اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے ایک اختراعاتی چیلنج میں پہلا ایوارڈ اور انعام حاصل کرلیا ہے۔
اس مقابلے کو اسٹینفرڈ سینٹر آن لونگیوٹی ڈیزائن نے منعقد کیا تھا جس میں عمررسیدہ افراد کی سہولت اور امراض کی شدت کم  کرنے کے لیے ایجادات اور اختراعات کے آئیڈیا مانگے گئے تھے۔ اس ضمن میں نسٹ کے تین طالبعلموں نے ایک خاص آلہ تیار کیا ہے جسے ٹی اے ایم ای (ٹریمر ایکویزیشن اینڈ منی مائزیشن) کا نام دیا گیا ہے۔ 30 مارچ 2017 کو ہونے والے اس مقابلے میں اسے اپنی افادیت کی بنا پر پہلا انعام دیا گیا ہے۔
ٹی اے ایم ای کو نسٹ کے اسکول آف الیکٹریکل انجینئرنگ اینڈ کمپیوٹر سائنسز (ایس ای ای سی ایس) کے ارسلان جاوید، حوریہ انعم، اویس شفیق اور شیراز صدیقی نے ڈیزائن کیا ہے جبکہ اس کی آزمائش میں مختلف امراض کے ماہرین اور ڈاکٹر شامل ہیں۔ طلبا و طالبات نے ڈاکٹر سید محمد رضا کاظمی کی نگرانی اپنا یہ پروجیکٹ بنایا ہے جو اس سے قبل کئی بھی دنیا بھر سے کئی ایوارڈ حاصل کرچکا ہے۔
یہ ایک ہلکا پھلکا آلہ ہے جسے لباس کے اندر بازو پر لپیٹا جاسکتا ہے اور وہ باہر سے نظر نہیں آتا۔ ٹی اے ایم ای ماہرِ نفسیات اور اعصابی ڈاکٹروں کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ  رعشہ اور ہاتھوں کی غیر ارادی  کپکپاہٹ کو نوٹ کرکے الیکٹروڈ کے ذریعے ہلکی بجلی خارج کرکے ان سگنلوں کو کم  (یا کینسل) کرتا ہے۔ اس طرح مریض کسی شے کو تھامنے، کھانے پینے اور لکھتے ہوئے دقت محسوس نہیں کرتا۔
پاکستانی ٹیم کے سامنے میسا چیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی)، کورنیل یونیورسٹی، بیجنگ یونیورسٹی اور خود اسٹیفرڈ یونیورسٹی کے طلبہ اور طالبات شریک تھے جن کی ایجادات کے سامنے پاکستانی ماہرین کی اختراع انعام یافتہ قرار پائی۔
عام مشاہدہ ہے کہ یہ مرض عمررسیدہ افراد کو لاحق ہوتا ہے کیونکہ ان کا دماغ غیرضروری سگنل ہاتھوں کو بھیجتا ہے۔ اس کے علاوہ کسی دماغی چوٹ اور حادثے کے مریض بھی اس سے استفادہ کرسکتے ہیں۔
اس آلے کی کئی طبی آزمائشیں کی گئی ہیں جو اس ویب سائٹ پر دیکھی جاسکتی ہے اور اسی مناسبت سے یہ لونگیوٹی چیلنج میں پہلے انعام کی حقدار قرار پائی ہے جو نہ صرف نسٹ بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک قابلِ فخر بات ہے۔

اپنی مرمت آپ کرنے والی اسمارٹ فون اسکرین


اس پر خراشیں خود بخود ختم ہوجاتی ہیں اور اگر یہ اسکرین ٹوٹ بھی جائے تب بھی یہ 24 گھنٹوں میں خود کو دوبارہ جوڑ لیتی ہے، فوٹو؛ فائل
اس پر خراشیں خود بخود ختم ہوجاتی ہیں اور اگر یہ اسکرین ٹوٹ بھی جائے تب بھی یہ 24 گھنٹوں میں خود کو دوبارہ جوڑ لیتی ہے، فوٹو؛ فائل
کیلیفورنیا: امریکی انجینئروں نے ایک ایسی اسمارٹ فون اسکرین ایجاد کرلی ہے جو اپنی مرمت آپ کرسکتی ہے یعنی اس پر پڑنے والی خراشیں کچھ دیر بعد خود بخود ختم ہوجاتی ہیں اور اگر یہ اسکرین ٹوٹ بھی جائے تب بھی یہ 24 گھنٹوں کے اندر اندر خود کو دوبارہ جوڑ لیتی ہے۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے انجینئروں نے یہ اچھوتی اسمارٹ فون اسکرین ایجاد کی ہے جس کی تفصیلات انہوں نے امریکن کیمیکل سوسائٹی کے سالانہ اجلاس میں پیش کی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اپنی مرمت آپ کرنے والے (سیلف ہیلنگ) مادّے پہلے سے موجود ہیں لیکن نہ تو وہ شفاف ہیں اور نہ ہی اس قابل کہ ان میں سے بجلی گزر سکے اور اسی وجہ سے انہیں اسمارٹ فون اسکرینوں میں استعمال نہیں کیا جاسکتا، ان کی اختراع میں یہ دونوں خرابیاں دور کرتے ہوئے ایسا شفاف مادّہ تیار کیا گیا جو برقی موصل (کنڈکٹر) بھی ہے یعنی اس میں سے بجلی بھی گزر سکتی ہے۔
یہی مادّہ استعمال کرتے ہوئے انجینئرز نے تجرباتی طور پر ایسی ٹچ اسکرین تیار کرلی جس پر پڑنے والی خراشیں کچھ دیر بعد خود بخود غائب ہوجاتی ہیں اور اگر وہ ٹوٹ بھی جائے تو اس کے مختلف حصے 24 گھنٹوں کے اندر اندر ایک بار پھر سے آپس میں جڑ جاتے ہیں۔
اسے ایجاد کرنے والے ماہرین کو امید ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مزید بہتر ہونے کے بعد 2020 تک اسمارٹ فونز میں استعمال ہونے لگے گی اور یوں صارفین کو اسمارٹ فون اسکرین ٹوٹنے پر مرمت کروانے کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ یہ کام اسکرین خود ہی کرلے گی۔