جمعہ، 31 مارچ، 2017

پاکستانی نژاد برطانوی نوجوان انقلابی ایجاد سے کروڑ پتی بن گیا

نوجوان نے اسمارٹ فون سے آن اور آف ہونے والے سادہ سوئچ بنائے تھے جس سے سالانہ اربوں روپے بچائے جاسکتے ہیں
نوجوان نے اسمارٹ فون سے آن اور آف ہونے والے سادہ سوئچ بنائے تھے جس سے سالانہ اربوں روپے بچائے جاسکتے ہیں
کینٹ، برطانیہ: پاکستانی نژاد برطانوی نوجوان موجد اپنی سادہ اور حیرت انگیز ایجاد کی بدولت اب تک 13 کروڑ روپے (10 لاکھ برطانوی پونڈ) کی رقم بطور سرمایہ جمع کرچکا ہے۔
یاسر خٹک کی عمر اس وقت 21 برس ہے اور انہوں نے اسکول کے دور میں ایک سادہ سوئچ اور ساکٹ بنایا تھا جسے اسمارٹ فون ایپ کے ذریعے کھولا اور بند کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ایپ استعمال ہونے والی بجلی کی مقدار اور حفاظتی اقدامات سے بھی ہاتھوں ہاتھ آگاہ کرتی ہے۔ اس کا عملی مظاہرہ یاسر نے اسکول کے ایک پروجیکٹ میں کیا تھا۔
اب یاسر خٹک نے ایک ٹیکنالوجی کمپنی (اسٹارٹ اپ) بنالی ہے اور ان کی ایجاد کو اگر صرف برطانیہ میں ہی استعمال کیا جائے تو اس سے سالانہ پونے 2 ارب پونڈ کی بچت کی جاسکتی ہے۔ موبائل کو ریموٹ کنٹرول کے طور پر استعمال کرکے گھریلو روشنیاں اور برقی آلات کھولے اور بند کیے جاسکتے ہیں۔
نوجوان نے ممتاز سائنسدان سرجیمس ڈائسن کی سوانح سے متاثر ہوکر ایسی شے بنانے کا ارادہ کیا جو روزمرہ استعمال ہوسکے اور اس سے رقم کی بچت بھی ہوسکے۔ ان کی ایجاد نے اسکول میں ہی 20 ہزار پونڈ کی سرمایہ کاری حاصل کرلی تھی۔
یاسر خٹک کی ایپ فون چارجر سے لے کر فالتو بلبوں تک کو اس وقت بند کرتی ہے جب وہ استعمال نہیں ہورہے ہوتے۔ صرف برطانیہ میں ہی لوگ 16 فیصد بجلی ضائع کردیتے ہیں جس سے 25 لاکھ گھروں کو بجلی فراہم کی جاسکتی ہے۔
اس ایپ کے لیے پہلے سے استعمال ہونے والے سوئچ کو دور سے آن آف کرنے کے قابل بنایا جاسکتا ہے۔ یاسر کے مطابق اس سسٹم سے بچے، بوڑھے اور دیگر ایسے افراد بھی فائدہ اٹھاسکتے ہیں جنہیں اٹھنے اور بیٹھنے میں مشکل پیش آتی ہے یا جن کا ہاتھ بجلی کے نظام تک نہیں پہنچ پاتا۔

جمعرات، 30 مارچ، 2017

سام سنگ گیلکسی ایس 8 کے پانچ بہترین فیچرز

گیلکسی ایس 8 کا اسکرین کناروں سے خمیدہ ہے اور ایک ڈیسک ٹاپ پی سی کی جگہ استعمال کیا جاسکتا ہے، فوٹو؛ اے ایف پی
گیلکسی ایس 8 کا اسکرین کناروں سے خمیدہ ہے اور ایک ڈیسک ٹاپ پی سی کی جگہ استعمال کیا جاسکتا ہے، فوٹو؛ اے ایف پی
نیویارک: سام سنگ نے آخرکار اپنی اہم ترین ایجاد فروخت کے لیے پیش کرہی دی جو نیا گیلکسی ایس 8 ہے جس کے 5 بہترین فیچرز ایسے ہیں جس کے متعلق کہا جارہا ہےکہ یہ آئی فون کو بھی پیچھے کرسکتے ہیں۔
کچھ ماہ قبل نوٹ 7 فون کی بیٹری از خود جلنے سے نہ صرف سام سنگ کو شدید خفت اٹھانا پڑی تھی بلکہ اسے شدید مالی نقصان بھی سہنا پڑا تھا تاہم اب جنوبی کوریا کی اس کمپنی  نے اپنے نئے ماڈل کو اسمارٹ فون کی دنیا میں ایک نئے ڈیزائن کے عہد سے تعبیر کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق  سام سنگ 8 اور 8 پلس فون اگلے آئی فون 7 کو مات دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق نئے اسمارٹ فون کے درج ذیل 5 نئے فیچر ایپل آئی فون سےکئی گنا بہتر ہیں۔
1: انفنیٹ ڈسپلے ( خمیدہ اسکرین)
سام سنگ گیلکسی ایس 8 اورایس 8 پلس فون کا سب سے قابلِ ذکر فیچر ’’انفنٹی ڈسپلے‘‘ ہے ۔ اس کا پورا فرنٹ شیشے کا بنا ہوا ہے اور کناروں سے خمیدہ ہے یعنی اس کا ڈسپلے کناروں سے مڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ سام سنگ نے ہوم بٹن ختم کردیا ہے اور اسکرین کے نیچے دباؤ محسوس کرنے والا ایک سیکشن لگایا ہے جو ہوم بٹن کی جگہ استعمال ہوسکتا ہے۔
انفنیٹی ڈسپلے کی وجہ سے اب سام سنگ ڈسپلے کی گنجائش بڑھ گئی ہے۔ ایس ایٹ اور ایس ایٹ پلس کا اسکرین سائز بالترتیب  5.8 اور 6.2 ہوگیا ہے جب کہ فون کی جسامت میں کوئی اضافہ نہیں کرنا پڑا ہے۔
2: بکس بائی ڈجیٹل اسسٹنٹ
گیلکسی ایس 8 میں سام سنگ نے بکس بائی ڈیجیٹل اسسٹنٹ متعارف کرایا ہے جو ایپل کے وائس کمانڈ سسٹم سائری سے مشابہہ ہے۔ اس کے ذریعے صارفین تصاویرسرچ کرنے، جیولوکیشن معلوم کرنے اور قریب موجود سہولیات کا جائزہ لے سکیں گے۔ اس کے لیے فون مصنوعی ذہانت ( اے آئی) استعمال کرتا ہے۔
3:چہرے کی شناخت اور آئرس اسکینر
سام سنگ نے اپنے بدنصیب نوٹ 7 فیبلٹ سے ایک ایجاد گیلکسی ایس 8 میں شامل کی ہے جو آئرس اسکینر ہے۔ اس میں چہرہ شناخت کرنے والا ( فیشل ریکگنیشن) نظام ہے جو آپ کا چہرہ دیکھتے ہی فون کو ان لاک کردیتا ہے اور اس طرح آپ کے رخِ روشن سے یہ فون کھل جائے گا۔
سام سنگ کے مطابق سیکیورٹی کا یہ فیچر اس سے قبل کبھی کسی اسمارٹ فون کا حصہ نہیں رہا ہے۔
4: ڈیکس اسٹیشن
سام سنگ اپنے نئے ایس 8 فون کے ساتھ ایک ڈیکس اسٹیشن بھی پیش کررہا ہے جو اسمارٹ فون کو ایک ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر میں تبدیل کرکے اسے ایک مکمل پی سی میں تبدیل کردیتا ہے۔ اب یہ کمپنی مائیکروسوفٹ کے ساتھ کام کرکے اس میں ایکسل، پاور پوائنٹ اور دیگر سافٹ ویئر بھی متعارف کرارہی ہے۔
5: کبھی نہ جلنے والی بیٹری
نوٹ 7 کی بیٹری میں آگ لگنے کے بے شمار واقعات نے سام سنگ کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور وہ سارے فون کمپنی کو واپس لے کر عوام کو رقم واپس کرنی پڑی تھی۔ اب دن رات کی محنت کے بعد سام سنگ نے کہا ہے کہ بلند کارکردگی والی بیٹری کے ڈیزائن میں ایک خرابی تھی جس سے وہ جل کر بھڑک رہی تھیں۔
سام سنگ کے مطابق اس نے 8 پوائنٹ بیٹری سیفٹی چیک کے ذریعے اپنی نئی بیٹریوں کو اچھی طرح چیک کیا ہے تاکہ بیٹری کا بلند معیار حفاظت کے ساتھ برقرار رکھا جاسکے۔ اس کے بعد ایکسرے اور انسانی آنکھوں سے بھی بیٹری کا بغور مطالعہ کیا گیا۔ اب سام سنگ کا دعویٰ ہے کہ گیلکسی ایس 8 اور ایس 8 پلس کی بیٹریاں بالکل محفوظ  ہیں اور جل کر تباہ نہیں ہوں گی۔

گیلکسی ایس 8 کا اسکرین کناروں سے خمیدہ ہے اور ایک ڈیسک ٹاپ پی سی کی جگہ استعمال کیا جاسکتا ہے، فوٹو؛ اے ایف پی
گیلکسی ایس 8 کا اسکرین کناروں سے خمیدہ ہے اور ایک ڈیسک ٹاپ پی سی کی جگہ استعمال کیا جاسکتا ہے، فوٹو؛ اے ایف پی
نیویارک: سام سنگ نے آخرکار اپنی اہم ترین ایجاد فروخت کے لیے پیش کرہی دی جو نیا گیلکسی ایس 8 ہے جس کے 5 بہترین فیچرز ایسے ہیں جس کے متعلق کہا جارہا ہےکہ یہ آئی فون کو بھی پیچھے کرسکتے ہیں۔
کچھ ماہ قبل نوٹ 7 فون کی بیٹری از خود جلنے سے نہ صرف سام سنگ کو شدید خفت اٹھانا پڑی تھی بلکہ اسے شدید مالی نقصان بھی سہنا پڑا تھا تاہم اب جنوبی کوریا کی اس کمپنی  نے اپنے نئے ماڈل کو اسمارٹ فون کی دنیا میں ایک نئے ڈیزائن کے عہد سے تعبیر کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق  سام سنگ 8 اور 8 پلس فون اگلے آئی فون 7 کو مات دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق نئے اسمارٹ فون کے درج ذیل 5 نئے فیچر ایپل آئی فون سےکئی گنا بہتر ہیں۔
1: انفنیٹ ڈسپلے ( خمیدہ اسکرین)
سام سنگ گیلکسی ایس 8 اورایس 8 پلس فون کا سب سے قابلِ ذکر فیچر ’’انفنٹی ڈسپلے‘‘ ہے ۔ اس کا پورا فرنٹ شیشے کا بنا ہوا ہے اور کناروں سے خمیدہ ہے یعنی اس کا ڈسپلے کناروں سے مڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ سام سنگ نے ہوم بٹن ختم کردیا ہے اور اسکرین کے نیچے دباؤ محسوس کرنے والا ایک سیکشن لگایا ہے جو ہوم بٹن کی جگہ استعمال ہوسکتا ہے۔
انفنیٹی ڈسپلے کی وجہ سے اب سام سنگ ڈسپلے کی گنجائش بڑھ گئی ہے۔ ایس ایٹ اور ایس ایٹ پلس کا اسکرین سائز بالترتیب  5.8 اور 6.2 ہوگیا ہے جب کہ فون کی جسامت میں کوئی اضافہ نہیں کرنا پڑا ہے۔
2: بکس بائی ڈجیٹل اسسٹنٹ
گیلکسی ایس 8 میں سام سنگ نے بکس بائی ڈیجیٹل اسسٹنٹ متعارف کرایا ہے جو ایپل کے وائس کمانڈ سسٹم سائری سے مشابہہ ہے۔ اس کے ذریعے صارفین تصاویرسرچ کرنے، جیولوکیشن معلوم کرنے اور قریب موجود سہولیات کا جائزہ لے سکیں گے۔ اس کے لیے فون مصنوعی ذہانت ( اے آئی) استعمال کرتا ہے۔
3:چہرے کی شناخت اور آئرس اسکینر
سام سنگ نے اپنے بدنصیب نوٹ 7 فیبلٹ سے ایک ایجاد گیلکسی ایس 8 میں شامل کی ہے جو آئرس اسکینر ہے۔ اس میں چہرہ شناخت کرنے والا ( فیشل ریکگنیشن) نظام ہے جو آپ کا چہرہ دیکھتے ہی فون کو ان لاک کردیتا ہے اور اس طرح آپ کے رخِ روشن سے یہ فون کھل جائے گا۔
سام سنگ کے مطابق سیکیورٹی کا یہ فیچر اس سے قبل کبھی کسی اسمارٹ فون کا حصہ نہیں رہا ہے۔
4: ڈیکس اسٹیشن
سام سنگ اپنے نئے ایس 8 فون کے ساتھ ایک ڈیکس اسٹیشن بھی پیش کررہا ہے جو اسمارٹ فون کو ایک ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر میں تبدیل کرکے اسے ایک مکمل پی سی میں تبدیل کردیتا ہے۔ اب یہ کمپنی مائیکروسوفٹ کے ساتھ کام کرکے اس میں ایکسل، پاور پوائنٹ اور دیگر سافٹ ویئر بھی متعارف کرارہی ہے۔
5: کبھی نہ جلنے والی بیٹری
نوٹ 7 کی بیٹری میں آگ لگنے کے بے شمار واقعات نے سام سنگ کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور وہ سارے فون کمپنی کو واپس لے کر عوام کو رقم واپس کرنی پڑی تھی۔ اب دن رات کی محنت کے بعد سام سنگ نے کہا ہے کہ بلند کارکردگی والی بیٹری کے ڈیزائن میں ایک خرابی تھی جس سے وہ جل کر بھڑک رہی تھیں۔
سام سنگ کے مطابق اس نے 8 پوائنٹ بیٹری سیفٹی چیک کے ذریعے اپنی نئی بیٹریوں کو اچھی طرح چیک کیا ہے تاکہ بیٹری کا بلند معیار حفاظت کے ساتھ برقرار رکھا جاسکے۔ اس کے بعد ایکسرے اور انسانی آنکھوں سے بھی بیٹری کا بغور مطالعہ کیا گیا۔ اب سام سنگ کا دعویٰ ہے کہ گیلکسی ایس 8 اور ایس 8 پلس کی بیٹریاں بالکل محفوظ  ہیں اور جل کر تباہ نہیں ہوں گی۔

فیس بک میسنجرپراب لائیو لوکیشن شیئرکریں

فیس بک میسنجر میں لائیو لوکیشن کا آپشن آن کرنے کے بعد کسی بھی دوست کے ساتھ اپنا مقام شیئر کریں۔ فوٹو:فائل
فیس بک میسنجر میں لائیو لوکیشن کا آپشن آن کرنے کے بعد کسی بھی دوست کے ساتھ اپنا مقام شیئر کریں۔ فوٹو:فائل
نیویارک: فیس بک میسنجر پر اب آپ اپنے دوستوں کو نہ صرف براہ راست اپنے مقام سے متعلق آگاہ کرسکیں گے بلکہ آپ اپنی لوکیشن کا تبادلہ ایک گھنٹے تک کرسکیں گے۔
فیس بک کے اس نئے فیچر سے آپ کسی گنجان جگہ پر گم ہونے کی صورت میں اپنے دوستوں کو براہ راست اپنی لوکیشن کے بارے میں بتا سکتے ہیں اور اس فیچر کو آن کرتے ہی آپ ایک گھنٹے تک براہ راست لوکیشن سے آگاہ کرسکتے ہیں، یعنی آپ کے دوست آپ کے مقام کی جگہ ایک گھنٹے تک دیکھ سکیں گے۔
فیس بک کا لائیو لاکیشن آپشن استعمال کرنے کے لئے آپ میپ پر اپنی موجودہ لوکیشن دیکھیں گے جس پر نیلے رنگ کا ٹیپ آپشن موجود ہوگا جسے دبانے کے بعد آپ جہاں جہاں جائیں گے آپ کے دوستوں کو اس مقام پر پتا چلتا رہے گا اور اس کا دورانیہ ایک گھنٹے تک ہوگا اور جس دوست کو بھی آپ اپنی لوکیشن شیئر کریں گے اسے ٹھیک ٹھیک اس مقام کے بارے میں معلوم ہوتا رہے گا یہی نہیں بذریعہ کار اس مقام تک پہنچنے کے لئے جتنا وقت درکار ہوگا اس کا بھی پتہ چلے گا۔
نقشے کے بالکل نیچے ایک گھڑی ہوگی جس میں آپ کی لائیو لوکیشن کا دورانیہ آرہا ہوگا اور کسی بھی وقت آپ ٹیپ بٹن کو دوبارہ دبا کر آپشن کو بند بھی کرسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ لائیو لوکیشن کی سہولت گوگل میپ اور ایپل پہلے ہی صارفین کو فراہم کرچکے ہیں لیکن فیس بک میسنجر میں اس آپشن کے شامل ہونے کے بعد صارفین کی بڑی تعداد اسے استعمال کرسکے گی۔

گوگل کا جی چیٹ ختم کرکے نئی ایپ لانے کا اعلان

26 جون سے گوگل ٹاک یا جی چیٹ سروس بند کی جارہی ہے، گوگل، فوٹو؛ فائل
26 جون سے گوگل ٹاک یا جی چیٹ سروس بند کی جارہی ہے، گوگل، فوٹو؛ فائل
سان فرانسسكو: سرچ انجن اور ویب سروس کی مشہور کمپنی گُوگل نے اعلان کیا ہے کہ اگلے چند ماہ میں گُوگل ٹاک یا جی چیٹ اور اس کی ایپ کو بند کردیا جائے۔
گوگل کی جانب سے گُوگل ٹاک یا جی چیٹ اور اس کی ایپ کو بند کرنے کے بعد اسے استعمال کرنے والے کروڑوں صارفین اس کی جگہ قدرے کم استعمال ہونے والی ایپلی کیشن گُوگل ہینگ آؤٹ استعمال کرسکیں گے۔
اس کی وجہ ماہرین نے یہ بتائی ہے کہ گُوگل اپنی بعض ایپلی کیشن اور سہولیات میں تبدیلی کرنا چاہتا ہے۔ اس سال 26 جون سے جی میل چیٹ یا جی چیٹ کے نام سے مشہور سروس اور فون ایپ دونوں بند ہوجائیں گی اور اس کی جگہ گُوگل ہینڈ آؤٹ استعمال کی جاسکے گی جو چار سال قبل متعارف کرائی گئی تھی۔ جی چیٹ 2005 میں پہلی مرتبہ منظرِ عام پر آئی تھی۔
گُوگل نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ وہ میسجنگ اور چیٹنگ کے لیے ایکس ایم پی پی پر بھی اپنا انحصار ختم کررہا ہے اور اس کی وجہ کچھ بھی ہو اصل بات یہ ہے کہ اب آپ گوگل ہینگ آؤٹ کی عادت اختیار کرلیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 75 لاکھ سے زائد افراد جی چیٹ کا باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں۔
گوگل وائس کا آپشن بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ گُوگل نے اپنی ویب سائٹ پر اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے چند ماہ میں تمام صارفین کو اس سے آگاہ کیا جائے گا اور اینڈروئیڈ استعمال کرنے والوں سے کہا ہے کہ وہ پلے اسٹور سے ہینگ آؤٹ ایپ انسٹال کریں۔

سائنسی جدت کے ساتھ کیسا ہوگا 2117؟

آنے والی صدی کی دنیا شاید آج سے اتنی زیادہ مختلف ہو کہ ہم اس کےلیے اور وہ ہمارے لیے مکمل اجنبی ہو، فوٹو؛ فائل
آنے والی صدی کی دنیا شاید آج سے اتنی زیادہ مختلف ہو کہ ہم اس کےلیے اور وہ ہمارے لیے مکمل اجنبی ہو، فوٹو؛ فائل
کراچی: موجودہ رجحانات کی بنیاد پر مستقبل کے بارے میں اندازے لگانا اور پیش گوئیاں کرنا آج سماجی علوم کا ایک باقاعدہ شعبہ بن چکا ہے جسے فیوچرولوجی یعنی ’’مستقبلیات‘‘ کہا جاتا ہے۔
ذیل میں دی گئی پیش گوئیاں بھی اسی نوعیت کی ہیں جن میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے تحت گزشتہ اور حالیہ ترقی کے سماجی اثرات کو آپس میں مربوط کرتے ہوئے اندازے لگانے کی کوشش کی گئی ہے کہ آج سے 100 سال بعد یعنی 2117 میں ممکنہ طور پر توانائی اور رہائش کی کیفیت کیا ہوگی اور اس ضمن میں اُس وقت کی جدید ترین ٹیکنالوجی سے کیونکر استفادہ کیا جارہا ہوگا۔
آسمانی اور زمینی سورج: توانائی کی مسلسل بڑھتی ہوئی ضروریات اور ماحولیاتی تحفظ کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے بڑے  بڑے آئینوں کے منصوبوں پر کام ہورہا ہے جنہیں خلاء میں پہنچادیا جائے گا جہاں رہتے ہوئے وہ سورج کی روشنی کو زمین پر موجود کسی خاص مقام پر مرکوز کریں گے جس سے گیگاواٹ پیمانے جتنی بجلی بنائی جاسکے گی۔
دوسری جانب امید ہے کہ آئندہ 20 سے 30 سال میں ’’فیوژن‘‘ یعنی گداخت کہلانے والی نیوکلیائی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے صاف ستھری نیوکلیائی توانائی کا تجارتی پیمانے پر حصول بھی ممکن ہوجائے گا۔ یاد رہے کہ فیوژن ہی وہ عمل ہے جس کی بدولت سورج پچھلے 5 ارب سال سے روشنی  اور حرارت خارج کررہا ہے جس کی بدولت زمین پر زندگی کا تانا بانا قائم ہے۔
تھری ڈی پرنٹروں سے بنے مکانات: ماہرین کا اندازہ ہے کہ آئندہ 100 سال میں تھری ڈی پرنٹنگ کی ٹیکنالوجی اتنی ترقی  یافتہ ہوجائے گی کہ اس سے پورے مکانات تک تعمیر کیے جاسکیں گے۔ بڑے تھری ڈی پرنٹر اس وقت بھی بن چکے ہیں لیکن وہ صرف اینٹیں ہی تیار کرسکتے ہیں جب کہ دیواریں اور چھتیں ’’پرنٹ کرنے‘‘ والے تھری ڈی پرنٹروں پر کام تجرباتی مراحل میں ہے۔
آنے والے برسوں میں مزید جدت کے ساتھ یہ تھری ڈی پرنٹر اس قابل ہوجائیں گے کہ ان میں پورے گھر کا ڈیزائن فیڈ کردیا جائے اور وہ ضروری مواد استعمال کرتے ہوئے پورا مکان خودکار انداز میں تعمیر کردیں۔
میلوں بلند فلک بوس عمارتیں: دنیا کے امیر ممالک میں بلند سے بلند تر عمارتیں بنانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور ایسے منصوبے  منظرعام پر آچکے ہیں جن کے تحت ایک کلومیٹر سے لے کر پانچ کلومیٹر تک بلند عمارتیں تعمیر کی جائیں گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہلکے اور مضبوط مادّوں کی بدولت ایسی عمارتیں بنانا اب ممکن ہوگیا ہے جو پہلے امکان کے دائرے میں نہیں تھیں۔
آئندہ 100 سال میں یہ رجحان مزید تقویت پاچکا ہوگا اور کوئی بعید نہیں کہ 2117 میں اس دنیا کے باسی 10 کلومیٹر بلند یا اس سے بھی اونچی عمارتوں کے بارے میں جان کر حیرت زدہ نہ ہوں۔
زیرِ آب شہر: انسانی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے اور خدشہ ہے کہ چند عشروں ہی میں زمین کی ساری خشکی انسانی رہائش کےلیے  ناکافی پڑ جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ اب سطح سمندر پر تیرتے ہوئے شہر بتدریج حقیقت بنتے جارہے ہیں لیکن بات صرف یہیں تک محدود نہیں بلکہ ایسے شہروں پر بھی کام شروع ہوچکا ہے جو سمندروں کی تہہ میں ہوں گے اور جنہیں ’’زیرِ آب شہر‘‘ (sub-aqueous cities) کا نام دیا گیا ہے۔
سطح کی نسبت سمندری تہہ میں شہر بسانا بہت مشکل کام ہے کیونکہ وہاں رہنے والوں کو ہر وقت وافر آکسیجن، مناسب درجہ حرارت، موزوں روشنی، صاف پانی اور غذا کی فراہمی یقینی بنانا لازمی امور میں شامل ہوگا۔ موجودہ ٹیکنالوجی کی مدد سے چند ایک افراد تو کچھ عرصے کے لیے سمندر کی تہہ میں قیام کرسکتے ہیں لیکن سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں پورا شہر بسانا اور طویل عرصے تک وہاں پر لوگوں کو رہنے کی تمام سہولیات فراہم کرنا اس سے بھی کہیں زیادہ پیچیدہ اور دقت طلب معاملہ ہے جب کہ اس پر آنے والی لاگت بھی یقیناً بہت زیادہ ہوگی۔ ان تمام باتوں کے باوجود کم از کم ڈرائنگ بورڈ کی حد تک سمندری تہہ میں شہر بسانے کے منصوبوں پر کام مسلسل جاری ہے جب کہ ٹیکنالوجی میں ہونے والی ترقی اب ان منصوبوں کو حقیقت سے قریب تر لے آئی ہے۔
زمین دوز شہر: جب ہم سینکڑوں منزلہ عمارتیں بنانے اور سمندر کی تہہ میں شہر بسانے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں تو زمین دوز شہر آباد کرنے میں کیا قباحت ہے۔ ویسے  بھی زیرِ زمین شہروں کی تاریخ بھی کم از کم 55 ہزار سال قدیم ہے۔ البتہ اسے اکیسویں اور بیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایسے شہروں پر کام کرنا ہوگا جو زمین میں سینکڑوں میٹر گہرائی تک منزل در منزل بنے ہوں اور جہاں انسانی زندگی کی تمام ضروریات دستیاب بھی ہوں۔
’’ارتھ اسکریپر‘‘ کہلانے والے یہ شہر گھٹن سے پاک ہوں گے جن میں تازہ ہوا اور روشنی  پہنچانے کا خصوصی بندوبست کیا جائے گا جو بہت بڑے پیمانے پر ہوگا۔ زیرِ آب شہروں کی نسبت شاید ایسے شہروں کی تعمیر آسان ہو اور یہ اکیسویں صدی ختم ہونے سے پہلے ہی تعمیر کرلیے جائیں۔
ایک عمارت میں پورا شہر: ویسے تو آج کل ایک بلند و بالا عمارت میں ہزاروں افراد رہائش پذیر ہوتے ہیں لیکن یہ تذکرہ اتنی  بڑی عمارت کا ہے جس میں بیک وقت لاکھوں افراد رہ سکیں گے اور جن کے گھروں سے لے کر دفاتر تک اسی ایک عمارت میں واقع ہوں گے۔ ایک لاکھ سے زیادہ افراد کو ایک محدود جگہ میں اس طرح سمونے کے لیے کہ انہیں اپنی تمام ضروریاتِ زندگی وہیں میسر ہوجائیں، کوئی آسان کام ہرگز نہیں لیکن اسے ناممکن بھی نہیں کہا جاسکتا۔
ایک عمارت میں بنایا اور بسایا گیا شہر ہمارے موجودہ تصورات سے بالکل مختلف بھی ہوسکتا ہے اور شاید آج کے دور کا انسان اسے پسند بھی نہ کرے لیکن یہ معاملہ اگلی یعنی بائیسویں صدی میں انسانوں کو درپیش رہائشی مسائل کا ہے اور بہت ممکن ہے کہ ایسے ’’یک عمارتی شہر‘‘ میں ہر شخص صرف چند مکعب فٹ پر مشتمل ایک ’’دڑبہ نما فلیٹ‘‘ میں رہائش پذیر ہو۔

سام سنگ گیلکسی ایس 8 اور ایس 8 پلس منظرعام پرآگیا

سام سنگ گیلکسی ایس 8 اور ایس 8 پلس کی تمام خصوصیات تقریباً ملتی جلتی ہیں۔ فوٹو؛ فائل
سام سنگ گیلکسی ایس 8 اور ایس 8 پلس کی تمام خصوصیات تقریباً ملتی جلتی ہیں۔ فوٹو؛ فائل
سیئول: سام سنگ نے آئی فون کی ٹکر کا فلیگ شپ اسمارٹ فون گلیکسی ایس 8 اور ایس 8 پلس متعارف کرادیا۔
سام سنگ نے گلیکسی نوٹ 7 کی ناکامی کے بعد اب 2 نئے اسمارٹ فونز متعارف کرادیئے جن کا مقابلہ آئی فون کے اسمارٹ فونز سے کیا جارہا ہے۔ سام سنگ ایس 8،  5.8 انچ اسکرین اور ایس 8 پلس 6.2 انچ اسکرین کا حامل فون ہے جن میں اینڈرائڈ 7.0 سوفٹ ویئرانسٹال کیا گیا ہے۔
سام سنگ ایس 8 کا مین کیمرا یعنی پیچھے والا کیمرا 12 میگاپکسل اور فرنٹ کیمرا 8 میگاپکسل ہے جس میں 64 جی بی اسٹوریج کی جگہ ہے اور ساتھ ہی اضافی اسٹوریج کے لئے مائیکر ایس ڈی کارڈ کی سہولت بھی ہے۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ سام سنگ ایس 8 689 پاؤنڈ میں دستیاب ہوگا جو پاکستانی روپوں میں تقریباً 90 ہزار روپے میں دستیاب ہوگا۔
سام سنگ ایس 8 پلس میں جدید ترین اینڈروئیڈ آپریٹنگ سسٹم ’’7.6‘‘ انسٹال کیا گیا ہے جب کہ یہ اسنیپ ڈریگن 835 پروسیسر سے لیس ہے اور اس میں بھی 64 جی بی بلٹ ان میموری اور بیٹری 3 ہزار ایم اے ایچ کی ہے۔ سام سنگ ایس 8 پلس 779 پاؤنڈ میں دستیاب ہوگا جو کہ پاکستان روپوں میں تقریباً ایک لاکھ 12 ہزار روپے بنتے ہیں۔ سام سنگ 8 پلس کی خاص بات یہ ہے کہ آنکھ کی پتلی کی مدد سے اپنے مالک کو پہچاننے کے لیے اس میں ’’آئرس اسکینر‘‘ کا فیچر بھی دستیاب ہے۔
ان تمام باتوں کے علاوہ سام سنگ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے نئے فلیگ شپ اسمارٹ فونز میں خاص طور پر خیال رکھا گیا ہے کہ بیٹریوں میں آگ نہ لگے۔

اب فیس بک میسنجر ہر فون پر نہیں چلے گا


فیس بک نے مارچ کے اختتام پر بعض فونز میں اپنا میسنجر بند کرنے کا اعلان کیا ہے، فوٹو؛ فائل
فیس بک نے مارچ کے اختتام پر بعض فونز میں اپنا میسنجر بند کرنے کا اعلان کیا ہے، فوٹو؛ فائل
واشنگٹن: فیس بک نے چند دن بعد اپنے میسنجر ایپ کو کئی اہم اسمارٹ فونز پر بند کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
فیس بک کےآفیشل بلاگ میں کہا گیا ہے کہ ونڈوز پر چلنے والے بعض اسمارٹ فونز، وی 55 اور اینڈروئیڈ وی 10 آلات استعمال کرنے والے فونز اور آلات کے لیے اس کی سپورٹ ختم ہورہی ہے۔ اس کے علاوہ 10 اکتوبر 2011 یا اس سے پہلے کے آئی او ایس کے لیے بھی آئی پیڈ وی 26 اور میسنجر وی 8 کی سپورٹ بھی ختم کی جارہی ہے۔
کمپنی نے کہا ہے کہ ونڈوز فون 8 اور8.1  اور انہی ورژن کی ڈیسک ٹاپ ایپ بھی اب نہیں چل سکیں گی۔ فیس بک نے اپنے تمام صارفین سے کہا ہے کہ وہ یکم اپریل سے ہونے والی ان تبدیلیوں کو نوٹ کرلیں۔ اپنے ایک پیغام میں فیس بک نے میسنجر استعمال کرنے والے تمام صارفین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ مارچ کے اختتام کے بعد ان آئی او ایس سے بذریعہ میسنجر پیغام بھیج اور وصول نہیں کرسکیں گے۔
اس عمل کا دفاع کرتے ہوئے فیس بک نے اپنے بلاگ میں مزید کہا ہے کہ ہماری ٹیم نے دوستوں اور اہلِ خانہ سے رابطے کی سہولیات بہتر سے بہتر بنائی ہیں، ہم نے میسنجر پر وائس، ویڈیو کالنگ، گیمز اور بوٹس کے فیچرز کو بہتر سے بہتر بنایا ہے، اس لیے ایپ کے پرانے ورژن کے ساتھ یا تو یہ سہولیات پوری طرح نہیں چل پائیں گی یا بالکل ہی بند ہوسکتی ہیں۔
فیس بک نے ایسے تمام ہارڈویئرز استعمال کرنے والے صارفین سے کہا ہے کہ وہ اپنے آپریٹنگ سسٹم کو اپ ڈیٹ کرلیں تاکہ فیس بک اور میسنجر ایپ کے جدید ورژن کو استعمال کرسکیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل واٹس ایپ اور اسکائپ بھی ایسے ہی اقدامات کرچکے ہیں۔ گزشتہ برس 31 دسمبر کو واٹس ایپ نے اپ ڈیٹ ورژن متعارف کرایا تھا جس سے پرانے آپریٹنگ سسٹمز پر چلنے والے کروڑوں آلات پر واٹس ایپ چلانا ناممکن ہوگیا تھا۔

منگل، 28 مارچ، 2017

کیا ہمارے نظامِ شمسی میں 2 ہزار سیارے ہیں؟


کوپر بیلٹ میں اجرامِ فلکی کی تعداد 2 ہزار یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے، ماہرین، فوٹو؛ فائل
کوپر بیلٹ میں اجرامِ فلکی کی تعداد 2 ہزار یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے، ماہرین، فوٹو؛ فائل
میری لینڈ: امریکی ماہرینِ فلکیات کے ایک ریسرچ گروپ کا کہنا ہے کہ ہمارے نظامِ شمسی میں سیاروں کی تعداد 2 ہزار یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے بشرطیکہ سیارے کی تعریف میں تبدیلی کردی جائے۔
مختلف جامعات سے تعلق رکھنے والے ماہرینِ فلکیات امریکا میں منعقد ہونے والی 48 ویں ’’لیونر اینڈ پلینٹری سائنس کانفرنس‘‘ میں اپنا ایک پوسٹر پیش کررہے ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ ہمارے نظامِ شمسی میں پلوٹو سے لے کر بیرونی حدود تک کے درمیان سینکڑوں کلومیٹر قطر والے ایسے کئی اجسام دریافت ہوچکے ہیں جنہیں فی الحال ’’بونے سیارے‘‘ اور ایسٹیرائیڈز (شہابیے) قرار دیا جاتا ہے جب کہ ان اجرامِ فلکی پر مشتمل پٹی کا نام ’’کُوپر بیلٹ‘‘ (Kuiper belt) رکھا گیا ہے۔
اس تبدیلی کے نتیجے میں جہاں پلوٹو کو ایک بار پھر سیارے کا مقام حاصل ہوجائے گا وہیں سیاروں کی فہرست میں ایسے بہت سے دوسرے اجرامِ فلکی بھی شامل ہوجائیں گے جو اس وقت سیارچوں یعنی سٹیلائٹس کے تحت شمار کیے جاتے ہیں۔ اس خیال کے حق میں انہوں نے ایک ویڈیو بھی انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کی ہے جو اس لنک پر دیکھی جاسکتی ہے۔
اب تک اس پٹی میں دریافت شدہ اجسام کی تعداد 140 کے لگ بھگ ہے جب کہ پلوٹو کو اس پٹی کا سب سے پہلا رکن بھی قرار دیا جاتا ہے تاہم اندازہ یہ ہے کہ کوپر بیلٹ میں اجرامِ فلکی کی تعداد 2 ہزار یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔ ماہرین کے اس گروپ کا کہنا ہے کہ اگر سیارے کی تعریف میں مزید تبدیلی کرتے ہوئے اسے وسعت دے دی جائے تو کوپر بیلٹ والے اجسام بھی سیاروں میں شامل ہوجائیں گے بلکہ مختلف سیاروں کے چاند یعنی سیارچے بھی ترقی پاکر سیارے بن جائیں گے۔
یہ کوئی آسان کام نہیں ہوگا کیونکہ یہ فیصلہ عالمی فلکیاتی ماہرین کی بڑی کمیٹی کثرتِ رائے سے ہی کرسکتی ہے لیکن اب اس رائے کی حمایت میں زیادہ آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ اگر سیارے کی تعریف تبدیل نہیں بھی ہوتی، تب بھی اتنا ضرور طے ہے کہ آنے والے برسوں میں ہمارے نظامِ شمسی میں ’’بونے سیاروں‘‘ کی تعداد اتنی بڑھ جائے گی جس کے سامنے ’’بڑے سیارے‘‘ آٹے میں نمک کی مانند رہ جائیں گے۔

ناسا نے سورج کی نایاب اور بے داغ تصویر جاری کردی


ناسا کی جانب سے سورج کی بنا داغ کی آخری تصویر 2010 میں لی گئی تھی ،
فوٹو: بشکریہ ناسا ایس ڈی او
ناسا کی جانب سے سورج کی بنا داغ کی آخری تصویر 2010 میں لی گئی تھی ، فوٹو: بشکریہ ناسا ایس ڈی او
واشنگٹن: ناسا نے اپنی ایک دوربین سے سورج کی انوکھی تصویر لی ہے جس میں زرد ٹکیہ کی مانند سورج بے داغ دکھائی دے رہا ہے۔
اگرچہ سورج کو براہِ راست دیکھنا اندھے پن کو دعوت دینا ہے لیکن اگر اسے فلٹر کے ذریعے دیکھا جائے تب بھی اس کی سطح بے داغ دکھائی نہیں دیتی اور اس پر کچھ نقطے ضرور دکھائی دیتے ہیں۔ سورج پر مقناطیسی سرگرمیوں اور درجہ حرارت میں کمی بیشی سے داغ بنتے رہتے ہیں جنہیں ’’سن اسپاٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔
سورج کی سطح پر مقناطیسی میدان کی لہریں ایک جتھے کی سورج میں سفر کرتی ہیں جنہیں ’’پورز‘‘ کہا جاتا ہے۔ جب پورز ایک دوسرے سے ملتی ہیں تو مزید جمع ہوکر وہاں کا درجہ حرارت گرادیتی ہیں یعنی سورج کی سطح کا اوسط درجہ حرارت 5800 کیلون ہوتا ہے جب کہ پورز کے اجتماع کا درجہ حرارت 3800 درجے کیلون تک ہوتا ہے۔ اس طرح قدرے ٹھنڈے علاقے سیاہ دکھائی دیتے ہیں جنہیں سورج کے داغ کہا جاتا ہے۔
سورج کے داغ ہمیشہ بنتے اور ختم ہوتے رہتے ہیں جب کہ ان کا ایک 11 سالہ چکر بھی مشہور ہے جس میں سن اسپاٹ کی سرگرمیاں بڑھ جاتی ہیں اور زمین پر بھی اثرانداز ہوتی ہیں۔
ناسا کی سولر ڈائنامکس آبزرویٹری ( ایس ڈی او) نے 7 مارچ سے لگاتار اگلے 15 روز تک سورج کی ایسی تصاویر لی ہیں جن پر ایک بھی دھبہ دکھائی نہیں دے رہا اور ایسا واقعہ 7 سال قبل 2010 میں پیش آیا تھا۔

پالک کے پتوں میں دل کے ٹشوز اگانے کا کامیاب تجربہ

ماہرین نے پالک کے پتوں میں دل کے پٹھے کامیابی سے اُگالیے جن میں خون پہنچانے والی باریک رگیں بھی موجود ہیں۔
فوٹو: ورسیسٹر پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ
ماہرین نے پالک کے پتوں میں دل کے پٹھے کامیابی سے اُگالیے جن میں خون پہنچانے والی باریک رگیں بھی موجود ہیں۔ فوٹو: ورسیسٹر پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ
میساچیوسٹس: امریکا میں حیاتیاتی ماہرین نے پالک کے پتوں میں دل کے پٹھے (ٹشوز) کامیابی سے اُگالیے ہیں جو خون پہنچانے والی باریک رگوں پر بھی مشتمل ہیں۔
ورسیسٹر پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ اور دیگر امریکی جامعات کے ماہرین پر مشتمل ایک تحقیقی ٹیم نے ایسا ہی ایک طریقہ ایجاد کرلیا ہے جس میں پالک کے پتے استعمال کرتے ہوئے دل کے زندہ ٹشوز تیار کرلیے گئے ہیں۔ یہ کامیابی مستقبل میں بہتر طبّی پیوند کاری اور متاثرہ شخص ہی کے صحت مند خلیات سے پوری جسمانی بافتیں اور اعضاء تیار کرنے میں بہت مددگار ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ اب تک بایو انجینئرنگ اور بایو پرنٹنگ میں استعمال ہونے والی تمام تدابیر کے ذریعے صرف انتہائی مختصر پٹھے ہی تیار کیے جاسکے ہیں لیکن طب کے شعبے میں عملاً قابلِ استعمال ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ان میں گہرائی تک خون پہنچانے والی انتہائی باریک باریک رگیں بھی ہوں جو شاخ در شاخ پھیلی ہوں۔
پودوں کے پتوں کی طرح پالک کے پتوں میں بھی باریک باریک رگیں ہوتی ہیں جو پانی اور غذائی اجزاء کی پتوں میں آمد و رفت کو یقینی بناتی ہیں۔ البتہ پالک کے پتے بہت نرم اور نازک بھی ہوتے ہیں جب کہ ان میں نمی جذب کرنے کی صلاحیت بھی زبردست ہوتی ہے۔
ان دونوں خصوصیات کے پیش نظر سائنسدانوں نے آزمائشی طور پر دل کی بافتیں اُگانے کے لیے پالک کے پتوں کا انتخاب کیا۔ پہلے مرحلے میں پالک کے پتوں میں پانی داخل ہونے کے مرکزی مقام پر دل کی دھڑکن سے تعلق رکھنے والی بافتوں کے کچھ خلیات رکھ دیئے گئے اور پھر ان پتوں کو اس طرح لٹکایا گیا کہ انہیں (اپنی باریک رگوں کے راستے) پانی اور غذائی اجزاء مسلسل پہنچتے رہیں۔
پہلے ہی دن میں پالک کے پتوں کی شکل تبدیل ہونے لگی یہاں تک کہ ساتواں دن پورا ہونے پر یہ پتے مکمل طور پر غائب ہوچکے تھے اور ان کی جگہ مسلسل نشوونما پانے والے دل کے خلیات آچکے تھے۔ اس عمل میں خاص بات یہ رہی کہ اس طرح دل کے پٹھوں میں تبدیل ہونے والا پالک کا پتّہ بہت باریک ضرور تھا لیکن پھر بھی اس کے اندر ویسی ہی باریک باریک رگوں کا جال بچھا ہوا تھا جیسا کہ اصل پتے میں موجود تھا۔
آزمائشوں سے معلوم ہوا کہ یہ باریک رگیں ٹھیک اسی طرح کام کررہی ہیں جیسے قدرتی انسانی دل کی رگیں، مختلف پٹھوں تک خون پہنچانے کے لیے کرتی ہیں۔

صرف 5 گھنٹے میں نیویارک سے اسلام آباد پہنچنے والا مسافر بردار طیارہ


آواز کی دُگنی رفتار پر سفر کرنے والے مسافر طیارے کو امریکی کمپنی تیار کررہی ہے۔ فوٹو؛ فائل
آواز کی دُگنی رفتار پر سفر کرنے والے مسافر طیارے کو امریکی کمپنی تیار کررہی ہے۔ فوٹو؛ فائل
ڈینور، کولوراڈو: امریکا کی نجی کمپنی ’’بوم ٹیکنالوجی‘‘ نے آواز سے دُگنی رفتار پر سفر کرنے والے مسافر بردار طیارے کا پروٹوٹائپ بنالیا ہے جس نے گزشتہ ہفتے اپنی پہلی آزمائشی پرواز کرلی ہے۔
یہ کمرشل سپرسونک طیارہ آواز کے مقابلے میں 2.2 گنا زیادہ (ماک 2.2) یعنی 2334 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرسکے گا۔ اس وقت مسافر بردار طیارے میں نیویارک سے اسلام آباد تک پہنچنے میں کم از کم 20 گھنٹے لگتے ہیں لیکن مستقبل کے اس مسافر بردار طیارے میں یہی فاصلہ صرف 4 گھنٹے 45 منٹ میں طے کرلیا جائے گا۔
اس طیارے کے پروٹوٹائپ میں جسے ’’ایکس بی ون‘‘ (XB-1) کا نام دیا گیا ہے، صرف 2 افراد کی گنجائش ہے لیکن بوم ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ اس کا تجارتی ورژن (جو 2023 میں متوقع ہے) جسامت میں اس سے 3 گنا بڑا ہوگا جب کہ اس میں 45 سے 55 مسافر سفر کرسکیں گے۔
دنیا کے پہلے مسافر بردار سپرسونک طیارے ’’کنکارڈ‘‘ (Concord) کو ریٹائر ہوئے آج 10 سال سے زیادہ ہوچکے ہیں اور اس عرصے کے دوران ایسے کئی تجارتی طیاروں کے منصوبے سامنے آچکے ہیں جو نہ صرف کنکارڈ سے زیادہ بڑے ہوں گے بلکہ ان کی رفتار اور مسافروں کی گنجائش بھی کنکارڈ سے کہیں زیادہ ہوگی لیکن اب تک یہ تمام منصوبے تجرباتی یا آزمائشی مراحل ہی پر ہیں۔ ایکس بی ون کا معاملہ بھی ان سے کچھ مختلف نہیں۔
پہلی آزمائشی پرواز سے قبل یہ ہوائی سرنگ (وِنڈ ٹنل) میں 1000 گھنٹے سے زیادہ کی آزمائشیں پوری کرچکا تھا جس کے دوران اس میں فلائٹ کنٹرول اور ایویانکس کو حتمی شکل دی گئی جب کہ اس کا ایئرفریم (ڈھانچہ) بھی تیار کرلیا گیا۔
اس کے تجارتی ڈیزائن میں ماک 2.2 کی زبردست رفتار تک پہنچنے کے لیے جنرل الیکٹرک کمپنی کے تیار کردہ 3 عدد جدید ترین ٹربوفین جیٹ انجن نصب کیے جائیں گے۔ یہ جیٹ انجن آج کل کے نئے تربیتی لڑاکا طیاروں میں نصب کیے جارہے ہیں جنہیں کمرشل طیارے میں نصب کرنے کے لیے ضروری تبدیلیوں سے گزارا جائے گا۔
ایکس بی ون پروٹوٹائپ دیکھنے میں کسی لڑاکا طیارے ہی کی طرح نظر آتا ہے لیکن اس کا حتمی ڈیزائن خاصا بڑا اور مسافر بردار طیارے جیسا ہی دکھائی دیتا ہے۔
امریکی میڈیا اسے ’’مکمل نجی‘‘ منصوبہ ضرور قرار دے رہا ہے لیکن اس میں ناسا، پریٹ اینڈ وٹنی، لاک ہیڈ مارٹن، بوئنگ، نارتھروپ گرومین، اسپیس ایکس اور اسکیلڈ کمپوزٹس جیسے اداروں کے ماہرین بھی شریک ہیں جو کسی نہ کسی صورت امریکا میں ہوابازی کے سرکاری شعبے سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔
اس کی تیز رفتاری اور دوسری خوبیاں اپنی جگہ، لیکن یہ کہنا ابھی مشکل ہے کہ یہ بروقت مکمل ہوسکے گا یا نہیں اور یہ کہ اسے ویسی ہی کامیانی حاصل بھی ہوگی کہ جس کی اس سے توقع کی جارہی ہے۔ البتہ ’بوم ٹیکنالوجی‘ کی جاری کردہ خبروں کے مطابق اس طیارے نے اپنی پہلی آزمائشی پرواز پوری کامیابی سے مکمل کی اور وہ تمام اہداف حاصل کیے جنہیں حاصل کرنے کےلیے یہ پرواز کی گئی تھی۔

42 گیگابٹس فی سیکنڈ رفتار والی جدید ترین ’لائی فائی‘ ٹیکنالوجی


نئی لائی فائی ٹیکنالوجی میں انفراریڈ ویوز کی مدد سے رابطہ کیا جاتا ہے جس کی رفتار حیرت انگیز طور پر بہت زیادہ ہے۔ (فوٹو: فائل)
نئی لائی فائی ٹیکنالوجی میں انفراریڈ ویوز کی مدد سے رابطہ کیا جاتا ہے جس کی رفتار حیرت انگیز طور پر بہت زیادہ ہے۔ (فوٹو: فائل)
ہالینڈ: ہالینڈ کی اینڈہوون یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں ماہرین نے لائی فائی کے ذریعے 40 گیگابٹس فی سیکنڈ کی رفتار سے ڈیٹا ٹرانسفر کا کامیاب تجربہ کرلیا ہے جو دنیا کے تیز ترین وائی فائی سے بھی 100 گنا تیز رفتار ہے۔
وائی فائی میں رابطے کےلیے 2.4 گیگا ہرٹز سے 5 گیگا ہرٹز تک کی ریڈیو لہریں استعمال کی جاتی ہیں جو تقریباً ویسی ہی ہوتی ہیں جیسی موبائل فون استعمال کرتے ہیں۔ اس کے برعکس ’لائی فائی‘ یعنی روشنی پر منحصر وائی فائی رابطوں میں خاص طرح کی روشنی خارج کرنے والی ایل ای ڈیز استعمال ہوتی ہیں جو اگرچہ ڈیٹا منتقل تو کرسکتی ہیں مگر وائی فائی کے مقابلے میں اس منتقلی کی رفتار بہت سست ہوتی ہے۔
جرنل آف لائٹ ویو ٹیکنالوجی اور آئی ٹرپل ای ایکسپلور (IEEE Explore) میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق ہالینڈ کی اینڈہوون یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں جوآن اوہ اور ان کے ساتھیوں نے نئی قسم کی لائی فائی ٹیکنالوجی تیار کرلی ہے جو روشنی کے بجائے زیریں سرخ شعاعوں (انفراریڈ ویوز) کی مدد سے رابطہ کرتی ہے جبکہ اس کی رفتار بھی حیرت انگیز طور پر بہت زیادہ ہوتی ہے۔
جوآن اوہ اور ان کے رفقائے تحقیق نے تجربات کے دوران انفراریڈ لائی فائی سگنلوں کو 8.2 فٹ کی دوری تک 42.8 گیگابٹس فی سیکنڈ کی غیرمعمولی رفتار سے نشر کرنے میں کامیابی حاصل کرلی۔ یہ مقصد حاصل کرنے کےلیے خاص طرح کے ’لائٹ انٹینا‘ تیار کیے گئے جو انفراریڈ شعاعوں کی شکل میں وائرلیس سگنلوں کو بڑی تیزی سے نشر اور وصول کرنے کے قابل ہیں۔
فی الحال یہ ٹیکنالوجی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے اور ماہرین کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اسے زیادہ بڑے فاصلوں تک کےلیے کارآمد بنانا ہے کیونکہ فاصلہ زیادہ ہونے پر ڈیٹا ٹرانسفر کی رفتار اچانک بہت کم ہوجاتی ہے۔
اپنی تمام خوبیوں کے باوجود لائی فائی ٹیکنالوجی صرف کسی کھلے علاقے میں یا ایک بند کمرے کے اندر ہی ڈیٹا کی منتقلی کرسکتی ہے کیونکہ روشنی کی لہریں دیواروں کے آرپار نہیں گزرسکتیں۔ البتہ یہ کام مختلف کمروں میں جداگانہ لائٹ انٹینا نصب کرکے ضرور کیا جاسکتا ہے جو یقیناً وائی فائی کے مقابلے میں مہنگا ہوگا لیکن کوئی بعید نہیں کہ آنے والے برسوں میں یہ ٹیکنالوجی اتنی پختہ اور کم خرچ ہوجائے کہ تجارتی پیمانے پر وائی فائی کی جگہ لے سکے۔