منگل، 31 جنوری، 2017

سندھ حکومت کا آن لائن ٹیکسی ، رکشہ سروس بند کرنے کا فیصلہ


ایپلیکشن کریم اور اوبر کو بند کرنے کیلئے پی ٹی اے سے سفارش کر دی گئی ، فٹنس ، کمرشل لائسنس اور روٹ پرمٹ نہیں لیا گیا :ذرائع
کراچی (دنیا نیوز ) سندھ حکومت نے آن لائن ٹیکسی، رکشہ سروس کو بند کرنے کی تیاری کر لی ۔ ایپلیکیشن کریم اور اوبر کو بند کرنے کیلئے پی ٹی اے سے سفارش کر دی ۔ سیکرٹری ٹرانسپوٹ سندھ طحہ فاروقی کی جانب سے پی ٹی اے کو ایپلیکیشن بند کرنے کے لئے خط لکھ دیا گیا ہے ۔
کہا گیا ہے کہ اوبر اور کریم نے قانونی تقاضے پورے نہیں کئے ۔ ان اداروں نے فٹنس ، کمرشل لائنس اور روٹ پرمٹ حاصل نہیں کیا ۔ بتایا گیا کہ کمپنی چھ ماہ سے سندھ حکومت کے خط کا جواب نہیں دے رہی ۔ واضح رہے کہ آن لائن سروسز کراچی میں زور پکڑتی جا رہی ہیں ۔ شہر میں ٹرانسپورٹ کے ناقص نظام سے تنگ شہری یہ سروسز حاصل کر رہے ہیں ۔

آنکھ میں موتیا کی ابتدائی خبر دینے والی ایل ای ڈی ٹیکنالوجی


یہ ٹیکنالوجی آنکھ کے خلیات میں سالماتی سطح کی تبدیلیاں نوٹ کرکے موتیے کا پتا لگاسکتی ہے۔ فوٹو؛ فائل
یہ ٹیکنالوجی آنکھ کے خلیات میں سالماتی سطح کی تبدیلیاں نوٹ کرکے موتیے کا پتا لگاسکتی ہے۔ فوٹو؛ فائل
ایڈنبرا: دنیا بھر میں درمیانی عمر اور بوڑھے افراد کی آنکھ میں موتیا کا مرض عام ہے لیکن اب ایک جامعہ کے ماہرین نے ایل ای ڈی روشنی کی بدولت موتیا کو بالکل ابتدا میں شناخت کا ایک طریقہ وضع کیا ہے۔
ایل ای ڈی (لائٹ ایمٹنگ ڈائیوڈ) کے ذریعے آنکھوں پر روشنی ڈال کر سالماتی (مالیکیولر) سطح پر تبدیلیوں کو نوٹ کیا جاسکتا ہے۔ اس سے ڈاکٹر موتیا کی کیفیت اور شدت کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔ موتیا بڑھتے بڑھتے نظر کو انتہائی دھندلا کردیتا ہے جب کہ ذیابیطس کے مریضوں میں پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔
موتیا پختہ ہونے پر آنکھوں کا روایتی لینس ہٹا کر موتیا کو نکال باہر کیا جاتا ہے اور اس پر ایک پلاسٹک کا لینس لگادیا جاتا ہے۔
ایڈنبرا میں ہیریوٹ واٹ یونیورسٹی نے اسی شہر میں واقع ایک کمپنی سے مل کر یہ ایل ای ڈی ٹیکنالوجی تیار کی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ آنکھ کے عدسے میں ہونے والی تبدیلی کو نوٹ کرسکتی ہے۔
ٹیکنالوجی کی بدولت ڈاکٹر آنکھ کے لینس سے خارج ہونے والے روشنی کے سگنل کی کیفیت اور اس میں ہونے والی تبدیلی کو نوٹ کرسکتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کو بنانے والے سائنسدانوں کا کہنا ہےکہ ایل ای ڈی ٹیکنالوجی سے موتیا مکمل ہونے سے قبل ہی اس کا سراغ لگایا جاسکتا ہے یہاں تک کہ خود مریض بھی ان تبدیلیوں کو محسوس نہیں کرپاتا، یہ طریقہ ذیابیطس اور بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے مفید ثابت ہوسکتا ہے۔
اسی طرح ایل ای ڈی ٹیکنالوجی سے آنکھوں کے عدسے کے پروٹین میں آکسیڈیٹوو تباہی کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے جسے معلوم کرکے آنکھ کو مزید خراب ہونے سے بچایا جاسکے گا۔

اکاؤنٹ کو ہیکنگ سے بچانے والی فیس بک کی سیکیورٹی چابی


فیس بک ’’سیکیورٹی کی‘‘ کے ذریعے ہیکر آپ کے اکاؤنٹ کو ہیک نہیں کرسکتے کیونکہ اس میں معلومات درکار ہوتی ہیں۔ فوٹو؛ فائل
فیس بک ’’سیکیورٹی کی‘‘ کے ذریعے ہیکر آپ کے اکاؤنٹ کو ہیک نہیں کرسکتے کیونکہ اس میں معلومات درکار ہوتی ہیں۔ فوٹو؛ فائل
کیلیفورنیا: فیس بک نے صارفین کے اکاؤنٹ مزید محفوظ بنانے کے لیے ایک یوایس بی جیسی ‘‘چابی‘‘ متعارف کرائی ہے جس کی مدد سے ہیکر آپ کے اکاؤنٹ پر نقب نہیں لگا سکیں گے۔
سوشل میڈیا کی سب سے بڑی اور مشہور کمپنی فیس بک نے ایف آئی ڈی او یوٹی ایف سیکیورٹی ’’کی(چابی)‘‘ متعارف کرادی ہے جو آپ کو فیس بک تک رسائی فراہم کرتی ہے۔ یوایس بی پورٹ میں لگنے والی یہ ’’کی لاگ‘‘ معلومات کی تصدیق کرکے پاس ورڈ کے ساتھ فیس بک کھولتی ہے۔ فیس بک کا دعویٰ ہے کہ اس کا استعمال ہیکرز تک آپ کے اکاؤنٹ کی رسائی ناممکن بنادیتا ہے۔
موبائل استعمال کرنے والے ’’نیر فیلڈ کمیونی کیشن‘‘ این ایف سی استعمال کرسکیں گے جو بغیر تار کے آلات کو محفوظ انداز میں منسلک کرتا ہے۔ جیسے ہی یہ ’’کی‘‘ فیس بک سیٹنگ کے ساتھ ایکٹو ہوتی ہے تو اس میں ’’کی کوڈ اور پاس ورڈ‘‘ درکار ہوتا ہے۔ فیس بک کے مطابق یہ سیٹ اپ کسی دور بیٹھے ہیکر کو آپ کے اکاؤنٹ تک پہنچنے سے باز رکھتا ہے۔
فیس بک نے اعلان کیا ہے کہ یوٹوایف سیکیورٹی ’’کی‘‘ کو ایک مرتبہ اکاؤنٹ پر رجسٹر کرانے کے بعد بار بار اس کی ضرورت نہیں رہتی لیکن جیسے ہی آپ کیشے صاف کرتے ہیں تو اس کے بعد دوبارہ ’’کی‘‘ درکار ہوتی ہے۔ اس ’’کی‘‘ کو آن لائن خریدا جاسکتا ہے جس کی قیمت 21 ڈالر یعنی 2100 روپے کے برابر ہے۔
فیس بک کے مطابق ’’کی‘‘ کسی دوسرے فرد کو بھی آپ کے اکاؤنٹ تک رسائی سے بازرکھتی ہے ۔ ہاں! اگر دو مختلف آلات پر ’’کی‘‘ لگا کر اسے رجسٹر کیا گیا ہے تو اکاؤنٹ دو مختلف ڈیوائسز سے کھولا جاسکتا ہے۔ فیس بک سے وابستہ چیف سیکیورٹی انجینیئر کے مطابق یہ سیکیورٹی ’’کی‘‘ اکاؤنٹ کو مزید محفوظ بنانے والی ایک اضافی ٹیکنالوجی ہے۔
فیس بک سیکیورٹی ٹیم کے مطابق ہر روز دنیا بھر میں 6 لاکھ فیس بک اکاؤنٹ کی سیکییورٹی پر ضرب لگائی جاتی ہے جو کامیاب رہتی ہے اور اس وقت فیس بک صارفین کی تعداد ایک ارب 80 کروڑ کے لگ بھگ ہے۔

بچوں کو کارٹون فلموں کا حصہ بنانے والی ایپ تیار


مفت میں دستیاب ایپ ’’ٹون ٹاسٹک تھری ڈی‘‘ کے ذریعے اب بچے اپنی تصویر اور آواز کارٹون میں شامل کرسکتے ہیں۔
فوٹو: بشکریہ ٹون ٹاسٹک تھری ڈی
مفت میں دستیاب ایپ ’’ٹون ٹاسٹک تھری ڈی‘‘ کے ذریعے اب بچے اپنی تصویر اور آواز کارٹون میں شامل کرسکتے ہیں۔ فوٹو: بشکریہ ٹون ٹاسٹک تھری ڈی
سان فرانسسکو: گوگل نے بچوں کے لیے ایک دلچسپ ایپ تیار کی ہے جس سے وہ اپنی شکل والے کارٹون کرداروں کو ایک ویڈیو میں شامل کرسکتے ہیں اور اس میں اپنی آواز بھی ریکارڈ کرسکتے ہیں۔
تین سال سے زائد عمر کے بچے اب کوئی رقم خرچ کیے بغیر ’ٹون ٹاسٹک تھری ڈی‘ ایپ ڈاؤن لوڈ کرکے مختلف کہانیوں میں اپنی شکل شامل کرسکتے ہیں اور اپنی آواز ریکارڈ کرکے ان کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اس طرح وہ بچوں کی کہانیوں پر مبنی کارٹونوں میں شامل ہوسکتے ہیں۔ یہ ایپ بچوں کے کردار شامل کرنے میں ان کی بھرپور رہنمائی کرتی ہے۔
ایپ کو گُوگل کے تعلیمی شعبے نے جاری کیا ہے جس میں تمام کردار اور ماحول تھری ڈی ہے۔ اس میں بچے کسی بھی کردار پر اپنا چہرہ لگا کر خود اس میں شامل ہوسکتے ہیں بلکہ بچے پروڈیوسر بن کر اپنی چھوٹی کہانیاں اور ویڈیوز خود تیار کرسکتے ہیں۔ اسی طرح اسکول کے لیے بہت دلچسپ کیریکٹر بنائے جاسکتے ہیں۔
گوگل نے اسے ڈجیٹل پتلی تماشہ (پپٹ تھیٹر) قرار دیا ہے جس کے ذریعے بچے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو جگا سکتے ہیں۔ ایپ اسمارٹ فونز، ٹیبلٹس اور کروم بک پر چل سکتی ہے۔ ایپ میں بہت سارے بنے بنائے کردار شامل ہیں جن میں روبوٹ، سمندری قزاق اور وِلن شامل ہیں ۔
اس ایپ کے ذریعے بچے اپنے کردار خود بھی بناسکتے ہیں پھر ان میں مرضی کے رنگ شامل کرکے اپنی تصویر بھی لگاسکتے ہیں اور خود کارٹون کہانی میں شامل ہوسکتے ہیں۔ اس میں  بچے اپنی آواز بھی شامل کرسکتے ہیں جب کہ ویڈیو بنانے کے بعد اسے اپنے ساتھیوں اور دوستوں سے بھی شیئر کرسکتے ہیں۔

کچن کے غذائی فضلے کو کھاد بنانے والا ڈسٹ بن


یہ ڈسٹ بن 24 گھنٹے بعد ہی یہ اس تمام کچرے کو قدرتی کھاد میں تبدیل کردیتا ہے۔
(فوٹو: ورل پول لیب)
یہ ڈسٹ بن 24 گھنٹے بعد ہی یہ اس تمام کچرے کو قدرتی کھاد میں تبدیل کردیتا ہے۔ (فوٹو: ورل پول لیب)
لاس ویگاس: اگر باورچی خانے میں کچرے کے ڈبے (کچن ڈسٹ بن) میں سبزیوں اور پھلوں کے چھلکے اور گوشت کی باقیات وغیرہ زیادہ دنوں تک پڑی رہ جائیں تو ان میں سے شدید بدبو اٹھنے لگتی ہے اور انہیں ٹھکانے لگانا بھی بہت مشکل ہوجاتا ہے لیکن اب ایسا ڈسٹ بن تیار کرلیا گیا ہے جو غذائی فضلے کو کھاد میں تبدیل کرے گا۔
’’ورل پول لیب‘‘ کا تیار کردہ ’’زیرہ فوڈ ری سائیکلر‘‘ اسی مسئلے کا ماحول دوست حل ہے کیونکہ یہ غذائی فضلے کو صرف ایک دن میں کھاد میں تبدیل کرسکتا ہے۔ اس کی جسامت ایک بڑے کچن ڈسٹ بن جتنی ہے اور یہ ایک بٹن دبانے پر اپنا کام شروع کردیتا ہے۔
اس میں ایک ہفتے کا غذائی فضلہ سما سکتا ہے اور ایک بار کارروائی شروع کرنے کے 24 گھنٹے بعد ہی یہ اس تمام کچرے کو قدرتی کھاد میں تبدیل کردیتا ہے جو اس کے نچلے حصے میں جمع ہوجاتی ہے۔ اس کھاد کو پودوں کی نشوونما بہتر بنانے میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔
کچرے کو آہستہ آہستہ لیکن مسلسل حرکت دینے والے نظام، نمی، آکسیجن اور حرارت کی بدولت اس کے اندر ایسا ماحول پیدا ہوجاتا ہے جو غذائی فضلے کو کھاد میں تبدیل کرنے کا عمل بہت تیز رفتار بنادیتا ہے جب کہ زیرہ فوڈ ری سائیکلر کو ایک موبائل ایپ سے بھی کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔
یہ اتنا چھوٹا ہے کہ عام گھریلو باورچی خانے میں بھی رکھا جاسکتا ہے جہاں یہ ایک اوسط ڈسٹ بن سے زیادہ کی جگہ نہیں گھیرتا۔ اس ماہ منعقدہ کنزیومر الیکٹرونک شو 2017 میں اسے عوام کے سامنے پیش کرتے ہوئے اس کی ایڈوانس بکنگ شروع کردی گئی ہے جب کہ ستمبر 2017 تک اس کی فروخت شروع کردی جائے گی۔ فی الحال اس کی قیمت 1200 ڈالر رکھی گئی ہے۔

فیس بک پرصارف کو ’’اکتا‘‘ دینے والا فیچر


جلد آنے والے فیس بک کے اس نئے فیچر کے سے صارفین نہ صرف بیزار ہوں گے بلکہ انہیں غصہ بھی آسکتا ہے۔ فوٹو؛ فائل
جلد آنے والے فیس بک کے اس نئے فیچر کے سے صارفین نہ صرف بیزار ہوں گے بلکہ انہیں غصہ بھی آسکتا ہے۔ فوٹو؛ فائل
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر جلد ہی ایسے فیچر کا اضافہ ہونے والا ہے جس سے صارفین نہ صرف بیزار ہوں گے بلکہ انہیں غصہ بھی آسکتا ہے۔
آپ ٹی وی پر اپنا من پسند پروگرام، شو یا ڈراما دیکھ رہے ہوں اور بیچ میں اشتہارات کا طویل سلسلہ شروع ہوجائے تو بہت بُرا لگتا ہے، اسی طرح کوئی اچھی فلم دیکھتے ہوئے درمیان میں اشتہارات کی آمد ہم پر جھنجھلاہٹ طاری ہوتی ہے۔ جب ہم بات کریں سوشل میڈیا کی تو یہ ایک آزاد دنیا ہے جہاں ہر شخص کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتا اور خیالات و نظریات پیش کرتا ہے مگر یہ آزاد دنیا بھی اشتہارات سے بے نیاز نہیں رہ سکی۔
سوشل میڈیا کی دنیا کی مقبول ترین سائٹ فیس بک نے حال ہی میں ایک نیا فیچر متعارف کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس پر کام شروع کردیا گیا ہے۔ ویسے تو فیس بک کا ہر نیا فنکشن اور فیچر اس سائٹ کے صارف کے لیے خوشی اور سہولت کا پیغام لاتا ہے لیکن اب اس کا یہ نیا فیچر شاید صارف کو خوشی اور سکون نہ دے سکے بل کہ امکان ہے کہ یہ انہیں فیس بک سے ناراض کردے گا۔
ایک رپورٹ کے مطابق نئے فیچر کے تحت فیس بک اس سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر وڈیو شیئر کرنے والوں کو اس بات کی اجازت دے گی کہ وہ اپنے وڈیوکلپس میں اشتہارات شامل کرلیں۔ اس نئے فیچر کے سامنے آنے کے بعد وڈیو کلپس دیکھنے والے صارف کو کم ازکم 20 سیکنڈ تک اس میں شامل اشتہار بھی دیکھنا پڑے گا، چاہے اب وہ اسے منہ بنا کے دیکھے یا خوشی خوشی دیکھے لیکن سائٹ کا نیا فیچر اشتہارات کو وڈیوز کا لازمی حصہ بنادے گا۔
فیس بک کی پالیسی کے مطابق سائٹ پر وڈیو کلپ شیئر کرنے والا اس میں شامل اشتہارات سے حاصل ہونے والی رقم کا 55 فی صد وصول کر پائے گا۔ یہ اقدام فیس بک کے لیے بہت بڑی تبدیلی ثابت ہوگا جو اب تک کسی وڈیو کے شروع ہونے سے پہلے اس میں اشتہار شامل کرنے کی فرمائشوں کی مزاحمت کرتی رہی ہے۔
واضح رہے کہ ایک تخمینے کے مطابق فیس بک کے صارفین یک دن میں وڈیوز دیکھنے پر مجموعی طور پر 100 ملین گھنٹے لگاتے ہیں۔ اب تک فیس بک پر وڈیو کلپس اپ لوڈ کرنے والے آمدنی سے محروم رہے ہیں یا پھر انہیں بہت کم آمدنی حاصل ہوئی ہے تاہم نیا فیچر متعارف ہونے کے بعد ان کے وارے نیارے ہوجائیں گے اور اس طرح فیس بک کی آمدنی میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔ لیکن فیس بک صارفین کی ناراضی سے یہ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ کیسے نمٹے گی؟ اس سوال کا جواب وقت ہی دے گا۔

فون کو ڈرون بنانے والی حیرت انگیز کیسنگ

سیلفلائی کی قیمت 79 ڈالر ہے لیکن بعد میں یہ مزید مہنگا دستیاب ہوگا۔ فوٹو: بشکریہ سیلفلائی کمپنی
سیلفلائی کی قیمت 79 ڈالر ہے لیکن بعد میں یہ مزید مہنگا دستیاب ہوگا۔ فوٹو: بشکریہ سیلفلائی کمپنی
واشنگٹن: بازار میں سیلفی لینے والے بہت سے ڈرون موجود ہیں لیکن فون کے ساتھ ساتھ انہیں بھی اٹھائے رکھنا بہت مسئلہ ہوتا ہے۔ اس کا علاج ایک نئی کمپنی سیلفلائی نے پیش کیا ہے۔ یہ ڈرون کیمرے سے لیس ہے اور اس کے پر سکڑ کر اسمارٹ فون کا حصہ بن جاتے ہیں بلکہ یوں کہئے کہ ڈرون آپ کے فون کی کیسنگ سے منسلک ہوجاتا ہے۔
سیلفلائی کو استعمال کرنے کے لیے اپنے اسمارٹ فون کی کیسنگ کھولیں اور اس کے اندر سمٹی ہوئی موٹریں اور پنکھے ازخود باہر آجائیں گے۔ اس کے بعد اسے ہوا میں اچھال دیجئے اور پھر ہوا سے سیلفی اور ڈرون ویڈیو کا لطف اٹھائیے۔ فون میں وائی فائی کنکشن ہے جبکہ فون کو اینڈروئیڈ اور آئی او ایس ایپ کے ذریعے ایک ورچوئل جوائے اسٹک کے ذریعے اسمارٹ فون کے اسکرین سے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔
ڈرون کی موٹائی 9 ملی میٹر ہے اور اس میں 8 میگا پکسل کیمرہ نصب ہے جو 1080 پکسل یا 30 فریم فی سیکنڈ کی ویڈیو بناتا ہے۔ اس میں 650 ایم اے ایچ کی بیٹری نصب ہے جو ایک مرتبہ چارج ہونے پر ڈرون کو پانچ منٹ تک محو پرواز رکھ سکتی ہے۔
ایک اڈاپٹر کے ذریعے سیلفی ڈرون 4 سے 6 انچ والے کئی فونز سے جڑسکتا ہے۔ ان میں یہ آئی فون 6، آئی فون 6 پلس، آئی فون 7، آئی فون 7 پلس، گیلکسی ایس 6 ایج، گیلکسی ایس 6، گیلکسی 7، گیلکسی 7 ایج اور نیکسس 6 کے ساتھ کارآمد ہے۔ فی الحال یہ منصوبہ کک اسٹارٹر پرمطلوبہ رقم فنڈنگ کی تلاش میں ہے اور ابھی اس کی قیمت 79 ڈالر ہے لیکن اس کے بعد سیلفلائی کی قیمت 139 ڈالر ہوجائے گی۔

جمعہ، 27 جنوری، 2017

ڈرائیورکے بغیرچلنے والی بسیں

فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں تجرباتی طور پر ڈرائیور کے بغیر چلنے والی بس متعارف کروا دی گئی ہے۔
(فوٹو: ایزی مائل)
فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں تجرباتی طور پر ڈرائیور کے بغیر چلنے والی بس متعارف کروا دی گئی ہے۔ (فوٹو: ایزی مائل)
پیرس: فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں تجرباتی طور پر ڈرائیور کے بغیر چلنے والی بس متعارف کروا دی گئی ہے۔
یہ خودکار بس جسے ’’ای زی 10‘‘ (EZ10) کا نام دیا گیا ہے، فرانس کی نجی کمپنی نے تیار کی ہے اور فی الحال ایسی صرف دو بسیں ہی چلائی گئی ہیں جو وسطی پیرس میں لیون اور آسٹرلٹز بس اسٹیشنوں کے درمیان ہی سفر کرتی ہیں جن کا  درمیانی فاصلہ صرف ایک کلومیٹر ہے۔
’’ای زی 10‘‘ قسم کی بسیں بجلی استعمال کرتی ہیں اور ان میں سے ہر بس میں صرف 12 افراد کی گنجائش ہے۔ انہیں تین ماہ تک آزمائشی طور پر چلایا جائے گا جس کے بعد ایسی مزید بسیں پیرس اور دوسرے فرانسیسی شہروں کی سڑکوں پر لانے یا نہ لانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

جمعرات، 26 جنوری، 2017

دوائیں پہنچانے کیلیے ’’گتے‘‘ کا ڈرون تیار

ڈرون کو امریکی دفاعی ادارے پینٹاگون نے تیار کیا ہے جو ایک کلوگرام وزن اٹھا کر 88 کلو میٹر تک جاسکتا ہے۔
(فوٹو: ادرلیب)
ڈرون کو امریکی دفاعی ادارے پینٹاگون نے تیار کیا ہے جو ایک کلوگرام وزن اٹھا کر 88 کلو میٹر تک جاسکتا ہے۔ (فوٹو: ادرلیب)
ورجینیا: پنٹاگون کے دفاعی تحقیقی ادارے ’’ڈارپا‘‘ نے ’’اپسرا‘‘ کے نام سے گتے سے بنا ایسا ڈرون تیار کیا ہے جو ایک کلو گرام وزن اٹھا کر 88 کلومیٹر دور تک پہنچاسکتا ہے۔
روایتی ڈرونز کا مقصد جاسوسی، نگرانی اور دشمن پر حملے کرنا ہوتا ہے لیکن یہ ہلکا پھلکا ڈرون بطورِ خاص دواؤں، خون کی بوتلوں اور دوسرے کم وزن طبی ساز و سامان کو مطلوبہ جگہ تک پہنچانے کے لیے بنایا گیا ہے۔
دلچسپی کی بات تو یہ ہے کہ اس میں کسی قسم کی کوئی دھات استعمال نہیں کی گئی ہے بلکہ اس کا ہر حصہ صرف گتے یا ایسے مادوں پر مشتمل ہے جنہیں ’’بایو ڈی گریڈیبل‘‘ (حیاتی تنزل پذیر) کہا جاتا ہے؛ یعنی کام مکمل ہوجانے کے بعد اسے پرزے پرزے کرکے کچرے میں پھینکا جاسکتا ہے اور یہ جلد ہی گل کر مٹی میں تحلیل ہوجاتا ہے۔
اس کی تیاری میں ڈارپا کے دو پرانے منصوبوں ’’اِکارس‘‘ (ICARUS) اور وی اے پی آر (VAPR) سے استفادہ کیا گیا ہے جب کہ ’’ادرلیب‘‘ نامی ادارے کی شراکت سے حتمی شکل دی گئی ہے۔ مکمل طور پر گتے سے بنے اس ڈرون کا پورا نام ’’ایریئل پلیٹ فارم سپورٹنگ آٹونومس ری سپلائی ایکشنز‘‘ یا مختصراً ’’اپسرا‘‘ (APSARA) رکھا گیا ہے۔

اب انٹرنیٹ کے بغیر واٹس ایپ کا استعمال ممکن

آئی فون کےلئے واٹس ایپ کا تازہ ترین ورژن 2.17.1 ہے جو ’آئی ٹیون‘ سے ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔ (فوٹو: فائل)
آئی فون کےلئے واٹس ایپ کا تازہ ترین ورژن 2.17.1 ہے جو ’آئی ٹیون‘ سے ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔ (فوٹو: فائل)
واٹس ایپ نے اب ایپل آئی او ایس کے لئے نئی اپ ڈیٹس جاری کی ہیں جن کی بدولت اب آئی فون صارفین بھی انٹرنیٹ کنکشن کے بغیر واٹس ایپ استعمال کرسکیں گے۔
آئی فون پر انسٹال واٹس ایپ میں یہ قباحت تھی کہ اگر کبھی یہ اسمارٹ فون انٹرنیٹ سے کنکٹ نہ ہو تو واٹس ایپ سے میسج بھیجنے کی کوشش ناکام ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد جب آئی فون دوبارہ آن لائن ہوتا ہے تو صارف کو یہ پیغامات خود ہی بھیجنا ہوتے ہیں۔
آئی او ایس کے لئے واٹس ایپ کی نئی اپ ڈیٹ میں یہ جھنجھٹ ہی ختم کردیا گیا ہے: اگر آن لائن نہ ہونے پر کوئی پیغام بھیجنے کی کوشش ناکام ہوجائے تو کوئی بات نہیں۔ دوبارہ آن لائن ہونے پر واٹس ایپ ان پیغامات کو خودبخود بھیج دے گا اور صارف کو اپنے طور پر یہ کام کرنا نہیں پڑے گا۔ یہ فیچر اینڈروئیڈ پر چلنے والے واٹس ایپ ایپلی کیشن میں پہلے ہی سے موجود تھا جسے آئی او ایس میں بھی متعارف کروایا گیا ہے۔
اس کے علاوہ اب آئی فون صارفین بہ یک وقت 30 تصویریں تک منتخب کرکے انہیں ایک ساتھ واٹس ایپ پر بھیج سکتے ہیں۔ پہلے یہ حد 10 تصویروں تک تھی۔
واٹس ایپ (آئی او ایس ورژن) میں ایک اور اپ ڈیٹ یہ بھی دی گئی ہے کہ صارف اپنے پیغامات کے سلسلے (میسج تھریڈ) کا کوئی بھی حصہ سلیکٹ کرکے ڈیلیٹ کرسکتا ہے۔ پیغامات کے ان غیرضروری حصوں میں ٹیکسٹ کمنٹس کے علاوہ تصویریں اور ویڈیوز بھی شامل ہیں جنہیں ڈیلیٹ کرکے میموری میں دوسرے ڈیٹا کےلئے جگہ خالی کی جاسکتی ہے۔
واضح رہے کہ اس وقت آئی فون کےلئے واٹس ایپ کا تازہ ترین ورژن 2.17.1 ہے جو ایپل کارپوریشن کے آن لائن اسٹور ’’آئی ٹیون‘‘ سے ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے البتہ یہ آئی او ایس 7 یا اس سے بعد کے ورژن ہی پر کام کرسکتا ہے۔

بدھ، 25 جنوری، 2017

نامورشخصیات سے حیران کن حد تک مماثلت رکھنے والے افراد


نامور شخصیات کے ہم شکل افراد کو دیکھ کر اصل کا گمان ہوتاہے۔ فوٹو: فائل
نامور شخصیات کے ہم شکل افراد کو دیکھ کر اصل کا گمان ہوتاہے۔ فوٹو: فائل
 لندن: دنیا میں ہم شکل شخصیات کا ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں لیکن بعض ایسی شخصیات ہیں جنہیں معلوم ہی نہیں ہوگا کہ ان کے ہم شکل دنیا کے کس حصے میں رہ رہے ہیں۔
ہالی ووڈ نگری سے تعلق رکھنے والی بعض نامور شخصیات ایسی ہیں جنہیں علم ہی نہ ہوگا کہ دنیا کے کسی حصے میں ان کے ہم شکل بھی کسی نہ کسی صورت گھوم پھر رہے ہیں۔ ایسے ہی بعض نامور اداکار، گلوکار اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات پر ایک نظر۔
جارج کلونی:
ہالی ووڈ کے نامور اداکار جارج کلونی کے ہم شکل ترکی میں موجود ہیں جن کی تصویر ٹرین میں سفر کرتے ہوئے کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کیا۔  تصویروں میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دونوں افراد کی شکلیں ایک دوسرے سے کافی حد تک مماثلت رکھتی ہیں۔
زین ملک:
برطانوی گلوکار زین ملک سے ملتے جلتا لڑکا بھارت میں دیکھا گیا جس کی آنکھیں، بال اور چہرہ کا وضع قطع ہوبہو برطانوی گلوکار زین ملک سے ملتا ہے۔
ہلک ہوگن:
ماضی کے نامور ریسلر اور ڈبلیو ڈبلیو ای چیمپئن ہلک ہوگن کا ہم شکل بھی امریکا میں ہی موجود ہے جسے دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ یہ ہلک ہوگن ہی ہے۔
جانی ڈیپ:
بائیں جانب تصویر میں دکھائی دینے والا شخص بھارتی شہری ہے جس نے ہالی ووڈ اداکار جانی ڈیپ کی مشہور زمانہ فلم پائریٹس آف کیربیئن میں اپنایا گیا روپ دھارا ہوا ہے جب کہ بھارتی شہری اپنے اس روپ میں ہوبہو جانی ڈیپ دکھائی دیتا ہے۔
مارگن فری مین:
ہالی ووڈ کے نامور اداکار مورگن فری مین کو معلوم ہی نہیں ہوگا کہ ان کے ہم شکل میکسیکو میں ایک دکان پر ملازم ہیں جو چکن بنانے کا کام کرتے ہیں۔
بریڈ پٹ:
ایشین شخص جس کی شکل ہوبہو ہالی ووڈ اداکار بریڈ پٹ سے ملتی ہے۔

ماؤنٹ ایورسٹ کی دوبارہ پیمائش کا فیصلہ

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ نیپال میں 2015 میں آنے والے زلزلے کے بعد ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندی میں فرق واقع ہوا ہے۔ فوٹو:فائل
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ نیپال میں 2015 میں آنے والے زلزلے کے بعد ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندی میں فرق واقع ہوا ہے۔ فوٹو:فائل
نئی دلی: نیپال میں دو سال قبل آنے والے زلزلے کے بعد سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر ماؤنٹ ایورسٹ کی اونچائی میں تبدیلی واقع ہوئی ہے جس کے لئے اس کی دوبارہ پیمائش کرنا ہوگی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سروے آف انڈیا نے اعلان کیا ہے کہ دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کی دوبارہ پیمائش کی جائے گی کیوں کہ بعض سائنسدانوں کا خیال ہے کہ 2015 میں نیپال میں آنے والے زلزلے کے بعد یہ اپنی جگہ سے معمولی سرک چکا ہے جب کہ کچھ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ نیپال میں 7.8 شدت کے زلزلے کے بعد ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندی میں اضافہ ہوا ہے۔
بھارتی سروئیر جنرل سورنا سوابا راؤ کا کہنا ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ کی دوبارہ پیمائش کے مقصد کے لیے آئندہ 2 ماہ میں ایک مہم نیپال اور چین کی سرحد پر واقع اس چوٹی پر بھیجی جائے گی جس کے لئے زمینی سروے اور جی پی ایس کی مدد درکار ہوگی تاکہ اس پہاڑ میں چند سینٹی میٹر کی بھی کسی ممکنہ تبدیلی کو ناپا جاسکے۔
واضح رہے کہ دنیا کے بلند ترین پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ کی اونچائی سطح زمین سے 29 ہزار 28 فٹ بلند ہے جو 62 سال قبل انڈین سروے میں بتائی گئی تھی۔

تھری ڈی پرنٹرسے انسانی کھال بھی تیار

تھری ڈی پرنٹر کو انسانی کھال چھاپنے کے قابل بنانے کے لیے خاص طرح کی ’’حیاتی روشنائی‘‘ (بایو اِنک) تیار کی گئی۔ فوٹو؛ فائل
تھری ڈی پرنٹر کو انسانی کھال چھاپنے کے قابل بنانے کے لیے خاص طرح کی ’’حیاتی روشنائی‘‘ (بایو اِنک) تیار کی گئی۔ فوٹو؛ فائل
میڈرڈ: اسپین میں سائنسدانوں اور انجینئروں کی ایک ٹیم نے ایسا تھری ڈی بایو پرنٹر تیار کرلیا ہے جس سے انسانی کھال کی نقل تک ’’چھاپی‘‘ جاسکتی ہے۔
یہ تھری ڈی بایو پرنٹر ہسپانوی جامعات، تحقیقی مراکز اور نجی اداروں کا مشترکہ کارنامہ ہے جو متوقع طور پر جلد ہی مارکیٹ میں دستیاب بھی ہوجائے گا اور اس کی مدد سے کاسمیٹکس، کیمیکلز اور دواؤں کی جانچ پڑتال کے لیے انسانوں کی ضرورت بھی ختم ہوجائے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مزید بہتری اور پختگی کے بعد اسی بایو پرنٹر سے جلی ہوئی یا متاثرہ کھال والے مریضوں کے لیے ان ہی کے جسمانی خلیات سے تیار کردہ جیتی جاگتی مصنوعی کھال تک چھاپی جاسکے گی۔ ریسرچ جرنل ’’بایو فیبریکیشن‘‘ کے تازہ آن لائن شمارے میں اس ٹیم نے اپنے کارنامے کی مکمل تفصیلات شائع بھی کروادی ہیں۔
اس تھری ڈی پرنٹر کو انسانی کھال چھاپنے کے قابل بنانے کے لیے خاص طرح کی ’’حیاتی روشنائی‘‘ (بایو اِنک) تیار کی گئی جس میں وہ تمام ضروری خلیات شامل تھے جو انسانی کھال میں شامل ہوتے ہیں۔ کھال چھاپنے والے تھری ڈی بایو پرنٹر کو کامیاب بنانے کے لیے اسے اضافی طور پر براہِ راست چمڑہ چھاپنے کے قابل بھی بنالیا گیا ہے جس کی بدولت چمڑہ سازی میں جانوروں کی ضرورت کم رہ جائے گی۔
واضح رہے کہ پتلی جھلی کی طرح دکھائی دینے والی قدرتی کھال میں بھی کئی پرتیں (layers) اوپر تلے ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں اور اسی وجہ سے کھال اپنا کام درست طور پر کرسکتی ہے۔ ہسپانوی ماہرین کے سامنے اصل چیلنج بھی یہی مرحلہ تھا جسے پورا کرنے کے لیے ہر باریک پرت سے تعلق رکھنے والے خلیات اور مادّوں پر مشتمل بایو اِنک کو جداگانہ پرتوں کی شکل میں ترتیب وار ایک دوسرے کے اوپر جمایا گیا۔
اس وقت دواؤں اور طبّی آلات کی منظوری دینے والے مختلف اداروں میں مذکورہ بایو پرنٹر کا جائزہ لیا جارہا ہے جن سے منظوری کے بعد پہلے پہل یہ یورپی ممالک میں دستیاب ہوجائے گا۔

تیز رفتار اور زیادہ رینج والا بلیو ٹوتھ فائیو

’’بلیو ٹوتھ 5‘‘ اپنے پچھلے ورژن سے زیادہ تیز رفتار اور زیادہ رینج کا حامل بھی ہوگا۔
’’بلیو ٹوتھ 5‘‘ اپنے پچھلے ورژن سے زیادہ تیز رفتار اور زیادہ رینج کا حامل بھی ہوگا۔
واشنگٹن: بین الاقوامی ’’بلیوٹوتھ اسپیشل انٹرسٹ گروپ‘‘ (ایس آئی جی) نے وائرلیس رابطہ معیار کے نئے ورژن ’’بلیو ٹوتھ 5‘‘ کی تفصیلات جاری کردی ہیں جن کے مطابق یہ اپنے پچھلے ورژن کے مقابلے میں نہ صرف زیادہ تیز رفتار ہوگا بلکہ اس سے زیادہ فاصلے پر آلات کے درمیان رابطہ بھی کیا جاسکے گا۔
بلیوٹوتھ کا پہلا ورژن 1998 میں پیش ہوا جس کے بعد سے اس میں ترمیم، اضافے اور بہتری کا سلسلہ جاری ہے۔ بلیوٹوتھ کا تازہ ترین ورژن 4.2 ہے جس کی سہولت تقریباً تمام نئے لیپ ٹاپ کمپیوٹرز، ٹیبلٹس اور اسمارٹ فونز میں موجود ہے۔
بلیوٹوتھ معیار کو مزید بہتر بناتے ہوئے اس کے ورژن 5 میں ایسے کئی مسائل حل کیے گئے ہیں جو پچھلے ورژن میں استعمال کے دوران سامنے آئے تھے۔ البتہ بلیوٹوتھ 5 کے اہم ترین فیچرز کا تعلق اس کی رینج اور رفتار سے ہے۔ اب تک کوئی بلیوٹوتھ کنکشن زیادہ سے زیادہ 100 میٹر کے فاصلے تک کام کرسکتا تھا لیکن ایس آئی جی کا کہنا ہے کہ نئے معیار میں یہ فاصلہ 4 گنا کردیا گیا ہے۔
بلیو ٹوتھ فائیو کی دوسری اہم بات ڈیٹا ٹرانسفر اسپیڈ ہے جو نئے معیار میں پہلے کی نسبت دُگنی ہے۔ بلیوٹوتھ 5 کی تیسری سب سے خاص بات اس کے ایک سگنل میں ڈیٹا کی گنجائش ہے جسے بڑھا کر پہلے کے مقابلے میں 8 گنا کردیا گیا ہے۔ یعنی اس نئے معیار کے تحت کسی بھی پیغام کو نشر یا وصول کرنے کے لیے 8 گنا کم سگنلوں کی ضرورت ہوگی۔
بلیوٹوتھ 5 اسی قبیل کے پرانے معیارات پر بھی قابلِ استعمال (backward compatible) ہوگا جو بہت ضروری بھی ہے۔ اندازہ ہے کہ وائرلیس رابطے کے اس جدید ترین معیار سے استفادہ کرنے والے اوّلین آلات آئندہ 6 ماہ تک تیار ہوجائیں گے لیکن بلیوٹوتھ 5 کا اصل زمانہ اگلے سال یعنی 2018 میں شروع ہوگا کیونکہ تب تک بیشتر ٹیکنالوجی کمپنیوں کو یہ ٹیکنالوجی اپنے نئے اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹس وغیرہ میں سمونے کے لیے خاصا وقت مل چکا ہوگا۔

منگل، 24 جنوری، 2017

جانیے واٹس ایپ کے 5 مفید ترین فیچرز


اکثر صارفین واٹس ایپ کے اہم فیچرز سے واقف نہیں اسی لیے وہ واٹس ایپ سے بھرپور فائدہ بھی نہیں اٹھا پاتے۔ فوٹو؛ فائل
اکثر صارفین واٹس ایپ کے اہم فیچرز سے واقف نہیں اسی لیے وہ واٹس ایپ سے بھرپور فائدہ بھی نہیں اٹھا پاتے۔ فوٹو؛ فائل
واٹس ایپ نے دنیا بھر میں اپنے دوستوں سے رابطے میں رہنا، باتیں کرنا اور انہیں اپنی خوشی غمی میں شریک رکھنا بہت ہی آسان اور تیز رفتار بنادیا ہے لیکن اکثر صارفین کو اس کے اہم اور مفید فیچرز کے بارے میں معلومات نہیں ہوتیں اور اسی لیے وہ واٹس ایپ سے بھرپور فائدہ بھی نہیں اٹھا پاتے۔
پیغام پر ستارہ:
ای میل میں یہ فیچر برسوں سے موجود ہے کہ آپ اہم پیغامات کو ’’اسٹار‘‘ کرسکتے ہیں تاکہ انہیں ڈھونڈنے میں آسانی رہے۔ واٹس ایپ بھی اہم پیغامات کو نشان زد کرنے کے لیے اسٹار کرنے کی سہولت دیتا ہے۔ ایپل آئی او ایس پر چلنے والے واٹس ایپ میں اس مقصد کے لیے ’’اسٹار ٹیب‘‘ موجود ہے جب کہ اینڈروئیڈ صارفین کو مینیو بٹن پریس کرنے کے بعد میسجز کو اسٹار کرنے کی سہولت مل جاتی ہے۔
بہترین دوست کون؟
سوشل میڈیا کی زبان میں بہترین دوست وہ ہوتے ہیں جو آپ کے ساتھ سب سے زیادہ تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ واٹس ایپ پر آپ کا بہترین دوست کون ہے تو آئی فون والوں کے لیے یہ بہت آسان ہے، پہلے واٹس ایپ میں سیٹنگز پر جائیے اور پھر ڈیٹا اینڈ اسٹوریج یوز سے ہوتے ہوئے اسٹوریج یوز تک پہنچ جائیے۔ یہاں موجود فہرست میں ڈیٹا تبادلے کی بنیاد پر آپ سے رابطے میں رہنے والے دوستوں کو ترتیب دیا گیا ہوگا۔ اس فہرست میں جو احباب سب سے اوپر ہیں، بس وہی واٹس ایپ پر آپ کے بہترین دوست بھی ہیں۔ ڈیٹا تبادلے کی مزید تفصیلات کونٹیکٹ کے نام پر انگلی پریس کرکے حاصل کی جاسکتی ہیں۔
اگر آپ نے اینڈروئیڈ فون پر واٹس ایپ انسٹال کیا ہوا ہے تو واٹس ایپ کھول کر سیٹنگز، پھر چیٹ، اس کے بعد چیٹ ہسٹری اور آخر میں ای میل چیٹ والے سیکشن میں پہنچ جائیے۔ اس کے بعد والے مراحل وہی ہیں جو آئی فون میں کیے گئے تھے۔
تصویریں اور ویڈیوز محفوظ ہی نہ کی جائیں:
واٹس ایپ کے ذریعے تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرانے کی سہولت اسمارٹ فون کو بعض مرتبہ بہت بھاری پڑ جاتی ہے اور اسمارٹ فون میموری بہت جلد ختم ہونے لگتی ہے۔ ایسے میں اینڈروئیڈ فون صارفین مجبور ہوتے ہیں کہ ایک ایک غیر ضروری ویڈیو اور تصویر کو سلیکٹ کرکے ڈیلیٹ کریں لیکن واٹس ایپ آئی فون ورژن کی ڈیفالٹ سیٹنگز اس طرح سے تبدیل کی جاسکتی ہیں کہ یہ موصول ہونے والی تصویروں اور ویڈیوز کو محفوظ ہی نہ کرے۔ اس کے لئے سیٹنگز، پھر چیٹس اور اس کے بعد Save Incoming Media فیچر کو ’’آف‘‘ کیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ فیچر اینڈروئیڈ پر انسٹالڈ واٹس ایپ کےلئے موجود نہیں۔
گفتگو کی بولتی بند:
چونکہ واٹس ایپ عموماً روزانہ 24 گھنٹے انٹرنیٹ سے منسلک رہتا ہے اسی لیے وقت بے وقت واٹس ایپ میسجز کی آواز آپ کا آرام بھی غارت کرسکتی ہے اور یہ آواز اسمارٹ فون کو میوٹ کرنے سے بھی بند نہیں ہوتی۔ اگر آپ بھی اسی وجہ سے پریشان ہوتے ہیں تو اپنے اسمارٹ فون پر واٹس ایپ لانچ کیجئے، کونٹیکٹ یا گروپ کے نام کو ایک سیکنڈ تک انگلی سے دبائے رکھیں اور ایک فلوٹنگ مینیو نمودار ہوجائے گا جس میں چیٹ/ تبادلہ خیال کو ’’خاموش‘‘ کرنے کا آپشن بھی موجود ہوگا۔ اسے استعمال کرتے ہوئے آپ کسی بھی انفرادی یا گروپ چیٹ کی نوٹی فکیشن ٹون کو 8 گھنٹے سے ایک سال تک کے لیے خاموش (میوٹ) کرسکتے ہیں۔
چیٹ ہسٹری ایکسپورٹ کریں:
کچھ صارفین اپنے دوستوں کے ساتھ برسوں پہلے کی گئی باتوں کو بھی بے حد عزیز رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ ہمیشہ محفوظ رہیں لیکن اسمارٹ فون کی میموری انہیں اس کی اجازت نہیں دیتی۔ اس مسئلے کا حل چیٹ ہسٹری ’’ایکسپورٹ‘‘ کرنے میں ہے یعنی خاص الخاص قسم کی چیٹ ایک ای میل کے طور پر آپ کے ذاتی ای میل اکاؤنٹ میں محفوظ رکھی جاسکتا ہے۔ اینڈروئیڈ صارفین کا کام آسان ہے کیونکہ انہیں واٹس ایپ میں کسی کونٹیکٹ یا گروپ چیٹ پر پہنچ کر More اور پھر Email Chat پر کلک کرنا ہوتا ہے۔ ذرا سی دیر میں اس چیٹ کی ایک نقل بطور ای میل آپ کے دیئے گئے ای میل اکاؤنٹ میں پہنچ کر محفوظ ہوجائے گی۔
البتہ آئی فون والوں کو کچھ زیادہ مراحل کرنا ہوں گے، پہلے انہیں تھریڈ/ کمنٹس کا وہ سلسلہ تلاش کرنا ہوگا جسے وہ ایکسپورٹ کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد تھریڈ میں شامل کسی خاص کونٹیکٹ کا نام پریس کرکے اس کونٹیکٹ کی تفصیلات سامنے لانا ہوں گی اور اسکرول ڈاؤن کرتے ہوئے اس پیج کے سب سے نچلے حصے میں پہنچنا ہوگا جہاں انہیں ’’ایکسپورٹ چیٹ‘‘ کا آپشن نظر آئے گا۔ اسے سلیکٹ کرنے سے وہ تھریڈ/ چیٹ آپ کے دیئے گئے ای میل ایڈریس پر ایکسپورٹ کردیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اس آپشن کے ذریعے چیٹ کو میڈیا سمیت یا میڈیا کے بغیر بھی ایکسپورٹ کیا جاسکتا ہے۔