ہفتہ، 31 دسمبر، 2016

لوگ کیا کھا کر نئے سال کا آغاز کرتے ہیں؟

لوگ کیا کھا کر نئے سال کا آغاز کرتے ہیں؟

ویسے تو نئے سال کا جشن ہر ملک میں ہی نہایت جوش و خروش سے منایا جاتا ہے، تاہم اس دوران کھانے پینے پر بھی بہت زور دیا جاتا ہے۔
جہاں دنیا 2016 کے اختتام پر 2017 کے آغاز کا جشن منائی گی، وہیں کئی ممالک میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اس سال کی شروعات کچھ خاص کھا کر کرتے ہیں۔
جیسے کسی ممالک میں سال کا آغاز دال کھا کر کیا جاتا ہے، تو کہیں اس موقع پر انار کو ترجیح دی جاتی ہے۔
اور ایسے ہی کئی ممالک کی اپنی اپنی روایات اور رسومات ہیں جنہیں سالوں سے اہمیت دی جارہی ہے۔
دنیا بھر میں نئے سال کے موقع پر کس کھانے کا کھا کر سال کا آغاز کیا جاتا ہے مندرجہ ذیل دیکھیں:

بیلاروس: مکئی

ایران: فالودہ

ارجنٹائن: لوبیا

آئر لینڈ: بٹر بریڈ

جاپان: نوڈلز

جرمنی: ڈونٹ

اسپین: انگور

پولینڈ: اچار

بھارت: مسور کی دال چاول

ترکی: انار


بشکریہ: انسائڈر

موبائل فونز کے نئے ماڈلز نے لوگوں کو نئی نفسیاتی بیماری میں مبتلا کردیا


نئے عہد کی الجھن ’’اپ گریڈ افیکٹ‘‘ میں لوگ نئے فون کیلیے بلا وجہ پرانے فون کو توڑنے لگتے ہیں، ماہرین، فوٹو؛ فائل
نئے عہد کی الجھن ’’اپ گریڈ افیکٹ‘‘ میں لوگ نئے فون کیلیے بلا وجہ پرانے فون کو توڑنے لگتے ہیں، ماہرین، فوٹو؛ فائل
واشنگٹن: کیا آپ نے نوٹ کیا کہ کبھی کوئی اچھا فون یا نیا ماڈل آتا ہے تو آپ اپنے پرانے فون سے شعوری طور پر بے احتیاطی برتتے ہیں یا اسے حادثاتی طور پر توڑنے کی کوشش کرتے ہیں اگر ایسا ہے تو آپ نئے عہد کی ایک الجھن ’’اپ گریڈنگ افیکٹ‘‘ کے شکار ہیں۔
سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ جیسے ہی بازار میں کوئی نیا فون یا نیا ماڈل آتا ہے تو ہم پرانے فون سےسوتیلے پن کا سلوک کرتے ہوئے اسے بے دردی سے استعمال کرنے لگتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ ہماری ایک کیفیت ہے جس میں ہم کوئی معقول وجہ کے بغیر اپنے فون کا مہنگا اپ گریڈ چاہتے ہیں۔
کولمبیا بزنس اسکول کی خاتون پروفیسر کا کہنا ہےکہ ہم کسی جائز وجہ کے بغیر مسلسل اپنا فون اپ گریڈ کرنا چاہتے ہیں لیکن فون کو خراب کرنا، توڑنا اور نقصان پہنچانا اس عمل کا بہانہ بن جاتا ہے جو خود کو تسلی دینےکےلیے اچھا ہوتا ہے۔
اس کے لیے ایک جانب تو ماہرین نے کچھ تجربات کیے اور دوم 3 ہزار اسمارٹ فون کو آئی ایم ای آئی نمبر سے کھونے اور پانے (لوسٹ اینڈ فاؤنڈ) کے طریقے سے دیکھنے کی کوشش کی۔ اس دلچسپ تجربے میں نوٹ کیا گیا کہ جیسے ہی آئی فون 5 کے آگے آئی فون 5 ایس آگیا تو لوگوں نے اپنے پرانے گمشدہ فون کی تلاش میں دلچسپی لینا چھوڑ دی۔
دوسری جانب سیکڑوں افراد سے آن لائن سروے کیا گیا اور سوالات کیے گئے تو معلوم ہوا کہ قریباً 80 فیصد افراد نے یہ اعتراف کیا کہ جیسے ہی کوئی نیا اچھا فون مارکیٹ میں آتا ہے وہ اپنے پرانے فون پر کم کم توجہ دینے لگتے ہیں۔ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ اگر آپ بلاوجہ نیا فون خرید رہے ہیں تو اسے اچھے داموں فروخت کردیں یا کسی کو عطیہ کردیں۔ یہ رپورٹ امریکی معاشرے کی عکاس ہے نہ کہ پاکستان اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کے رحجان کو ظاہر کرتی ہے۔
واضح رہے یہ رحجان پاکستان جیسے ملک کی بجائے امریکا اور یورپی ممالک کے لیے ہے جہاں لوگوں میں قوتِ خرید ہوتی ہے اور نئےفون کو اپ گریڈ کرنا بھی آسان ہوتا ہے۔ اس کے لیے لوگ لیپ ٹاپ ایئرپورٹ سیکیورٹی پر بھول جاتے ہیں یا پھر فون کو بارش میں رکھ کر شعوری طور پر خراب کردیتے ہیں۔

ماہرین صحت نے دفتری اوقات میں وقتاً فوقتاً چہل قدمی کو ضروری قرار دیدیا

دفتری امور کے دوران چند منٹ کی چہل قدمی توانائی بڑھاتی اور بھوک بھگاتی ہےجب کہ موڈ بھی بہتر ہوتا ہے۔ ماہرین، فوٹو؛ فائل
دفتری امور کے دوران چند منٹ کی چہل قدمی توانائی بڑھاتی اور بھوک بھگاتی ہےجب کہ موڈ بھی بہتر ہوتا ہے۔ ماہرین، فوٹو؛ فائل
لندن: ایسی لاتعداد رپورٹس سامنے آچکی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ دفاتر میں 8 گھنٹے مسلسل بیٹھا رہنا صحت کے لیے نہایت مضر ہوتا ہے لیکن اب ماہرین نے ان اثرات کو زائل کرنے کے لیے مشورہ دیا ہے کہ اگر ممکن ہوتو ہر گھنٹے اپنی نشست سے اٹھ کر 5 منٹ واک ضرور کریں جس سے نہ صرف توانائی بڑھے گی بلکہ موڈ درست ہوگا اور بھوک کی شدت میں کمی ہوگی۔
حالیہ سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ دن میں کام روک کر کئی بار کھڑے ہونے اور چلنے پھرنے سے کام کا دباؤ زائل ہوتا ہے ، مزاج اچھا اور توانائی بڑھتی ہے، ان چھوٹے چھوٹے کاموں کے اثرات دن بھر رہتے ہیں اور ان سے بھوک کم کرنے میں مدد بھی ملتی ہے۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق دفتری امور میں لوگ بہت دیر تک بیٹھے رہتے ہیں جس سے ذیابیطس، ڈپریشن، موٹاپا اور دیگر خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ اس کا جائزہ لینے کے لیے ماہرین نے 30 افراد پر نشست و برخاست کے تین ماڈلز (طریقوں) کا مطالعہ کیا۔ اس سے قبل ان کی صحت، موڈ، توانائی اور بھوک کے بارے میں سوالات اور ٹیسٹ کیے گئے۔
پہلے گروپ میں ایسے لوگ تھے جو ضروری حاجت کے علاوہ کسی اور کام کے لیے نہیں اٹھتے تھے۔ دوسرے گروپ کو دن کی شروعات میں ٹریڈ مِل  یا باغ وغیرہ میں قدرے تیز واک کرائی گئی۔ تیسرے گروپ میں شریک تمام افراد کو ہر گھنٹے بعد 5 منٹ کی واک کرائی گئی یعنی رضاکاروں نے ڈیوٹی کے دوران 6 مرتبہ چہل قدمی کی۔ اس دوران شریک افراد کے ہارمون کی سطح نوٹ کرتے ہوئے ان سے کہا گیا کہ وہ پورا دن اپنا موڈ، توانائی ، تھکاوٹ اور بھوک کی تفصیل بھی دیتے رہیں۔
ماہرین حیران رہ گئے کہ جنہوں نے کام کے دوران چہل قدمی کی تھی ان کی کارکردگی صبح کی واک کرنے والوں کے مقابلے میں بہت اچھی تھی۔ سارے شرکا نے کام کے دوران چہل قدمی کو توانائی اور کام کی لگن، بہتر موڈ اور کم تھکاوٹ کی وجہ قرار دیا جب کہ کچھ نے کہا کہ اس سے بھوک بھی کم لگتی ہے۔ شرکا کے مطابق پانچ پانچ منٹ کی چہل قدمی کے اثرات پورے دن برقرار رہے۔ ماہرین نے تحقیق کے بعد کہا ہے کہ صحت کو درست رکھنے کا ایک سادہ اور آسان طریقہ ہے کیونکہ واک اور چہل قدمی کا بہت فائدہ ہوتا ہے۔

چین میں دنیا کا بلند ترین پل ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا

1850 فٹ گہری کھائی پر بننے والے اس پل کی لمبائی 4400 فٹ ہے جو دو صوبوں کو ملاتا ہے۔
1850 فٹ گہری کھائی پر بننے والے اس پل کی لمبائی 4400 فٹ ہے جو دو صوبوں کو ملاتا ہے۔
بیجنگ: جنوب مغربی چین میں دو پہاڑوں کے درمیان 1850 فٹ گہری کھائی پر تعمیر کیے گئے پل کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔
تین سال کی مدت میں تقریباً ایک ارب یوآن کی لاگت سے تیار ہونے والے اس پل ’’بیپانجیانگ برج‘‘ پر گاڑیوں کی چار قطاریں ایک ساتھ چل سکتی ہیں جب کہ یہ 4400 فٹ لمبا ہے اور دو چینی صوبوں (ینان اور گائیژو) کو ایک دوسرے سے ملاتا ہے۔
پل کی تکمیل کے ساتھ ہی چین وہ ملک بھی بن گیا ہے جہاں دنیا کے 10 بلند ترین پلوں میں سے 8 پل موجود ہیں۔ اس ’’ٹاپ ٹین‘‘ فہرست میں صرف دو پل غیر چینی ہیں جن میں سے ایک پاپوا نیو گنی اور دوسرا میکسیکو میں تعمیر کیا گیا ہے۔
یہ پل دریائے بیپان کو عبور کرتا ہوا گزرتا ہے جو ینان اور گائیژو صوبوں کے درمیان قدرتی سرحد کا کام بھی کرتا ہے۔ یاد رہے چین میں اسی نام (بیپانجیانگ برج) کا ایک اور پل 2003 میں گوانژنگ ہائی وے پر تعمیر کیا گیا تھا جو 1200 فٹ اونچا ہے لیکن یکساں نام کے باوجود یہ دونوں پل ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔
اس نئے تعمیر شدہ پل کا پھیلاؤ 2363 فٹ ہے اور یہ ہانگروئی ہائی وے کا حصہ ہے جو جنوبی چین کے شہر ہانگژو کو چین اور میانمار کی سرحد پر واقع روئیلی شہر سے ملانے والی 3405 کلومیٹر طویل قومی شاہراہ بھی ہے۔

2016 کے اہم خواتین اور ان کے کارنامے

دنیا کا کوئی بھی شعبہ ہو، خواتین کی شمولیت کے بغیر ادھورا ہے۔ آج اکیسویں صدی میں یہ بات ایک حقیقت بن چکی ہے جب ہمیں ایسے شعبوں میں بھی خواتین نظر آتی ہیں جنہیں اس سے پہلے صرف مردوں کے لیے ہی مخصوص سمجھا جاتا تھا۔سال 2016 میں کئی پاکستانی خواتین نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ 

ترقی یافتہ شہروں سے لے کر پسماندہ اور روایت پسند علاقوں تک کئی خواتین اپنے عزم و حوصلے کے سبب دنیا کی نظروں کا مرکز بنیں اور یہ پیغام دیا کہ وقت بدل رہا ہے، خواتین کی اہمیت کو تسلیم نہ کرنے والوں کو اب اپنا ذہن بدلنا ہوگا۔آئیے دیکھتے ہیں کہ اس سال کن خواتین نے پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند کیا۔

:حوصلے اور انتھک جدوجہد کی مثال پاکستانی خواتینپاکستانی نژاد خاتون نرگس ماولہ والا نے اس وقت پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند کردیا جب انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ خلا میں کشش ثقل کی  لہروں کی نشاندہی کرنے کا کارنامہ انجام دے ڈالا۔
فروری کی ایک روشن صبح پاکستان کی پہلی آسکر ایوارڈ یافتہ شخصیت شرمین عبید چنائے دوسرا آسکر ایوارڈ جیتنے میں کامیاب ہوگئیں۔ ان کی ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلم ’آ گرل ان دی ریور ۔ پرائس آف فورگیونیس‘ غیرت کے نام پر قتل کے موضوع پر بنائی گئی جس نے پاکستانی قوانین پر بھی واضح اثرات مرتب کیے۔
ساؤتھ ایشین گیمز 2016 میں دو پاکستانی لڑکیاں رخسانہ اور صوفیہ پاکستان کے لیے باکسنگ کے میدان میں میڈلز جیتنے والی اولین خواتین بن گئیں۔
اپریل میں پاک نیوی کی تاریخ میں پہلی بار بلوچستان سے تعلق رکھنے والی ذکیہ جمالی پاکستان نیوی کی پہلی کمیشن آفیسر بن گئیں۔
اسی ماہ سوات سے تعلق رکھنے والی تبسم عدنان کو خواتین کے حقوق کے لیے انتھک جدوجہد پر کولمبیا میں نیلسن منڈیلا ایوارڈ سے نوازا گیا۔پاکستان کی پہلی خاتون شوٹر مناہل سہیل نے ریو اولمپکس 2016 میں حصہ لیا۔کوئٹہ کے اسلامیہ گرلز کالج میں سیکنڈ ایئر کی طالبہ نورینہ شاہ نے اس وقت ملک بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کروالی جب علم فلکیات پر  اپنے مطالعے اور تجزیے کے باعث اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور دنیا بھر کے ماہرین فلکیات نے ان کی مہارت کو سراہا۔اگست میں ہونے والے ریو اولمپکس کے مقابلوں میں پاکستانی نژاد مادیہ غفور نے یوں تو نیدر لینڈز کی نمائندگی کی، تاہم وہ اولمپک مقابلوں  میں شریک ہونے والی پہلی بلوچ خاتون کھلاڑی تھی۔اگست میں ہی 2 پائلٹ بہنوں مریم مسعود اور ارم مسعود نے بطور کو پائلٹ بیک وقت 777 بوئنگ طیارے اڑا کر ایک نئی تاریخ رقم کی۔
ستمبر میں پاکستانی طالبہ شوانہ شاہ کو امریکا میں محمد علی ہیومنٹیرین ایوارڈ سے نوازا گیا۔ شوانہ شاہ سنہ 2012 سے معاشرے کی پسماندہ خواتین کی بحالی، ان پر تشدد اور جنسی ہراسمنٹ کے خلاف کام کر رہی ہیں۔اسی ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پہلی دفعہ منعقد کیے جانے والے گلوبل گولز ایوارڈز میں ایک پاکستانی ادارے ’ڈاکٹ ۔ ہرز‘ نے بہترین اور کامیاب کوشش کا ایوارڈ اپنے نام کرلیا۔ یہ ادارہ پسماندہ علاقوں کی خواتین کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔پاکستانی خاتون ڈاکٹر ثانیہ نشتر کو عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے کے لیے نامزد کیا گیا۔ اس عہدے کی دوڑ میں کل 6 امیدواروں میں صرف 22 خواتین شامل تھیں جن میں سے ایک ڈاکٹر ثانیہ نشتر تھیں۔اکتوبر میں صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع سوات سے تعلق رکھنے والی نویں جماعت کی طالبہ حدیقہ بشیر کو ایشیائی لڑکیوں کے حقوق کی سفیر کا ایوارڈ  دیا گیا۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی لڑکی ہیں۔
چودہ سال قبل اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی مختاراں مائی اس وقت ایک بار پھر سب کی توجہ کا مرکز بن گئیں جب فیشن پاکستان ویک 20166 میں انہوں نے ریمپ پر واک کی۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف خواتین کو بااختیار بنانے کے اقدام کی حمایت کرنا تھا، بلکہ لوگوں کی توجہ ریپ جیسے گھناؤنے جرم کی طرف دلانا بھی تھا۔نومبر میں پاکستان کی ڈیجیٹل حقوق فاؤنڈیشن کی بانی نگہت داد کو ہالینڈ حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کے ٹیولپ ایوارڈ 2016 سے  نوازا گیا۔اسی ماہ سوات سے تعلق رکھنے والی دو لڑکیوں گلالئی اسمعٰیل اور صبا اسمعٰیل کے قائم کردہ سماجی ادارے ’اویئر گرلز‘ کو سابق فرانسیسی صدر سے منسوب شیراک پرائز سے نوازا گیا۔ اویئر گرلز گزشتہ 144 سال سے پختونخواہ میں خواتین کی تعلیم وصحت کے لیے سرگرم عمل ہے۔دسمبر میں رافعہ قسیم بیگ بم ڈسپوزل یونٹ کا حصہ بننے والی پہلی پاکستانی اور ایشیائی خاتون بن گئیں۔ وہ اس سے قبل خیبر پختونخوا کی پولیس  فورس میں خدمات انجام دے رہی تھیں۔:ایک اہم سنگ میلپاکستان میں خواتین کے تحفظ کے لیے سب سے اہم اقدام 7 اکتوبر 2016 کو اٹھایا گیا جب پارلیمنٹ میں غیرت کے نام پر قتل اور زنا بالجبر کے واقعات کی روک تھام کا بل منظور کرلیا گیا۔ترمیمی بل کے مطابق غیرت کے نام پر قتل فساد فی الارض تصور ہوگا اور صلح یا معافی کے باوجود 25 سال سزائے قید ہوگی۔بل میں عصمت دری کے مقدمات میں ملزم کا ڈی این اے ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا جبکہ متاثرہ خاتون کی شناخت کسی بھی سطح پر ظاہر نہ کرنے کی شق شامل کی گئی۔:عالمی سیاست میں خواتین کا کرداردنیا بھر میں جہاں کئی شعبوں میں خواتین نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، وہیں شعبہ سیاست میں بھی خواتین کی تعداد میں اضافہ نظر آیا اور کئی اہم سیاسی عہدوں پر خواتین کی تقرری عمل میں آئی۔مئی میں جرمنی کی ایک ریاستی اسمبلی میں پہلی بار اسپیکر کے عہدے کے لیے مسلمان خاتون مہتریم آراس کو منتخب کیا گیا۔اسی ماہ تائیوان میں پہلی خاتون صدر سائی انگ ون کی حکومت کا آغاز ہوا۔جون میں ورجینیا راگی روم کی تاریخ میں ڈھائی سو سال بعد خاتون میئر منتخب ہوئیں۔جولائی میں تھریسا مے نے برطانوی وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا۔ آئرن لیڈی کہلائی جانے والی مارگریٹ تھیچر کے بعد وہ اس عہدے  پر فائز ہونے والی دوسری خاتون ہیں۔اگست میں ٹوکیو کی عوام نے اپنی پہلی خاتون گورنر یوریکو کوئیکے کا انتخاب کیا۔ اس سے قبل وہ ملک کی پہلی خاتون وزیر دفاع بھی رہ چکی  تھیں۔
امریکا میں رواں برس ہونے والے صدارتی انتخاب کے لیے سابق خاتون اول اور سابق سیکریٹری خارجہ ہیلری کلنٹن بھی میدان میں  کھڑی ہوئیں، لیکن قسمت نے اس بار بھی ان کا ساتھ نہ دیا۔وہ اس سے قبل سنہ 2008 میں بھی بارک اوباما کے مدمقابل بطور صدارتی امیدوار کھڑی ہوئی تھیں۔ گو کہ وہ امریکا کی پہلی خاتون صدارتی امیدوار تو نہ تھیں، تاہم اگر وہ صدر منتخب ہوجاتیں، جس کے امکانات بہت زیادہ تھے، تو وہ امریکا کی پہلی خاتون صدر کہلاتیں۔صومالیہ میں سال کے آخر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے ایک خاتون فڈومو ڈیب بھی امیدوار ہیں۔ اگر وہ صدر منتخب  ہوگئیں تو صومالیہ کی پہلی خاتون صدر کہلائی جائیں گی۔:دیگر اہم واقعاتریو اولمپکس 2016 میں امریکی ایتھلیٹ ابتہاج محمد وہ پہلی امریکی مسلمان خاتون بنیں جنہوں نے باحجاب ہو کر کھیلوں میں شرکت کی۔ ریو 2016 میں انہوں نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔reshmaبھارت میں تیزاب گردی کا شکار ریشما قریشی نے نیویارک فیشن ویک میں ریمپ پر واک کر کے یہ پیغام دیا کہ تیزاب سے مسخ ہوجانے والے چہروں کو بھی زندگی جینے کا حق ہے۔21داعش کی خوفناک قید سے جان بچا کر بھاگ آنے والی کرد خاتون 23 سالہ نادیہ مراد طحہٰ کو اقوام متحدہ کا خیر سگالی سفیر مقرر کیا گیا اور انہیں یورپی یونین کی پارلیمنٹ کی جانب سے سخاروف انعام سے نوازا گیا۔haji-aliبھارت کی مشہور درگاہ حاجی علی میں خواتین کے داخلے پر عائد پابندی 4 سال بعد ختم کردی گئی۔سعودی شہزادے ولید بن طلال نے مطالبہ کیا کہ سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ پر ایک طویل عرصے سے عائد پابندی کو فوری طور  پر ختم کیا جائے۔22امریکا کی کیسنڈرا ڈی پیکول نامی سیاح نے دنیا کے تمام ممالک کی سیاحت کرنے والی واحد خاتون کا اعزاز اپنے نام کرلیا۔