اتوار، 2 جولائی، 2017

فیس بک صارفین کی تعداد 2 ارب تک جاپہنچی

فیس بک صارفین کی تعداد 2 ارب تک پہنچ گئی ہے۔ فوٹو فائل
فیس بک صارفین کی تعداد 2 ارب تک پہنچ گئی ہے۔ فوٹو فائل
 واشنگٹن: سوشل میڈیا کی سب سے بڑی ویب سروس فیس بک نے اعلان کیا ہے کہ اس کے صارفین کی تعداد 2 ارب سے تجاوز کرچکی ہے اور اب دنیا کی 25 فیصد آبادی اس نیٹ ورک سے جڑی ہے۔
فیس بک کے بانی اور چیف ایگزیکٹیو مارک زکربرگ نے اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ اب باضابطہ طور پر دو ارب افراد فیس بک سے وابستہ ہوگئے ہیں۔ واضح رہے کہ 13 برس قبل مارک زکربرگ نے فیس بک کی بنیاد رکھی تھی۔
اکتوبر 2012 میں فیس بک پر ایک ارب صارفین تھے اور اب ان کی تعداد 2 ارب تک پہنچ گئی ہے۔ واضح رہے کہ صرف پانچ سال فیس بک استعمال کرنے والوں کی تعداد دوگنی ہوچکی ہے۔ اس سے قبل ٹیکنالوجی ماہرین نے پیش گوئی کی تھی کہ اسنیپ چیٹ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے بعد فیس بک کی تیز رفتار ترقی متاثر ہوسکتی ہے لیکن ایسا نہیں ہوا اور اب اس کے صارفین میں برق رفتاری سے اضافہ ہورہا ہے۔
اس موقع پر مارک زکربرگ نے کہا کہ وہ ہر فرد کو ایک دوسرے سے جوڑنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے وہ بلند عزائم رکھتے ہیں۔
تاہم فیس بک انتظامیہ کو کئی ممالک اور تنظیموں کی جانب سے اس بات پر شدید تنقید کا سامنا ہے کہ وہ اپنے نیٹ ورک سے غیرقانونی اور پرتشدد مواد ہٹانے میں ناکام رہی ہے۔ اس کے لیے فیس بک کے گزشتہ ماہ سے مزید 3000 افراد کو بھرتی کیا ہے تاکہ فیس بک پر موجود نامناسب، غیرقانونی اور تشدد بھرے مواد کو ہٹایا جاسکے۔
دوسری جانب ڈیجیٹل ماہرین نے فیس بک کو جعلی خبروں کے پھیلاؤ اور عوام کی تنہائی سے بھی خبردار کیا ہے۔

بجلی کی بچت کرنے والا غیرروایتی نظام تیار

مصری ماہر نے جو نظام بنایا ہے اس میں 220 وولٹ کو 14 وولٹ پر کرلیا جاتا ہے جس سے 85 فیصد بجلی کی بچت ہوسکتی ہے۔ فوٹو: فائل
مصری ماہر نے جو نظام بنایا ہے اس میں 220 وولٹ کو 14 وولٹ پر کرلیا جاتا ہے جس سے 85 فیصد بجلی کی بچت ہوسکتی ہے۔ فوٹو: فائل
پیرس: مصری انجینئر نے عمارتوں میں بجلی کی بچت کم کرنے والا ایسا غیر روایتی طریقہ وضع کرلیا ہے جو پوری دنیا میں آسانی سے رائج ہوسکتا ہے۔
فرانس میں رہنے والے مصری ماہر طارق شعبان نے چار منزلہ گھر پر اس کی کامیاب آزمائش کی ہے جو ایک محفوظ اور آسان طریقہ بھی ہے۔ مصری عسکری پیداوار سے وابستہ ایک کمپنی بینہا گروپ اب اس طریقے کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔ طارق کو عمارتوں کے لیے محفوظ برقی سسٹم کی پیٹنٹ (حقِ ملکیت) بھی مل چکا ہے، اپریل 2017 میں اس ایجاد کو سوئٹزرلینڈ میں گولڈ میڈل سے بھی نوازا گیا ہے۔
طارق شعبان کا کہنا ہے کہ یہ نظام بجلی کی بچت کے ساتھ ساتھ آتشزدگی اور کرنٹ لگنے سے بھی محفوظ رکھتا ہے خواہ برقی تار پانی میں گرجائے یا اس کے ننگے تاروں کو براہ راست چھوا جائے تب بھی جسم کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ ان کا کہنا تھا کہ  یہ سسٹم 220 وولٹ کو 14 وولٹ میں تبدیل کردے گا اور روشنیوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
سسٹم برقی مقناطیسی سرکٹ پر انحصار کرتے ہوئے برقی کرنٹ کی مزاحمت  کو کم ترین درجے پر لے آتا ہے لیکن اس سے روشنی پر کوئی فرق نہیں پڑتا ۔
وولٹیج کم ہونے سے اگر کوئی تاروں کو چھولے تو کوئی نقصان نہیں ہوتا اور نہ ہی آگ لگتی ہے۔ اس نظام کو جب ایک چار منزلہ گھر پر آزمایا گیا تو اس کے 100 فیصد نتائج برآمد ہوئے جو بجلی کی قلت کے شکار ممالک کے لیے ایک زبردست ایجاد ثابت ہوسکتی ہے۔
صرف عرب خطے میں 2010 سے 2030 تک بجلی کی سالانہ کھپت میں 6 فیصد اضافے کے پیش گوئی کی گئی ہے۔ ابھی یہ صرف لائٹوں کے لیے کارآمد ہے جب کہ ایئرکنڈیشنڈ اور واٹر ہیٹر کے لیے بھی نظام تیار کیا جارہا ہے۔

فیس بُک ویڈیو چیٹ کے لیے نئے اینی میٹڈ ری ایکشن فیچرز

فیس بک نے نئے ویڈیو ری ایکشن اور فلٹر پیش کیے ہیں۔ فوٹو: بشکریہ فیس بک
فیس بک نے نئے ویڈیو ری ایکشن اور فلٹر پیش کیے ہیں۔ فوٹو: بشکریہ فیس بک
 واشنگٹن: اگر آپ فیس بک پر ویڈیو چیٹ کرتے ہوئے فوری طور پر کوئی ردِ عمل ظاہر کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے فیس بک نے نئے ری ایکشن فیچر تیار کئے ہیں جو فوری طور پر آپ کی ویڈیو کا حصہ بن جاتے ہیں۔
اب آپ گفتگوکے دوران اینی میٹڈ ری ایکشنز، فلٹر، ماسک، اور ایفیکٹس شامل کرکے ویڈیو کال کے یادگار لمحات کو مزید دلچسپ بناسکتے ہیں اور فیس بک کے تمام صارفین ان کا استعمال کرسکتے ہیں۔
ان ری ایکشنز میں محبت، ہنسی یا قہقہہ، حیرت، اداسی اور غصے کے تاثرات شامل ہیں۔ چیٹ کے دوران بس اسکرین کے نیچے کی جانب ٹیپ کیجئے اور ان پانچ ری ایکشنز میں سے کسی ایک کا انتخاب کیجئے جو چند سیکنڈ میں اسکرین پر نمودار ہوجائیں گے۔ مثلاً اداسی کا آپشن ظاہر ہوتے ہی آپ کی آنکھوں سے کارٹون آنسو جاری ہونا شروع ہوجائیں گے۔
فیس بک کی پراڈکٹ مینیجر نورا میشیوا نے بتایا کہ فیس بک نے ویڈیو کالز میں تفریح کو بحال رکھا ہوا ہے تاکہ چہرے سے ظاہر یا ظاہر نہ ہونے کی صورت میں آپ اپنے لحاظ سے ری ایکشن کا انتخاب کرسکیں لیکن ری ایکشن منتخب کرتے وقت کیمرے کو اپنے چہرے کی جانب رکھئے۔
اسی طرح  بہت سے فلٹر بھی شامل کئے گئے ہیں جن میں رنگ، دل، اور چمکتے ستارے شامل ہیں۔

فیس بک پروفائل تصویر چرانا اب آسان نہیں

بھارتی کمپنی کی جانب سے جاری کردہ فوٹو شیلڈ آپشن کی ایک تصویر۔ فوٹو: فائل
بھارتی کمپنی کی جانب سے جاری کردہ فوٹو شیلڈ آپشن کی ایک تصویر۔ فوٹو: فائل
نئی دہلی: فیس بک انڈیا نے پروفائل تصویر کی سیکیورٹی کیلیے ایک حل نکالا ہے جس کے تحت آپکی فیس بک پروفائل تصویر چوری کرنا ناممکن ہوجائے گا۔
فیس بک صارفین کی اکثریت اس بات کی شکایت کرتی نظر آتی ہے کہ ان کی پروفائل تصویر سوشل میڈیا پر کئی جگہ غلط ناموں سے نقل ہورہی ہے۔ اس کا سب سے ذیادہ شکار خواتین ہورہی ہیں جن کی تصاویر کئی جگہوں پر نقل کی جارہی ہے لیکن اب فیس بک نے صارفین کی پروفائل تصویر کی سیکیورٹی کے لیے ایک حل نکالا ہے۔
فیس بک انڈیا کی جانب سے نکالے گئے حل کے تحت بہت جلد صارفین کی پروفائل تصویر کے اطراف نیلا حاشیہ (بارڈر) کا اضافہ کیا جائے گا اور اس پر کئی شیلڈ بھی موجود ہوں گی جس سے تصویر کو ڈاؤن لوڈ، کاپی اور ٹیگ کرنا ناممکن ہوجائے گا۔ اس ضمن میں بھارت میں تحقیق بھی کی گئی اور صارفین اپنی پروفائل تصویر محفوظ بنانے کے لیے اس پر 6 پرتیں (لیئرز) لگاسکیں گے۔ 
فیس بک کے پراجیکٹ مینیجر آراتی سامون کہتے ہیں کہ نئے ٹول سے بھارت کے لوگ اپنی تصاویر کنٹرول کرسکیں گے اور کوئی انہیں ڈاؤن لوڈ نہیں کرسکے گا۔ اس کے علاوہ تصویر پر ڈیزائن والی بارڈر اور پرتیں بھی لگائی جاسکیں گی جب کہ ہمارا تجربہ بتاتا ہےکہ بارڈر والی تصاویر ذیادہ ڈاؤن لوڈ اور شیئر نہیں ہوتیں اور اس آزمائش کے بعد یہ سہولت بقیہ دنیا کے لیے بھی پیش کردی جائے گی۔
فیس بک نے بھارتی اداروں کے ساتھ ملکر دو نئے ٹولز بنائے ہیں جو آپ کی پروفائل تصاویر کو محفوظ بناسکیں گے۔ ان میں سے ایک ’پروفائل پکچر گارڈ‘ ہے جو فون ٹیپنگ سے ایکٹو ہوجاتا ہے اور آپشن فراہم کرتا ہے جب کہ یہ فیچر ڈاؤن لوڈنگ اور شیئرنگ کو ناممکن بناتا ہے، اسی طرح یہ تصویر کسی میسج میں بھی نہیں بھیجی جاسکتی اور یہ اینڈروئڈ آلات پر اسکرین شاٹ لینے کو بھی ناممکن بناتا ہے۔
دوسرے آپشن میں آپ تصاویر پر کئی طرح کی پرتیں یا لیئرز لگاسکتے ہیں ان میں بھارتی ٹیکسٹائل کے پرنٹ اور آرٹ وغیرہ کے نمونے ہیں اور لوگ اس طرح کی تصاویر کو عموماً شیئر نہیں کرتے جب کہ یہ فیچر ابھی بھارت میں آزمایا جارہا ہے اور جلد بقیہ دنیا کے لیے پیش کیا جائے گا۔
واضح رہے بھارت اور پاکستان سمیت کئی ممالک میں اکثر خواتین اپنی تصاویر لگاتے ہوئے خوفزدہ ہوتی ہیں کہ کہیں ان کی تصویر کاغلط استعمال نہ ہوجائے۔

گوگل کی جانب سے بچوں کے لیے تحفہ


کڈل سرچ انجن کو بطورِ خاص بچوں کےلیے مثبت اور تعلیمی مواد کی تلاش کےلیے تیار کیا گیا ہے۔ (فوٹو: اسکرین شاٹ)
کڈل سرچ انجن کو بطورِ خاص بچوں کےلیے مثبت اور تعلیمی مواد کی تلاش کےلیے تیار کیا گیا ہے۔ (فوٹو: اسکرین شاٹ)
کراچی: گوگل نے خاص طور پر بچوں کےلیے ’کڈل‘ کے نام سے  نیا سرچ انجن اور یوٹیوب ایپ لانچ کردیا ہے جن کا مقصد بچوں کو تعلیم و تدریس کے علاوہ مثبت تفریح میں مدد اور رہنمائی فراہم کرنا ہے۔
انٹرنیٹ پر مواد میں مسلسل اور تیز رفتار اضافے کے نتیجے میں بچوں کےلیے مخصوص معلومات تلاش کرنے میں دشواریاں بھی بڑھتی جارہی ہیں۔ اکثر اوقات بچوں کےلیے کی ورڈ سرچ کے نتیجے میں ایسا مواد بھی سامنے آجاتا ہے جو کسی طور پر بھی چھوٹی عمر والے بچوں کےلیے موزوں نہیں ہوتا بلکہ جسے دیکھ کر ان کی سوچ پر منفی اثرات ہی پڑسکتے ہیں۔
اسی مسئلے کو پیش نظر رکھتے ہوئے گوگل نے بچوں کےلیے ایک بالکل الگ سرچ انجن بنادیا ہے جس کا نام ’کڈل‘ رکھا گیا ہے جبکہ اس کا ویب ایڈریس www.kiddle.co ہے۔ (واضح رہے کہ اس ایڈریس کے اختتام پر co ہے جو روایتی com سے تھوڑا سا مختلف ہے۔ اس کا خیال رکھنا ضروری ہے۔)
سرچ انجن کے ہوم پیج پر ویب، امیج (تصویر)، نیوز (خبریں) اور ویڈیوز کے علاوہ ’’انسائیکلوپیڈیا‘‘ کا ایک لنک بھی دیا گیا ہے جس پر کلک کرتے ہی ’کڈل‘ آپ کو بچوں کےلیے گوگل انسائیکلوپیڈیا کے پیج پر پہنچا دیتا ہے جہاں سرچ باکس کے علاوہ مختلف عنوانات کی ایک طویل فہرست بھی موجود ہے۔
گوگل کا دعوی ہے کہ اس کے انسائیکلوپیڈیا میں سات لاکھ (700,000) سے زائد معلوماتی تحریریں رکھی گئی ہیں جو بہت ہی آسان اور سادہ انگریزی زبان میں ہیں۔ اگر آپ اپنی مطلوبہ اینٹری سے واقف ہیں تو فہرست میں اس پر کلک کرسکتے ہیں اور اگر دشواری محسوس کررہے ہیں تو سرچ باکس میں مطلوبہ نام ٹائپ کرکے متعلقہ لفظ (کی ورڈ) کے بارے میں مضامین تلاش کرسکتے ہیں۔
اس کے علاوہ اسمارٹ فون یا ٹیبلٹ صارفین گوگل پلے اسٹور یا ایپل کے ایپ اسٹور سے ’’یوٹیوب کڈز‘‘ کی ایپ بھی ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں جو انہیں اس قابل بناتی ہے کہ وہ خاص بچوں کےلیے ہی بنائی گئی ویڈیوز تلاش کرسکیں اور ان سے ہوم ورک کرنے کے علاوہ مثبت تفریح میں بھی مدد لے سکیں۔

پیشاب سے بجلی بنانے اور جراثیم ہلاک کرنے والا نظام

اس نظام میں شامل بیکٹیریا ایک طرف یوریا سے بجلی بناتے ہیں تو دوسری جانب ہائیڈروجن پرآکسائیڈ بھی خارج کرتے ہیں جو جراثیم کش خصوصیات کا حامل ہوتا ہے۔ (فوٹو: فائل)
اس نظام میں شامل بیکٹیریا ایک طرف یوریا سے بجلی بناتے ہیں تو دوسری جانب ہائیڈروجن پرآکسائیڈ بھی خارج کرتے ہیں جو جراثیم کش خصوصیات کا حامل ہوتا ہے۔ (فوٹو: فائل)
لندن: برطانیہ کی یونیورسٹی آف ویسٹ انگلینڈ میں پروفیسر یانِس ایروپولوس کی سربراہی میں ماہرین کی ایک ٹیم نے اچھوتا نظام ایجاد کیا ہے جو انسانی پیشاب کے ذریعے نہ صرف بجلی بناتا ہے بلکہ نکاسی کے گندے پانی میں موجود خطرناک جرثوموں کو ہلاک بھی کرتا ہے؛ یعنی یہ صحیح معنوں میں ’’ایک پنتھ دو کاج‘‘ والی ایجاد ہے۔
یہ بات صدیوں سے معلوم ہے کہ پیشاب میں تیزاب کے علاوہ مختلف نامیاتی مرکبات، خاص طور پر یوریا کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔ کیمیائی عمل کے ذریعے ان مادّوں سے بجلی بنانے اور جراثیم ہلاک کرنے کے امکانات بھی برسوں سے موجود تھے لیکن ایسا کوئی قابلِ عمل طریقہ وضع نہیں کیا جاسکا تھا جس کی مدد سے یہ سارے کام تیز رفتاری اور سہولت کے ساتھ کم خرچ پر انجام دیئے جاسکتے۔
یونیورسٹی آف ویسٹ انگلینڈ کے ماہرین نے 2015 میں بین الاقوامی تنظیم ’’آکسفیم‘‘ کے تعاون سے ایسا ہی ایک تجرباتی فیول سیل ایجاد کرلیا تھا جس میں موجود جراثیم، یوریا کے سالمات توڑتے ہیں اور معمولی مقدار میں بجلی بھی بناتے ہیں۔ البتہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ یہ بیکٹیریا اسی کارروائی کے دوران ہائیڈروجن پرآکسائیڈ بھی بناتے ہیں جس سے انہیں تو کوئی نقصان نہیں پہنچتا لیکن یہ نکاسی کے گندے پانی میں موجود دوسرے جرثوموں کو ہلاک کرنے کی زبردست صلاحیت رکھتا ہے۔
اس کم خرچ اور مفید نظام کے پروٹوٹائپ کی دو سالہ آزمائش مکمل ہونے کے بعد برطانوی ماہرین نے اپنی تفصیلی رپورٹ ریسرچ جرنل ’’پبلک لائبریری آف سائنس ون‘‘ (PLoS ONE) کے تازہ شمارے میں شائع کروادی ہے۔
چند ہفتے پہلے موسیقی کے ایک میلے میں بھی اس نظام کا ایک نمائشی نمونہ رکھا گیا تھا جو پیشاب سے اپنے لیے ساری بجلی خود بنایا کرتا تھا جبکہ پانی کو جراثیم سے پاک بھی کرتا تھا۔
پروفیسر یانِس کہتے ہیں کہ آنے والے برسوں میں یہ نظام غریب اور پسماندہ ممالک میں طہارت کی سہولت فراہم کرتے ہوئے انتہائی کم خرچ پر بجلی بنانے کا کام بھی کیا کرے گا جبکہ نکاسی کے پانی میں شامل خطرناک اور ہلاکت خیز بیکٹیریا ہلاک کرتے ہوئے ماحول دوستی کا حق بھی ادا کرے گا۔

بغیربیٹری موبائل فون ایجاد

اس فون کے فیچر میں ابھی صرف ایل ای ڈی لائٹ اور سرکٹ بورڈ پر بٹنز شامل ہیں: فوٹو : فائل
اس فون کے فیچر میں ابھی صرف ایل ای ڈی لائٹ اور سرکٹ بورڈ پر بٹنز شامل ہیں: فوٹو : فائل
 کراچی:  امریکی سائنسدانوں نے بغیربیٹری موبائل فون ایجاد کرلیا جو ہوا یا ریڈیائی لہروں سے توانائی حاصل کرتاہے۔
اس منفردموبائل میں بیکس کیٹر کمیونی کیشن ٹیکنالوجی استعمال کی گئی، بیکس کیٹر ٹیکنالوجی سگنلز کے انعکاس کا استعمال کرتی ہے، اس فون کے ذریعے ابھی صرف کال اور ایس ایم ایس کیے جاسکتے ہیں،امریکا کی یونیورسٹی آف واشنگٹن کے محقیقین کی ٹیم نے مذکورہ موبائل فون تیار کیا ہے جس میں کال یا ایس ایم ایس کرنے کے لیے بیٹری کی ضرورت نہیں ہوتی، بیٹری کے بجائے یہ توانائی ہوا یا ریڈیو سگنلز سے حاصل کرتا ہے۔
اس فون کے فیچر میں ابھی صرف ایل ای ڈی لائٹ اور سرکٹ بورڈ پر بٹنز شامل ہیں تاہم زیادہ بہتر معیار اور ای لنک ڈسپلے کے ساتھ اس کا جدید ورژن جلد مارکیٹ میں آئے گا جس پر کام جاری ہے۔